سلسلۂ نفرت و دشنام —-آخرکب تک ؟


سلسلۂ نفرت و دشنام —-آخرکب تک ؟
محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

 

(اداریہ )

 

جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ  (5 / 6 )  شوال، ذیقعد  1433ھ/  اگست ، ستمبر 2012
تحریکِ استشراق کے آغاز کا اصل مقصد اسلام اور پیغمبر اسلامؐ کی تنقید و تنقیص تھا ۔ اس فکری تحریک کا بھرپور آغاز چند صدیوں قبل ہوا ۔ عصرِ جدید میں بھی اس بدعقیدہ اور فکری لحاظ سے انتہائی گمراہ تحریک کا سلسلۂ طعن و تشنیع جاری ہے ۔
فرق صرف یہ ہے کہ کل اس کا ذریعۂ اظہار قلم اور قرطاس تھا اور آج اس کی جگہ کیمرے اور اسکرین نے لے لی ہے ۔ کل مجمع میں کہی ہوئی بات بھی مغرب سے نکل کر مشرق تک پہنچتے پہنچتے صدا بصحرا ہوکر رہ جاتی تھی جبکہ آج بند کمروں میں کہی ہوئی بات بھی لمحوں میں دنیا بھر کو اپنے دائرئہ اثر میں لے لیتی ہے ۔ لیکن ایک قدر آج بھی مشترک ہے ۔ وہ ہے نفرت ، تعصب اور عناد ۔ نفرت کے شعلے ان کے سینوں کو دہکاتے ہیں اور تعصب کی چنگاری انہیں اپنے بغض و عناد کے اظہار پر مسلسل اکساتی ہے ۔ ان کا مذہب مسیح علیہ السلام کی تعلیمات پر مبنی ” محبت ” نہیں رہا بلکہ اسلام دشمنی کے جذبۂ فاسدہ نے ” نفرت ” کو ان کا مذہب بنا دیا ہے ۔ 

 

اکیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ ہی تسلسل کے ساتھ پیغمبر اسلامؐ کی توہین و تنقیص کا سلسلہ شروع ہوا جو ہنوز جاری ہے ۔ دوسری طرف مسلمانوں کا ردّ عمل بھی ظاہر ہوتا ہے ۔ مگر کس طرح ؟ چند روزہ احتجاج اور اس کے بعد دوبارہ وہی زندگی جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو ۔ وہی معمولات روز و شب ، وہی مجالسِ عیش و طرب ، جو زندگی کا حصہ ہیں ۔ گزشتہ ١٢ برسوں کا تجربہ یہی ہے ۔ 

 

درحقیقت یہ بش جونیئر کی آغاز کردہ صلیبی جنگ کا ایک حصہ ہے ۔ یہ ایک مسلسل اور تھکا دینے والی ذہنی و نفسیاتی جنگ ہے ۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اس کا شعور و ادراک بھی نہیں رکھتے ۔ ہمارا عمل محض ایک ردّ عمل کا نتیجہ ہے ۔ اپنے املاک کو نقصان پہنچا کر ہم اپنی ہی معیشت کی بربادی کا باعث بن رہے ہیں ۔ ہماری حالت اس دیوانے کی سی ہے جسے کوئی گالی دے اور وہ غصے میں آکر اپنا ہی سر دیوار پر دے مارے ۔ 

 

اس انتہائی اہم و حساس معاملے کے دو پہلو ہیں ایک ایمانی اور دوسرا سیاسی و سماجی ۔ جہاں تک ہمارے جذبۂ ایمان کا تعلق ہے تو ہمارے اعمال کی سطحیت نے اسے سخت مجروح کرکے رکھ دیا ہے ۔ ہم دینی تقاضے بھی غیر دینی طریقوں سے نبھاتے ہیں ۔ہم جانتے ہیں کہ ”کوکاکولا” کا ” لوگو” اسلام دشمنی پر مبنی ہے اور” پیپسی ” کی کمائی اسلام دشمنی پر صرف ہوتی ہے لیکن کیا ہمارے بازاروں میں یہ بکنا بند ہوگئے ؟ کیا ہم نے اسے پینا ترک کردیا ؟ جب ہم لذت کام و دہن کی انتہائی ادنیٰ سی قربانی نہیں دے سکتے تو کیا توقع کی جاسکتی ہے کہ ہم اپنا سر دے کر بازی جیتنے کا حوصلہ رکھتے ہیں ۔ 

 

اے وہ کہ جس کی نگاہوں پر حجابِ غفلت ہے اور جس کی عقل پر تیرگی کی نحوست ! اگر ہو سکے تو اپنے جذبات کو مقدس احساس میں منتقل کرلو اور وہ عزم پیدا کرو جو تمہاری ہر ساعتِ مدہوشی کا مداوا ہو اور ہر وقتِ زیاں کا ازالہ۔

 

جہاں تک اس معاملے کی سیاسی و سماجی سطح کا تعلق ہے تو اس کی اصل ذمہ داری مسلم ممالک کے اصحاب اقتدار گروہ پر عائد ہوتی ہے ۔جن کے لیے صرف یہی کہا جا سکتا ہے 

 

الٰہی نہ وہ سمجھے ہیں ، نہ سمجھیں گے میری بات

 

دے اور دل ان کو جو نہ دے مجھ کو زباں اور

 

جذبات سچے ہوں تو پتھروں کو بھی گویائی مل جاتی ہے ۔ پہاڑ بھی صدقِ عزائم کے سامنے چھوٹے ہوجاتے ہیں ۔ سمندر کی گہرائیا ں بھی بلند حوصلگی کے سامنے ہار جاتی ہیں ۔ لیکن ایمان بازاروں میں نہیں بکتا کہ خرید کر دل کو ایک تحفۂ نایاب دیا جائے ۔ یہ تو محض ایک احساسِ لطیف ہے جو قلبِ انسانی کے کسی گوشے میں زندگی کی حرارت بن کر دھڑکتا ہے ۔ جب یہ دھڑکن ہی رُک چکی ہو تو تقاضا کیسا ؟

 

ہم سیاسی سطح پر استیلائے مغرب کے سامنے محض گزارشات کر سکتے ہیں مگر انہیں مجبور نہیں کرسکتے کہ وہ اپنی سرکشی سے باز آجائیں ۔

 

یہ ایک سازش ہے جو گزشتہ سازشوں کا تسلسل بھی ہے اور شاید انسانی تاریخ کے کسی نئے موڑ کا نکتۂ آغاز بھی ۔

 

اب  مسلمانوں کی قوت برداشت کا امتحان ہے ۔کیونکہ یہ محض ایک سازش ہی نہیں بلکہ ایسی سازش ہے جو شاید تاریخ کو تبددیل کردے اور دنیا کے نقشے کو بدل کر رکھ دے ۔ بایں وجہ کہ مسلمان کتنا ہی بداطوار کیوں نہ ہوجائے اپنے سینے میں زندگی بن کر دھڑکنے والی محمد ؐ کی محبت سے دستبردار نہیں ہو سکتا ۔ اس لیے کہ اسلام اور کفر کا اصل وجۂ نزاع نسبتِ محمدیؐ ہے ۔ مغرب کی مادّی فکر اس راز کو کبھی نہیں پا سکتی کہ مسلمان اپنے نبیؐ سے اتنی محبت کیوں کرتے ہیں ۔ کیونکہ ایمان صحرائے یقین و محبت کا وہ گوشۂ لذت و آگہی ہے جہاں افکار کی رَسائی نہیں ہوسکتی ۔

 

تنزیل ، وہ کیا سمجھیں گے کیا ہے ایمان

محمد ؐ  کی غلامی پر ہر آزادی ہے قربان

Advertisements

مسلمانوں کا انتشارِ خیال –اور — اتحاد امت کا چیلنج. اداریہ


واق
جریدہ "الوقعۃ”  کراچی جمادی الثانی ١٤٣٣ھ /اپریل مئی ٢٠١٢ء
(اداریہ)

محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

اس وقت تیسری عالمی جنگ جاری ہے ۔ شیطانی گماشتوں کو اس بات کا احساس بہت پہلے ہوچکا تھا کہ دنیا کی ہر تہذیب اور دنیا کا ہر مذہب ان کے سامنے سرنگوں ہوجائے گا ، سوائے اسلام کے ۔ کیونکہ اسلام جو فلسفۂ حیات پیش کرتا ہے وہ نہ محض چند رسوم و اعمال کا مجموعہ ( یعنی مذہب ) ہے اور نہ ہی محض چند اخلاقی و سماجی تعلیمات کی ترغیب دینے والی کوئی تہذیب ہے ۔ اسلام جو فلسفہ پیش کرتا ہے اسے ہم قرآنی اصطلاح میں ” الدین ” کہہ سکتے ہیں ۔ دین کا تعلق انسان کے افکار و نظریات سے بھی ہے اور اعمال و عادات سے بھی ۔ زندگی کا ہر ہر گوشہ اور ہر گوشے کا ہر ہر پہلو دائرہ دین میں داخل ہے ۔

دورِ فتن


تبصرہ  کتب 4
دورِ فتن
مؤلف :عبد اللہ اسلام

تعداد صفحات : ٩٦
قیمت : (غیر مجلد )٥٠ رُپے
شائع کردہ : محمد جاوید اقبال۔ ڈی ۔١٠ ، کریم پلازہ ،  گلشن اقبال کراچی۔ ٧٥٣٠٠
محل فروخت : فضلی بک اردو بازار کراچی ، مکتبہ دار الاحسن یٰسین آباد کراچی ، اکیڈمی بک سینٹر فیڈرل بی ایریا کراچی۔

جناب اسرار عالم صاحب ہندوستان کے ایک مفکر اور عالم ہیں۔ آپ نے امت مسلمہ کو دجال کے دجل اور فریب سے متعارف کرنے کے لیے بڑی تگ و دو کی ہے۔ یہود کی ریشہ دوانیوں کو سمجھنے اور ان کے ذ ہنی اور فکری دھارے کا براہ راست علم حاصل کرنے کے لیے عبرانی زبان میں بھی نہ صرف یہ کہ مہارت حاصل کی بلکہ ان کے بے شمارمضامین کتابیں اور علمی مآخذ تک رسائی حاصل کر کے انہیں سمجھا اور ان کا تجزیہ کیا۔

ان کی ان علمی کاوشوں کا نتیجہ دجال کے موضوع پر مختلف النوع کتابوں اور مضامین کی صورت میں آج ہمارے پاس موجود ہے۔ ان کتابوں کے مطالعہ سے ہمیں آج کے دور میں ظاہر ہونے والے فتنوں کو سمجھنے اور ان سے متعلق منسوب احادیث مبارک کو ان کے صحیح تناظر میں جانچنے کی صلاحیت ملتی ہے اور ان سے بچائو کے لیے مناسب طرز عمل اختیار کرنے کی راہ بھی دکھائی دیتی ہے۔یہود کے فتنے کو اس طرح طشت از بام آج سے پہلے کبھی بھی نہیں کیا جاسکا ہے اور امت محمدی علیٰ صاحب السلام و التسلیم کے پاس صہیونی فتنوں کے سد باب اوراس سے نمٹنے کے لیے اب سے قبل ایسا واضح پروگرام نہیں تھا۔ اب یہ امت کا کام ہے کہ وہ ہمت سے کام لے اور ان سازشوں کے خلاف ڈٹ جائے تاکہ آخرت میں سرخرو ہونے کا شرف حاصل ہوجائے۔

معرکہ دجال اکبر ( تکفیر ، تدبیر اور تعمیل) جناب اسرار عالم صاحب کی ایک اہم کتاب ہے جو امت محمدی کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لیے لکھی گئی ہے۔ یہ کتاب بذات خود ایک ضخیم کتاب ہے اور اسرار عالم صاحب کے ذہنی سطح کی ترجمانی کرتی ہے اس لیے ایک عام قاری کے لیے جس کے پاس نہ تو اتنا وقت ہے اور نہ ہی اس کی علمی قابلیت اتنی زیادہ ہے کہ وہ ان دقیق معاملات کو پڑھ کر اس کا درست اندازہ کرسکے۔ اس کتاب کو عام فہم انداز میں بیان کرنے اور اس کی قرات کے وقت کو کم کرنے کی خاطر اس کی تلخیص انتہائی ضروری تھی۔ اسی مقصد کو مد نظر رکھ کر جناب عبداللہ اسلام صاحب نے اس مشکل کام میں اپنا ہاتھ ڈالا اور اس ضخیم کتاب کی تلخیص کی۔ اس کو مزید فعال اور اس کی دلیلوں کو مضبوط کرنے کی خاطر ان تمام احادیث کو ڈھونڈھ کر اس میں شامل کرتے گئے جس سے نہ صرف یہ کہ اس کی افادیت میں اضافہ ہوگیا بلکہ اس پورے کام میں گویاچار چاند لگا دئے۔ اس چھوٹے سے کتابچہ کو پڑھنے کے لیے بہت زیادہ وقت کی ضرورت ہے اور نہ اس کو سمجھنے کے لیے بڑی حکمت اور دانائی درکار ہے۔ سیدھی سچی بات انتہائی دلچسپ پیرایہ میں صاف ستھرے انداز میں لکھ دی ہے جس کے لیے جناب عبد اللہ اسلام صاحب مدح اور ستائش کے لائق ہیں۔ اللہ کی عطا کی ہوئی توفیق کو انہوں نے انتہائی چابک دستی سے استعمال کرتے ہوئے سوئی ہوئی امت مرحومہ کو خواب غفلت سے نکالنے کی کوشش کی ہے۔ اللہ اسرار صاحب کو صہیونی سازشوں کو سمجھنے اور اس کا پردہ چاک کردینے کی کوششوں پر انہیں جزائے خیر عطا کریں اور اس کے ساتھ ہی اس کتابچہ کے مؤلف پر بھی اپنی نعمتوں اور رحمتوں کی بارش کردیں اور آخرت میں ان کی عزت اور سر بلندی کا ذریعہ بنائیں ۔ آمین ثم آمین

ابو عمار سلیم

جنگوں کے سوداگر


تبصرہ کتب ٢ 

جنگوں کے سوداگر

از: مسعود انور

معراج ایڈورٹائزرز ، 107-k ، بلاک ٢ ، سنگم شاہراہِ قائدین و خالد بن ولید روڈ ، پی ای سی ایچ ایس ، کراچی 021-34555764

مسعود انور پیشے کے اعتبار سے صحافی ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ان کی پہلی کتاب ہے ۔ جسے صحافت اور تحقیق کا امتزاج قرار دیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے تحقیق کا فریضہ ذمہ داری سے انجام دیا ہے اور صحافتی ذمہ داری انجام دیتے ہوئے مختصر لیکن کام کی بات ذکر کی ہے ۔ تاریخ کا گہرا مطالع کرکے انہوں نے اس بحرِ ذخّار سے گہر آبدار نکالا ہے ۔

ہمارے یہاں تاریخ سے سبق لینے کی روایت نہیں رہی ۔ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کو دہراتے چلے جا رہے ہیں جنہیں ہم صدیوں پہلے انجام دے چکے ہیں ۔ مولف نے تاریخ کو سرسری انداز میں پیش نہیں کیا ہے بلکہ وسیع مطالعے کے بعد اس کے گمشدہ پہلوئوں کو بے نقاب کیا ہے اور اس سے نتائج اخذ کیے ہیں ۔ خوشی کی بات ہے کہ مولف نے حقیقت نگاری کی ہے ۔ تاریخ کے اہم ترین انقلابات کے پس پردہ حقائق کو جیسا دریافت کیا ویسا ہی بیان بھی کردیا ۔ انقلاب برطانیہ ، انقلاب فرانس ، امریکی انقلاب ، روسی انقلاب ، سلطنتِ عثمانیہکا خاتمہ اور ہسپانوی انقلاب کی اصل حقیقت بیان کی ہے ۔ مولف نے بیان حقیقت کے لیے کسی مصلحت پسندی کو عذر نہیں بنایا ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی بہت سی باتیں انکشافات محسوس ہوں گی ۔ مثال کے طور پر
جمال الدین افغانی سے متعلق جو ناقابلِ تردید حقائق اب منظرِ شہود پر آ رہے ہیں ان سے مولف کی تائید ہوتی ہے ۔

مولف نے عالمی جنگوں اور ان کے اسباب پر بھی روشنی ڈالی ہے اور انہیں تیسری عالمی جنگ کے خطرے کا بھی پورا ادراک ہے ۔ دنیا میں جو اس وقت مالیاتی سازش اپنے عروج پر ہے کتاب میں اس پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے ۔

تمام تر خوبیوں کے باوصف کتاب میں حوالوں کی عدم موجودگی نے کتاب کے استنادی معیار کو سخت مجروح کیا ہے ۔ صحافت اور تحقیق کے تقاضے مختلف ہیں ۔ یہ کتاب ایک انتہائی اہم اور سنجیدہ موضوع پر لکھی گئی ہے ، اس میں حوالوں کا خصوصی اہتمام ہونا چاہیئے تھا ۔ گو یہ درست ہے کہ مولف نے جو نکات پیش کیے ہیں ان کی تائید دیگر تحریری حوالوں سے ہوجاتی ہے لیکن حوالوں کا اہتمام کتاب کو مزید اعتبار عطا کرتا ۔
کتاب ایک انتہائی اہم موضوع پر قابلِ قدر کاوش ہے ۔ اس کا مطالعہ ہر اعتبار سے مفید رہے گا اور چشم کشا ثابت ہوگا ۔
ابو محمد معتصم باللہ

"قرآن" غیروں "بائبل" اپنوں کی نظر میں


تبصرہ  کتب ٣ 

"قرآن” غیروں"بائبل” اپنوں کی نظر میںمؤلف :محمود ریاض
 
صفحات : ١٤٤
قیمت : ( مجلد )درج نہیں
ناشر : مکتبہ سعد بن ابی وقاص کراچی
محل فروخت  : اقبال نعمانی بک سینٹر صدر کراچی ، اقبال بک ڈپو صدر کراچی ، طاہر بک ہائوس صدر کراچی، ادارة المعارف جامعہ دارالعلوم کراچی ، فضلی بک اردو بازار کراچی ، مکتبہ دار الاحسن یٰسین آباد کراچی ۔
 
محمود ریاض تاریخ اسلام ، بین الاقوامی تعلقات اور سیاسیات کے طالب علم ہیں تاہم انہیں تقابل ادیان بالخصوص اسلام اور نصرانیت کے تقابلی مطالعے سے خصوصی دلچسپی ہے ۔
 
زیر تبصرہ کتاب میں انہوں نے قرآن پاک سے متعلق غیر مسلم علماء و مفکرین کے اقوال نقل کیے ہیں جو قرآن مجید کی عظمت کے اعترافات پر مبنی ہیں ۔

 
کتاب کے دوسرے حصے میں مولف نے بائبل سے متعلق اپنی تحقیقات عیسائی علماء کی تحریروں کی مدد سے پیش کی ہیں ۔بائبل شروع ہی سے متنازع رہی ہے ۔ اس کے تصنیفی انتساب پر ہر دور میں حرف تنقید زبان و قلم پر لائی گئی ۔اس کے مختلف نسخے اس کے مابین تضادات کو نمایاں کرتے ہیں ۔ حتیٰ کہ ایک قدیم ماہرِ الٰہیات ،فلسفی اور شارح بائبل اوریجن Origen کا یہ قول بقول مولف مسیحی دنیا کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے :
 
” اناجیل میں اتنے اختلافات ہیں کہ ان سے آدمی کا سر گھومنے لگ جاتا ہے ۔ ” ( ص ٩٢ -٩٣)
 
مولف نے صفحہ ٥٣ تا ٥٦ قرآن کی عظمت میں ڈاکٹر موریس بوکائلے کی کتاب The Quran, The Bible and The Scienceسے اقتباسات نقل کیے ہیں ۔ مولف کی اطلاع کے عرض ہے کہ ڈاکٹر موریس بوکائلے نے اسلام قبول کرلیا تھا ۔ جیسا کہ ڈاکٹر گیری ملر نے اسلام کو قبول کرلیا تھا ۔ ثانی الذکر کے اسلام کی تصریح مولف  نے کی ہے ۔
 
کتاب بڑے سلیقے سے مرتب کی گئی ہے اور اس کی طباعت میں بھی معیارکی بلندی کا ثبوت دیا گیا ہے ۔
مولف اگر اخذ و ترتیب سے بڑھ کر اخذ استدلال ، تقابل اور تنقید کا فریضہ انجام دیں ۔تو اپنے ذوق و شوق اور لگن کی بدولت بہت جلد بائبل کے ایک بلند پایہ محقق کی حیثیت سے اجاگر ہوں گے ۔ اسی روشنی میں وہ اپنی آئندہ کی تحقیقات کو ، جو قرآن کریم اور سیرت نبویؐ کے موضوع کا احاطہ کرتی ہیں ، قلمبند کریں تاکہ ان کی تحریروں کا علمی و استنادی معیار بڑھ جائے اور معاملہ صرف اخذ و ترتیب تک محدود نہ رہے ۔ بلکہ اس میں ایک تصنیفی شان نمایاں ہو ۔
 
الغرض مولف کی جستجو اور لگن لائقِ تعریف ہے ۔ وہ اسی جہت میں اپنی لگن کے تقاضے پورے کرتے رہیں تو جلد ہی عالم اسلام کوایک اچھا محقق میسر آجائے گا ۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ان کی کاوشوں کوقبول فرمائے آمین۔
 
قارئین بالخصوص قرآنیات کا ذوق رکھنے والے افراد سے گزارش ہے کہ وہ اس کتاب کا مطالعہ کریں ۔ اس کا مطالعہ ان کے علم میں اضافے کا باعث ہوگا ۔
 
محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

اللہ سے ہمارے تعلق کی بنیادیں


اللہ سے ہمارے تعلق کی بنیادیں
محمد تنزیل الصدیقی الحسینی
(اداریہ )
جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ  (٤ )  رمضان المبارک 1433ھ/ جولائی ، اگست 2012

 

درحقیقت آج اللہ ہمارے لیے محض ایک نسخۂ شفا کی حیثیت رکھتا ہے ۔ ایک ایسا نسخہ شفا کہ جب ہر راہ سے ناکامی ہوئی ۔ ہر مسیحا نے جواب دے دیا تو اللہ کو بھی بغرض آزمائش آزمایا کہ شاید کامیابی ہو اور جب اللہ کی طرف سے کامیابی مل جاتی ہے تو ہم اسے ایسے ہی بھول جاتے ہیں جیسے مریض صحتیابی کے بعد اسپتال کی راہ بھول جاتا ہے ۔ آہ، پامالیِ حسرت اور خوننابۂ کشی مدام یقین و وفا۔ ہم نے اللہ کی قدر ہی نہ جانی 
 
( وَ مَا قَدَرُوا اللّٰھَ حَقَّ قَدْرِہِ )

 
جب اللہ سے تعلق محض رسم بن جائے ، جب اللہ کی ہستی محض ایک احساس قرار پائے ، جب اللہ کی محبت صرف دعوے کی حد تک رہ جائے اور جب اللہ کا تقاضائے عبودیت نبھانے سے انسان قاصر ہوجائے ۔ تب –ہاں– تب ، اسے چاہئیے کہ وہ اللہ ربّ العزت کے عذاب کا انتظار کرے ۔ عذاب محض یہ نہیں ہے کہ انسانی جسم تکلیف میں آجائے اور اس کی روح اضطراب محسوس کرے ۔ بلکہ عذابِ الٰہی کی ایک بھیانک شکل یہ بھی کہ اللہ ہمارے دلوں پر غفلت کی مہر لگادے ۔ آج بدقسمتی سے ہم بحیثیت اجتماعی اسی عذاب میں مبتلا ہیںمگر احساس نہیں رکھتے ۔
” رمضان المبارک ” الٰہی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے مگر ہماری عیاری و مکاری نے اس ماہِ مقدس کو بھی ایک تہوار اور اس فریضۂ عبادت کو ایک رسم بنا ڈالا ۔ ہم روزے بھی رکھتے ہیں ، فطرے بھی دیتے ہیں اور اپنی زکٰوة بھی نکالتے ہیں ، مگر محض ایک رسم و رواج کے طور پر ۔اس ماہِ مقدس کی آمد بار بارآمد ہماری زندگیوں میں اس لیے ہوتی ہے کہ شاید ہم تقویٰ شعار بن جائیں مگر کتنے ہی رمضان گزر گئے ہمارے پُر از غفلت قلوب پر کوئی اثر نہ پڑا ۔
پھر اس ماہِ مقدس کے سب سے مقدس عشرے میں ہماری سرکشی ربّ تعالیٰ کی رحمتوں کو للکارتی ہے ۔ بازاروں میں سب سے زیادہ بے حیائی اسی عشرے میں ہوتی ہے ۔ وہ عشرہ کہ جس کی پانچ مقدس راتوں میں الٰہی مغفرت تلاش کرنے کا حکم دیا گیا ۔ ان راتوں میں مرد اپنے عورتوں کو سامانِ عید کی تلاش لیے بازاروں کی رونق بڑھاتے ہیں ۔ بقول شاہ سلیمان پھلواروی :
” عوام الناس عید کے ظاہر سے انبساط و احتشام و اکل و شرب کے مشاغل میں ایسے مصروف ہوجاتے ہیں کہ گویا یہ ماہِ مبارک ایک بلا تھی جو ٹل گئی ۔”
آہ، ہماری غفلت ہمارے زندگیوںمیں اس درجہ داخل ہوچکی ہے کہ اب بیداری کی صورت نظر نہیں آتی ، جب بھی غیرتِ حق نے کروٹ لینی چاہی جذبہ سفلی کی شہوت انگیزیوں سے اسے تھپکی دے دے کر سلادیا ۔ اب تو یہ قوم کسی معجزے کی منتظر ہے ۔
آج ہمیں اپنے اعمالِ بد کی سزا مل رہی ہے ۔ گناہ اجتماعی ہے اسی لیے سزا بھی اجتماعی ہے ۔ ہم اللہ سے اپنے رشتے توڑ چکے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ اس نے بھی ہم سے اپنا رشتہ توڑ لیا ہے ۔ ہم اللہ کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں مگر نہیں جانتے کہ یہ فریب ہم خود اپنے آپ کو دے رہے ہیں ۔
اے غفلت کیش مسلماں! کب تک تمہاری آنکھوں پر یہ خوابیدہ بوجھ گراں پڑا رہے گا؟ کب تک تمہاری شہوات و لذات دنیاوی تمہیں غفلت و سرکشی پر اکساتی رہیں گی ؟ کب تک دنیا کی محبت تمہیں حق و باطل کی تمیز سے محروم رکھے گی ؟ کب تک تمہاری پامالیِ حسرت کی داستانِ خونچکاں سے سطح ارضی کا سینہ آہ کے نشتر سے گھر کیے رہے گا ؟ کیا تم اس کے منتظر ہو کہ تم پر مہلت و قیام کی حجت ہی تمام کردی جائے ؟
 

 

( ھَلْ یَنْظُرُونَ اِلاَّ أَنْ یَأْتِیَھُمُ اللّٰھُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلآئِکَةُ وَ قُضِیَ 
 
اِلأَمْرُ وَ اِلَی اللّٰھِ تُرْجَعُ الأمُورُ )(البقرة:٢١٠)
 
”کیا انہیں اس بات کا انتظار ہے کہ خود اللہ ان کے پاس ابر کے سائبانوں میں آجائے اور فرشتے بھی اور امور اپنی انتہا کو پہنچ جائیں ۔”
سنّت الٰہیہ اٹل ہے یہ وقت آزمائش عمل کا وقت ہے محض زبانی جمع خرچ سے کام نہیں چلے گا ، درِ توبہ و انابت پر دستک دیئے بغیر رجوع الی اللہ تعالیٰ کی ہر ہر سعی ناکام رہے گی ۔ ہماری ناکامیوں کا سبب ہمارے گناہ ہیں ، دامنِ اعمال کے یہ بدنما داغ جنہیں خود ہماری روسیاہیوں نے جِلا دی ہے ، دھل سکتے ہیں مگر اس کے لیے چشم ندامت کو فیاض ہونا پڑے گا ، دل کو اصنام دنیوی سے منزہ کرنا پڑے گا اور ذہن و فکر پر صرف اسی ایک الٰہ واحد کی بادشاہت کو تسلیم کرنا پڑے گا ۔
جب ہم یہ سب کرلیں گے تو دنیا بھی ہمارے قدموں میں ڈھیر ہوجائے گی ۔ ہم پہاڑوں کی بلندیوں کو بھی سَر کرلیں گے اور سمندر کی گہرائیوں کو بھی چیر لیں گے ۔ بڑے سے بڑے طاغوت میں بھی یہ جرأت نہ ہوگی کہ وہ ہمارے جذبۂ ایمانی کے سامنے ٹھہر سکے۔

غیر مسلم ممالک میں سکونت ایک تحقیقی و تنقیدی جائزہ 3


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ (٤ ) رمضان المبارک 1433ھ/ جولائی ، اگست 2012

غیر مسلم ممالک میں سکونت ۔ایک  تحقیقی  و  تنقیدی  جائزہ

ابو موحد عبید الرحمن


قسط  نمبر 1 قسط  نمبر 2 قسط  نمبر 3 قسط  نمبر 4

احادیث نبوی سے استدلال

  قرآنی نصوص سے جو ہم نے گزشتہ قرطاس میں استدلال کیا ہے ، اس سے مسئلہ کی قانونی و اصولی وضاحت ہوجاتی ہے ۔ تاہم بطور اتمام حجت رسالتمآبؐ  سے منقول بعض واضح احادیث اس موضوعِ بحث کے حوالے سے پیشِ خدمت ہیں :

١) لا تساکنوا المشرکین و لا تجامعوھم فمن ساکنھم و اجامعھم فھو مثلھم ، و فی روایة : فلیس منا ۔ (سنن ترمذی : ٤ /١٣٣)

” تم مشرکین کے ساتھ سکونت اختیار نہ کرو اور نہ ان کے ساتھ مل کر رہو ، پس جو شخص ان کے ساتھ سکونت اختیار کرتا ہے یا ان کے ساتھ مل کر رہتا ہے تو وہ انہی کی مثل ہے اور ایک روایت میں ہے وہ ہم میں سے نہیں ۔ ”

٢) یُبایعک علی ان تعبد اللھ و تقیم الصلاة و توتی الزکاة و تفارق المشرکین ۔ (مسند أحمد : ٤ /٣٦٥)

” میں تم سے بیعت لیتا ہوں اس بات پر کہ تم اللہ کی عبادت کروگے ، نماز قائم کروگے ، زکوةٰ ادا کروگے اور مشرکین سے جدائی اختیار کرو گے ۔ ”

٣ )  آنحضرتؐ نے فرمایا : ” اپنی اولاد کو مشرکین کے درمیان نہ چھوڑنا ۔ " (تہذیب السنن لابن القیم: ٣ /٤٣٧)

٤) من کثر سواد قوم حشر معھم (مسند الفردوس : ٥٦٢١)

” جو کسی قوم کی تعداد کا سبب بنا تو روزِ حشر وہ انہی کے ساتھ اٹھایا جائے گا ۔ ”

٥) انا بری من کل مسلم یقیم بین اظھر المشرکین ۔ قالوا یا رسول اللّٰھ لم ؟ قال لا ترائٰی نارا بھا ۔(سنن ابی داود: ٢٦٤٥)

” میں ہر اس مسلمان سے بری ہوں جو مشرکین کے بیچ میں قیام کیے ہوئے ہو ۔ صحابہ نے استفسار کیا ایسا کیوں ؟ آپؐ نے فرمایا ( ان سے اس قدر دور رہو کہ ) تم ان کی جلائی آگ بھی نہ دیکھ سکو ۔ ”

٦) من کثر سواد قوم فھو منھم و من رضی عمل قوم کان شریک من عمل بھ ۔ (نصب الرایہ : ٤ /٣٤٦)

” جو شخص کسی قوم کی تعداد بڑھائے وہ انہی میں سے ہے اور جو کسی قوم کے عمل پر راضی رہے وہ ان کے عمل میں شریک ہے ۔ ”

٧) من جامع المشرک و سکن معہ فانہ مثلہ ۔ (سنن أبی داود : ٢٧٨٧)

” جو مشرکین کے ساتھ گھل مل کر رہا اور انہی کے ساتھ سکونت اختیار کی تو وہ بھی انہی کی طرح ہے ۔ ”

٨) عن جریر بن عبداللّٰھ البجلی رضی اللّٰھ عنھ ، ان رسول اللّٰھ  قال : من اقام مع المشرکین فقد برئت منھ الذمة ۔ (الطبرانی و البیہقی )

” حضرت جریر بن عبداللہ البجلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہؐ  نے فرمایا : جس نے مشرکین کے ساتھ رہائش اختیار کی وہ ذمہ سے بری ہے۔”

علماء عرب و عجم کے فتاویٰ :

١)   علّامہ نواب صدیق حسن خاں رقمطراز ہیں :

 ” جو شخص کسی ایسے شہر منتقل ہونا چاہے ، جس میں اہلِ کفر کا تسلط ہو تو وہ شخص فاسق اور گناہِ کبیرہ کا مرتکب ہے۔” (العبرة بماء جاء فی الغزو و الشھادة : ٢٤٥)

٢)   علّامہ رشید احمد گنگوہی رقمطراز ہیں :

 ” یہ بھی ظاہر کردینا ضروری ہے کہ اگر مسلمانوں کا داخلہ اور احکام اسلامیہ کا اجراء اس ملک میں غلبہ کے ساتھ نہ ہوتو اس ملک کے دارالحرب ہونے میں کوئی فرق نہ ہوگا ورنہ جرمن اور روس اور فرانس اور چین وغیرہ سب کے سب دارا لاسلام کہلانے کے مستحق ہوجائیں گے ۔ ” (تالیفات رشیدیہ : ٦٥٩)

٣ )   مفتی اعظم سعودی عرب سماحة الشیخ عبد العزیز بن باز فرماتے ہیں :

 ”ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ اہلِ شرک کے ملکوں میں سفر سے اجتناب کرے الا یہ کہ انتہائی شدید ضرورت ہو ۔ (فتاویٰ اسلامیہ: ١/١٧٥)

٤)  علامہ شمس الحق عظیم آبادی ” من جامع المشرک و سکن معھ فانھ مثلھ”  کی شرح میں فرماتے ہیں :

أی مِن بعض الوجوہ لان الاقبال علی عدوّ اللّٰھ و موالاتھ توجِب ِاعراضھ عن اللّٰھ ، ومن أعرض عنھ تولاہ الشیطان ونقلھ ِالی الکفر۔” (عون المعبود)

” ایسا شخص بعض وجوہ کی بنا پر کافروں جیسا ہے ۔ کیونکہ اللہ کے دشمن کی جانب متوجہ ہونا اور اس کو دوست بنانا لازمی طور پر اس مسلمان کو اللہ تعالی سے دور کردیگا اور جو اللہ تعالی سے دور ہو جائے اسے شیطان دوست بنالیتا ہے اور اس کو کفر کی جانب لے جاتا ہے۔”

٥)  علامہ زمخشری نے فرماتے ہیں :

” و ھذا أمر معقول ، فِان موالاة الولِی وموالاة العدوّ متنافِیانِ ، وفِیھ ابرام و اِلزام بِالقلبِ فِی مجانبة أعداء اللّٰھ ومباعدتھم والتحرّز عن مخالطتھم ومعاشرتھم ۔” (عون المعبود )

”یہ بات سمجھ میں آنے والی ہے کیونکہ دوست کی دوستی اور دشمن کی دوستی دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں ، اس حدیث میں دل کو ان اللہ کے دشمنوں کے ساتھ ہونے سے روکا گیا ہے اور ان کے ساتھ اختلاط اور معاشرت اختیار کرنے سے روکا ہے۔”

٦)  شیخ عبد المحسن العباد اپنی ” شرح سنن أبی دادود ” میں لکھتے ہیں :

"لیس للانسان ان یقیم فی ارض المشرکین وان یساکنھم وان یکون معھم، لئلا یحصل منھم تاثیر علیھ۔”

”ا نسان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ مشرکین کی سرزمین میں اقامت اختیار کرے ، ان کے ساتھ سکونت کرے اور ان کے ساتھ رہے ۔شاید اس طرح وہ اپنے اوپر ان ( غیر مسلموں ) اثرات مرتب کرے ۔ ”

٧)  علامہ محمد بن علی الشوکانی ” من جامع المشرک و سکن معھ فانھ مثلھ”  کی شرح میں فرماتے ہیں :

"فیھ دلیل عل تحریم مساکنة الکفار ووجوب مفارقتھم ۔” (نیل الاوطار:٨/١٢٥)

” اس حدیث میں کفار کے ساتھ سکونت اختیار کرنے کی حرمت اور ان سے جدائی اختیار کرنے کے وجوب کی دلیل ہے ۔ ”

٨)  شیخ علی بن نایف الشحود لکھتے ہیں :

"وقد استدل عدد من العلماء بھذہ الاحادیث علی کفر أو فسق من یقیم بین المشرکین ۔” (موسوعة الرد علی المذاہب الفکریة المعاصرة )

” بلاشبہ ان احادیث سے متعدد علماء نے استدلال کیا ہے اس شخص کے کفر یا فسق پر جو مشرکین کے درمیان اقامت اختیار کرے ۔ ”

٩)  عصر حاضر کے مشہور مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف آیت مبارکہ 

( وَمَن یُہَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰھِ یَجِدْ فِیْ الأَرْضِ مُرَاغَماً کَثِیْراً وَسَعَةً )  (النساء : ١٠٠) 
 ” جو کوئی اللہ کی راہ میں وطن کو چھوڑے گا ، وہ زمین میں بہت سی قیام کی جگہیں بھی پائے گا اور کشادگی بھی ۔”کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

” اس میں ہجرت کی ترغیب اور مشرکین سے مفارقت اختیار کرنے کی تلقین ہے ۔”