ایک علمی اور یادگار سفر


الواقعۃ شمارہ 51 – 52 ، شعبان المعظم و رمضان المبارک 1437ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

ایک طویل عرصے سے خواہش تھی کہ شمالی پنجاب کے مختلف شہروں کا علمی سفر کیا جائے، وہاں کے کتب خانوں کی زیارت کرکے آنکھوں کو ٹھنڈک پہچائی جائے اور پھر اسی بہانے اپنے پرانے دوستوں سے ملاقات کی جائے اور ان دوستوں سے بھی جن دوستی تو مضبوط بنیادوں پر قائم ہوگئی تھی مگر کبھی صورت آشنائی کی نوبت نہ آ سکی تھی۔ ”ادارہ احیاء التراث الاسلامی ” کویت سے انسلاک کے بعد میں نے فی الفور فیصلہ کیا کہ دس برس سے بھی زائد عرصہ پر محیط اس جمود کو توڑا جائے اور اپنی خلوت سے باہر نکل کر جلوت میں قدم رکھا جائے۔ پڑھنا جاری رکھیں

ماہِ رمضان المبارک کا تقدس اور ہم


الواقعۃ شمارہ 51 – 52 ، شعبان المعظم و رمضان المبارک 1437ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

ہمارا معاشرہ اخلاقی انحطاط و زوال کی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ ہمارے لیے دین رسم سے نکل کر مالِ تجارت بن چکا ہے۔ ہم اللہ کے ساتھ تعلق کی بھی قیمت لگانے لگے ہیں۔ اپنی عبادتیں بھی بیچنا چاہتے ہیں۔ اپنے شوقِ زر پرستی کے اظہار کے لیے ہم نے دین کو بھی مشقِ ستم بنا ڈالا ہے۔ انحطاط اور زوال ایک دم سے پیدا نہیں ہوتے۔  پڑھنا جاری رکھیں

ہمارے بے اثر رمضان


الواقعۃ شمارہ 51 – 52 ، شعبان المعظم و رمضان المبارک 1437ھ

از قلم : ابو عمار سلیم

ہمارے دین اسلام کی تمام عبادتوں کا مقصد انسان کو اللہ کے قریب کرنا اور خشیت الٰہی میں اضافہ کرنا ہے۔ نماز، روزہ، حج اور زکوٰة سب کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے اندر ایسی پاکیزگی پیدا ہو جائے جہاں اللہ کی عظمت اور اس کے مالک کل ہونے کا احساس اس طرح جاں گزیں ہو جائے کہ اللہ کی رضا سے الگ نہ کوئی زندگی کا مصرف رہے اور نہ ہی زندگی گزارنے میں اس کے احکامات کی پامالی کا ذرہ برابر اندیشہ ہو۔ نماز ہمارے اند ر نہ صرف خشوع و خضوع پیدا کرتی ہے اور اللہ کے حضور حاضری کا احساس اجاگر کرتی ہے بلکہ یہ ہماری اس طرح تربیت کرتی ہے کہ ہم ہر لمحہ اپنے اللہ کے حضور جھکے رہیں اس کے آگے سجدہ ریز رہیں، اپنے گناہوں کی معافی مانگتے رہیں اور اس کے احکامات پر عمل پیرا رہنے کا عزم کرتے رہیں۔ یوں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اللہ رب العزت کے خالق و مالک ہونے کا احساس ہمارے دلوں میں راسخ پڑھنا جاری رکھیں

مجلہ الواقعۃ کی اشاعت خصوصی برائے القرآن الکریم


مجلہ الواقعۃ کی اشاعت خصوصی برائے القرآن الکریم

شمارہ 20 – 21 ، محرم و صفر 1435ھ / نومبر و دسمبر 2013ءMajalla Al Waqia Quran Number

مدیر : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

مضامین نگار : علامہ سید رشید رضا مصری، مولانا ابو الکلام آزاد، علامہ سید سلیمان ندوی، حسن البنا شہید، مولانا محمد حنیف ندوی، مولانا سید زوار حسین شاہ، مولانا حسن مثنیٰ ندوی، ڈاکٹر محمود احمد غازی، الاستاذ محمد جمال، مولانا برہان الدین سنبھلی، ڈاکٹر فضل الرحمٰن، پروفیسر سعود عالم قاسمی، پروفیسر طیب شاہین لودھی، پروفیسر عبد المغنی، محمد رضی الاسلام ندوی، ابو الحسن، بابائے اردو مولوی عبد الحق، محمد عارف اعظمی عمری، مولانا محمد زکریا خاور، مولانا محمد اقبال کیلانی، مولانا اشہد رفیق ندوی، ڈاکٹر سہیل حسن، ڈاکٹر محمد سلیم، مولانا ضیاء الدین اصلاحی، ڈاکٹر نثار احمد، پروفیسر ریاض الرحمٰن شروانی، حماد ظفر سلفی، ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر،  حافظ عمیر الصدیق دریا بادی ندوی، مولانا محمد یٰسین شاد، ڈاکٹر عبد الرزاق گوندل، ابو عمار سلیم، داکٹر ساجد اسد اللہ، ڈاکٹر محمد سلیم خالد، مولانا حمید اللہ خاں عزیز، خرم سلیم، مولانا ابو موحد عبید الرحمٰن، محمد عمر اسلم اصلاحی، منشی عبد الرحمٰن خان، محمد ثاقب صدیقی ، راحیل گوہر، محمد خاں محمدی السندی، محمد سلیم اسماعیل، جاوید احمد غامدی، شکیل عثمانی، عنبرین صدیقی، محمد اسماعیل شیرازی۔

ڈاؤن لوڈ لنک

https://ia800400.us.archive.org/8/items/MajallaAlWaqiaQuranNoDec2013/Majalla-Al-Waqia(Quran%20No)%20Dec%202013.PDF

ایمان اور اطاعت


الواقعۃ شمارہ 50 ، رجب المرجب 1437ھ

از قلم : مولانا ابو الاعلیٰ مودودی

مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کی یہ نادر تحریر مولانا محمد جوناگڑھی کے "اخبارِ محمدی” دہلی کی 15 دسمبر 1942ء کی اشاعت میں طباعت پذیر ہوئی تھی۔ اس قیمتی مضمون میں مسلمانوں کو جس بھولے ہوئے سبق کی یاد دہانی کرائی گئی تھی اس کی ضرورت اِس دور میں اُس دور کی بہ نسبت کہیں شدید ہے، افادہ عام کی غرض سے اس کی طباعت نو کی جا رہی ہے۔ ( ادارہ )

*-*-*-*-*

اجتماع خواہ وہ کسی نوعیت کا ہو اور کسی غرض و غایت کے لیے ہو اپنے قیام و استحکام اور اپنی کامیابی کے لیے دو چیزوں کا ہمیشہ محتاج ہوتا ہے ۔ ایک یہ کہ جن اصولوں پر کسی جماعت کی تنظیم کی گئی ہو وہ اس پوری جماعت اور اس کے ہر ہر فرد کے دل و دماغ میں خوب بیٹھے ہوئے ہوں اور جماعت کا ہر فرد ان کو ہر چیز سے زیادہ عزیز رکھتا ہو ۔ دوسرے یہ کہ جماعت میں سمع و طاعت کا مادہ موجود ہو ۔ یعنی اس نے جس کسی کو اپنا صاحب امر تسلیم کیا ہو اس کے احکام کی پوری طرح اطاعت کرے۔ اس کے مقرر کیے ہوئے ضوابط کی سختی کے ساتھ پابندی کرے اور اس کی حدود سے تجاوز نہ کرے۔ یہ ہر نظام کی کامیابی کے لیے نا گزیر شرطیں ہیں ۔ کوئی نظام خواہ وہ نظام عسکری ہو یا نظام سیاسی یا نظام عمرانی یا نطام دینی، ان دونوں شرطوں کے بغیر نہ قائم ہو سکتا ہے نہ باقی رہ سکتا ہے اور نہ اپنے مقصد کو پہنچ سکتا ہے۔

دنیا کی پوری تاریخ اٹھا کر دیکھ جائیے آپ کو ایک مثال بھی ایسی نہیں ملے گی کہ کوئی تحریک منافق، نا فرمان اور غیر مطیع پیرووں کے ساتھ کامیاب ہوئی ہو یا بدرجہ اخر چل سکی ہو ۔ تاریخ کے صفحات میں بھی جانے کی ضرورت نہیں خود اپنے گرد و پیش کی دنیا ہی پر ایک نظر ڈال لیجیے آپ اس فوج کے متعلق کیا رائے قائم کریں گے جو اپنی سلطنت کی وفادار اور اپنے سالارِ لشکر کی مطیعِ فرمان نہ رہے۔ جس کے سپاہی فوجی ضوابط کی پابندی سے انکار کریں۔ پریڈ کا بگل بجے تو کوئی سپاہی اپنی جگہ سے نہ ہلے۔ کمانڈر کوئی حکم دے تو فوجی سُنی ان سُنی کر جائیں ؟ کیا آپ آپ سپاہیوں کے ایسے انبوہ کو "فوج” کہہ سکتے ہیں ؟ کیا آپ امید کر سکتے ہیں کہ ایسی بن سری فوج کسی جنگ میں کامیاب ہوگی ؟ آپ اس سلطنت کے متعلق کیا کہتے ہیں جس کی رعایا میں قانون کا احترام باقی نہ رہے۔ جس کے قوانین علی الاطلاق توڑے جائیں۔ جس کے محکموں میں کسی قسم کا ضبط و نظم باقی نہ رہے جس کے کارکن اپنے مقتدر اعلیٰ کے احکام بجا لانا چھوڑ دیں ؟ کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ ایسی رعایا اور ایسے عمّال کے ساتھ کوئی سلطنت دنیا میں قائم رہ سکتی ہے ؟ آج آپ کی آنکھوں کے سامنے جرمنی اور اٹلی کی مثالیں موجود ہیں۔ ہٹلر اور مسولینی نے جو عظیم الشان طاقت حاصل کی ہے تمام دنیا اس کی معترف ہے مگر کچھ معلوم بھی ہے کہ اس کامیابی کے اسباب کیا ہیں ؟ وہی دو یعنی ایمان اور اطاعت امر ، نازی اور فاشسٹ جماعتیں ہرگز اتنی طاقت ور اور اتنی کامیاب نہ ہو سکتی تھیں اگر وہ اپنے اصولوں پر اتنا پختہ اعتقاد نہ رکھتیں اگر وہ اپنے لیڈروں کی اس قدر سختی کے ساتھ مطیع نہ ہوتیں۔

یہ قاعدہ کلیہ ایسا ہے جس میں کوئی استثنا نہیں۔ ایمان اور اطاعت دراصل نظم کی جان ہیں۔ ایمان جتنا راسخ ہوگا اور اطاعت جتنی کامل ہوگی نظم اتنا ہی مضبوط اور طاقت ور ہوگا۔ اور اپنے مقاصد تک پہنچنے میں اتنا ہی زیادہ کامیاب ہوگا۔ بخلاف اس کے ایمان میں جتنا ضعف اور اطاعت سے جتنا انحراف ہوگا اسی قدر نظم کمزور ہوگا اور اسی نسبت سے وہ اپنے مقاصد تک پہنچنے میں ناکام رہے گا۔ یہ قطعاً نا ممکن ہے کہ کسی جماعت میں نفاق، بد عقیدگی ، انتشارِ خیال ، کود سری ، نا فرمانی اور بے ضابطگی کے امراض پھیل جائیں اور پھر بھی اس میں نظم باقی رہے۔ اور وہ کسی شعبہ حیات میں ترقی کی طرف روان نظر آئے۔ یہ دونوں حالتیں ایک دوسرے کی نقیض ہیں۔ دنیا جب سے آباد ہوئی ہے اس وقت سے آج تک ان دونوں کا کبھی اجتماع نہیں ہوا۔ اور اگر قانونِ فطرت اٹل ہے تو اس قانون کی یہ دفعہ بھی اٹل ہے کہ یہ دونوں حالتیں کبھی یکجا نہیں ہو سکتیں۔

اب ذرا اس قوم کی حالت پر نظر ڈالیے جو اپنے آپ کو مسلمان کہتی ہے ۔ نفاق اور بد عقیدگی کی کونسی قسم ایسی ہے جس کا انسان تصور کر سکتا ہو اور وہ مسلمانوں میں موجود نہ ہو۔ اسلامی جماعت کے نطام میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اسلام کی بنیادی تعلیمات تک سے نا واقف ہیں اور اب تک جاہلیت کے عقائد پر جمے ہوئے ہیں، وہ بھی ہیں جو اسلام کے اساسی اصولوں میں شک رکھتے ہیں اور شک کی علانیہ تبلیغ کرتے ہیں ، وہ بھی ہیں جو علی الاعلان انکار کرتے ہیں۔ وہ بھی ہیں جو اسلامی عقائد اور شعائر کا  کھلم کھلا مذاق اراتے ہیں۔ وہ بھی ہیں جو علانیہ مذہب اور مزہبیت سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ بھی ہیں جو خدا اور رسول کے قانون پر جاہلیت کی رسوم ، کفار کے قوانین کو مقدم رکھتے ہیں ۔ وہ بھی ہیں جو خدا اور رسول کے دشمنوں کو خوش کرنے کے لیے شعائرِ اسلامی کی توہین کرتے ہیں ، وہ بھی ہیں جو اپنے چھوٹے سے چھوٹے فائدہ کی خاطر اسلام کے مصالح کو بڑے سے بڑا نقصان پہنچانے کے لیے آمادہ ہوجاتے ہیں۔ جو اسلام کے مقابلہ میں کفر کا ساتھ دیتے ہیں۔ اور اپنے عمل سے ثابت کرتے ہیں کہ اسلام ان کو اتنا بھی عزیز نہیں کہ اس کی خاطر وہ ایک بال برابر بھی نقصان گوارا کر سکیں۔ راسخ الایمان اور صحیح العقیدہ مسلمانوں کی ایک نہایت ہی قلیل جماعت کو چھوڑ کر اس قوم کی بہت بڑی اکثریت اسی قسم کے منافق اور فاسد العقیدہ لوگوں پر مشتمل ہے۔

یہ تو تھا ایمان کا حال۔ اب سمع و طاعت کا حال دیکھیے۔ آپ مسلمانوں کی کسی بستی میں چلے جائیے آپ کو عجب نقشہ نظر آئے گا۔ اذان ہوتی ہے مگر بہت سے مسلمان یہ بھی محسوس نہیں کرتے کہ مؤذن کس کو بلا رہا ہے۔ اور کس چیز کے لیے بلا رہا ہے۔ نماز کا وقت آتا ہے اور گذر جاتا ہے مگر ایک قلیل جماعت کے سوا کوئی مسلمان اپنے کاروبار لہو و لعب کو یادِ خدا کے لیے نہیں چھوڑتا ۔ رمضان کا زمانہ آتا ہے تو بعض مسلمانوں کے گھروں میں یہ محسوس تک نہیں ہوتا کہ یہ رمضان کا مہینہ ہے۔ بہت سے مسلمان علانیہ کھاتے پیتے ہیں اور اپنے روزہ نہ رکھنے پر ذرہ برابر نہیں شرماتے بلکہ بس چلتا ہے تو روزہ رکھنے والوں کو شرم دلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھر جو لوگ روزہ رکھتے بھی ہیں ان میں بھی بہت کم ہیں جو احساس فرض کے ساتھ ایسا کرتے ہیں ورنہ کوئی شخص رسم ادا کرتا ہے۔ کوئی صحت کے لیے مفید سمجھ کر رکھ لیتا ہے اور کوئی روزہ رکھ کر وہ سب کچھ کرتا ہے جس سے خدا اور رسول ﷺ نے منع کیا ہے۔ زکوٰۃ اور حج کی پابندی اس سے بھی کم تر ہے۔ حلال اور حرام ، پاک اور ناپاک کا امتیاز تو مسلمانوں میں سے اٹھتا ہی چلا جاتا ہے وہ کونسی چیز ہے جس کو خدا اور رسول نے منع کیا ہو اور مسلمان اس کو اپنے لیے مباح نہ کر لیتے ہوں ۔ وہ کونسی حد ہے جو خدا اور رسول نے مقرر کی ہو اور مسلمان اس سے تجاوز نہ کرتے ہوں۔ وہ کونسا ضابطہ ہے جو خدا اور رسول نے قائم کیا ہو اور مسلمان اس کو نہ توڑتے ہوں ۔ اگر مردم شماری کے لحاظ سے دیکھا جائے تو مسلمان کروڑوں ہیں مگر ان کروڑوں میں دیکھیے کہ کتنے فیصدی نہیں ، کتنے فی ہزار بلکہ کتنے فی لاکھ ہیں جو خدا اور رسول کے احکام کو ماننے والے اور اسلامی ضوابط کی پابندی کرنے والے ہیں۔

جس قوم میں منافقت اور ضعف اعتقاد کا مرض عام ہو جائے ۔ جس قوم میں فرض کا احساس باقی نہ رہے۔ جس قوم سے سمع و طاعت اور ضابطہ کی پابندی اٹھ جائے اس کا جو کچھ انجام ہونا چاہیے ٹھیک وہی انجام مسلمانوں کا ہوا ہے اور ہو رہا ہے ۔ آج مسلمان تمام دنیا میں محکوم و مغلوب ہیں ۔ جہاں ان کی اپنی حکومت موجود ہے وہاں بھی وہ غیروں کے اخلاقی، ذہنی اور مادی تسلط سے آزاد نہیں ہیں۔ جہالت مفلسی اور خستہ حالی میں وہ ضرب المثل ہیں۔ اخلاقی پستی نے ان کو حد درجہ ذلیل کر دیا ہے۔ امانت، صداقت اور وفائے عہد کی حفاظت جن کے لیے وہ کبھی دنیا میں ممتاز تھے اب ان سے دوسروں کی طرف منتقل ہو چکی ہیں اور ان کی جگہ خیانت ، جھوٹ، دغا اور بد معاملگی نے لے لی ہے۔ تقویٰ ، پرہیز گاری اور پاکیزگی اخلاق سے وہ عاری ہوتے جاتے ہیں ۔ جماعتی غیرت و حمیت روز بروز ان سے مفقود ہوتی جاتی ہے۔ کسی قسم کا نظم ان میں باقی نہیں رہا ہے۔ آپس میں ان کے دل پھٹے چلے جاتے ہیں اور کسی مشترک غرض کے لیے مل کر کام کرنے کی صلاحیت ان میں باقی نہیں رہی ہے۔ وہ غیروں کی نگاہوں میں ذلیل ہو گئے ہیں۔ قوموں پر سے ان کا اعتماد اٹھ گیا ہے اور اٹھتا جا رہا ہے ان کی قومی تہذیب و شائستگی فنا ہوتی چلی جا رہی ہے۔ اپنے حقوق کی مدافعت اور اپنے شرف قومی کی حفاظت سے وہ عاجز ہوتے جا رہے ہیں ۔ باوجودیکہ تعلیم ان میں بڑھ رہی ہے گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ اور یورپ کے تعلیم یافتہ حضرات کا اضافہ ہو رہا ہے۔ بنگلوں میں رہنے والے موٹروں پر چڑھنے والے، سوٹ پہننے والے بڑے بڑے ناموں سے یاد کیے جانے والے ، بڑی سرکاروں میں سرفرازیاں پانے والے ان میں روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں ۔ لیکن جن اعلیٰ اخلاقی اوصاف سے وہ پہلے متصف تھے اب ان سے عاری ہیں۔ اپنی ہمسایہ قوموں پر ان کی جو ساکھ دھاکھ پہلے تھی وہ اب نہیں ہے۔ جو عزت وہ پہلے رکھتے تھے وہ اب نہیں ہے اور آئندہ اس سے بھی زیادہ خراب آثار نظر آ رہے ہیں۔

کوئی مذہب یا تہذیب ہو یا کسی قسم کا نظام جماعت ہو۔ اس کے لیے دو ہی طرزِ عمل انسان کے لیے معقول ہو سکتے ہیں اگر وہ اس میں داخل ہو تو اس کے اساسی اصول پر پورا پورا اعتقاد رکھے اور اس کے قانون و ضوابط کی پوری پوری پابندی کرے اور اگر وہ ایسا نہیں کر سکتا تو اس میں داخل نہ ہو یا ہو چکا ہے تو بالاعلان اس میں سے نکل جائے ان دونوں کے درمیان کوئی تیسری صورت معقول نہیں ہے۔ اس سے زیادہ نا معقول کوئی طرزِ عمل نہیں ہو سکتا کہ تم ایک نظام میں شریک بھی ہو ، اس کے ایک جز بھی بن کر رہو، اس نظام کے تابع ہونے کا دعویٰ بھی کرو اور پھر اس کے اساسی اصولوں سے کلاً یا جزءاً انحراف بھی کرو، اس کے قوانین کی خلاف ورزی بھی کرو، اپنے آپ کو اس کے آداب اس کے ضوابط کی پابندی سے مستثنیٰ بھی کرلو۔ اس طرزِ عمل کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ تم میں منافقانہ خصائل پیدا ہوں۔ خلوص نیت سے تمہارے دل خالی ہو جائیں ، تمہارے قلوب میں کسی مقصد کے لیے گرم جوشی عزم راسخ باقی نہ رہے کہ کسی نظام جماعت کے کار آمد رکن بن سکو۔ ان کمزوریوں اور بد ترین عیوب کے ساتھ تم جس جماعت میں بھی شریک ہو گے اس کے لیے لعنت بن جاؤ گے۔ جس نظام میں بھی داخل ہو گے اسے درہم برہم کر دو گے۔ جس تہذیب کے جسم میں داخل ہو گے اس کے لیے جذام کے جراثیم ثابت ہو گے۔ جس مذہب کے پیرو بنو گے اس کو مسخ کر کے چھوڑو گے۔ ان اوصاف کے ساتھ تمہارے مسلمان ہونے سے بدرجہا بہتر یہ ہے کہ جس گروہ کے اصولوں پر تمہارا دل کھٹکے اور جس گروہ کے طریقوں کی تم پیروی کر سکو اس میں جا شامل ہو۔ منافق مسلمان سے وہ کافر بہتر ہیں جو اپنے مذہب اور اپنی تہذیب کے دل سے معتقد ہوں۔ اور اس کے ضوابط کی پابندی کریں۔

جو لوگ مسلمانوں کے مرض کا علاج تعلیم مغربی اور تہذیب جدید اور اقتصادی حالات کی اصلاح اور سیاسی حقوق کے حصول کو سمجھتے تھے وہ غلطی پر تھے اور اب بھی جو ایسا سمجھ رہے ہیں وہ غلطی کر رہے ہیں۔ بخدا اگر مسلمانوں کو ہر فرد بی اے اور پی ایچ ڈی اور بیرسٹر ہو جائے ، دولت و ثروت سے مالا مال ہو۔ مغربی فیشن سے از سر تا بقدم آراستہ ہو اور حکومت کے تمام عہدے اور کونسلوں کی تمام نشستیں مسلمانوں ہی کو مل جائیں مگر ان کے دل میں نفاق کا مرض ہو۔ وہ فرض کو فرض نہ سمجھیں وہ نافرمانی ، سر کشی ، بے ضابطگی کے خوگر ہوں تو اسی پستی اور ذلت اور کمزوری میں وہ اُس وقت بھی مبتلا رہیں گے جس میں آج مبتلا ہیں ۔ تعلیم، فیشن، دولت اور حکومت کوئی چیز ان کو اس گڑھے سے نہیں نکال سکتی جس میں وہ اپنی سیرت اور اپنے اخلاق کی ان بنیادی کمزوریوں کی وجہ سے گر گئے ہیں اگر ترقی کرنی ہے اور ایک طاقت ور با عزت جماعت بننا ہے تو سب سے پہلے مسلمانوں میں ایمان اور اطاعت امر کے اوصاف پیدا کرو۔ اس کے بغیر نہ تمہارے افراد میں کس بل پیدا ہو سکتا ہے نہ تمہاری جماعت میں نظم پیدا ہو سکتا ہے اور نہ تمہاری اجتماعی قوت اتنی زبردست ہو سکتی ہے کہ تم دنیا میں سر بلند ہو سکو، ایک منتشر جماعت جس کے افراد کی اخلاقی اور معنوی حالت خراب ہو کبھی اس قابل نہیں ہو سکتی کہ دنیا کی منظم اور مضبوط قوموں کے مقابلہ میں سر اٹھا سکے۔ پھوس کے پولوں کا انبار خواہ کتنا ہی بڑا ہو کبھی قلعہ نہیں بن سکتا۔

اسلام اور مسلمانوں کے بد ترین دشمن وہ ہیں جو مسلمانوں میں بد عقیدگی اور نا فرمانی پھیلا رہے ہیں ۔ یہ منافقوں کی سب سے زیادہ بری قسم ہے جس کا وجود مسلمانوں کے لیے حربی کافروں سے بھی زیادہ خطرناک ہے کیونکہ یہ باہر سے حملہ نہیں کرتے بلکہ گھر میں بیٹھ کر اندر ہی اندر ڈائنا میٹ بچھاتے ہیں۔ یہ مسلمانوں کو دین اور دنیا دونوں میں رسوا کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کے متعلق قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے کہ "وہ تمہیں بھی اسی طرح کافر بنانا چاہتے ہیں جس طرح خود ہو گئے ہیں” ودوا لو تکفرون کما کفروا فتکونون سوآء۔ ان کے شر سے بچنے کی کم سے کم تدبیر یہ ہے کہ جو لوگ دل سے مسلمان ہیں اور مسلمان رہنا چاہتے ہیں وہ ان سے قطع تعلق کر لیں فلا تتخذوا منھم اولیآء ۔ ورنہ قرآن مجید نے تو ان کی آخری سزا یہ قرار دی ہے کہ ان سے جنگ کی جائے فان تولوا فخذوھم واقتلوھم حیث وجدتموھم۔