استشراق اور مستشرقین


یورپ میں اسلامی علوم و فنون کی مختصر تاریخ

الواقعۃ شمارہ 50 ، رجب المرجب 1437ھ

از قلم : قاضی اطہر مبارک پوری

جب مشرق میں بنو امیہ کی حکومت و خلافت پر زوال آیا تو مغرب کی سر زمین نے اس خاندان کے لیے اپنی آگوش کھولی ، چنانچہ عباسی خلفاء کے مظالم سے بھاگ کر عبد الرحمٰن داخل نے اندلس کے شہر قرطبہ میں جا کر 138ھ میں ایک تازہ دم اموی حکومت کی بنیاد رکھی۔ مغرب کی اموی خلافت نے 284 سال تک عبد الرحمٰن کی نسل سے 19 خلفاء کو یکے بعد دیگرے تخت نشیں بنایا۔ پھر اس کے بعد اس میں طوائف الملوکی پھیل گئی اور مختلف خاندانوں نے اندلس کے مختلف مقامات پر اپنی اپنی حکومت و ریاست قائم کی۔

اندلس میں اسلامی علوم کی تجلّی

خلفائے اموی نے مغرب میں اپنی اس سیاست کو نہیں چلایا، جو مشرق میں ان کے لیے طغرائے امتیاز تھی، اور جس کی بدولت خلفائے بنو امیہ نے دین اسلام ، عربی تہذیب و تمدن اور عربی زبان و ادب کو اغیار کے اثرات سے ہر طرح محفوظ رکھا تھا ، بلکہ مغر ب میں انہوں نے مغربی قوموں سے میل جیل پیدا کرکے ان کے ساتھ علمی اور دینی رابطہ پیدا کیا، جس طرح کہ مشرق میں بنو عباس نے عجمی عناصر سے تعلقات وسیع کر کے ان سے ربط پیدا کیا۔

مگر اس میں مغرب کے اموی خلفاء مشرق کے عباسی خلفاء سے زیادہ کامیاب سیاست کے مالک رہے، یعنی اندلس میں خلفائے بنو امیہ نے دوسری مغربی قوموں کو اپنے ثقافتی، تہذیبی، دینی اور لسانی اثرات سے متاثر کر کے ان سے میل جول پیدا کیا، اور بغداد میں خلفائے بنو عباسیہ غیر قوموں پر اپنا اثر ڈالنے کے بجائے خود ہی ان کے اجنبی اثرات و خیالات سے متاثر ہوئے اور دوسروں نے آکر ان کی سیاست ، ثقافت، خیالات اور زبان و ادب پر قبضہ جمایا ، مغرب میں یہ صورت نہ تھی، بلکہ وہاں پر مغربی قوموں نے مسلمانوں سے تعلق پیدا کر کے آس طرح اسلامی زبان و ادب اور دینی خیالات کو اپانا کہ مسیحی پادریوں کو مجبوراً اپنی مذہبی کتابوں کو قدیم زبانوں سے عربی زبان میں منتقل کرنا پڑا۔

اندلس میں خلیفہ عبد الرحمٰن ثانی ( 206ھ تا 238ھ ) سے لے کر خلیفہ عبد الرحمٰن ثالث (300ھ تا 350ھ ) اور اس کے بیٹے حکم تک کا زمانہ نہایت زرین زمانہ گذرا ہے اس دور میں مغرب میں اسلامی علوم و فنون نے خوب ترقی کی ، اسلامی افکار و خیالات کو خوب عروج ہوا اور اسلامی ثقافت و تہذیب نے مغربی قوموں کو اپنے اندر خوب جذب کیا۔

یورپ میں جہالت کا خطرناک دور

اس زمانہ میں اندلس سے متصل مغربی ممالک کی قومیں جہالت کی زندھیری میں گرفتار تھیں، عوام کے دل و دماغ پر کلیسائی جہالت سوار تھی، اور مسیحی پادری علوم و فنون کی ہر روشنی کو بجھا کر اپنے اور مسیحی حکمرانوں کے لیے عوامی ذہن و فکر پر تخت بچھا رکھے تھے، آخر یورپ کو علم کی روشنی اندلس کی اسلامی درسگاہ ہی سے ملی اور مغربی قوموں نے نہایت سرعت سے ساتھ تحصیل علم میں کوشش کی اور اس معاملہ میں بعض مسیحی پیشواؤں نے سبقت کی، چنانچہ 1130ء میں اندلس کے شہر طیطلہ میں ایک مدرسہ جاری کیا گیا جس میں عربی زبان کے علوم کو لاطینی زبان میں ترجمہ کرنے کا شعبہ قائم کیا گیا، اس مدرسہ کا نگران ریموند نامی ایک پادری تھا، اندلس کے یہودیوں نے اس علمی اکاڈمی میں خوب حصہ لیا، اور عربی زبان کی بڑی بڑی کتابوں کو لاطینی زبان میں منتقل کرنے کا کام نہایت تیزی سے ہوا ، ان تراجم نے مغربی قوموں میں علم و فن کی روشنی بخشنی شروع کی، جس کی وجہ سے اہلِ مغرب میں علمی دلچسپی نئے رنگ میں نئی امنگ کت ساتھ ابھرنے لگی، عربی کتابوں کے تراجم کا بہت بڑا ذخیرہ مغرب کے پاس آ گیا ، ڈاکٹر کلارک نے شمار کر کے بتایا ہے کہ چودہویں صدی تک عربی زبان کی 340 بڑی بڑی کتابوں کا لاطینی زبان میں ترجمہ کیا گیا۔

یورپ کے عقلیاتی دور کی ابتدا

اس اداروں میں جن کتابوں کا ترجمہ کیا گیا ان کا زیادہ تر حصہ فلسفہ اور طبعی اور عقلی علوم سے تھا، اور اس وقت خاص طور سے زکریا رازی، ابو القاسم زہراوی، ابن رشد اور بو علی ابن سینا جیسے اسلامی فلسفہ اور علوم عقلیہ کے ماہرین کی کتابیں مغربی زبانوں میں ترجمہ کی گئیں، نیز اہلِ یورپ نے عربوں کے واسطہ سے اسی زمانہ میں جالینوس، بقراط، افلاطون ، ارسطو اور اقلیدس کی کتابوں کو جو یونانی زبان سے عربی میں منتقل ہو چکی تھیں ان کا ترجمہ بھی لاطینی زبان میں کیا۔

اور یہی کتابیں یورپ میں علمی شعور کے ساتھ ساتھ مقبول ہوئیں اور پڑھی گئیں، بلکہ بارہویں صدی سے لے کر ان مذکورہ بالا کتابوں میں سے اکثر و بیشتر کتابیں، پانچ چھ صدیوں تک یورپ کی یونیورسٹیوں میں عقلی و طبعی علوم و فنون کے لیے نصاب بنی رہیں ، بلکہ ان میں سے بعض بعض کتابیں تو انیسویں صدی تک یورپ کی یونیورسٹیوں میں داخلِ درس رہیں اور اہل مغرب ان سے استفادہ کرتے رہے۔

اس طرح اہل مغرب نے اندلس کے اسلامی علوم و فنون کی شمع سے روشنی حاصل کرکے اپنے کلیسائی دورِ جہالت سے نجات حاصل کی اور مسلمانوں کے توسط سے قدیم یونانیوں کی کتابیں اور خود مسلمان عقلاء و فلاسفہ کی کتابیں حاصل کیں اور ان کو پڑھا پڑھایا، اس علمی نہضت کے نتیجہ میں آج یورپ ایجاد و فلسفہ اور فکر و سائنس میں اس قدر آگے بڑھ گیا ہے ، اگر اسے اندلس سے روشنی نہ ملی ہوتی تو یقیناً آج بھی یورپ جہالت اور لا علمی کی دلدل میں پھنسا ہوا ہوتا۔

ایک انگریزی مؤرخ مسٹر ملر اپنی کتاب "فلسفہ تاریخ” میں لکھتا ہے کہ

"مغربی علوم کے اصل مآخذ عربوں کے وہ مدارس ہیں جو ہسپانیہ میں قائم تھے، اور یورپ کے ہر ہر ملک کے طلبہ ان مدرسوں کی طرف دوڑتے تھے، اور ان میں علوم ریاضیہ اور علوم ما وراء الطبیعہ حاصل کرتے تھے، اسی طرح جب عربوں نے جنوبی اٹلی پر قبضہ کیا تو وہ بھی یورپ میں اسلامی علوم کے داخلہ کا واسطہ بنا۔”

اسلامی علوم سے یورپ کی دل چسپی

ہسپانیہ کی درسگاہ سے جو پہلا مغربی عالم نکال ہے۔ وہ ایک فرانسیسی پادری بریزت نامی ہے، اس نے اپنے لاہوتی علوم کی تکمیل کرکے فرانس سے اشبیلہ کی راہ لی، اور وہاں پر تحصیل علم کیا۔ پھر قرطبہ میں جاکر ریاضی اور فلکیات وغیرہ کا علم تین سال تک حاصل کیا۔ پھر فرانس آ کر ان علوم عربیہ سے عوام کو روشناس کرایا جس پر اسے جادوگر اور کافر کا خطاب دیا گیا ، مگر 955ء میں اس نے اپنی ترقی کی راہ لی اور نادانوں سے اسے نجات ملی اسی طرح قرطبہ کی درسگاہ سے شانجہ نامی ایک مغربی حکمران نے بھی علم کی تکمیل کی، اسی زمانہ میں اٹلی کے بعض لکھے پڑھے لوگوں نے عربی زبان کو حاصل کی اور اسے دنیا کی بہترین ادبی زبان سمجھ کر اس میں مہارت حاصل کی ، نیز اسی دور میں ایک مسیحی راہب نے مسیحی قوم کو عربی زبان حاصل کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے بتایا کہ

"اللہ حکمت کو جسے چاہتا ہے دیتا ہے ، اس نے لاطینی زبان کو حکمت نہیں دینا چاہا بلکہ یہدو اور عرب وغیرہ کو دیا، اس لیے تم لوگ عربی زبان حاصل کرکے حکمت کو حاصل کرو۔”

اس طرح مغربی قوموں میں علمی شعور کی جڑ بنیاد پیدا ہوئی اور ترقی پسند پادریوں اور مذہبی طبقوں نے عربی زبان اور اسلامی علوم سے دلچسپی لینی شروع کی، یورپ کے جس ملک میں یہ ذہن پیدا ہوا ، وہاں کے لکھے پڑھے لوگوں نے اندلس کی اسلامی درسگاہوں کا رخ کیا اور واپس آ کر اپنے ملک میں علم و حکمت کی بساط بچھائی۔

یورپ کے علمی شعور میں سیاسی شعور کی آمیزش

آہستہ آہستہ یورپ میں علمی شعور پیدا ہوتا گیا اور وہاں کے علمی دارئرہ میں وطنیت اور قومیت کا عمل دخل بھی ہونے لگا۔

اس قومی اور وطنی احساس نے یورپ کی علمی سرگرمی میں دوسرا رنگ پیدا کر دیا ، چنانچہ اہل مغرب نے آگے چل کر عربی علوم و فنون کے علاوہ مشرق کے دوسرے معاملات میں دلچسپی لینی شروع کی اور ان کی توجہ تجارت ، استعماریت اور دینی تبلیغ کی طرف بھی ہوگئی، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یورپ کی قومیت نے ان نظریات کو سامنے رکھ کر مشرق کے ساتھ ربط پیدا کرنا شروع کیا، مشرقی دنیا کے حالات کا پتہ چلایا، یہاں کے ملکی اور جغرافیائی حالات دریافت کیے ، یہاں کے دینی تہذیبی اور تمدنی و معاشرتی رجحانات معلوم کیے اور مشرقیت کے مخفی خزانوں کی دریافت کے لیے عام مشرقی علوم و فنون حاصل کیے ، اپنے یہاں مشرقی ادب کو زندہ کیا ، یہاں کی کتابوں کو چھاپا ، ان کے ترجمے کیے اور عربی زبان کے علاوہ فارسی، ہندی، سنسکرت، اردو وغیرہ زبانوں کو حاصل کیا، ان کی کتابوں کو پڑھا اور ان زبانوں میں خود بھی کتابیں لکھیں۔

اس طرح یورپ کے "مستشرقین” نے "استشراق” کو ایک فن کی حیثیت دے دی ، جس کی رو سے وہ مشرق کی زندہ اور مردہ زبانوں کو حاصل کرنے لگے، اور اس کے ادب و اسلوب کو پوری طرح معلوم کرنے لگے۔

اسلامی علوم کے لیے پریس اکاڈمی اور دوسرے تصنیفی مشاغل

اس مقصد کے لیے اہل ،غرب نے پریس اور مطابع جاری کیے اور عربی زبان کی کتابیں شائع کرنی شروع کیں، چنانچہ یورپ والوں نے اپنے یہاں سب سے پہلے عربی کتابوں "المجموع المبارک” اور ابن العمید سکین کی تاریخ، ابن عربی کی کتاب تاریخ الاول، سعید بن بطریق کی نظم الجواہر، پھر تاریخ ابو الفداء اور مقاماتِ حریری کو چھاپ کر ان کو شائع کیا۔

اہلِ یورپ نے مشرقی علوم و فنون کی فراہمی کے لیے خاص خاص کتب خانے قائم کیے اور کتابٰں یکجا کیں، انیسویں صدی عیسوی کی ابتداء میں یورپ کے مختلف کتب خانوں میں عربی زبان کی ڈھائی لاکھ سے زیادہ کتابیں موجود تھیں جو لینن گراڈ، پیرس، برلین، لندن، اکسفورڈ، روم، اسکوریال وغیرہ کے کتب خانوں میں رکھی ہوئی تھیں، اسی طرح عربیت کے لیے اہل مغرب نے بہت سی علمی اکادمی کی بنیاد ڈالی اور علمی مجلسیں قائم کیں، جن میں عربی کتابوں کی نشر و اشاعت کا کام ہوتا تھا، سب سے قدیم انجمن 1781ء میں جاوا کے دارا لحکومت میں قائم کی گئی، پھر کلکتہ میں سر ولیم جونس نے 1784ء میں عربی کی اشاعت کے لیے ایشیاٹک سوسائٹی قائم کی، اور 1788ء سے 1836ء تک بیس جلدوں میں اس سلسلہ کی کتابیں شائع ہوئیں، نیز کلکتہ کی اس سوسائٹی کی طرف سے ایک رسالہ بھی 1833ء سے شائع ہونا شروع ہوا تھا، جو برابر شائع ہوتا تھا۔

اس زمانہ میں لندن میں شاہ انگلستان کی سرپرستی میں مشرقیات کے پڑھنے کے لیے ایک سوسائٹی قائم کی گئی، انگلستان کے بڑے بڑے فضلاء اس کے ممبر تھے۔

1820ء میں فرانسیسی مستشرقین نے فرانس میں عربی کتابوں کی طباعت و اشاعت کے لیے ایک سوسائٹی قائم کی اور انہوں نے اس سوسائٹی کی طرف سے ایک رسالہ بھی جاری کیا جن میں عربی اور عربیت کے بارے میں قیمتی معلومات ہوتی تھیں۔

اسی طرح امریکہ، روس، اٹلی ، بلجیم، ہالینڈ، ڈنمارک وغیرہ کے مستشرقین نے انگریزوں اور فرانسیسیوں کے نقشِ قدم پر چل کر عربی علوم و فنون کے لیے اکاڈمی اور سوسائٹی قائم کی، کتابیں شائع کیں اور رسالے جاری کیے ، مشرقی علوم و فنون کے سلسلے میں یورپ کے مستشرقین نے بڑی بڑی کانفرنسیں بھی کیں، بلکہ آج تک مستشرقین یورپ کی بین الاقوامی کانفرنسیں دنیا کے مختلف ممالک میں ہوتی رہتی ہیں، خاص طور سے مستشرقین نے یورپ کے مختلف ممالک میں عربیت کے لیے انیس کانفرنسیں قائم کیں۔

پہلی کانفرنس 1872ء میں پیرس میں منعقد ہوئی، 1908ء میں بھی پیرس میں یہ کانفرنس ہوئی، اس قسم کی کانفرنسوں میں اہلِ مغرب مشرقیات کے مختلف پہلوؤں پر علمی اور تحقیقی مقالات پیش کرتے ہیں اور بڑی تلاش و جستجو سے ایک ایک موضوع پر بیش بہا اور قیمتی معلومات جمع کرتے ہیں۔

اہل یورپ نے عربی علوم کی نشر و اشاعت کے لیے عربی کے مجلات و جرائد جاری کیے ، دنیا بھر سے مخطوطات اور قلمی کتابوں کے ذخیرے جمع کیے ، نادر و نایاب اور عمدہ سے عمدہ کتابوں کو بہترین حواشی تحقیق اور نوٹ  کے ساتھ شائع کیا ، ان میں فہرستوں جا اضافہ کیا ، اور مختلف ناموں ، موضوعوں اور مقامات کی الگ الگ فہرست مرتب کرکے لگائی ، الفاظ کی تحقیقات اور اصول لغت کی تنقیحات میں کمال دکھایا۔

واقعہ یہ ہے کہ کتابوں کی تصحیح اور ان کو پورے اہتمام کے ساتھ شائع کرنے میں اہلِ مغرب اپنی نظیر نہیں رکھتے، اور یہ ان کا امتیازی کارنامہ ہے۔

موجودہ حالات پر ایک نظر

اس طرح اہل یورپ نے اسلامی علوم اور عربی زبان کو حاصل کر کے اپنی زندگی میں ایک ایسا عظیم انقلاب برپا کیا جس نے ایک طرف ان کو علم و تحقیق، سائنس و ایجاد اور فلسفہ میں اختراع میں مشہور کیا اور دوسری طرف ان کو مغرب سے اٹھا کر مشرقی ممالک کی حکومت کے تخت پر بٹھایا۔

اہل یورپ نے اگرچہ اسلامی علوم و فنون کی وجہ سے قومیت و وطنیت کی راہ پائی اور مغرب سے چل کر مشرق کی حکمرانی کی ، مگر اس حال میں بھی انہوں نے اسلامی علوم  و فنون کا ذوق ختم نہیں کیا بلکہ آج بھی یورپ اور امریکہ میں اسلامیات پر بہت کچھ کام ہو رہا ہے اور ان ممالک کے علماء اور فضلاء، عربی زبان اور عربی علوم کی نشر و اشاعت میں لگے رہتے ہیں اور اسلامی کتابوں کی اشاعت میں اسی نشاط سے کام کرتے ہیں۔

اسپین میں جنرل فرانکو کی سرپرستی میں عربی کتابوں کی اشاعت کا طباعت کام جاری ہے ، امریکہ میں عربی کتابوں کی تعلیم اور اشاعت کا کام جاری ہے ، اسی طرح یورپ کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں اسلامیات کے شعبے قائم ہیں ، اور اسلامی علوم و فنون پر اہلِ مغرب اپنے ذوق کے مطابق کام کر رہے ہیں۔

حرفی پریس کی مختصر تاریخ

اس سلسلہ میں پریس اور مطبع کی تاریخ ایک دلچسپ کہانی معلوم ہوگی مختصر طور پر اس کا حال ملاحظہ ہو :-

ٹائپ کے ذریعہ طباعت کی ایجاد ایک جرمن نے 1440ء میں کی، اس کو عربی زبان میں "حناجونمبرج” کہتے ہیں، طباعت کی ایجاد نے علوم اور فنون کی ترقی میں کافی مدد کی، اور ایک مدت تک یورپ میں اس کا دائرہ عمل وسیع ہوتا رہا، اور عربی زبان کی سب سے پہلی کتاب 1514ء میں چھاپی گئی، اس کے بعد مشرقی ممالک میں پریس ترقی کرتا گیا ، خصوصیت سے عربی زبان کی کتابیں دن بدن زیادہ چھپنے لگیں ، مگر ابتدا میں ان کی طباعت بھی یورپ ہی کے ممالک میں ہوتی رہی، چنانچہ ان ہی زمانوں میں نزہۃ المشتاق ادریسی ، قانون بو علی بن سینا، تحریر اصول اقلیدس وغیرہ یورپ سے شایع ہوئیں بلکہ اب تک یورپ سے نادر و نایاب کتابیں شایع ہوتی رہتی ہیں ، اس کے بعد مشرقی دنیا میں طباعت کا فن سلطنت ترکیہ کی راہ سے 1490ء میں داخل ہوا، اور آستانہ میں ایک یہودی عالم نے 1490ء میں پریس قائم کر کے کئی علمی اور مذہبی کتابیں چھاپیں، مگر اب تک چھپائی کا کام رومن رسم الخط میں ہوتا رہا ، پھر 1728ء میں عربی حروف کی ابتدا ہوئی ، اور ان کا پریس قائم ہوا ، اس دور میں عربی حروف کا سب سے مشہور پریس آستانہ کے پریسوں میں مطبعۃ جوائب تھا، جو احمد فارس شدیاق مرحوم کی ملکیت میں تھا، اس مطبع میں مختلف علوم و فنون اور ادب کی امہات الکتب چھاپی گئیں ، یہ مطبع ترکی کا مشہور ترین مطبع تھا۔

عرب ممالک میں حروف کی چھپائی کی ابتدا لبنان سے ہوئی اور مسیحی پادریوں اور مبشروں نے اس میں سبقت کی، چنانچہ لبنانی مسیحی پادریوں نے سترہویں صدی عیسوی کے شروع میں سب سے پہلا پریس قائم کیا۔ اس کے بعد ان ہی کی طرف سے 1840ء میں "مطبعۃ کاثولیکہ” قائم ہوا ، اس پریس نے عربی زبان کی قدیم اور نادر کتابوں کو شائع کیا ، اور علم و ادب کی بہت خدمت کی، اس کے بعد ہی مصر میں مطبع کا قیام ہوا اور 1798ء میں نائبیون کے ہاتھوں چھپائی کا کام جاری ہوا ، اس نے سرکاری فرمانین اور احکام کو عربی زبان میں چھاپنے کے لیے "مطبعہ اہلیہ” کے نام سے پریس جاری کیا، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ پریس بھی چلتا رہا اور محمد علی پاشا نے مطبعہ اہلیہ کی جگہ 1830ء میں "مطبعۃ بولاق” جاری کیا اور اس کی ادارت کا کام شام کے ایک ماہر "نقولا سایکی سوری” کے سپرد کیا۔ مطبعہ بولاق کے لیے خاص طور سے مختلف سائز کے بہترین طریقے پر حروف ڈھالے گئے ، پھر دوسری مرتبہ عربی حروف کی ڈھلائی مصر کے سب سے بڑے خوشنویس مرحوم جعفر بیگ کے قاعدہ کے مطابق ہوئی ، مصر میں آج تک مرحوم جعفر بیگ کے اصول پر ڈھالے ہوئے حروف کا استعمال ہوتا ہے۔

"مطبعہ بولاق” نے ریاضیات، طب و جراحت اور غیر زبانوں سے ترجمہ شدہ تقریباً تین سو کتابوں کو چھاپا، اور اس کے شعبہ "القسم الادبی” سے ادب کی امہات کتب چھاپی گئیں، اب بہت دنوں سے "مطبعہ بولاق” سرکاری چیزوں کو چھاپتا ہے، اور درسی کتابیں اور سرکاری کاغذات اس میں چھپتے ہیں۔ "مطبعہ بولاق” کے بعد مصر میں بہت سے چھاپہ خانے قائم ہوئے ، جو ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر کام کرتے ہیں۔

ہندوستان میں سب سے پہلے پرتگیزیوں نے جنوبی ہند میں ٹائپ پریس جاری کیا، اور تامل اور ملیالم زبان میں مذہبی کتابیں چھاپیں، کلکتہ میں 1781ء میں ٹائپ پریس قائم ہوا، جس میں بہت سی عربی کتابیں چھاپی گئیں ، بمبئی میں 1300ھ مطابق 1882ء میں ایک ٹائپ پریس تھا جس میں علامہ ادیب عبد الجلیل بن یاسین بصری متوفی 1270ھ کا دیوان 280 صفحات پر چھاپا گیا ، اس کے بعد بمبئی میں کئی حرفی پریس جاری ہوئے، مگر وہ بہت معمولی قسم کے تھے، اور زیادہ دنوں تک نہیں چل سکے، آج کل بعض پریس اچھا کام کر رہے ہیں ، ریاست حیدر آباد میں دائرۃ المعارف نے ایک پریس جاری کیا جس میں بہت سی نادر و نایاب کتابیں چھاپی گئیں ، زمانہ ہوا مولانا عاشق الٰہی میرٹھی نے میرٹھ سے ایک حرفی مطبع "مطبعہ نیمریہ” کے نام سے جاری کیا ، جس خاص طور سے ابن اثیر کی "جمع الفوائد” چھاپ کر شائع کی، جو حدیث کی اہم کتاب ہے، اسی طرح ہندوستان کے بعض دوسرے مقامات پر حرفی مطابع ہیں اور اپنے طور پر کام کر رہے ہیں۔

(ماہنامہ "البلاغ” بمبئی، "تعلیمی نمبر” دسمبر 1954ء، جنوری و فروری 1955ء)

افتراء علی اللہ – اللہ پر تہمت


الواقعۃ شمارہ : 26 – 27 ، رجب و شعبان 1435ھ

از قلم : ابو الحسن

معنی و مفہوم ایک مقدس امانت ہے اور الفاظ ان کے امین ۔ لیکن مال و دولت کی طرح الرحمٰن ( علمہا البیان ) کی اس نعمت میں بھی خیانت ہوتی ہے ، ہوتی رہی اور ہوتی رہے گی ۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے یہودی علماء کی حقیر دنیاوی مقاصد کے لیے اپنی گمراہ سوچ کو احکام الٰہی کی تاویل وتعبیر قرار دینے کے تعلق سے فرمایا   :

ثم یقولون ھذا من عند اللہ لیشتروا بہ ثمنا قلیلا

” پھر کہتے ہیں یہ کتاب الہی کے احکام ہیں اور سب کچھ اس لیے کرتے ہیں تاکہ اس کے بدلے میں ایک حقیر سی قیمت دنیاوی فائدے کے لیے حاصل کر لیں ۔”

افسوس کہ امت محمدیہ بھی اس گمراہی سے بیگانہ نہ رہی اور اپنائیت بڑھتی جا رہی ہے ۔ مقدس دینی اصطلاحات کو مضمحل ،  مجروح اور مسخ کر کے مال تجارت بنا دیا گیا۔

اس سلسلے میں حرام ، حلال ، مکروہ الفاظ کی عیادت کریں ضرورت ہو تو تعزیت ۔ پاکستان میں لفظ شہید کی وہ درگت بنائی گئی کہ یہ مقدس دینی اصطلاح اپنی بے بسی پر خون کے آنسو رو رہی ہے ۔

لفظ حرام کا ثلاثی مادہ ح ، ر ، م ہے اس کے 23 مشتقات 83 بار قرآن میں استعمال ہوئے ۔ لفظ حلال کا ثلاثی مادہ ح ، ل ، ل ہے اس کے 27 مشتقات 51 بار قرآن میں استعمال ہوئے ۔ لفظ مکروہ کا ثلاثی مادہ ک ، ر ، ہ ہے اس کے 20 مشتقات 41 بار قرآن میں استعمال ہوئے ۔ تینوں الفاظ اردو میں اس طرح مستعمل ہیں گویا اردو ہی کے الفاظ ہیں ۔ مختصراً یہ کہ حرام وہ ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ۔ اس کا ارتکاب گناہ اور موجب سزا ہے ۔ حلال وہ ہے جس سے منع نہیں فرمایا جسے مستحب اور پسندیدہ قرار دیا ۔ اس کے ارتکاب کی اجازت ہے ، بالکل قابل مواخذہ نہیں ۔ لفظ مکروہ کو عام طور پر حرام اور حلال کے درمیان کی ایک چیز سمجھا جاتا ہے لیکن اس مفہوم کی نہ صرف قرآن کی  سند نہیں  بلکہ قرآن اور آثار صحابہ سے اس مفہوم کی نفی ہوتی ہے۔

بنیادی بات یہ ہے کہ کسی چیز کے استعمال یا فعل کے ارتکاب کو حرام یا حلال قرار دینے کا اختیار صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ۔ پیغمبر بھی اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں رکھتے وہ بھی احکام الٰہی کے پابند ہیں ان کا کام احکام کو بندوں تک پہنچانا ہے ۔ حرام و حلال ایک دوسرے کی ضد ہیں اس لیے جن چیزوں کو حلال قرار نہیں دیا  گیا ۔ انہیں حرام کہنے کے بجائے یہ تعبیر اختیار کی گئی   ” لا  یحل لکم ” اور جسے حرام قرار نہیں دیا گیا اس کے لیے ” یحل علیکم ” فرمایا گیا قرآن کی بعض آیات  میں دونوں الفاظ استعمال  ہوئے ۔ سورہ بقرہ آیت 275 میں فرمایا : ﭧ ﭨ ﭩ ﭪ ﭫﭬ (  اللہ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا )۔

مسلمانوں کے لیے وقت واحد میں چار سے  زائد بیویاں رکھنا منع ہے ۔ لیکن آنحضرت ﷺ کو اللہ نے اس حکم سے مستشنٰی رکھا اور براہ راست آپ کو مخاطب کر کے فرمایا :

یایھا النبی اذا احللنا لک ازوٰجک التی ءاتیت اجورھن ( احزاب : 50 )

” اے نبی ہم نے تیرے لیے وہ بیویاں حلال کر دیں جنہیں تو ان کے مہر دے چکا ہے ۔” ( نزول آیت کے وقت امہات المومنین چار سے زائد تھیں ) ۔

سورہ نحل آیت 116 میں  ارشاد ہوا :

ولا تقولوا لما تصف السنتکم الکذب ھذا حلٰل و ھذا حرام لتفتروا علی اللہ الکذب ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون

” اور دیکھو ایسا نہ کرو کہ تمہاری زبانوں پر جھوٹ بات آجائے بے دھڑک نکال دیا کرو اور اپنے جی سے ٹھہرا کر حکم لگا دو یہ چیز حلال اور یہ چیز حرام ہے اس طرح حکم لگانا اللہ پر افترا پردازی کرنا ہے اور یاد رکھو جو لوگ اللہ پر افترا پردازیاں کرتے ہیں وہ کبھی فلاح پانے والے نہیں۔”

کسی شخص کی پسند نا پسند سے اللہ کی حلال  کی ہوئی چیزوں کو اپنے لیے ممنوع قرار دے لینا منع ہے اس سلسلے میں خود رسول کریم ﷺ نے جب چند امہات المومنین کی پیدا کردہ صورت حال میں ایک حلال چیز کو اپنے لیے ممنوع قرار دے لیا تو اللہ نے اپنے نبی کو یوں مخاطب فرمایا :

یا یھا النبی لم تحرم مآ احل اللہ لک تبتغی مرضات اازوٰجک و اللہ غفور الرحیم                 ( تحریم : 1)

” اے  نبی جس چیز کو اللہ نے تمہارے لیے  حلال کر دیا ہے اسے تم کیوں  حرام کرتے ہو ۔ کیا  تم اپنی  بیویوں کی رضامندی حاصل کرنا چاہتے ہو اور اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔”

سورہ مائدہ کی ابتدائی پانچ آیات میں  حرام  و حلال کے احکام صرف غذاوں کے لیے نہیں بلکہ دیگر اعمال کے تعلق سے بھی ہیں ۔ آیت 1 احلت لکم سے شروع ہوتی ہے اور پھر حلال چیزوں کا ذکر ہے ۔ آیت 2 میں منع کا انداز اس طرح ہے لا تحلوا شعائر اللہ مولانا ابوالکام آزاد نے لا تحلوا  کا ترجمہ ” بے حرمتی نہ کرو ” کیا ہے آیت میں ممنوعات کا ذکر ہے اور آیت کا خاتمہ ان الفاظ پر ہے ان اللہ شدید العقاب۔ ﯾ۔  آیت 3 مسلمانوں سے خطاب اس طرح ہے حرمت علیکم ممنوعات کے ذکر کے بعد آیت کے آخری حصے میں بھوک سے بے بس ہو کر اور دانستہ گناہ نہ کرنا چاہنے والا ایسی کوئی حرام چیز کھالے تو اللہ نے  اس کے لیے اپنی بخشش و رحمت کا اظہار فرمایا : فان اللہ غفور رحیم ۔ آیات چار اور پانچ میں احل لکم الطیبٰت فرما کر حلال چیزوں کا ذکر ہے ۔ سورہ نحل کی آیات 114 – 115 میں بھی مائدہ کی آیات کے موضوع کا ذکر کیا گیا ہے۔

یہ ظاہر ہے کہ قرآن میں دنیا بھر کے جانوروں اور زندگی کے دیگر شعبوں میں حلال و حرام ہونے کا ذکر نہیں ۔ سورہ مائدہ کی آیت 1 میں فرمایا احلت لکم بھیمۃ الانعٰم (  تمہارے لیے مویشی حلال کر دیے گئے ) مویشی کا زیادہ تر اطلاق اونٹ ، گائے اور بھیڑ ، بکری پر ہوتا ہے۔ بھینس ، ہرن ، گدھا ، گھوڑا اور اسی قبیل کے چوپائے جو دنیا کے بہت سے علاقوں میں پائے جاتے ہیں ان کے تعلق سے کیا کیا جائے ؟ انہیں حلال سمجھیں یا حرام ؟ اسی طرح کونسے پرندے اور دریائی مخلوق حلال ہے کونسی حرام ؟ ان مسائل پر ان  راسخون فی العلم کا اجتہاد و اجماع سند ہے ۔ جس کے تعلق سے اللہ نے فرمایا : انما یخشی اللہ من عبادہ العلمٰؤا (  اللہ سے اس کے وہی نیک بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں ) ان علماء کا اجتہاد سند کا درجہ رکھتا ہے ۔ لفظ اجتہاد کا ثلاثی مادہ ج ، ہ ، د ہے اور یہی مادہ لفظ جہاد کا ہے ۔ باب افتعال سے اجتہاد کا مصدر حاصل ہوا ۔ اجتہاد اصل میں ذہن کا وہ جہاد ہے جس میں مجاہد کے ہتھیار ذہانت کے ساتھ علم راسخ ، دیانت فکر ، تقوٰی اورخشیت الہی ہیں اور اسے رسول کریم کی منظوری حاصل ہے ۔ حضرت رسالت مآب جب مشہور جلیل القدر صحابی حضرت معاذ بن جبل کو یمن بھیج رہے تھے تو دریافت فرمایا : جب کوئی مقدمہ تمہارے سامنے پیش ہوگا تو کیسے فیصلہ کرو گے ؟  جواب دیا جیسا کتاب اللہ میں ہے ۔ پھر سوال کیا : کتاب اللہ میں صراحت نہو تو کیا کرو گے ؟ انہوں نے کہا پھر سنت رسول کے مطابق فیصلہ کروں گا ۔ پھر پوچھا اگر سنت میں صراحت نہ ہو تو کیا کرو گے ؟ جواب میں کہا ایسی حالت میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا ( اجتھد برائی )  اس پر رسول اللہ خوش ہوئے اور فرمایا : اللہ کا شکر ہے کہ اس نے اپنے رسول کے فرستادہ کو اس بات کی توفیق دی جو اس کے رسول کو پسندیدہ ہے ( وفق رسول رسولہ بما یرضی بہ رسولہ ) ۔ اب دیکھیں اجتہاد کے نتیجے میں فتویٰ دینے میں صحابہ اور علماء سلف کا انداز بیان کیا تھا اس سلسلے میں مولانا ابو الکلا م آ زاد لکھتے ہیں :

” ائمہ سلف افتاء و تکلم فی الشرع ( شرع کے بارے میں فتویٰ دینے اور کلام کرنے ) میں نہایت احتیاط کرتے تھے ۔ خصوصاً کسی بات کو حلال کہنے یا حرام ٹھہرانے میں ان کی خشیت و تقویٰ کا یہ حال تھا کہ تاکید اور دعویٰ کے ساتھ کبھی زبان نہیں کھلتی تھی ۔ یہ وہ لوگ تھے کہ بقول حضرت ابن مسعود ابرھم قلوباً و اعمقہم علما صرف ان کا علم ہی سب سے زیادہ گہرا نہ تھا بلکہ ان کے دل بھی سب سے زیادہ نیک تھے ۔ اس لیے  ہمیشہ اللہ سے ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں حلال حرام کے بارے میں کوئی لغزش نہ ہو جائے ۔ ان کے سامنے قرآن کی یہ وعید موجود تھی : و لا تقولوا لما تصف السنتکم الکذب ھذا حلٰل و ھذا حرام لتفتروا علی اللہ الکذب انہیں صحابہ کرام کا حال معلوم تھاکہ حلت و حرمت کے افتاء میں کس قدر حزم و احتیاط کرتے تھے اور اللہ اور اس کی شریعت کی طرف کوئی حکم منسوب کرنا کس طرح ان کے لیے زندگی کا سب سے زیادہ کٹھن کام تھا ۔ چناچہ امام دارمی نے سنن میں صحابہ و تابعین کے وہ اقوال و اعمال جمع کیے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ دین میں کوئی حکم لگانا خصوصاً حلال اور حرام کا لفظ بولنا ان پر کیسا کٹھن تھا اور کس طرح حتیٰ الامکان اس کی ذمہ داری سے گریز کرتے تھے۔ اس حالت کا نتیجہ یہ تھا کہ باب حلال و حرام میں ان کی ایک خاص محتاط بول چال ہوگئی تھی چونکہ قرآن و حدیث میں اپنے خیال سے حلال و حرام ٹھہرانے کے لیے بڑی ہی سخت و عیدیں آئی ہیں ۔ اس لیے حتی الامکان تاکید اور قطع کے ساتھ حلال و حرام  کا لفظ نہیں بولتے تھے۔ ایسے الفاظ بولتے جن میں قطع و جزم کی جگہ عموم و وسعت اور جزم و احتیاط کا پہلو ہوتا تھا۔ چناچہ اگر کسی بات کو ناجائز اور حرام سمجھتے تو کہتے ” انا اکرہ ہذا ” ، ” لا ینبغی ہذا ” ، ” لیس بحسن ” ، ” لا یعجبنی ان یعمل کذا ” و غیر ذالک ” یعنی میں مکروہ رکھتا ہوں ، ایسا نہیں کرنا چاہئے ، یہ ٹھیک نہیں ہے ، مجھے پسند نہیں کہ ایسا کیا جائے اور جب کسی بات کا وجوب ظاہر کرنا مقصود ہوتا تو اس صورت میں بھی تاکید و جزم کے الفاظ کی جگہ عموماً عام و محتاط اطلاقات سے کام لیتے مثلاً ” انا احب ان یعمل کذا ” ، ” اریٰ ہذا حسنا ” ، ” یعجبنی ان یعمل کذا ” ، ” یستحب ان یعمل کذا ” ، ” ینبغی ہذا " ، یعنی یہ بات اچھی ہے، یہ بات مجھے پسند ہے، چاہئے کہ ایسا کیا جائے، مستحب ہے کہ ایسا کیا جائے، ایسے موقعوں پر ان کا مقصود مستحب سے وہ ایک خاص درجہ شروع کا نہ تھا جو بعد کو قرار دیا گیا ہے بلکہ اس کے لغوی معنوں میں بولتے تھے یعنی یہ امر پسندیدہ ہے۔

لفظ مکرہ کو عام طور پر حرام و حلال کا درمیانی درجہ دیا گیا ہے ۔ یعنی ایسا کام جس کا نہ کرنا کرنے سے بہتر ہے ۔ لیکن کرنے کی قطعی ممانعت نہیں ہے اور پھر مکروہ کی دو قسمیں مکرہ تحریمی و مکرہ تنزیہی قرار دی گئی ہیں ۔ علماء سلف جب کبھی لفظ کراہت استعمال کرتے ہیں تو اس کے عام لغوی معنوں میں استعمال کرتے ہیں جس سے مقصود علی اطلاق نا پسندیدگی اور عدم مشروعیت ہے اور مراد ان کی وہی ہوتی ہے جو حرمت اور حرام سے ظاہر کی جاتی ہے ۔ اور یہ قرآن اور حدیث کی متابعت میں ہے ۔ سورہ حجرات کی آیات 6 اور 7 میں مسلمانوں سے خطاب ہے ۔ آیت 7 میں ارشاد ہے : و کرّہ الیکم الکفر و الفسوق و العصیان ” کفر کو گناہ اور نافرمانی کو تمہاری نگاہوں میں نا پسندیدہ کر دیا ۔” سورہ بنی اسرائیل میں آیات 23 ان الفاظ سے شروع ہوتی ہے ۔ و قضیٰ ربک تمہارے رب نے یہ بات ٹھہرا دی ، صاف صاف حکم دیا ہے ۔ اور پھر احکامات کا سلسلہ آیت 38 تک ہے اور اس آیت کا خاتمہ ان الفاظ پر ہے : کل ذٰلک کان سیئۃ عند ربک مکروھا اعمال سیئہ کے متعلق ان احکامات میں اہانت ابوین ، قتل اولاد ، قتل نفس ، اکل مال یتیم ، زنا کی ممانعت کے بعد فرمایا یہ سب کام تمہارے رب کے پاس نا پسندیدہ ( مکروہ ) ہیں ۔ ان گناہ کبیرہ اور حرام کاموں کے لیے مکروہ کا لفظ استعمال ہوا اور لفظ مکروہ استعمال کرنے سے پہلے انہیں سیئہ کہا گیا ۔ سیئات ، حسنات کی ضد ہے اور سوء ہر قسم کی برائی کی صورت کو کہتے ہیں خواہ وہ  بڑا عذاب ہو یا برا عمل ۔ حدیث میں بھی بے ہودہ قیل و قال ، کثرت سوال ، اضاعت مال کے لیے جو حرام کام ہیں اس طرح بیان فرمایا گیا ” ان اللہ عز و جل کرہ یکم القیل و قال و کرہ السوال و اضاعتہ المال ” اور حضرت عمر کا بھی قول ہے ” انا اکرہ ان احل حراماً و احرم حلالاً ” میں حرام کو حلال قرار دینا اور حلال کو حرام قرار دینا نا پسند کرتا ہوں ۔ فقہ کے چاروں فقہاے کرام نے بھی حرام کے لیے مکروہ اور انا اکرہ کے الفاظ استعمال کئے۔

تصر یحات سلف کے فہم میں بعض نا خلف کو تاہ نظر متا خرین سے سخت غلطی ہوئی اور سلف نے جن امور کو مکرہ یعنی حرام قرار دیا تھا اسے مکروہ تنزیہی ٹھہرا کر لوگوں پر دروازہ منکرات و ممنوعات کا کھول دیا اور اس طرح منکرات شرعیہ کی اہمیت عوام کے حیلہ جو قلب میں باقی نہ رہی۔”

حرام ، حلال ، مکروہ الفاظ کے جائزے کے بعد لفظ حلالہ پر غور کریں جس کا ثلاثی مادہ وہی ہے جو حلال کا ہے لیکن یہ لفظ قرآن میں نہیں اس کی حقیقت پر غور کریں۔

دین صرف خدا پرستی کی تعلیم نہیں دیتا انسانوں کو اچھی زندگی گذارنے کے اصول بھی بتاتا ہے ۔لیکن انسانوں نے دین کے ان دونوں مقاصد میں رختہ اندازی کی ۔ خدا پرستی کو نفس پرستی سے آلودہ کیا ۔ اچھی زندگی کے اصولوں کو تاویلوں ، تعبیروں ، حیلوں ، بہانوں کے ذریعے بگاڑنے کی کوشش کی کہ حرام کے ارتکاب کے لیے حلال کے احکام کو مسخ کر کے حیلے ، بہانے کے ذریعے مطلب برآری کرے حرام کا کھلا ارتکاب نہ کر سکے تو اس کے چہرے پر حلال کی دلکش نقاب ڈال دے تاکہ ” رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی ”  کا معاملہ ہو۔

قرآن نے احکام دین کو مال تجارت بنانے کی گمراہی کے ساتھ حیلوں ، بہانوں کے ذریعے حرام کو حلال قرار دینے کے  معاملات کابھی ذکر کیا ۔ یہ بھی فرمایا :

یخدعون اللہ والذین اٰمنوا و ما یخدعون الا انفسھم وما یشعرون ( البقرہ : 9 )

” اللہ کو اور ایمان والوں کو دھوکہ دیتے ہیں حالانکہ وہ خود دھوکہ میں پڑے ہوئے ہیں اگرچہ ( جہل و سرکشی سے ) اس کا شعور نہیں رکھتے۔ "

قرآن نے یہودی اصحاب سبت کے مکر و خدیعت کا ذکر کیا ۔ وہ ہفتہ کے دن شکار کی ممانعت کی اس طرح تعمیل کرتے تھے کہ ہفتہ کی خلاف ورزی سے اتوار کو استفادہ کرتے ۔ رسول کریم ﷺ نے یہودیوں کی اس روش کی اس طرح مذمت کی :

” لعن اللہ الیھود حرمت علیھم الشحوم فجملوھا و اکلوا ثمنھا ”

” اللہ کی پھٹکار ہو یہود پر ، چربی ان پر حرام کر دی گئی تو حیلے بہانے نکال کر اس کو حلال بنا لیا ۔”

اور اپنی امت کو حکم دیا :

” و لا تزتکبوا مالا ارتبکت الیھود فتستلوا محارم اللہ بادنی الحیل ”

” وہ کام نہ کرنا جو یہودیوں نے کیا کہ اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو ادنیٰ حیلوں بہانوں سے حلال کر لیا ۔”

مسلمانوں نے اس حکم کی غالباً جو پہلی خلاف ورزی کی اس کا نام ” حلالہ ” ہے ۔ صحابہ کرام کے زمانے میں نکاح تحلیل ( یعنی فرضی طور پر بہ نیت استحلال حلالہ کرنے کا خیال بعض لوگوں کو پیدا ہوا تاکہ طلاق ثلاثہ کے بعد بھی مطلقہ کو رجوع کرنے کا ” شرعی طریقہ” اختیار کیا جائے۔ اللہ کے رسول نے فرمایا :

” لعن اللہ المحلل و المحلل لہ ” ( ابو داود ، ترمذی ، ابن ماجہ ، الدارمی ، مسند احمد )

حضرت عمر کو بھی ایسے خطبوں میں اعلان کرنا پڑا : ” لا اوتی بمحلل و لا محلل لہ الا رجمتھا ” یعنی جس شخص نے بطور حیلہ کے مطلقہ سے رجعت کی میں اس کو زنائے محصن کی حد جاری کیے بغیر نہ چھوڑونگا ۔

پھر بھی دوسری صدی ہجری کے اوائل میں بعض فقہائے دنیا دارنے حیلہ تراشیاں شروع کر دی تھیں اور تیسری صدی میں کتاب الحیل مرتب ہوئی ۔ بعض علماء  حق نے ان حیلوں پر فتویٰ دینے والوں کو کافر ٹھہرایا ۔ زکوةٰ سے بچنے کے لیے  سال پورا ہونے سے پہلے مال بیوی یا کسی اور کے نام منتقل کر کے زکوٰة سے بچنے کے حیلے کا ذکر سب نے سنا ۔ ازمئہ گزشتہ کے علماء حق کی جانفروشیوں اور حق گوئیوں اور علماء سود کی دین فروشوں اور کذب بیانیوں کے احوال تو کتابوں میں درج ہیں ۔ یہ علم الیقین کے زمرہ میں ہیں ۔ عین الیقین کے لیے خود  اپنے معاشرہ کے احوال دیکھیں اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی خلاف ورزیوں سے جو صورت حال پیش آنی تھی اور جواب ہمارے پیش نظر ہے ۔ حضرت رسالت مآب ﷺ نے اس کی پیشین گوئی فرمائی تھی ۔ یہ پیشین گوئیاں ہمارے معاشرے کے احوال اور واقعی صورتحال کی تصویر کشی ہیں ۔ صرف چار احادیث کے ترجمے درج ذیل ہیں ۔ سید المرسلین صادق الوعد و  الامین نے فرمایا :

1- "تم سے پہلے جو قومیں گذر چکی ہیں ضرور ہے کہ تم ان کے سارے طریقوں اور چالوں کی ہو بہو پیروی کرو ۔ صحابہ نے کہا : کیا یہود و نصاریٰ کی ۔ فرمایا : ہاں اور کون ۔” ذہنی غلامی سے آج ہمارا مذہب سارے نظام ہاے معیشت ، سیاست ، معاشرت ، نظام تعلیم ، کون سا نظام ہے جو یہود و نصاریٰ کی نقل اور اثر سے بری ہو۔”

2- "یہود و نصاریٰ ٹوٹ پھوٹ کر بہتر فرقے ہو گئے تھے ۔ ضرور یہ امت بھی اسی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہو کر تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی ۔” حدیث میں افترقوا کا لفظ  ہے یعنی فرقوں میں بٹ جانا ۔ ہم نے فرقہ بندی کو مسلک کا نام دے رکھا ہے ۔ مسلک کی ذیلی تقسیم کا بھی ہو سکے تو حساب کر لیں ۔ کسی شخص کی مذہبی وابستگی کا سارا دار و مدار کسی نہ کسی مسلک سے وابستگی پر ہے۔”

3- "جب ایسا ہو کہ تمہارے امیر بد ترین لوگ ہوں ۔ تمہارے مالدار بخیل ہو جائیں اور تمہاری حکومت عورتوں کے اختیار میں چلی جائے تو پھر زمین کا اندر تمہارے لیے اچھا ہوگا بمقابلہ اس کی سطح کے ۔” اہل اقتدار و تمول کی کون سی کج ادائی عوام کے علم میں نہیں ؟ بخالت کے  بیشمار مظاہر ہیں کیا ٹیکس چوری اور اثاثوں کا غلط اعلان بخالت کی نشانی نہیں ؟ کیا آج سیاست میں عوام ان با اثر عورتوں کے نام سے واقف نہیں جن کے اشارہ چشم و ابرو پر وزیر اعلیٰ اور دیگر عوامی نمائندے اور عہدیدار ناچتے ہیں اور پس پردہ خلوت کدوں میں جو کچھ ہوتا ہے وہ بھی راز نہیں ۔ عورتوں کی راست حکومت ضروری نہیں با لواسطہ حکومت بھی ہوتی ہے ، ہو رہی ہے اور تاریخ بھی اس کی گواہ ہے ۔ غربت و بے کسی سے خود کشی کرنے والے ہی نہیں کروڑوں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر زندگی گزارنے والوں اور کوفت و کلفت کے مارے لوگوں  کے لیے سوائے گوشئہ قبر کے کہاں چین ہے اور قبر میں بھی مردوں کو امان نہیں ان کی لاشیں اور اس کے اجزاء مال تجارت ہیں۔”

4- ( اخرجہ الشیخان و النسائی ) ” حضرت علی نے قسم کھا کر روایت کی کہ آں حضرت ﷺ نے فرمایا :آخری زمانے میں ایک قوم ظاہر ہوگی نو خیز اور ناقص العقل لوگوں کی بظاہر ان کی باتیں بڑے ہی اچھے لوگوں کی سی ہو گی ، قرآن پڑھیں گے ، مگر ایمان ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا ۔ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار پر سے نکل جاتا ہے ۔” حدیث شریف میں ” سفہاء الاحلام ” کے الفاظ استعمال ہوئے یعنی پراگندہ خیال بے وقوف ۔ علماء سلف نے آخر زمانے کی تشریح کی ۔ مسلم کی حدیث زید بن وہب اور صحیحین و ابو داود کی روایت ابو سعید و انس میں آخر الزماں کے لفظ نہیں مگر یہ بھی صراحت کی کہ ہر استقبال قرب و بعد دونوں پر محیط ہے۔”

ہمارے ملک میں اس وقت علماء کی بہتات اور کئی قسمیں رائج ہیں ۔ مولانا ، علامہ ، مفتی ، عالم دین ، عالم آن لائن ، مذہبی اسکالر ، پروفیسر ، ڈاکٹر ، دانشور وغیرہ ۔ اس کے علاوہ ٹی وی نے ہر جاہل ان پڑھ ناظر کو بزعم خود عالم بنا دیا ہے ۔ یہاں عمومی طور پر عالم کے لیے ضروری ہے کہ علم و شرم سے بالکل عاری ہو اس پر  ان الذی جمع مالاً و عددا ( جو مال جمع کرتا اور گنتا جائے ) کا عالم طاری ہو ۔ ہر سیاست داں ، معاشی مذہبی جماعت کا سربراہ اور کارکن ، صاحب اقتدار و مال ، اینکر ، بینکر فتویٰ دیتا ہے ۔ ٹی وی پر ایک سنیٹر مفتی اعظم نے فتویٰ دیا کہ اس کی جماعت کے قائد کو برا کہنا کفر ہے اور وہ قائد ما شاء اللہ کئی مقدمات میں ملزم ہے اور یہ رویہ ہر سیاسی مذہبی جماعت کے ہر کارکن کا ہے جو اپنے قائد کا معتقد نہیں پجاری یا کم از کم امتی ہے اور قائد کا مقام وہ ہے جس کے خلاف زیر لب کچھ کہنا موت کا حقدار ہونا یا اور طریقے سے برباد ہونا ہے ۔ ہر ایک شریعت کا ترجمان ہے ۔ ایک سیاسی جماعت کا نو خیز قائد جسے شائد قرآن صحیح مخارج کے ساتھ پڑھنا بھی نہ آتا ہو کہتا ہے ہمیں شریعت نہ سکھاؤ ہم جانتے ہیں شریعت کیا ہے ۔ بے چارے کو معلوم ہی نہیں ہوگا کہ دین اور شرع و منہاج میں کیا رشتہ ہے شائد کسی انکل نے کچھ لکھ کر دیا وہی پڑھ دیا ۔ یہی حال ایک بہت بڑے بکل شیئٍ علیم قائد کا ہے جو فتنہ انگیز مفتی بھی ہے اور باوجود کمال سفاہت فلسفی اور دانشور بھی ۔ وہ  کلاشنکوفی شریعت کا راگ الاپتا ہے ایک جہاں دیدہ حق آگاہ ، عمر رسیدہ عالم دین نے فتویٰ دیا کہ پاکستان میں شریعت نافذ ہے اس پاکستان میں جہاں معیشت کا دار و مدار بالکلیہ سود ، رشوت ، غبن ، تاوان ، بھتہ اور ہر قسم کی حرام خوری پر ہے ۔ جہاں قبائلی سردار حلالہ سے بدتر رسم ونی کے علی الاعلان فیصلے دیتے ہیں ۔ ایام جاہلیت میں لڑکیوں کو زندہ دفن کیا جاتا تھا ۔ اسلامی شریعت والے پاکستان میں تین ، پانچ ، سات سال کی معصوم بچیوں کو اغواء کے بعد زنا بالجبر کر کے لاش ویرانوں میں پھینک دی جاتی ہے ۔ انفرادی یا اجتماعی زنا بالجبر جیسے بھیانک جرم کی سنگینی کو کم کرنے کے لیے اسے زیادتی کا نام دیا گیا ہے یہ جرائم روز وقوع پذیر ہوتے ہیں ۔ کتنوں پر شرعی حد جاری ہوئی ؟ ہمارے معاشرے کے علماء کو معلوم ہی نہیں شریعت کیا چیز ہے کس طرح نافذ کی جاتی ہے؟ حضرت شارع ﷺ  کا اسوہ کیا تھا احکام کیا ہیں ؟  یہاں حرام و حلال گڈ مڈ ہیں ۔ ہر حرام ، ہر گناہ اہل اقتدار ، سرکاری ملازمین کی جانب سے یا ان کی ایماء پر یا ان کی سرپرستی میں یا فرائض منصبی سے چشم پوشی سے ہوتا ہے خواہ وہ مرے ہوئے حلال مویشی کے حرام گوشت کی فروخت ہو یا بابائے قوم کی قبر کے پہلو میں زنا کاری ۔ کارو کاری  کے نام پر قتل باعث فخر ہے غیرت کا کام ہے قتل عمد پر  عدالتوں سے موت کی سزا دی جاتی ہے لیکن قاتلوں پر سزا کی تعمیل نہیں ہوتی کیوں کہ ہماری حکومت کو معلوم ہے کہ امریکہ اور یورپ کو سزائے موت پسند نہیں پھر بھی کہا جا رہا ہے کہ یہاں شریعت نافذ ہے۔

اب تک کے وفاقی وزرائے مذہبی امور کی دین داری اور علمیت کا جائزہ لیں ۔ اسلامی نظریاتی کونسل تو مختلف مسالک کے علماء کا کلب ہے انہیں قرآن و حدیث کا علم ہوتا تو فقہی تقسیم اور مسالک کی نمائندگی کا نام نہ لیتے اور پھر بھی عوام تو عوام ۔ علماء کہتے ہیں کہ پاکستان اسلامی ملک ہے یہاں شریعت نافذ ہے یہ اسلام کا قلع ہے ۔ کیا کافرانہ نظام کو اللہ کی شریعت کا نظام قرار دینا  افترا علی اللہ نہیں ؟

ملک میں جاری معاشی دہشت گردی


الواقعۃ شمارہ 48 – 49 جمادی الاول و جمادی الثانی 1437ھ

از قلم : ابو محمد معتصم باللہ

 پاکستان حالت جنگ میں ہے، دہشت گردی کے خلاف آپریشن ضرب عضب اپنے عروج پر ہے ، جس کے الحمد للہ مثبت نتائج بر آمد ہوئے ہیں۔ کراچی جہاں ٹارگٹ کلنگ اپنے عروج پر تھی اب انتہائی پُر امن حالات سے گزر رہا ہے۔ لوگ خوف و دہشت کی فضا سے باہر آ رہے ہیں۔ اس آپریشن کے نتیجے میں ایک غیر معمولی کامیابی بھارتی را ایجنٹ کی گرفتاری ہے ، اللہ کرے اس گرفتاری کے مملکت پاک پر مثبت دور رَس اثرات پڑیں۔ ہمیں اپنے دوستوں اور دشمنوں کو پہچاننے کی توفیق ملے اور بیرونی کے ساتھ ساتھ اندرونی دشمنوں کا بھی سختی سے مؤاخذہ و محاسبہ کیا جا سکے۔ پڑھنا جاری رکھیں

تاریخ پاکستان کا خلاء — ایک با کردار قیادت


الواقعۃ شمارہ 48 – 49 جمادی الاول و جمادی الثانی 1437ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

پاکستان کی نظریاتی سرحدیں عرصہ ہوا پامال ہو چکی ہیں ، اب تو اس نظریے کی لاش کے چیتھڑے اڑائے جا رہے ہیں۔ پاکستان اسلام کےنام پر وجود میں آیا، کم سے کم برصغیر کے مسلمانوں کو یہی جذباتی نعرہ دیا گیا۔ لیکن روزِ اوّل ہی سے یہاں اسلام کا دیس نکالا رہا۔ آقاؤں کے چہرے بدلے، غلامی کے انداز بدلے۔ باقی سب کچھ وہی رہا۔ مرعوب زدہ ذہنیت نے مسند اقتدار سنبھال لی۔ اسلام کا مذاق اڑانے کی رسم چل پڑی ، کھل کر کہنے کی جرات نہ ہوئی تو "مولوی” پر غصہ نکالا گیا۔ لیکن تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ غلامی سے بغاوت ، اور بغاوت سے انقلاب کا عمل جاری رہے گا۔ پڑھنا جاری رکھیں