علوم و معارف قرآن


شمارہ 34 اور 35، جنوری / فروری 2015

ربیع الاول و ربیع الثانی  1436ھ

03 uloom e quran Title

online urdu

قرآنیات

علوم و معارف قرآن

مولانا سیّد داود غزنوی

ہدایت و سعادت کی پیاسی اور تشنہ کام دنیاکے لیے اگر کوئی چشمہ حیات ہو سکتا ہے تو وہ قرآن مجید ہی ہے ، جہاں ان کی شقاوت و ضلالت کے دور کرنے اور ہر قسم کی راحت و تسکین اور طمانیت قلب کے پہنچانے کا پورا سامان موجود ہے اور تمام بیماران قلب و روح اور مریضانِ عمل کے لیے اسی میں پیغام شفا ہے اور شقاوت و ضلالت کے زخموں سے جاں بلب بیماروں کے لیے بھی زندگی کا آخری سہارا اسی میں ہے ۔ فر مایا :

قُلۡ هُوَ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ هُدٗى وَشِفَآءٞۚ

” قرآن مجید ہی ایمان دار لوگوں کے لیے موجب ہدایت اور نسخہ شفا ہے۔” (حم السجدہ :44 )

اور بدعات و محدثات اور فسق و فجور کی تاریکیوں میں یہی روشنی کا مینار ہے ، جس سے مسلمانوں کا راہ بھولا ہوا قافلہ اپنا راستہ تلاش کر سکتا ہے اور بدعات و محدثات کے ظلمات سے نجات حاصل کر کے نور اور روشنی پا سکتا ہے۔ فرمایا :

قَدۡ جَآءَكُم مِّنَ ٱللَّهِ نُورٞ وَ كِتَٰبٞ مُّبِينٞ ١٥ يَهۡدِي بِهِ ٱللَّهُ مَنِ ٱتَّبَعَ رِضۡوَٰنَهُۥ سُبُلَ ٱلسَّلَٰمِ وَ يُخۡرِجُهُم مِّنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ بِإِذۡنِهِۦ وَ يَهۡدِيهِمۡ إِلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ

” تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور ہدایت اور واضح کتاب آ چکی جس کے احکام صاف و صریح ہیں ، جو قوم رضائے الٰہی کی طلب گار ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اسے قرآن کریم کے ذریعہ سلامتی کے راستے دکھاتا ہے اور اپنے فضل و کرم سے ان کو ( کفر و جہالت کی ) تاریکیوں سے نکال کر ( ایمان اور علم کی ) روشنی میں لے آتا ہے اور ان کو راہ راست دکھاتا ہے ۔” ( سورہ المائدہ : 15 – 16 )

اور اسی نورِ حقیقت اور مشکوةِ معرفت کو قرآن کریم میں نہایت لطیف تمثیل کے ساتھ واضح فرمایا :

ٱللَّهُ نُورُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَ ٱلۡأَرۡضِۚ مَثَلُ نُورِهِۦ كَمِشۡكَوٰةٖ فِيهَا مِصۡبَاحٌۖ ٱلۡمِصۡبَاحُ فِي زُجَاجَةٍۖ ٱلزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوۡكَبٞ دُرِّيّٞ يُوقَدُ مِن شَجَرَةٖ مُّبَٰرَكَةٖ زَيۡتُونَةٖ لَّا شَرۡقِيَّةٖ وَ لَا غَرۡبِيَّةٖ يَكَادُ زَيۡتُهَا يُضِيٓءُ وَ لَوۡ لَمۡ تَمۡسَسۡهُ نَارٞۚ نُّورٌ عَلَىٰ نُورٖۚ يَهۡدِي ٱللَّهُ لِنُورِهِۦ مَن يَشَآءُۚ وَ يَضۡرِبُ ٱللَّهُ ٱلۡأَمۡثَٰلَ لِلنَّاسِۗ وَ ٱللَّهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٞ ٣٥

” اللہ ہی زمین و آسمان کی روشنی بخشنے والا ہے اس نے مومن کے دل کو جو نورِ ہدایت بخشا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق  ( قلب مومن ) ہے اور طاق میں ایک چراغ رکھا ہے اور چراغ شیشے کی قندیل میں ہے اور وہ قندیل اس قدر شفاف ہے کہ گویا وہ موتی کی طرح چمکتا ہوا ستارہ ہے ، وہ چراغ ( نورِ ہدایت ) ایسے درخت کے تیل سے روشن کیا جاتا ہے جو زیتون کی طرح کثیر المنفعت ہے اور مشرق و مغرب کی جہات سے بالاتر ( شجرة الوحی ) ہے اس درخت کا تیل ( تعلیم وحی ، آیات قرانیہ ) اس قدر صاف ہے کہ قریب ہے کہ وہ خود بخود جل اٹھے۔ ( ادنیٰ غور و فکر سے قرآن کے احکام واضح ہو سکتے ہیں ) اگرچہ اس کو آگ ( حدتِ فکر ) بھی نہ چھوئے ( پھر اس کے دلائل تو ) نورعلیٰ نور ہیں اور جس دل کو اللہ چاہتا ہے اس نورِ ہدایت سے سرفراز کرتا ہے اور لوگوں کو سمجھانے کو مثالیں بیان فرماتا ہے اور ہر چیز کے حال سے واقف ہے ۔”  ( النور : 35 )

غرض قرآن حکیم ہی ظلمت کی جگہ نور اور جہل و بے بصیرتی کی جگہ علم و بصیرت بخشتا ہے اور اسی کی یہ پکار ہے کہ میں سراسر نور ہوں ، معرفت و شہادت کا اجالا اور روشنی ہوں۔ میرا وجود ظلمت و تاریکی نہیں کہ ظلمات بعضھا فوق بعض کا معاملہ ہو۔ شک و ریب کی ٹھوکریں کھا رہا ہو۔ ایک تاریکی سے نکل کر دوسری تاریکی میں ڈوبتا ہو اور تاریکیوں کا یہ عالم ہو کہ خود اپنا ہاتھ بھی سجھائی نہ دیتا ہو۔ ایک گتھی سلجھانا چاہتا ہو تو دس نئے الجھاؤ پڑ جاتے ہوں ۔

كَظُلُمَٰتٖ فِي بَحۡرٖ لُّجِّيّٖ يَغۡشَىٰهُ مَوۡجٞ مِّن فَوۡقِهِۦ مَوۡجٞ مِّن فَوۡقِهِۦ سَحَابٞۚ ظُلُمَٰتُۢ بَعۡضُهَا فَوۡقَ بَعۡضٍ إِذَآ أَخۡرَجَ يَدَهُۥ لَمۡ يَكَدۡ يَرَىٰهَاۗ وَ مَن لَّمۡ يَجۡعَلِ ٱللَّهُ لَهُۥ نُورٗا فَمَا لَهُۥ مِن نُّورٍ ٤٠ ( النور : 40 )

بلکہ اس کا وجود اندھیرے کی جگہ اجالا ، شک کی جگہ یقین ، ظن و قیاس کی جگہ بینہ      و حجت ، اٹکل و گمان کی جگہ برہان و فرقان پیش کرتا ہے ، اسی لیے سب کو مخاطب کر کے فرمایا :

هَٰذِهِۦ سَبِيلِيٓ أَدۡعُوٓاْ إِلَى ٱللَّهِۚ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا۠ وَ مَنِ ٱتَّبَعَنِيۖ  ( یوسف : 108 )

” میرا یہ راستہ ہے کہ خدا کی طرف بلاتا ہوں اور میں اور میرے پیروکار سب کے سب با بصیرت اور روشنی کے ساتھ چل رہے ہیں۔”

ہاں اس نے منکرین و معاندین سے بار بار یہ مطالبہ کیا کہ :

قُلۡ هَلۡ عِندَكُم مِّنۡ عِلۡمٖ فَتُخۡرِجُوهُ لَنَآۖ ( الانعام : 148 )

” کیا تمہارے پاس بھی کوئی علم و دلیل ہے جسے ہمارے سامنے نکال کر پیش کر سکو۔”

لیکن ان کے عجز جواب کو دیکھ کر متعدد مقامات پر اس حقیقت کو بے نقاب کیا اور فرمایا :

وَ مِنَ ٱلنَّاسِ مَن يُجَٰدِلُ فِي ٱللَّهِ بِغَيۡرِ عِلۡمٖ وَ لَا هُدٗى وَ لَا كِتَٰبٖ مُّنِيرٖ ٨ ثَانِيَ عِطۡفِهِۦ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِۖ ( الحج : 8 – 9 )

” بعض ایسے بھی ہیں جن کو کسی طرح کا علم نہیں ، نہ ان کے پاس ہدایت ہے نہ ان کے پاس کوئی راہ دکھانے والی کتاب اور اس پر بھی وہ کبر و نخوت سے خدا کے بارے میں جھگڑتے ہیں تاکہ لوگوں کو خدا کے راستے سے گمراہ کر دیں ۔”

اور فرمایا :

وَ مَا لَهُم بِهِۦ مِنۡ عِلۡمٍۖ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّۖ وَ إِنَّ ٱلظَّنَّ لَا يُغۡنِي مِنَ ٱلۡحَقِّ شَيۡ‍ٔٗا

” ان کے پاس علم و تحقیق کا کوئی حصہ نہیں ، وہ تو نری اٹکل پر چلتے ہیں اور اٹکل تو حق کے سامنے کسی حالت میں بھی کار آمد نہیں ہے ۔” ( النجم : 28 )

بلکہ ان کی طلب و جستجو اور ساری کوششوں کی حالت یہ ہے کہ جس مرحلے پر پہنچتے ہیں وہاں ایک نئی مایوسی ہوتی ہے ، ہر نئی منزل ایک نئی گمراہی کا پیغام ہوتی ہے۔ جس نظریہ اور جس تھیوری کو اپنی ساری کامیابیوں اور خوشیوں کا ملجا و ماویٰ سمجھتے ہیں وہ اس پیاسے کی امید سے زیادہ نہیں ثابت ہوتیں جو ریت کے میدان کو پانی کا تالاب سمجھ کے بے تحاشا دوڑ رہا ہو۔

كَسَرَابِۢ بِقِيعَةٖ يَحۡسَبُهُ ٱلظَّمۡ‍َٔانُ مَآءً حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَهُۥ لَمۡ يَجِدۡهُ شَيۡ‍ٔٗا ( النور : 39 )

پس قوم کی بد بختی اور نا مرادی پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے جو ہدایت و سعادت کی پیاس اورتشنگی کے بجھانے کے لیے کتاب و سنت کے سر چشمہ حیات کو چھوڑ کر ریگ زار کی طرف دوڑی چلی جا رہی ہو اور ریت کے ذروں کو سمجھ رہی ہو کہ یہ میٹھے پانی کا تالاب ہے لیکن جس طرح چٹیل میدان کسی پیاسے کے لیے سیر کامی اور سیرابی کا کوئی پیغام اپنے اندر نہیں رکھتا ٹھیک اسی طرح کتاب و سنت کو چھوڑ کر دوسرے علوم و فنون سے نورِ یقین اور طمانیتِ قلب حاصل کرنے میں بھی ہمارے لیے کوئی پیغام رحمت نہیں ہے ۔

آج عوام الناس کا کیا ہی ذکر ہے ، علماء کی ، عربی مدارس کے طلباء کی یہ حالت ہے کہ اپنی عمر کا بیشتر حصہ وہ منطق و کلام و فلسفہ اور دوسرے علوم جدل و خلاف میں صرف کر دیتے ہیں لیکن ان کے اندر قرآن کریم کے سمجھنے اور اس کے علوم سے بہرور ہونے کی اتنی بھی خواہش نہیں ہوتی جتنی کہ دوسرے علوم و فنون حاصل کرنے میں ، بلکہ اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہوتی۔ جہاں دوسرے علوم کی دس دس پندرہ پندرہ کتابیں پڑھی جاتی ہیں وہاں قرآن کریم کے حصے میں صرف ” جلالین ” آتی ہے اور وہ بھی تبرکاً۔ جسے بعض مقامات پر صرف رمضان المبارک میں ختم کر دیا جاتا ہے اور کسی نے بہت ہمت کی تو بیضاوی کا پہلا پارہ یا سورة ” البقرہ ” کے آخر تک پڑھ لیا اور یہ سمجھ لیا کہ قرآن کی تحصیل میں یہ بہت بڑی سعی اور کوشش ہے جو سر انجام دی گئی۔ لیکن یہ سب جانتے ہیں کہ اس تمام جہد و سعی کا ماحصل صرف یہ ہوتا ہے کہ الفاظِ قرآن سے معمولی سا لگاؤ پیدا ہو جاتا ہے اور چند نحوی تراکیب سیکھ لی جاتی ہیں اور بس۔

حالانکہ علمائے سلف نے جو شدید جدو جہد اور سعی و محنت قرآن حکیم کی تشریح و توضیح تحقیق و تدقیق اور فہم و تفہیم میں صرف کی ہے ، دنیا کی کوئی قوم کسی کتاب کو اس کی نظیر میں پیش نہیں کر سکتی ، اگرچہ ہر قوم کے پاس حسبِ ادعاء و زعم کتابِ الٰہی موجود ہے لیکن قرآن کریم کے متعلق جو ذخیرہ علوم و تصنیفات علمائے اسلام نے فراہم کیا ہے کیا اس کا ایک حصہ بھی دوسری قومیں پیش کر سکتی ہیں ؟ اس میں شک نہیں کہ مسیحی بائبل کا مختلف زبانوں میں کثرت سے تراجم شائع کرنے میں سب سے سبقت لے گئے ہیں لیکن جہاں خود اصل ہی گم ہو گیا ہو وہاں تراجم سے کیا فائدہ ؟

اس سے پہلے کہ علوم قرآن پر تفصیلی بحث کی جائے میں چاہتا ہوں کہ ان کا ایک اجمالی نقشہ عرض کر دوں تاکہ ان علوم کی مجمل کیفیت آپ کے سامنے آ جائے اور آپ یہ اندازہ لگا سکیں کہ علمائے اسلام نے قرآن کریم کی جو خدمات سر انجام دی ہیں وہ کس قدر عظیم الشان ہیں ۔

علوم متعلقہ قرآن کریم

علمائے اسلام نے جو عملی خدمات قرآن مجید کی سر انجام دی ہے اس کا اندازہ اس سے لگا سکتے ہیں کہ قرآن کریم کے ہر شعبہ کے متعلق اس قدر علوم مدون کیے ہیں اور اتنی کتابیں تصنیف کی ہیں کہ ان کا حصر و استقصا بھی مشکل ہے ، کشف الظنون ، فہرست ابن ندیم ، ابجد العلوم اور الاتقان فی علوم القرآن میں سینکڑوں تصنیفات متعلقہ قرآن کا ذکر ہے۔ جن میں سے آج کل اکثر ہماری بد قسمتی سے ناپید ہیں۔ تاہم تلاش و جستجو سے جن علوم قرآن کا پتہ ان کتابوں سے چلتا ہے وہ حسبِ ذیل ہیں :

رسوم القرآن ، اعراب القرآن ، مصادر القرآن ، غرائب القرآن ، تجوید القرآن ، آدابِ تلاوت القرآن ۔

نزول القرآن ( اس کے ما تحت کئی ایک ابواب و فصول ہیں۔ مثلاً : مباحث وحی ، کیفیت نزول قرآن ، معرفت اسباب نزول قرآن وغیرہ ذلک )

جمع القرآن ( اس ضمن میں بھی کئی ایک ابواب و فصول ہیں مثلاً : کتابت قرآن ، تعلیم و حفظ قرآن ، ترتیب و جمع قرآن ، ترتیب آیات و سور قرآن ، سبعہ احرف یا سات قرآئتوں کا عدم اختلاف اور مصاحف صدیقی و عثمانی کا فرق وغیرہ ذلک )

تفسیر القرآن ( اس کے تحت میں شروط مفسر ، آدابِ مفسر اور طبقات مفسرین وغیرہ ذلک )

اعجاز القرآن ، بدائع القرآن ، حقیقت و مجاز قرآن ،تشبیہ القرآن ، امثال القرآن ، اقسام القرآن ، جدل القرآن ، دلائل قرآن ، احکام قرآن ، محکم و متشابہ قرآن ، ناسخ و منسوخ قرآن ، اسماء الرجال و البلدان فی القرآن ، خواص القرآن ۔

ان کے علاوہ اور بھی بہت سارے مسائل ہیں جنہیں ہم اختصارِ مباحث کی بناء پر ذکر نہیں کرتے اور نہ ہی ان کے متعلق مستقل کتابیں لکھی گئی ہیں ، کیونکہ انہیں مستقل فن کی حیثیت حاصل ہوتی ہیں ۔

ان تمام علوم کے متعلق دو قسم کی تصنیفات ہیں ایک وہ جن میں ان تمام علوم و مسائل سے ایک ہی کتاب کے مختلف ابواب و حصول میں بحث کی گئی ہے۔ بالفاظِ دیگر ایک ہی کتاب بہت سے مباحث پر مشتمل ہے۔ اس قسم کی تصنیفات کو بغرض افہام و تفہیم ” جوامع علوم القرآن ” کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ دوسری قسم ان تصنیفات کی ہے جن میں ایک ایک علم یا ایک ایک فن پر بحث کی گئی ہے۔

جوامع علوم القرآن

جس طرح دنیا کی ہر چیز میں تدریجی ترقی ہوتی ہے ، ابتدائی حالت بالکل انفرادی اور سادہ ہوتی ہے اور پھر رفتہ رفتہ ایک شان دار ترکیبی اور اجتماعی حالت پیدا ہو جاتی ہے۔ ٹھیک اسی طرح علوم قرآن کی تدوین کی حالت ہے۔ ابتدائی کوششیں انفرادی علوم و مسائل سے شروع ہوئیں اور ایک عرصہ کے بعد وہ ترکیبی اور اجتماعی حالت کو پہنچیں اور یہ اسی کا نتیجہ سمجھنا چاہیے کہ علوم قرآن کے متعلق منفرد تصانیف تو دوسری صدی میں مرتب ہوگئی تھیں لیکن جوامع تصنیفات کا سلسلہ جستجو اور تلاش کے بعد پانچویں صدی میں ملتا ہے ۔

سب سے پہلی جامع کتاب ” علوم القرآن ” ہے جس کا مصنف علی بن ابراہیم الحوفی متوفی 430ھ ہے۔ اس کے بعد شیخ مکی بن ابی طالب متوفی 437ھ کی ” الہدایۃ الی بلوغ النہایۃ ” معلوم ہوتی ہے۔ اس کتاب کی عظمت کا اندازہ اس سے شائد آپ کر سکیں کہ یہ ستر جز میں معنیٰ و انواع علوم قرآن پر لکھی گئی۔ اس کے بعد ابو موسیٰ محمد بن ابی بکر اصفہانی متوفی 581ھ کی ” مجموع المغیث فی علم القرآن و الحدیث ” ہے۔ یہ پہلا شخص ہے جس نے علوم قرآن و حدیث پر ایک جامع کتاب لکھی۔ علامہ ابن جوزی متوفی 597ھ کی ” فنون الافنان فی علوم القرآن ” بھی اس فن کی ایک مبسوط اور جامع کتاب ہے۔ اس کے بعد اور بھی بہت سے مصنفین ، قزوینی ، سخاوی ، ابن شامہ ، بدر الدین ، زرکشی ، اور جلال الدین سیوطی وغیرہ نے بلند پایہ تصانیف لکھی ہیں۔ لیکن اس باب میں سب سے جامع کتاب جلال الدین سیوطی متوفی 910ھ کی ” الاتقان فی علوم القرآن ” ہے جس میں 80 ابواب کے ماتحت علوم القرآن کے متعلق تین سو سے زائد مباحث ہیں اور اے کاش ! اگر سیوطی نے حسبِ عادت رطب و یا بس اقوال کو اس میں جگہ نہ دی ہوتی تو یہ کتاب یقیناً کتب خانہ اسلام کی ایک بے نظیر تصنیف ہوتی۔ بہرحال اپنی موجودہ حالت میں بھی یہ کتاب علوم قرآن پر ایک بہترین جامع کتاب ہے ۔

جوامع تصنیفات کے علاوہ ایک فن کے متعلق جس قدر کتابیں علمائے اسلام نے لکھی ہیں ان کا شمار تو بڑی بڑی کتابوں اور ضخیم فہرستوں میں ہی ہو سکتا ہے یہاں اس کی گنجائش نہیں لیکن آخر میں اس قدر عرض کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ اور ان کے شاگرد رشید حافظ ابن قیم کی تصنیفات بالعموم علوم قرآن و حدیث کے بیان کرنے میں بے مثل واقع ہوئی ہیں۔ ان کے مطالعہ سے علوم و معنیٰ کتاب سنت کو سمجھنے میں انشراح صدر کی خاص کیفیت حاصل ہوتی ہے اور جس کسی نے ان کی تصانیف کا مطالعہ اختیار کر لیا ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو فہم کتاب و سنت کا ایک خاص ملکہ عطا ہوا ۔

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s