بغیاً بینھم – تفسیر اور تاریخ کی روشنی میں


 

 

 

 

 

05 Baghyam Bainahum Title

online urdu

شمارہ 34 اور 35، جنوری / فروری 2015

ربیع الاول و ربیع الثانی  1436ھ

 قرآنیات

بغیاً بینھم –تفسیر اور تاریخ کی روشنی میں

ابو الحسن

بے اعتدالی ، راہ صواب سے انحراف عقائد میں بھی ہوتا ہے اعمال میں بھی ، اور اس انحراف اور بے اعتدالی کی بھی درجہ بندی ہے۔ عقائد میں عقیدہ توحید سے انحراف ، شرک باللہ ، عظیم ترین اور نا قابل معافی گناہ ہے۔ ان الشرک لظلم عظیم۔ سورہ نساء آیت 48 میں غفور رحیم و عفو کریم فرماتا ہے :

إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغۡفِرُ أَن يُشۡرَكَ بِهِۦ وَ يَغۡفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُۚ وَ مَن يُشۡرِكۡ بِٱللَّهِ فَقَدِ ٱفۡتَرَىٰٓ إِثۡمًا عَظِيمًا ٤٨

” بیشک اللہ نہیں بخشے  گا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے اور اس کے ما سوا جو گناہ ہیں جس کے لیے  چاہے گا بخش دے گا ۔اور جو کوئی شرک باللہ کا ارتکاب کرتا ہے وہ بلا شبہ گناہِ عظیم کا افترا کرتا ہے۔”

اور سورہ مائدہ آیت 72 میں ہے :

مَن يُشۡرِكۡ بِٱللَّهِ فَقَدۡ حَرَّمَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِ ٱلۡجَنَّةَ وَ مَأۡوَىٰهُ ٱلنَّارُۖ

” جو کوئی شرک با للہ کا ارتکاب کرے گا اس پر اللہ نے جنت حرام کردی ہے اور اس کا ٹھکانہ تو جہنم ہی ہے۔”

عقائد میں شرک جس طرح کار نجس و خباثت ہے قومی جماعتی زندگی میں اس درجہ کا عمل وہ ہے جسے قرآن تشیع اور تخرب کہتا ہے۔ یعنی قوموں کا گروہ بندیوں میں بٹ جانا یہ شرک فی السیاسۃ ہے۔ چنانچہ جہاں اتفاق ، اتحاد ، یک جہتی کی تاکید ہے ، افتراق و اختلاف کی کئی اسالیب سے ممانعت و مذمت ہے۔ آپسی الفت و مودت کو اللہ کی نعمت قرار دیا گیا اور باہمی عداوت اور تفرقہ کو عذاب۔ سورہ آل عمران آیت 103 میں ارشاد ہوا :

وَ ٱعۡتَصِمُواْ بِحَبۡلِ ٱللَّهِ جَمِيعٗا وَ لَا تَفَرَّقُواْۚ وَ ٱذۡكُرُواْ نِعۡمَتَ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡ إِذۡ كُنتُمۡ أَعۡدَآءٗ فَأَلَّفَ بَيۡنَ قُلُوبِكُمۡ فَأَصۡبَحۡتُم بِنِعۡمَتِهِۦٓ إِخۡوَٰنٗا وَ كُنتُمۡ عَلَىٰ شَفَا حُفۡرَةٖ مِّنَ ٱلنَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنۡهَاۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمۡ ءَايَٰتِهِۦ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُونَ ١٠٣

” سب مل جل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور جدا جدا نہ ہو جاؤ۔ اللہ نے تمہیں جو نعمت عطا فرمائی ہے ا س کی یاد سے غافل نہ ہو۔ تمہارا حال تو یہ تھا کہ آگ سے بھری خندق ہے اور اس کے کنارے کھڑے ہو ( ذرا پاؤں پھسلا اور شعلوں میں جا گرے ) لیکن اللہ نے تمہیں اس حالت سے نکال لیا ( اور زندگی اور کامرانی کے میدانوں میں پہنچا دیا ) اللہ اس طرح اپنی ( کار فرمائیوں ) کی نشانیاں واضح کر دیتا ہے تاکہ تم منزل مقصود کی راہ پالو۔”

یہ خطاب واضح طور پر اول المسلین کے ذریعے امت مسلمہ کو دیا گیا۔ اس آئینہ میں ہم اپنی موجودہ صورت دیکھ لیں اور حسب ذیل آیات پر غور کریں :

فَتَقَطَّعُوٓاْ أَمۡرَهُم بَيۡنَهُمۡ زُبُرٗاۖ كُلُّ حِزۡبِۢ بِمَا لَدَيۡهِمۡ فَرِحُونَ ٥٣ ( المومنون : 53 ) پھر لوگوں نے ایک دوسرے سے کٹ کر جدا جدا دین بنا لیے اور ہر ٹولی کے پلے جو کچھ پڑ گیا اس میں مگن ہے۔

إِنَّ ٱلَّذِينَ فَرَّقُواْ دِينَهُمۡ وَ كَانُواْ شِيَعٗا لَّسۡتَ مِنۡهُمۡ فِي شَيۡءٍۚ إِنَّمَآ أَمۡرُهُمۡ إِلَى ٱللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُواْ يَفۡعَلُونَ 

١٥٩ ( الانعام : 59 ) ( اے پیغمبر ) جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ ڈالا اور الگ الگ گروہ ہو گئے تمہیں ان سے کچھ سروکار نہیں۔ ان کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے پھر وہی بتلائے گا جو کچھ وہ کرتے رہے اس کی حقیقت کیا تھی۔

وَ لَا تَكُونُواْ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ ٣١ مِنَ ٱلَّذِينَ فَرَّقُواْ دِينَهُمۡ وَ كَانُواْ شِيَعٗاۖ ( الروم : 31 – 32 ) اور مشرکوں میں سے نہ ہو جاؤ۔ ان لوگوں نے اپنے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے اور گروہ بندیوں میں بٹ گئے۔

گروہ بندی بھی شرک ہے۔ کیا انسانیت کا گروہ بندیوں کی بھول بھلیوں میں بھٹکنا کسی پیغمبر، کسی علم لدنی سے بہرہ ور خضر راہ کی ہدایت و رہنمائی سے محرومی کی پیدا کردہ جہالت سے ہے؟ نہیں۔ قرآن فرماتا ہے :

وَ لَا تَكُونُواْ كَٱلَّذِينَ تَفَرَّقُواْ وَ ٱخۡتَلَفُواْ مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ ٱلۡبَيِّنَٰتُۚ ( آل عمران : 105 )

” اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے تفرقہ کیا اور جو بینٰت ( روشن دلیلیں ) آ جانے کے بعد اختلاف میں پڑ گئے ۔”

تفرقہ پیدا کرنے والے دو عناصر ہیں۔ ایک ارباب اقتدار اور دوسرے دین کے ٹھیکیدار۔ قرآن فرماتا ہے :

إِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِي ٱلۡأَرۡضِ وَ جَعَلَ أَهۡلَهَا شِيَعٗا ( قصص : 4 )

” بے شک فرعون زمین میں بہت سرکش ہو گیا تھا اور اس نے اہل زمین کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔”

تاریخ بتاتی ہے کہ ہر دور کے فرعون یہ کام کرتے رہے۔ آج بھی مختلف پیمانوں پر یہ کام ہو رہا ہے۔ ہمارے ملک میں لسانی ، علاقائی ، نسلی مسلکی بنیادوں پر تقسیم ہے۔ امریکہ نے سارے مسلم ممالک کے ساتھ وہی کیا جو فرعون نے اپنے ملک میں کیا تھا۔ دینی ٹھیکیداروں کے تعلق سے قرآن فرماتا ہے اور اس فرمان کی پوری پوری تصدیق و ہمنوائی تاریخ کرتی ہے۔ حسب ذیل آیات دیکھیں۔ جن میں بتلایا گیا ہے کہ تفرقات جہالت و عدم ہدایت کی وجہ سے نہیں ہوتے ، ہدایت آنے کے بعد دین کے ٹھیکیداروں ، اقتدار کے متوالوں کے اس رویہ کی وجہ سے ہوتے ہیں جسے قرآن ” بغیاً بینھم ” کہتا ہے۔

وَ مَا ٱخۡتَلَفَ فِيهِ إِلَّا ٱلَّذِينَ أُوتُوهُ مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡهُمُ ٱلۡبَيِّنَٰتُ بَغۡيَۢا بَيۡنَهُمۡۖ   ( البقرہ : 213 ) اور اس ( کتاب الٰہی ) میں اختلاف نہیں کیا مگر انہوں نے جنہیں یہ دی گئی ، روشن دلیلوں کے آجانے کے بعد محض باہمی سرکشی کے سبب ( اختلاف کیا ) ۔

وَ مَا ٱخۡتَلَفَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ 

إِلَّا مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ ٱلۡعِلۡمُ بَغۡيَۢا بَيۡنَهُمۡۗ ( آل عمران : 19 ) جن لوگوں کو کتاب دیا گیا انہوں علم حق آجانے کے بعد محض باہمی سرکشی کے سبب آپس میں اختلاف کیا۔

وَ مَا تَفَرَّقُوٓاْ إِلَّا مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ ٱلۡعِلۡمُ بَغۡيَۢا بَيۡنَهُمۡۚ ( الشوریٰ : 14 ) اور یہ لوگ علم حق آ جانے کے بعد محض باہمی سرکشی کے سبب متفرق ہو گئے۔

فَمَا ٱخۡتَلَفُوٓاْ إِلَّا مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ ٱلۡعِلۡمُ بَغۡيَۢا بَيۡنَهُمۡۚ ( الجاثیہ : 17 )  پس ان لوگوں نے علم حق آ جانے کے بعد محض باہمی سرکشی کے سبب آپس میں اختلاف کیا۔

پس ہدایت وحی کے ذرائع ، البینات ، الکتاب ، العلم ، الفرقان کے آنے کے بعد اختلاف اور تفرقہ پیدا کیا جاتا ہے۔ بغیاً بینھم ۔۔۔۔۔ آپسی مسابقت ، مخالفت ، حسد ، ضد ، سرکشی ، بغض و عناد کے ذریعے۔ دین کے ٹھیکیداروں کی جانب سے۔ لفظ بغی کے 30 سے زائد مشتقات قرآن میں تقریباً 100 بار استعمال ہوئے۔ اردو لفظ بغاوت زبان زد عام ہے۔ قرآن فرماتا ہے :

إِنَّ قَٰرُونَ كَانَ مِن قَوۡمِ مُوسَىٰ 

فَبَغَىٰ عَلَيۡهِمۡۖ  ( القصص : 76 )

” قارون موسیٰ کی قوم میں سے تھا اور ان ( یعنی اپنی قوم ) پر سرکشی کرتا تھا۔”

خَصۡمَانِ بَغَىٰ بَعۡضُنَا عَلَىٰ بَعۡضٖ ( ص : 22 )

” ہم دونوں کا جھگڑا ہے کہ ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ۔”

قَالُواْ يَٰٓأَبَانَا مَا نَبۡغِيۖ هَٰذِهِۦ بِضَٰعَتُنَا رُدَّتۡ إِلَيۡنَاۖ  ( یوسف : 65 )

” انہوں نے کہا : اے ہمارے باپ ! اس سے زیادہ ہمیں کیا چاہیے کہ ہماری پونجی بھی ہمیں لوٹا دی گئی ۔”

پس راہ حق سے انحراف ، قوانین قدرت کی خلاف ورزی حق و حقائق سے چشم پوشی اور بیگانگی ، باطل سے یگانگت سب بغی میں شامل ہیں۔ ریاست و سیاست یا نظم اجتماعی میں تفرقہ و انتشار اور امور دین میں گروہ بندی علیحدہ چیزیں نہیں۔ لازم و ملزوم ہیں۔ حکومت میں اقتدار ہے ، دولت ہے ، قوت ہے ، معاشرتی تفوق ہے اس کے حصول کے لیے افراد اور گروہوں میں آویزش ، کشاکش ، بغیاً بینھم کی وجہ سمجھ آتی ہے۔ اسی طرح احکام الہی میں بھی ، مذہب میں بھی حکومت ہے ، قوت ہے۔ بادشاہت اور حکومت کا تعلق انسانوں کے جسم سے ہے اسی دنیا کی حد تک ہے۔ دینی احکام کی قوت کا تعلق انسانوں کے ذہن سے ہے اس دنیا سے لے کر آخرت کی دنیا تک دراز ہے۔ اسی لیے آیات الہی کو بھی حرص انسانی نے مال تجارت بنا ڈالا ، تاریخ اس کی گواہ ہے۔ قرآنی فرمان اس کی تائید کرتی ہے۔ یورپ میں پوپ کی دین فروشی اور قوت مشہور و معروف ہے۔ وہ صدیوں تک یورپ کے حاکموں کا ” احکم الحاکمین ” بنا رہا۔ عہد وسطی کے ہندوستان کے ایک شیخ الاسلام عبد اللہ سلطان پوری مخدوم الملک کے تعلق سے ہمعصر مورخ عبد القادر بدایونی لکھتا ہے : ” مخدوم الملک کی دولت و تمول کا یہ حال تھا کہ صرف گھر کے صندوقوں میں ہی نہیں بلکہ خاندانی قبروں میں سونے چاندی کی اینٹیں مدفون تھیں۔” ہمارے دور کے سارے ملک کے علماء دین کے پاس ذاتی جائیدادوں ، قیمتی گاڑیوں کے علاوہ ٹرسٹ کے نام سے اربوں مالیت کے مدارس وغیرہ کی عمارتیں ہیں۔ بیرونی ملکوں میں اثاثے ہیں۔ سیرت نبوی کی محفلیں منعقد کرتے ہیں سیکڑوں احادیث بیان کرتے ہیں۔ سنت کی پیروی کی تاکید کرتے ہیں یا حسینوں کے جھرمٹ میں حب نبی کے اظہار کے لیے لہک لہک کر نعتیں پڑھتے ہیں مگر رسول کریم ﷺ کی سادہ زندگی ، تمتعات دنیا سے بے رغبتی کی تعلیم اور اس پر آپ ﷺ کے عمل کا ذکر نہیں آتا۔ کبھی نہیں آتا۔  کہیں نہیں آتا۔ پھر کیا اللہ جل جلالہ کے حکم کی خلاف ورزی سے مخلوق خدا کو اذیت و عذاب میں مبتلا کرنے والے ، خواہ وہ ارباب اقتدار ہوں یا دین کے ٹھیکیدار اور ان موذیوں کی پیروی کرنے والے غضب الہی سے محفوظ رہ سکتے ہیں ؟

قُلۡ هُوَ ٱلۡقَادِرُ عَلَىٰٓ أَن يَبۡعَثَ عَلَيۡكُمۡ عَذَابٗا مِّن فَوۡقِكُمۡ أَوۡ مِن تَحۡتِ أَرۡجُلِكُمۡ أَوۡ يَلۡبِسَكُمۡ شِيَعٗا وَ يُذِيقَ بَعۡضَكُم 

بَأۡسَ بَعۡضٍۗ ٱنظُرۡ كَيۡفَ نُصَرِّفُ ٱلۡأٓيَٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَفۡقَهُونَ ٦٥ ( الانعام : 65 )

آیت کے ترجمے سے پہلے اس بات پر توجہ دینی ہے کہ قرآن اللہ کی صفت قدرت کے لیے 45 بار قدیر اور قدیرا کا لفظ استعمال کرتا ہے اور صرف 7 بار اسم حسنیٰ قادر۔ 2 بار امر قل کے ساتھ 4 بار الیس اور اولم یروا کے ساتھ اور ایک بار قیامت کے دن اٹھائے جانے والے واقعہ پر زور دینے کے لیے۔ یعنی قادر کے اسم حسنیٰ کے استعمال سے اللہ کی قدرت کی ان نشانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو آشکار نہیں ، بادی النظر میں دکھائی نہیں دیتیں۔ اسم قدیر جن آیات میں ہے وہاں ” قل ” نہیں سوائے ایک آیت کے اور وہ قل مشرکوں کے ایک قول کی تردید کے لیے ہے۔ لفظ فوق کا استعمال اس طرح ہے ، بمعنی  درجات کی بلندی

وَ رَفَعۡنَا بَعۡضَهُمۡ فَوۡقَ بَعۡضٖ دَرَجَٰتٖ ( الزخرف : 32 )

” اور ہم نے ان میں سے بعض کے درجات کو بعض سے بلند کیا۔”

اور

نَرۡفَعُ دَرَجَٰتٖ مَّن نَّشَآءُۗ وَ فَوۡقَ كُلِّ ذِي عِلۡمٍ عَلِيمٞ ٧٦ ( یوسف 76 )

” ہم جس کے چاہیں درجات بلند کرتے ہیں اور ہر علم والے کے اوپر ایک علم والاہے۔”

دوسری شکل یہ ہے :

مِّن فَوۡقِهِۦ سَحَابٞۚ ظُلُمَٰتُۢ بَعۡضُهَا فَوۡقَ بَعۡضٍ ( النور : 40 )

” اس کے اوپر بادل ہوں ، اندھیرے ، ایک کے اوپر ایک ۔”

یعنی عذاب بلندی سے آ سکتا ہے جیسے حضرت نوح کی قوم پر بارش ، حضرت لوط کی قوم پر پتھروں کی بارش یا فرعون صفت ظالم ارباب اقتدار کی طرف سے بھی آ سکتا ہے۔ اسی طرح سے قدموں سے یعنی زلزلہ یا عوام الناس ، سازشیوں ، نمک حراموں ، غداروں کی کارروائیوں کے نتیجے میں۔ اب آیت مذکور کا ترجمہ دیکھیں :

” ( اے پیغمبر ! ) کہو کہ وہ اللہ اس پر بھی قادر ہے کہ تم لوگوں پر کوئی عذاب تمہارے اوپر سے بھیج دے یا اوپر والے حکام کی ستم رانیوں کی شکل میں یا تمہارے پاؤں تلے ( جس کے نتیجے میں ) تم کو گروہ در گروہ کر کے آپس میں بھڑا دے اور ایک دوسرے کو لڑائی ( اور برائی ) کا مزہ چکھائے دیکھو کس طرح ہم مختلف پہلوؤں سے بیان کرتے ہیں شائد وہ سمجھ جائیں۔”

سورہ عنکبوت آیت 55 میں بھی ارشاد ہوا :

يَوۡمَ يَغۡشَىٰهُمُ ٱلۡعَذَابُ مِن فَوۡقِهِمۡ وَ مِن تَحۡتِ أَرۡجُلِهِمۡ وَ يَقُولُ ذُوقُواْ مَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ ٥٥

” اور اس دن ان کے اوپر نیچے سے آنے والا عذاب ان پر طاری ہوگا اور اللہ فرمائے گا اپنے اعمال بد کا مزہ چکھو۔”

 کیا آج امت مسلمہ کی حالت ان آیات کی عملی تفسیر نہیں ؟ اوپر جو کچھ بھی آیات درج کی گئیں ان کی تفسیر کے لیے کسی مفسر و عالم دین کی طرف رجوع کرنے کے بجائے مورخ کی طرف رجوع کریں۔ مورخ واقعات سے نتائج اخذ کرنے میں غلطی اور اختلاف کر سکتا ہے کرتا ہے۔ لیکن عموماً علماء دین کی طرح بغیاً بینھم کا مرتکب نہیں ہوتا۔ اللہ کی صداقتوں کی تصدیق مفسرین بھی کرتے ہیں مورخین بھی حتیٰ کہ ہر جاندار اور بے جان مخلوق بھی۔ مگر یہ ” تاریخ ” ہے کیا تاریخ بھی قرآن کا ایک حصہ ہے۔ اللہ نے دعوت انبیاء کی تاریخ بیان کی۔ رومی شہنشاہیت کے زوال و سقوط کی تاریخ لکھنے والا ایڈورڈ گبن Edward Gibbon لکھتا ہے :

” تاریخ انسانوں کے جرائم ، حماقتوں اور بد نصیبیوں کی فہرست کے مماثل ہے۔”

قرآن اللہ کے تعلق سے فرماتا ہے :

يُدَبِّرُ ٱلۡأَمۡرَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ إِلَى ٱلۡأَرۡضِ

وَ إِلَى ٱللَّهِ تُرۡجَعُ ٱلۡأُمُورُ

لَهُ ٱلۡحَمۡدُ فِي ٱلۡأُولَىٰ وَ ٱلۡأٓخِرَةِۖ وَ لَهُ ٱلۡحُكۡمُ وَ إِلَيۡهِ تُرۡجَعُونَ ٧٠

اللہ دنیا میں وقوع پذیر ہونے والی ہر حرکت سے با خبر ہے۔ ہر کام اس کے علم و مشیت سے ہے لیکن ایک فرانسیسی شاعر لامر ٹائین  Lamertine کہتا ہے : ” مشیت الہی انسانوں کے روزمرہ کے معاملات میں اپنے کو پوشیدہ رکھتی ہے لیکن تاریخ کے قوانین کے نفاذ میں اپنی جلوہ نمائی کرتی ہے۔”

اولیور کرامویل Oliver Cromwell تاریخ انگلستان کا ایک منفرد کردار کا حامل جنرل اور سیاستدان تھا وہ کہتا ہے : ” تاریخیں اس کے سوا کیا ہیں کہ مشیت الہی کی جلوہ نمائیاں ہیں جو ہر اس چیز کو کچل کر نابود کر دیتی ہیں جو اس کے احکام کے خلاف وجود میں لائی گئی ہوں۔”

یہ بات جزوی طور پر صحیح ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے اور تاریخی واقعات کے تسلسل اور اعادے سے تاریخی قوانین کی تدوین ہوتی ہے۔ پھر تاریخ کے ہی کسی واقعہ کے آغاز و انجام سے دیکھیں کہ معاشرتی ٹوٹ پھوٹ ، سیاسی انتشار ، مذہبی گروہ بندیوں ، رقص و سرور کے اشتغال ، ہوائے نفس سے مغلوبیت سہل انگاری سے قوائے ذہنی اس طرح مسخ و معطل ہو جاتے ہیں کہ مردم شناسی کا مادہ زائل ہو جاتا ہے۔ مآل کار کا احساس مفقود ہو جاتا ہے۔ انسانی فطری شرف و عزت و حقوق کی پامالی ظلم و زیاتی سے معاشرہ کی بنیادیں کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔ سورہ اعراف آیت 179 میں ارشاد ہوا :

وَ لَقَدۡ ذَرَأۡنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرٗا مِّنَ ٱلۡجِنِّ وَ ٱلۡإِنسِۖ لَهُمۡ قُلُوبٞ لَّا يَفۡقَهُونَ بِهَا وَ لَهُمۡ أَعۡيُنٞ لَّا يُبۡصِرُونَ بِهَا وَ لَهُمۡ ءَاذَانٞ لَّا يَسۡمَعُونَ بِهَآۚ أُوْلَٰٓئِكَ كَٱلۡأَنۡعَٰمِ بَلۡ هُمۡ أَضَلُّۚ أُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡغَٰفِلُونَ ١٧٩

” اور کتنے ہی جن اور انسان ہیں جنہیں ہم نے جہنم کے لیے پیدا کیا یعنی بالآخر ان کا ٹھکانہ جہنم ہونے والا ہے۔ ان کے پاس عقل ہے مگر اس سے سمجھ بوجھ کا کام نہیں لیتے ، آنکھیں ہیں مگر دیکھتے نہیں ، کان ہیں مگر سنتے نہیں ( وہ عقل و حواس کااستعمال کھو کر ) چار پایوں کی طرح ہو گئے بلکہ ان سے بھی زیادہ کھوئے ہوئے۔ ایسے ہی لوگ ہیں جو سراسر غفلت میں ڈوب گئے۔”

تاریخی واقعات کا مشاہدہ اور بیان بھی قرآنی آیات کی تفسیر کا بدل ہے۔ حالیہ تاریخ اور آج کی صورت حال دیکھیں أَن يَبۡعَثَ عَلَيۡكُمۡ عَذَابٗا مِّن فَوۡقِكُمۡ أَوۡ مِن تَحۡتِ أَرۡجُلِكُمۡ کی عملی تفسیر ہر مسلم ملک میں واضح ہے۔ اس میں اپنے بھی شریک ہیں غیر بھی۔ مقتول مسلمان ہیں قاتل غیرمسلم قومیں اور ان کے آلہ کار نام نہاد مسلم حکمران اور ان کے حلقہ بگوش دین کے ٹھیکیدار۔ قابل غور بات یہ ہے کہ صورت حال عذاب الہی کا استحقاق مسلمانوں کے کن اعمال کی وجہ سے ہے اس کی ابتداء کب ہوئی ، کیوں ہوئی۔ قومیتوں کی تشکیل و تعمیر اور ادبار و تباہی کے اسباب صدیوں میں پرورش پاتے ہیں۔ سورہ الحج  آیت 47 میں ارشاد ہے :

وَ يَسۡتَعۡجِلُونَكَ بِٱلۡعَذَابِ وَ لَن يُخۡلِفَ ٱللَّهُ وَعۡدَهُۥۚ وَ إِنَّ يَوۡمًا عِندَ رَبِّكَ كَأَلۡفِ سَنَةٖ مِّمَّا تَعُدُّونَ ٤٧

” اور یہ آپ سے عذاب کی جلدی کر رہے ہیں ، اور اللہ ہرگز اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ۔ اور بے شک آپ کے رب کے نزدیک ایک دن تمہاری شمار کے مطابق ہزار برس کے برابر ہے۔”

اللہ کے عذاب کا وعدہ پورا ہو کر رہتا ہے۔ قومیں اپنی خوش حالی میں مگن رہتی ہیں۔ معصیتوں کا دور دورہ رہتا ہے۔سمجھتی ہیں کہ عذاب آنے کا کوئی امکان نہیں۔ اللہ فرماتا ہے تم کو ڈھیل دی جاتی ہے لیکن پکڑ ضرور ہوگی جلدی نہ کرو۔ اللہ کے پاس قوموں کے عروج و زوال کی مدت کے حساب میں اللہ کا ایک دن تمہارے پاس ایک ہزار سال کے برابر ہے۔

رسول کریم ﷺ کی ولادت با سعادت سے آج تک کچھ کم ڈیڑھ ہزار سال کا عرصہ گذرا۔ ہم مورخین کی مدد سے اس دور کا جائزہ لیں۔ پہلے چند حقائق کا ادراک کریں اور ہمیشہ پیش نظر رکھیں۔

قرآن نے متعدد بار بتلایا کہ ہر دور میں انبیاء کرام کے پیغام حق کی قبولیت کے لیے مشرکین کو تعقل کی دعوت دی مشرکین مکذبین نے پیغمبروں کے دلائل کو رد نہیں کیا صرف اپنے آباء و اجداد کی تقلید کا جواز پیش کیا۔ افسوس کہ صدیوں سے امت سلمہ نے ہزاروں سال پرانی اس کافرانہ طرز فکر کو اپنایا ہوا ہے۔ دو آیات پیش ہیں :

إِنَّا وَجَدۡنَآ ءَابَآءَنَا عَلَىٰٓ أُمَّةٖ وَ إِنَّا عَلَىٰٓ ءَاثَٰرِهِم مُّهۡتَدُونَ ٢٢ ( الزخرف : 22 ) بلاشبہ ہم نے اپنے آباء کو ایک راہ پر پایا اور بے شک ہم انہی کے نقوشِ قدم کے رہ گزر ہیں۔

بَلۡ وَجَدۡنَآ ءَابَآءَنَا كَذَٰلِكَ يَفۡعَلُونَ ٧٤ ( الشعراء : 74 ) بلکہ ہم نے اپنے آباء کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔

اب تک بہت سی قرانی آیات درج کی گئیں۔ اب چند فرامین نبوی کا جائزہ لیں جن کی مسلمانوں نے دل کھول کر خلاف ورزی کی اور کر رہے ہیں۔ رسول کریم ﷺ نے اپنی وفات سے 81 دن قبل 9 ذی الحجہ 10 ہجری ( 632ء ) حجۃ الوداع کے خطبہ میں فرمایا میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ خود ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔ تم کو خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے اور وہ تمہارے اعمال کی باز پرس کرے گا۔ آپ نے فرمایا : عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں۔ تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم خاک سے بنائے گئے تھے۔ آپ نے یہی ہدایت فرمائی : اگر ایک حبشی غلام بھی تم پر امیر بنا دیا جائے اور وہ کتاب اللہ کے ساتھ تم پر حکومت کرے تو اس کی اطاعت کرو۔

یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ حجۃ الوداع کے موقعہ پر آخری وحی میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

ٱلۡيَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِينَكُمۡ وَ أَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِي وَ رَضِيتُ لَكُمُ ٱلۡإِسۡلَٰمَ دِينٗاۚ ( المائدہ : 3 )

” آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اور تمہارے لیے پسند کر لیا کہ دین اسلام ہو۔”

پس 10 ہجری میں دین مکمل ہو گیا اس کے برسوں بعد جو واقعات پیش آئے وہ دینی احکام کی تعمیل یا خلاف ورزی یا کسی دینی کام کی تاویل و تشریح میں غلطی سے ہوئے وہ دین کا مسئلہ نہیں تاریخ کا حصہ ہیں۔ خواہشات ، ظنون ، حق کا بدل نہیں اور حقائق کو جانچنے کے لیے اللہ کے آفاق و انفس میں بنائے گئے قوانین ہیں۔ تاریخ کے قوانین ہیں۔ انفرادی اور اجتماعی انسانی نفسیات کے قانون ہیں۔ معاشی ، معاشرتی تبدیلیوں کے محرک کے تعین کے قوانین ہیں کہ کس طرح معاشی حالات کی تبدیلی ، سیاسی نظام کی تبدیلی کا مطالبہ کرتی ہے۔ انسانوں کی اجتماعی نفسیات پر اثر انداز ہوتی ہے۔

حضرت ابو عبیدہ بن جراح مشہور صحابی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں ” امین الامت ” کا خطاب عطا فرمایا تھا۔ وہ فاتح شام ہیں۔ شام کے علاقے میں 18 ہجری میں حضرت عمر کی وفات سے 5 سال قبل کہا ان کا یہ قول تاریخ نے محفوظ کر لیا۔” اگر عمر وفات پا گئے تو اسلام غلام ہو جائے گا۔ میں پسند نہیں کرتا کہ ان کے بعد دنیا میں زندہ رہوں۔ اگر تم زندہ رہے تو جو کچھ میں کہتا ہوں وہ اپنی آنکھوں سے دیکھو گے۔ عمر کے بعد اگر کوئی والی بنایا گیا اور اس نے باز پرس میں عمر کی سی شدت اختیار کی تو لوگ اس کی اطاعت نہیں کریں گے۔ اس کی شدت ان سے برداشت نہیں ہوگی۔ اگر اس نے کمزوری اختیار کی تو لوگ اسے قتل کر دیں گے۔” کیا یہ پیش گوئی علم نجوم کی بناء پر کی گئی ؟ نہیں ! زمانہ کی رفتار ، اور نفس انسانی کی نبض پر انگلی رکھ کر کی گئی۔ اللہ کی دی ہوئی صلاحیت ، الفرقان کی بناء پر کی گئی۔ حضرت عمر کی وفات پر ابھی ان کے جانشین کا فیصلہ نہیں ہوا تھا اور لوگوں کو آنے والی خرابیوں کا شدت سے احساس تھا۔ حضرت سعید بن زید رو رہے تھے لوگوں نے وجہ  پوچھی تو کہا : میں اسلام پر رو رہا ہوں کہ عمر کی موت نے ایسا رختہ ڈال دیا جو قیامت تک پر نہیں ہو سکتا۔ بہرحال حضرت عثمان تیسرے خلیفہ منتخب ہوئے بارہ سال بعد 35 ہجری میں مسلمانوں نے اپنے اس خلیفہ کو شہید کر دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے جس کی زوجیت میں اپنی دو بیٹیوں کو یکے بعد دیگرے دیا تھا۔ رسول کریم ﷺ کی وفات کے بعد یہ مسلمانوں کا پہلا اجتماعی گناہ عظیم تھا۔ میرے بعد آپس میں ایک دوسرے کی گردن نہ مارنے کا حکم فراموش کیا گیا۔ حضرت عثمان کا قتل ایک شخص کا خون بہانا نہ تھا۔ صحابہ کے اندیشے پورے ہوئے۔ اختلاف و تفرقہ کی بنیاد پڑی۔ جنگ جمل اور صفین کی جنگوں میں ایک لاکھ مسلمان قتل ہوئے۔ بغیاً بینھم کی ضروریات اور تقاضوں سے جعلی حدیثیں ، وضع کرنے اور فرضی واقعات گھڑنے کا چلن جاری ہوا۔ جو آج تک جاری ہے۔ اسلامی مملکت دو حصوں میں بٹ گئی۔ ایک حصہ پر امیر معاویہ حاکم رہے ایک حصہ پر حضرت علی 5 سال بعد سنہ 40 ہجری میں حضرت علی بھی شہید ہوئے۔ حضرت حسن جانشین ہوئے اور 41 ہجری میں حضرت حسن حضرت معاویہ کے حق میں دست بردار ہوئے تو پھر سیاسی وحدت بحال ہوئی۔ سنہ 41 ہجری سے 132 ہجری تک بنی امیہ حکمران رہے۔

خلافت راشدہ اور ملوکیت کے طرز حکومت کا فرق یہ ہے کہ خلافت راشدہ انسانی مساوات ، سماجی انصاف اور رسول کریم ﷺ کے فرمان پر کہ ” عربی کو عجمی اور عجمی کو عربی پر فوقیت نہیں سب اولاد آدم برابر ہیں ” پر عمل پیرا تھی۔ بنی امیہ و عباسیہ کی حکومتوں کی بنیاد شدیدقسم کی عصبیت پر تھی ، اور عصبیت ، پیدائشی اونچ نیچ ، نسلی تفاخر ، قبائلی تفوق کے دعاوی وغیرہ سب بغیاً بینھم کے شاخسانے ہیں۔ حکومت صرف کافر اور مسلم عربی اور عجمی کی تفریق پر قانع نہیں تھی عرب بھی قریش اور غیر قریش کی تفریق کا شکار تھے۔ مسلم اور نو مسلم ( موالی ) برابر نہیں ہو سکتے تھے خواہ موالی کتنا ہی متقی اور عالم ہو۔  مثالیں ملاحظہ ہوں :

1-حضرت علی بن حسین ( امام زین العابدین ) نے بھی ایک جاریہ ( لونڈی ) سے شادی کرلی تو اموی خلیفہ عبد الملک نے سخت طعن و طنز کیا تو حضرت علی کے پوتے نے جواب دیا یقیناً تم لوگوں کے لیے بہترین نمونہ رسول اللہ ﷺ کی ذات میں ہے حضور ﷺ نے صفیہ بنت حی کو آزاد کیا اور ان سے شادی کرلی۔ اسی طرح زید بن حارثہ کو آزاد کیا اور ان سے اپنی پھپھیری بہن زینب بنت حجش کی شادی کر دی۔ ( ابن سعد )

2-امام حسین کے پوتے زید بن علی  بن حسین بن علی بن ابو طالب نے خلافت کا دعویٰ کیا تو ہشام بن عبد الملک نے لکھا آپ خلافت پر نظر رکھتے ہیں مگر آپ اس کے اہل بھی نہیں۔ آپ کنیز زادے ہیں۔

3-بصرہ کے مشہور عالم دین امام عبد اللہ بن عوف جو نسلاً عرب نہیں تھے ایک عرب خاتون سے شادی کرنے کے جرم میں عبد الملک کے گورنر بلال ابن ابی بردہ نے انہیں کوڑے لگوائے۔

بنی امیہ کے گورنر غیر عرب مفتیوں سے فتوے نہیں لیتے تھے۔

بنی امیہ کی حکومت میں عرب قبائل میں انقباض و چشمک تھی۔ بنی ہاشم نالاں تھے۔ بنی ہاشم میں اولاد علی کی طرح عم رسول حضرت عباس بن عبد المطلب کی اولادیں بھی تھیں۔ نو مسلم موالی دل گرفتہ تھے۔ سب سے زیادہ ایرانیوں کے دل حسد اور انتقام سے بھرے تھے۔ ایک ایرانی نے ہی حضرت عمر پر قاتلانہ حملہ کیا تھا۔ ایرانی قوم حضرت ذو القرنین[1] کی قائم کردہ شہنشائیت کی وارث ایک ترقی یافتہ قوم تھی۔ امتداد زمانہ سے حضرت زردشت اور حضرت ذو القرنین کی تعلیمات مسخ ہو کر قدیم ایران کے آتش پرست عقائد میں ڈھل گئی تھیں لیکن ظہور اسلام کے وقت بھی دنیا کی بڑی قوت تھی اور عراق اور جنوبی عرب کے بعض عرب قبائل پر حکمران تھی۔ عربوں کے ہاتھوں شکست اور سابقہ محکوموں کی مفتوحہ قوم کا درجہ ان کے لیے سوہان روح بنا ہوا تھا۔ عصبیت کے نشہ میں چور بنی امیہ تالیف قلب ( قرآن کے الفاظ المولفۃ القلوب ) کے تصور سے نا آشنا تھے۔ آل علی اور آل عباس کی دلجوئی کے لیے وظائف اور جاگیریں دی گئیں۔ یہ مسلمہ ہے کہ بنی ہاشم میں حضرت علی اور ان کے اہل خانہ خود کو خلافت کا حقدار سمجھتے تھے۔ یہ بھی سوال اٹھا تھا کہ حضرت عباس عم رسول اور حضرت علی عم زاد رسول میں کون زیادہ حقدار ہے لیکن کوئی بھی حضرت عباس کو حضرت علی پر ترجیح نہیں دیتا تھا۔ مسلمانوں کے پاس تو شیعہ سنی مسئلہ ہے۔ عیسائی مورخین اسے ایرانی قومیت اور شناخت کے احیاء کی ایک حکمت عملی قرار دیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ حضرت معاویہ اور حضرت علی کی کشمکش قدیم قبائلی آویزش کا تسلسل تھی دونوں عرب تھے۔ ایرانیوں نے اپنی قدیم تاریخ کی کسی شخصیت کو اپنی عقیدت و وفاداری کا مرکز کیوں نہیں بنایا ؟ حضرت علی کا انتخاب کیوں کیا۔ اس کی کیا تاریخی توجیہ ہے اور کیا تاریخ میں کوئی اور مثال ہے کہ کوئی قوم اپنی قومیت کی تشکیل جدید کے لیے کسی دوسری قوم کے کسی نظرئیے کو اختیار کرتی ہے ؟ Toyenbee ٹائن بی نے اس مسئلہ پر بحث کی ہے۔ اگر ہمارے مسلکی علماء پڑھ سکتے اور پڑھنا چاہتے ہوں تو ” اے اسٹڈی آف ہسٹری ” پڑھ لیں۔

 توہین آمز برتاؤ مسلسل نا انصافیوں ، محرومیوں ، حق تلفیوں کے احساس نے بالآخر مختلف عربی اور عجمی طبقات کو تبدیلی کی کوششوں پر ابھارا۔ عم زاد رسول حضرت عبد اللہ بن عباس کے پوتے محمد بن علی بن عبد اللہ بن عباس نے تحریک شروع کی لیکن اس تحریک میں بھی ابتداء سے بغیاً بینھم کی آمیزش تھی۔ محمد بن علی جانتے تھے کہ شیعہ حضرات صرف حضرت علی کی اولاد کو خلافت کا حقدار سمجھتے ہیں اور اولاد علی میں اس وقت حضرت امام جعفر صادق ، حضرت عبد اللہ المحض بن حسن بن علی بن ابی طالب اور حضرت عمر الاشرف بن زین العابدین موجود تھے۔ محمد بن علی نے خراسان کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔ اس کے کارندے تمام تر ایرانی تھے۔ انہیں تاکید کی کہ دعوت اہل بیت کے نام سے دیں ۔ خاص شخصیت کا نام نہ لیں۔ بہرحال یہ تحریک بنی امیہ کی بیوقوفیوں اور ابو مسلم خراسانی اور دیگر ایرانیوں کی پر جوش اور عاقلانہ حکمت عملیوں سے کامیاب ہوئی اور سنہ 132 ہجری میں بنی امیہ کی حکومت ختم ہوئی اور علویوں کی جگہ عباسیوں کی خلافت قائم ہوئی۔ اموی خلیفہ کے اہل خاندان قتل ہوئے مرحومین کی قبریں کھو دی گئیں ایک شخص جان بچا کراندلیس پہنچا اور وہاں اپنی حکومت قائم کی۔ تقریباً 90 سال بعد پھر حکومت دو حصوں میں بٹ گئی اور پھر بٹتی گئی اور آج تک بٹی ہوئی ہے۔ ایرانی عنصر مضبوط ہوا اہم عہدوں پر فائز ہوا۔ اپنی لیاقت و اہلیت کی بناء پر بہتر نظم و نسق قائم کیا۔ مگر اہم عہدوں پر اپنے لوگوں کو اس حد تک بھر لیا کہ خلفاء کو اپنے اقتدار کا خطرہ محسوس ہوا۔ ابو مسلم سے لے کر برامکہ کے خاندان کے افراد قتل ہوئے پھر نئی قومیتوں کے افراد آل بویہ ، ترک ، سلجوق ، خوارزمی اقتدار میں شریک ہوئے تو خلفاء قتل ہونے لگے۔

سلطنت عباسیہ کا ضعف محسوس کر کے اندلس میں عبد الرحمٰن ناصر نے امیر المومنین کا لقب اختیار کیا۔ اور امیر المومنین بھی ظاہر ہوئے۔ زیدیہ اور اسماعیلیہ شیعوں کی حکومتیں قائم ہوئیں۔ شمالی افریقہ ، ماوراء النہر ، خوارزم میں حکومتیں قائم ہوئیں۔ بغداد میں شیعہ آل بویہ خلیفہ پر حاوی تھی بعد میں خلیفہ سنی ترکوں کی پناہ میں آئے۔ سلطنت میں دراڑیں پڑیں دین کا وہی حال ہوا۔ جسے قران نے جَعَلُواْ ٱلۡقُرۡءَانَ عِضِينَ ٩١ ( الحجر : 91 ) فرمایا۔ مختلف حکومتوں نے الگ الگ فقہی مسلک کی سرپرستی کی 525ھ میں مستنصر باللہ کے دور میں مصر میں چار قاضی مقرر ہوئے۔ اسماعیلی ، امامیہ ، مالکی ، شافعی۔ پھر ظاہر بیبرس نے مصر میں حنفی ، شافعی ، مالکی ، حنبلی قاضی مقرر کیے۔ شعیہ سنی مذہبی سیاسی تفریق کے ساتھ شدید فقہی تفریق ظاہر ہوئی۔ بغض و عداوت کی شدت سے غیر قوموں کو مدد اور مداخلت کی درخواستیں گزاری گئیں۔

انجام یہ ہوا کہ محرم 656 ہجری ( 1258ء ) میں مستعصم باللہ کے وزیر علقمی اور ہلاکو کے معتمد وزیر نصیر الدین الطوسی کی سازش ، ترغیب اور دعوت پر ہلاکو تاتاری نے بغداد پر حملہ کیا۔ بغداد تاراج ہوا۔ لاکھوں آپس میں دست و گریباں مسلمان ، حنفی ، شافعی ، شیعہ ، سنی قتل ہوئے۔ پانچ صدیوں کی مسلم تہذیب ، معاشرت ، دینی ، تمدنی ، ذہنی کاوشوں کا ماحصل ملیا میٹ کر دیا گیا۔ ہلاکو کو مشورہ دیا گیا کہ خلیفہ کے خون سے ہاتھ نہ رنگے۔ اسے زندہ نمدے میں لپیٹ کر کچلا گیا۔ امت مسلمہ کی تاریخ کے سوا  پانچ سو سال کے ایک دور کا یہ عبرتناک ، درد ناک اور شرمناک انجام ہوا۔

مستعصم باللہ کا نہایت درد ناک مرثیہ شیخ سعدی نے اس وقت لکھا جب کوئی شخص اس کا رونے والا اور خود اسلام کے سوا کوئی ماتم دار اور سوگوار دنیا میں باقی نہ رہا تھا۔ تین ابیات درج کیے جاتے ہیں۔

آسماں را حق بود گرخون ببارد بر زمین

بر زوال ملک مستعصم امیر المومنین

 آسماں کا فرض ہے کہ ملک مستعصم کی تباہی پر زمین پر خون برسائے۔

اے محمد گر قیامت ہی بر آری سر ز خاک

سر بر آورکیں قیامت درمیان خلق بین

 اے محمد ﷺ اگر آپ قیامت ہی کو مرقد سے باہر نکلیں گے تو ابھی نکل کر قیامت دنیا میں دیکھ لیجئے۔

خون فرزندان عم مصطفٰے شد ریختہ

ہم بر آں خاکے کہ سلطاناں نہامذے جبین

پیغمبر خدا کے بنی عم کا خون اس خاک پر بہ گیا جہاں سلاطین ماتھا رگڑتے تھے۔

حضرت رسالت مآب ﷺ نے ساڑھے چھ سو سال قبل اس ہونے والے سانحہ پر اپنے دکھ کا اظہار کر کے پیشین گوئی فرما دی تھی۔

بخاری کی حدیث زینب بنت حجش میں اسی صورتحال کی طرف صاف صاف اشارہ موجود ہے۔ حدیث کا ترجمہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ ایک دن سو کر اٹھے تو ان کا چہرہ مبارک شدت تاثر سے سرخ ہو رہا تھا اور فرما رہے تھے۔ لا الہ الا اللہ۔ اس شر سے جو قریب آ گیا۔ ویل للعرب ، عرب کے لیے افسوس آج یاجوج ماجوج [2]         ( تاتاریوں ) کی روک کھل گئی۔ صحابی نے عرض کیا کیا ہم ہلاکت میں پڑ جائیں گے حالاں کہ ہم میں صالح انسان بھی ہوں گے فرمایا ہاں جب گندگی بڑھ جائے گی۔ مولانا ابو الکلام آزاد نے سورة الانبیاء کے ترجمہ میں صراحت کی ہے۔ جویائے حق رجوع کریں۔

قابل غور بات یہ ہے کہ سورۃ الانبیاء کی آیت 96 میں حملہ آور یاجوج ماجوج ( تاتاری ) مِّن كُلِّ حَدَبٖ يَنسِلُونَ ٩٦ زمین کی تمام بلندیوں سے دوڑتے ہوئے اتریں گے کہا گیا۔ کیا یہ عذاب من فوقکم نہیں اور کیا علقمی اور طوسی کی سازشوں کے نتائج عذاب من ارجلکم نہیں جس کا سورہ الانعام کی آیت 65 میں ذکر ہوا۔ لیکن امت مسلمہ نے گزشتہ ساڑھے سات سو سال میں اس سانحہ کے متعلق کچھ سنا ، کہا اور سوچا ہی نہیں جس سانحہ پر اس کے واقع ہونے سے صدیوں قبل اللہ کے رسول نے اپنے دکھ کا اظہار کیا تھا ہمارے اداکار ، گلوکار ، میڈیا یا چینلی علامہ ، علماء دین ، مذہبی اسکالر ، اسلامیات کے امراض کے ڈاکٹر ، عالم آن لائن وغیرہ وغیرہ تاریخ کے شعور سے اس طرح بے گانہ ہیں جس طرح ایک فاحشہ شرم و حیا سے۔ ان کے پاس تاریخ ان کی خواہشات ، جاہلانہ گروہی سوچ ، ذوق قصہ گوئی کے سانچوں میں ڈھالی گئی کہانیوں اور خرافات کا نام ہے۔ لیکن اس سانحہ جان کاہ کی مجلس ماتم ابھی ختم نہیں کی جا سکتی۔ زخم گہرا ہو تو درد کی ٹیس رہ رہ کر اٹھتی ہے اسی کیفیت کو غالب نے اس طرح بیان کیا۔

دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوز

پھر ترا وقت سفر یاد آیا

سورہ انبیاء کی آیت 96 کے ترجمہ اور تشریح کے ضمن میں مولانا ابو الکلام آزاد لکھتے ہیں :

” اس واقعہ نے تاریخ اسلام کو دو بڑی قسموں میں تقسیم کر دیا ہے۔ قبل از فتنہ تاتار اور بعد از فتنہ تاتار۔ پہلے عہد کی تمام دینی ، تمدنی ، ذہنی اور عملی خصوصیات دوسرے عہد میں یک قلم معدوم ہو گئیں۔ پہلا عہد صرف عروج ہی کا عہد نہ تھا تنزل کا بھی تھا۔ تاہم مسلمانوں کے فکر و عمل کی جو معنوی روح اوائل میں پیدا ہو گئی تھی وہ کسی شکل میں کم و بیش قائم تھی لیکن اس فتنے نے پچھلا دور بالکل ختم کر دیا اور عالم اسلامی کی خون آلود سر زمین سے جو نیا دور بنا وہ ہر اعتبار سے ایک مختلف اور متضاد دور تھا اور سر تا سر عہد تنزل کی پیداوار۔”

 آج مسلمانوں کے فکر و عمل کا جو ڈھانچہ نظر آ رہا ہے یہ اسی دور کی پیداوار ہے۔ اس انقلاب حال کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ عربی خلافت کا بکلی خاتمہ ہو گیا۔ عربی خلافت اس سے پہلے ہی خلافت نہیں رہی تھی خلافت کا محض سایہ تھی تاہم سایہ باقی تھا وہ اصلیت کی یاد تازہ کرتا رہتا تھا لیکن سقوط بغداد سے یہ سایہ بھی معدوم ہو گیا۔ تقریباً سو سال قبل بھی مولانا آزاد اپنی  کتاب ” تذکرہ ” میں لکھتے ہیں :

” ساتویں صدی  کے اختتام اور آٹھویں صدی کے اوائل کا زمانہ تاریخ اسلام کا ایک نہایت ہی نازک اور انقلابی زمانہ تھا۔ مشرق میں عربی خلافت کا بکلی خاتمہ ہو چکا تھا۔ تاتاری وحشی درندے صرف تاخت و تاراج کے لیے آئے تھے لیکن اب پچاس لاکھ مسلمانوں کے خون اور چھ صدیوں کے اسلامی تمدن کی ویرانی پر اپنی سلطنت کی عمارت تعمیر کر رہے تھے۔ ہلاکو کا پڑ پوتا قازان خان اگرچہ مسلمان ہو گیا تھا لیکن ابھی یہ تبدیلی برائے نام تھی۔ وحشت و خون خواری میں تمام تاتاری خصائل بدستور کام کر رہے تھے۔ مسلمانوں کا کوئی مرکز باقی نہ رہا تھا۔ برسوں تک جمعے کے خطبے کسی سلطان اسلام کے ذکر سے خالی رہے اس عام بربادی نے مسلمانوں کی تمام اخلاقی قوتیں بھی فناء کر دیں۔ تاتاریوں کی ہیبت نے زندوں کو مردہ بنا دیا تھا وہ صرف خون بہاتے اور نعشوں کے پل اور سروں کے مینار ے کھڑے کرتے۔ ایک چھوٹی سی ٹکڑی آبادیوں کی آبادیاں ذبح کر ڈالتی اور بادشاہوں اور فوجوں کو سر اٹھانے کی جرات نہ ہوتی۔ جب کوئی مرکز نہ رہا تو شریعت کا بھی کوئی محافظ نہ رہا۔ نہ امت کا کوئی رہبر۔ وہ سارے علمی اور عملی مفاسد جو آج  نظر آ رہے ہیں یا تو اسی عہد میں پیدا ہوئے یا ہو چکے تھے تو اسی عالم آشوبی میں کمال بلوغ کو پہنچے۔ علوم اصلیہ قرآن و حدیث کے ترک کی بنیادیں اسی عہد میں استوار ہوئیں۔ تقلید شخصی اور مذہبی فرقہ بندی کے التزام و تعصب نے اسی زمانے میں زور پکڑا۔ نو مسلم حکمران ( آج کے موروثی مسلم حکمرانوں کی طرح ) مذہب و علم سے نا آشنا تھے۔ اس لیے مذہبی حکومت تمام تر علماء و فقہائے مذاہب کے ہاتھ آ گئی یہ صورتحال  خرابی کی اور منزلیں طے کر کے آج تک قائم ہے۔”

[1]    حضرت ذو القرنین سے مراد ایرانی بادشاہ خورس ہے جو مولانا ابو الکلام آزاد اور بعض مفسرین کی تحقیق کے مطابق قرآن کے بیان کردہ ذو القرنین ہیں۔ محترم مضمون نگار بھی اسی تحقیق کے قائل ہیں۔ ( ادارہ )

[2]   بعض محققین و مورخین کے نزدیک قرآن میں جس یاجوج و ماجوج قوم کا ذکر کیا گیا وہ تاتاری ہیں۔ مضمون نگار کی تحقیق بھی یہی ہے۔ مولانا آزاد نے ” ترجمان القرآن ” میں اس پر بھرپور دلائل دیئے ہیں شائقین اس کی مراجعت کر سکتے ہیں۔( ادارہ )

 

 

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s