الاسماء الحسنیٰ اللہ کے صفاتی نام


جمادی الاول و جمادی الثانی 1435ھ / مارچ اور اپریل 2014، شمارہ 24 اور 25asma ul husna

https://drive.google.com/file/d/0Bz-vdYdUV4zmVEtNYVBnU05kOXM/view

الاسماء الحسنیٰاللہ کے صفاتی نام

ابو الحسن

1- اسم ذات ــــــــاللہ

صانع کائنات،
ایک بالاتر ہستی کا اعتقاد انسانی فطرت میں ودیعت کیا گیا ہے اور ابتدائے آفرینش
سے ایک نا معلوم ہستی کی انسان اپنے طور پر پرستش کرتا رہا ۔ لیکن اس نا دیدہ ،
نامعلوم ہستی کو کس نام سے پکاریں ؟ قدیم مصر کے آثار قدیمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ
ہیرو غلیفی
Hieroglyphic  تحریر میں ذات خداوندی کا اظہار ایک مرصع ڈنڈے پر ایک آنکھ کی شکل میں کیا
گیا یعنی ایسی ذات جس میں قوت ہے اور جو ہر چیز دیکھتی ہے ۔ اس بالاتر ہستی کی
اصلیت و حقیقت سمجھنے کی کوششیں شروع ہوئیں تو عقل انسانی کی نارسائی بھول بھلیوں
میں بھٹکنے لگی ۔ ایک فرانسیسی دانشور
(JOUBERT)  جوبرٹ اٹھارویں صدی میں یہ کہنے پر مجبور ہوا  ” ہم اللہ کی ذات کا تصور بآسانی کر سکتے ہیں
اگر اس کو سمجھنے کے لیے اپنی عقل پر جبر نہ کریں ۔” اللہ کے
تجسم و تنزیہہ کی بحث چھڑی
تو دیوتاؤں کی سر زمین  یونان میں پانچویں
صدی  قبل مسیح کے افلاطون
(Plato) نے یہ لطیف جملہ کہا ” صداقت اس کا جسم ہے ، نور اس کا
سایہ” انگریزی لفظ
(GOD) گاڈ کے تعلق سے کہا گیا کہ قدیم یورپ کی معدوم زبانوں کا یہ
لفظ ہے جس کا مفہوم یہ تھا ۔ ” ایسی ہستی ، قربانیوں کے ذریعے جس کی پرستش کی
جائے ۔” اور تاریخ بتلاتی ہے کہ جانوروں بلکہ انسانوں کی قربانی بھی پرستش کا
ذریعہ رہی ۔ مختلف قوموں نے اپنی زبانوں میں اپنے معبود کو پکارا ۔ قرآن نے صانع
کائنات ، معبود ہستی کے لیے متعدد نام بتلائے جو اس ہستی کی مختلف صفات کے اظہار
کے لیے ہیں لیکن اسمائے صفات کے ساتھ
ذاتِ متصف کے لیے
اسم ذات ” اللہ” استعمال کیا گیا
۔ لفظ ” الہ ”
کے عمومی لفظ سے بنا یہ لفظ ” اللہ ” قرآن میں 980 بار استعمال ہوا ۔ اس کے تعلق
سے مولانا ابو الکلام آزاد کی تحقیق ہے
:
” نزول قرآن
سے پہلے عربی میں اللہ کا لفظ خدا کے لیے بطور اسم ذات کے مستعمل تھا جیسا کہ
شعراء جاہلیت کے کلام سے ظاہر ہے ۔ یعنی خدا کی تمام صفتیں اس کی طرف منسوب کی
جاتی تھیں ۔ یہ کسی خاص صفت کے لیے نہیں بولا جاتا تھا ۔ قرآن نے بھی یہ لفظ بطور
اسم ذات کے اختیار کیا ہے اور تمام صفتوں کو اس کی طرف نسبت دی
   وَلِلّٰهِ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى
فَادْعُوْهُ بِهَا     ۠
 (الاعراف
: 180)
  یعنی اللہ کے حسن و
خوبی کے نام ہیں یعنی صفتیں ہیں پس چاہئے کہ اسے ان صفتوں کے ساتھ پکارو ۔ قرآن نے
یہ لفظ محض اس لیے اختیار کیا کہ لغت کی مطابقت کا مقتضیٰ یہی تھا یا اس سے بھی
زیادہ کوئی معنوی موزو نیت اس میں پوشیدہ ہے ؟
جب ہم اس لفظ کی معنوی دلالت پر غور
کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس غرض کے لیے سب سے زیادہ موزوں یہی لفظ تھا ۔ نوعِ
انسانی کے دینی تصورات کا ایک قدیم عہد جو تاریخ
کی روشنی میں آیا ہے ، مظاہر فطرت کی پرستش کا عہد ہے اس پرستش نے بتدریج اصنام پرستی کی صورت اختیار کی ۔ اصنام پرستی کا لازمی
نتیجہ یہ تھا کہ مختلف زبانوں میں بہت سے الفاظ دیوتاؤں کے لیے پیدا ہو گئے اور
جوں جوں پرستش کی نوعیت میں وسعت ہوتی گئی ، الفاظ کا تنوع بھی بڑھتا گیا لیکن
چونکہ یہ بات انسان کی فطرت کے خلاف تھی کہ ایک ایسی ہستی کے تصور سے خالی الذہن
رہے ۔ جو سب سے اعلیٰ اور سب کی پیدا کرنے والی ہستی ہے اس لیے دیوتاؤں کی پرستش
کے ساتھ ایک سب سے بڑی اور سب پر حکمران ہستی کا تصور بھی کم و بیش ہمیشہ موجود
رہا اور اس لیے جہاں بے شمار الفاظ دیوتاؤں اور ان کے معبودانہ صفتوں کے لیے پیدا
ہو گئے وہاں کوئی نہ کوئی لفظ ضرور ایسا مستعمل رہا جس کے ذریعے اس ان دیکھی اور
اعلی ترین ہستی کی طرف اشارہ کیا جاتا تھا۔
چناچہ سامی
زبانوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ حروف و اصوات کی ایک خاص ترکیب ہے جو
معبودیت کے معنی میں مستعمل رہی ہے اور عبرانی ، سریانی ، آرامی ، کلدانی ، حمیری ،
عربی وغیرہ تمام زبانوں میں اس کا یہ لغوی خاصہ پایا جاتا ہے ۔  الف ، لام اور ھ کا مادہ ہے اور مختلف شکلوں
میں مشتق ہوا
ہے۔ کلدانی اور سریانی کا لفظ ” الاھیا ” عبرانی کا  ” الوہ ” اور عربی کا  ” الہٰ ” اسی سے ہے اور بلاشبہ یہی ” الہٰ ”
ہے جو  حرف تعریف کے اضافے کے بعد ” اللہ ”
ہو  گیا ہے اور تعریف نے اسے صرف خالق کائنات کے لیے
مختص کر  دیا ہے۔
لیکن اگر ” اللہ
” الہٰ سے ہے تو الہٰ کے معنی کیا ہیں؟ علماء
لغت و اشتقاق کے مختلف اقوال ہیں مگر سب سے زیادہ قوی قول یہ معلوم ہوتا ہے
کہ اس کی اصل ” الہٰ ” ہے ۔ ” الہٰ ” کے معنی تحیر اور  درماندگی کے ہیں۔ بعضوں نے اسے ” ولہٰ ” سے
ماخوذ بتایا ہے اور اس کے معنی بھی یہی ہیں ۔ پس خالق کائنات کے لیے یہ لفظ اس لیے
اسم قرار پایا کہ
اس بارے میں انسان جو کچھ جانتا
اور جان سکتا ہے وہ عقل کے تحیر اور ادراک کی درماندگی کے سوا اورکچھ  نہیں ہے۔ وہ جس قدر بھی اس ذات مطلق کی ہستی
میں غور و خوض کرے گا اس کی عقل کی حیرانی اور درماندگی بڑھتی ہی جائے گی۔ یہاں تک
کہ وہ معلوم کرلے گا کہ اس کی راہ کی ابتداء بھی عجز و حیرت سے ہوتی ہے اور انتہا
بھی عجز وحیرت ہی ہے۔
اے برون از وہم و قال و قیل من
خاک بر فرق من و تمثیل من
اب غور کرو!
خدا کی ذات کے لیے انسان کی زبان  سے نکلے
ہوئے لفظوں میں اس سے زیادہ موزوں لفظ اور کون سا ہوسکتا ہے؟ اگر خدا کو اس کی
صفتوں سے پکارتا ہے تو بلاشبہ اس کی صفتیں بے شمار ہیں لیکن اگر  صفات سے الگ ہو کر اس کی ذات کی طرف اشارہ کرتا
ہے تو وہ اس کے سوا کیا ہوسکتا ہے کہ ایک متحیرکر دینے والی ذات ہے اور جو کچھ اس کی
نسبت کہا جا سکتا ہے وہ عجز و درماندگی کے اعتراف کے سوا کچھ نہیں ہے فرض کرو نوع
انسانی نے اس وقت تک خدا کی ہستی یا خلقت کائنات کی اصلیت کے بارے میں جو کچھ سو
چا اور سمجھا ہے  وہ سب کچھ سامنے رکھ کر
ہم ایک موزوں سے موزوں لفظ تجویز کرنا چاہیں تو وہ کیا ہوگا۔ اس سے زیادہ اور اس
بہتر کوئی لفظ تجویز کیا جا سکتا ہے؟
یہی وجہ ہے کہ
جب کبھی اس راہ میں عرفان و بصیرت کی کوئی بڑی سے بڑی بات کہی گئی تو وہ یہی تھی
کہ زیادہ سے زیادہ خود رفتگیوں کا اعتراف کیا گیا اور ادراک کا منتہا مرتبہ یہی
قرار پایا کہ ادراک کی نارسائی کا ادراک حاصل ہوجائے۔ عرفاء کے دل وزبان کی صدا
ہمیشہ یہی رہی کہ
” رب زدنی فیک تحیرا ” یعنی خدایا ! ایسا کر کہ تیری ہستی میں ہمارا تحیر بڑھتا
رہے کیوں کہ یہاں تحیر جہل کا نہیں معرفت کا نتیجہ ہے اور حکماء کی حکمت و دانش کا
بھی فیصلہ ہمیشہ یہی ہوا کہ ” معلومم شد کہ ہیچ معلوم نہ شد "ْ
چونکہ یہ اسم
خدا کے لیے بطور اسم ذات کے استعمال میں آیا اس لیے قدرتی طور پر ان تمام صفتوں پر
حاوی ہوگیا جن کا خدا کی ذات کے لیے تصور کیا جاسکتا ہے۔ اگر چہ ہم خدا کی ذات کا
تصور اس کی کسی صفت کے ساتھ کریں مثلاُ ”الرب” یا ”الرحیم” کہیں تو یہ تصور
صرف ایک خاص صفت میں ہی محدود ہوگا یعنی ہمارے ذہن میں ایک ایسی ہستی کا تصور پیدا
ہو جائے گا جس میں ربوبیت یا رحمت ہے لیکن جب اللہ کا لفظ بولتے ہیں تو فوراُ
ہمارا ذہن ایک ایسی ہستی کی طرف منتقل ہوجاتا ہے جو ان تمام صفات حسن وکمال سے
متصف ہے جو اس کی نسبت بیان کیے گئے جو اس میں ہونے چاہئیں۔
عرفاء اور
حکماء کے تجربات میں اضافہ نہیں کیا جا سکا تو شعراء نے ان کے افکار کو شعر کا
جامہ پہنایا
:
غالب نے کہا :
تھک تھک کے ہر مقام پر دو چارہ گئے
تیرا پتہ نہ پائیں تو ناچار کیا کریں
داغ نے کہا :
لوح و کرسی پہ کیا خدا ملتا
آگے چلتے تو کچھ پتہ ملتا
امیر منیائی نے
کہا :
پڑھاُ ماعرفناک برسوں امیر
تو کچھ معرفت اس کی حاصل ہوئی
لفظ اللہ کے تعلق
سے مولانا سید سلیمان ندوی کی تحقیق جداگانہ ہے جو  درج ذیل ہے
:
” اللہ کا
لفظ اصل میں کس لفظ سے نکلا ہے اس میں اہل لغت کا یقیناً اختلاف ہے مگر ایک گروہ
کثیر کا یہ خیال ہے کہ ” ولاہ ” سے نکلا ہے ولاہ  اور ولہ کے اصل معنی عربی میں ” غم ” ، ” محبت
” اور تعلق خاطر کے ہیں جو ماں کو اپنی اولاد کے ساتھ ہوتا ہے۔ اسی سے بعد کو
مطلق ”  عشق و محبت ” کے معنی پیدا ہو گئے
۔ اسی لیے ہماری زبان میں والہ ( شیدا ) مستعمل ہے ۔ اس  لیے اللہ کے معنی ” محبوب ” اور ” پیارے
” کے ہیں جس کے عشق و محبت میں نہ صرف انسان بلکہ کائنات کے د ل سر گرداں ، متحیر
اور پریشان ہیں ۔ حضرت مولانا  شاہ فضل
الرحمٰن گنج مرادآبادی قرآن مجید کی آیتوں کے ترجمے اکثر ہندی میں فرمایا کرتے
تھے۔ اللہ کا ترجمہ وہ ہندی میں ” من موہن” یعنی دلوں کا محبوب  کیا کرتے تھے۔”

2- اسمائے صفات

انسان کے خدا کے
وجود کو ماننے کا لازمی نتیجہ تھا کہ اسے جاننے کی کو ششیں ہوں۔ ذات سے تعارف
، قربت اور شخصی
ذہنی رشتہ کی استواری صفات کے تصور کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ تفکر و تعقل کی راہ کے
سنگ ہائے گرا
ں سے بچنے کے لیے اللہ کے رسولوں نے دست گیری کی۔
اردو زبان میں
موجود مذہبی علوم کے ذخیرے میں ” الہیات” یعنی صفات الہی پرخاطر خواہ توجہ نہیں
دی گئی۔ تفاسیر میں اسماء حسنیٰ پر سرسری اور ناکافی اور سطحی تبصرہ ہے ۔ علیحدہ
کتابیں لکھی گئیں تو بتلایا گیا کون سا اسم صفت کس دنیاوی مقصد کے لیے کتنی بار کس
طرح پڑھا جائے اور اس لفظ کے معنی کیا ہیں۔ مولانا آزاد کی تفسیر سورہ فاتحہ کا
بڑا حصہ صفات الٰہی کے مباحث پر مشتمل ہے۔ دیگر تحریروں میں بھی گہرے تفکر پر مبنی
مواد ملتا ہے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں : ” اسلام نے اپنے عقیدے کی بنیاد سرتاسر تنز
یہہ پر رکھی
لیس کمثلہ شئی " میں تشبیہ کی ایسی عام اور قطعی نفی کردی کہ ہمارے تصوری
تشخص کے لیے کچھ بھی نہیں رہا۔
لا تضربوا اللہ الامثال
نے تمثیلوں کے سارے دروازے بند کردیئے۔
لا تدرکہ الابصار اور   لن ترانی نے ادراک حقیقت کی کوئی امید باقی نہ چھوڑی۔ تاہم انسان کے
نظارہ تصور کے لیے اسے بھی صفات کی ایک صورت آرائی کرنی ہی پڑی اور تنزیہہ مطلق نے
صفاتی تشخص کا جامہ پہن لیا۔
و للہ الاسماء الحسنیٰ
فادعوہ  بھا
اور پھر صرف اتنے ہی
پر معاملہ نہیں رکا۔ جابجا مجازات کے جھروکے بھی کھولنے پڑے بل یداہ مبسوطتان ، ید
اللہ فوق ایدیھم، ان ربک لبالمرصاد۔ اس سے معلوم ہوا کہ بلندی کے ایک نصب العین کی
طلب انسان کی فطرت کی طلب ہے اور وہ بغیر کسی ایسے تصور کے پوری نہیں ہوسکتی جو
کسی نہ کسی شکل میں اس کے سامنے آئے اور سامنے جبھی آسکتا ہے کہ اس کے مطلق اور
غیر مشخص چہرہ پر کوئی نہ کوئی نقاب تشخص
کی پڑ گئی ہو ۔ ”
ایک اور جگہ
لکھتے ہیں : ” دین حق کے مقاصد میں ایک اہم
مقصد خدا کے صفات کا ٹھیک ٹھیک تصور
دینا ہے ۔ اس لیے کہ انسان کو خدا پرستی کی راہ میں جس قدر ٹھوکریں لگیں
صفات الٰہی کے تصور میں لگی ہیں ۔”
اس قول کی ا
ہمیت اس وقت واضح ہوتی ہے جب ہم دیگر مذاہب کے پیرووں کی اس راہ میں  لغزشوں کا مطالعہ کریں۔
صفات الہی کا
مطالعہ اس پر غور و خوض انسانی سیرت کی تعمیر کے لیے بھی ضروری ہے یہ بات دل و
دماغ پر نقش ہوگئی کہ اللہ عظیم و کبیر رحیم ہے رحمٰن ہے تو اللہ کی ان صفات کو
جاننے اور ماننے والا کبھی ظلم کو اچھا نہیں سمجھے گا وہ اللہ کی مخلوق کے لیے
باعث رحمت ہوگا۔ اس کے علاوہ مولانا آزاد کا یہ بیان بھی دعوت فکر دیتا ہے : ” اللہ
تعالیٰ کے صفات کے معنی  پر تدبر کر کے ہم
کائنات ہستی کے بے شمار اسرار و دقائق کی معرفت حاصل کر سکتے ہیں کیوں کہ یہاں جو
کچھ ہے انہیں صفات کا ظہور ہے ۔”
مثال کے طور پر
اللہ کے ایک اسم صفت خالق کی روشنی میں کائنات ہستی کے ایک گوشہ کا مطالعہ کریں۔
ثلاثی مادہ خ ل
ق کے تقریباً 50 مشتقات تقریباً 250 بار فعل ، فاعل ، مضارع وغیرہ صیغوں میں
استعمال ہوئے ۔ لفظ خالق 8 بار استعمال ہوا جس میں 4 بار
” خالق
کل شیئ ”
میں یہ لفظ ہے۔ کل شیء میں کل کے عموم کو جزئیات میں بھی
بیان کیا گیا۔ چند مثالیں دیکھیں۔
1-لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ
وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ
(
المومن (غافر) : 57 )
 آسمان و زمین کی پیدائش یقیناً انسان کی پیدائش
سے بڑا کام ہے۔
2- وَهُوَ الَّذِيْ خَلَقَ
السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ ۭ
( انعام : 73 )  اور وہی ہے جس نے
آسمانوں کو اور زمین کو علم و حقیقت کے ساتھ پیدا کیا(یعنی مصلحت و حکمت کے ساتھ)۔
3-وَمَا خَلَقْنَا
السَّمَاۗءَ وَالْاَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لٰعِبِيْنَ   16؀
(
انبیاء : 16 )
ہم نے آسمان اور زمیں کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کچھ
کھیل تماشہ کرتے ہوئے نہیں بنایا بلکہ کسی مصلحت و مقصد سے بنایا۔
4-خَلَقَ السَّمٰوٰتِ
بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا وَاَلْقٰى فِي الْاَرْضِ رَوَاسِيَ اَنْ تَمِيْدَ
بِكُمْ وَبَثَّ فِيْهَا مِنْ كُلِّ دَاۗبَّةٍ ۭ وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاۗءِ
مَاۗءً فَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيْمٍ     10؀
( لقمان
: 10 )
 اس نے آسمانوں کو
بغیر ستون کے پیدا کیا تم انہیں دیکھ رہے ہو اور اس نے زمین پر پہاڑوں کو ڈال دیا
ہے تاکہ وہ تمہیں جنبش نہ دے سکے اور ہر طرح کے جاندار زمین میں پھیلادئے اور ہم
نے آسمانوں سے پانی برساکر زمین میں ہر قسم کے نفیس جوڑے اگائے۔
5-وَاللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ
دَاۗبَّةٍ مِّنْ مَّاۗءٍ ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ يَّمْشِيْ عَلٰي بَطْنِهٖ  ۚ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّمْشِيْ عَلٰي رِجْلَيْنِ
ۚ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّمْشِيْ عَلٰٓي اَرْبَعٍ
ۭ يَخْلُقُ اللّٰهُ مَا يَشَاۗءُ  ۭ
اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ
45؀
(نور
: 45)
اور یہ اللہ ہی کی کارفرمائی ہے کہ اس نے تمام جان داروں کو
پانی سے پیدا کیا۔ ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو اپنے پیٹ کے بل چلتے ہیں ۔ کچھ ایسے
ہیں جو دوپاؤں سے چلتے ہیں کچھ ایسے جو چار پاؤں سے چلتے ہیں۔ اللہ جو چاہتا تھا
پیدا کرتا ہے اس کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں۔
6-خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ
صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ 14
(رحمٰن: 14) انسان کو بجنے والی
مٹی سے پیدا کیا جو ٹھٹکری کی طرح تھی۔
7-خَلَقَ الْاِنْسَانَ
مِنْ عَلَقٍ

(العلق : 2) اس نے انسان کو خون
کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔
8-وَالَّذِيْ خَلَقَ
الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَالْاَنْعَامِ مَا
تَرْكَبُوْنَ      12
(
الزخرف : 12 )
جس نے تمام چیزوں کے جوڑے بنائے اور تمہارے لیے کشتیاں
بنائیں اور چوپائے جانور پیدا کیے جن پر تم سوار ہوتے ہو۔
9-سُبْحٰنَ الَّذِيْ
خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ وَمِنْ اَنْفُسِهِمْ
وَمِمَّا لَا يَعْلَمُوْنَ   36؀
(
یٰسین : 36 )
وہ پاک ذات ہے جس نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کیے خواہ وہ زمین
کی اگائی ہوئی چیزیں ہوں خواہ خود ان کے نفوس ہوں خواہ وہ چیزیں ہوں جنہیں یہ
جانتے بھی نہیں۔
10- الَّذِيْ خَلَقَ فَسَوّٰى
2۔ وَالَّذِيْ قَدَّرَ فَهَدٰى3۔
( الاعلی : 2-3 ) وہ پروردگار عالم جس نے پیدا کیا پھر اسے ٹھیک ٹھیک درست کر
دیا  اور جس نے ہر وجود کے لیے اندازہ
ٹھیرا دیا پھر اس پر راہ عمل کھول دی۔
11-اِنَّ فِيْ خَلْقِ
السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّھَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي
الْاَلْبَابِ۔
(آل عمران : 190 ) بلاشبہ آسمان و زمین کی خلقت اور رات دن کے ایک کے بعد ایک آتے رہنے میں
ارباب دانش کے لیے معرفت حق کی بڑی نشانیاں ہیں۔
مسطورہ بالا
آیات مظاہر قدرت کے تنوع کے اظہار کے لیے درج کی گئیں ۔ ان میں اللہ کی
عالم
آفاق و انفس میں تخلیق کی طرف اشارے ہیں ۔
چونکہ تفسیر مطمع نظر نہیں اس لیے ترجمہ پر اکتفاء کیا گیا۔ اب انسان کی اپنی ذات
اپنے وجود کے شخصی پوشیدہ حقائق کی کچھ پردہ دری دیکھیں ۔ سورہ المومنون 12 تا 16
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰـلَـةٍ
مِّنْ طِيْنٍ  12 ثُمَّ جَعَلْنٰهُ
نُطْفَةً فِيْ قَرَارٍ مَّكِيْنٍ 13
ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً
فَخَـلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَـلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا
الْعِظٰمَ لَحْــمًا  ۤ ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ
خَلْقًا اٰخَرَ  ۭفَتَبٰرَكَ اللّٰهُ
اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ  14ثُمَّ اِنَّكُمْ
بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَيِّتُوْنَ  15
ثُمَّ اِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ
تُبْعَثُوْنَ   16
” اور یہ
واقعہ  ہے کہ ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ
سے پیدا کیا یعنی زندگی کی ابتداء مٹی کے خلاصہ سے ہوئی پھر ہم نے اسے نطفہ بنایا
ایک ٹھہرجانے اور جماؤ پانے کی جگہ میں۔ پھر نطفہ کو ہم نے ”علقہ” بنایا۔ پھر علقہ
کو ایک گوشت کا ٹکڑا کردیا۔ پھر اس میں ہڈیوں کا سانچا پیدا کردیا پھر ہڈیوں پر
گوشت کی تہہ چڑھادی۔ پھر دیکھو کس طرح بالکل ایک دوسرے طرح کی مخلوق بنا کر نمودار
کر دیا ۔ تو کیا ہی برکتوں والی ہستی ہے اللہ کی۔ پیدا کرنے والوں میں سب سے بہتر
پیدا کرنے والی پھر دیکھو اس پیدائش کے بعد سب کو ضرور مرنا ہے اور پھر مرنے کے
بعد ایسا ہونا ہے کہ قیامت کے دن  اٹھائے
جاؤ۔”
الَّذِيْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ
لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا
ۭوَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ
 ( الملک :2 )
” جس نے
موت و حیات کو اس لیے پیدا کیا کہ تمہیں آزمائے کہ تم میں اچھے کام کون کرتا ہے
اور وہ غالب اور بخشنے والا ہے۔”
وَمَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا
بَيْنَهُمَآ اِلَّا بِالْحَقِّ  ۭ وَاِنَّ
السَّاعَةَ لَاٰتِيَةٌ فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِيْلَ     85؀ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْخَلّٰقُ
الْعَلِيْمُ     86؀
( الحجر
: 85-86 )
” ہم نے
آسمانوں اور زمین کو ان کے درمیان کی سب چیزوں کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے اور
قیامت ضرور آنے والی ہے پس تو حسن و خوبی اچھائی سے درگذر کرلے اور تیرا پرودگار
ہی پیدا کرنے اور جاننے والا ہے۔”
اَوَلَيْسَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ
وَالْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ بَلٰىۤ وَهُوَ الْخَــلّٰقُ
الْعَلِـيْمُ   81
؀ ( یٰس : 81 )
” جس نے
آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ، کیا وہ ان جیسوں کو پیدا کرنے پر قادر نہیں ؟ بے
شک قادر ہے اور وہی تو پیدا کرنے والا دانا بینا ہے۔”
ایک ہی اسم صفت
”خالق” کے تعلق سے چند آیات لکھی گئیں صرف یہ بتانے کے لیے کہ صفات کے معنی پر
تدبر کرکے ہم کائنات ہستی کے بے شمار اسرارو دقائق کی معرفت حاصل کر سکتے ہیں
کیونکہ یہاں جو کچھ ہے انہیں صفات کا ظہور ہے۔ نوع انسانی نے اپنے ابتدائی مشاہدات
، تجربات اور غور وفکر سے معلومات حاصل کیں اور مزید تحقیق و جستجو کے لیے مختلف
علوم میں تقسیم کیے ۔  طبعیات
Physics ، حیاتیات Biology ، فلکیات Astronomy  ، طبقات الارض Geology ، اور اب علم
الجنین
Embryology، کون سا علم ہے
جو لفظ خالق کے دائرہ اطلاق سے باہر ہے۔
عالم آفاق سے
ہٹ کر عالم انفس پر غور کریں تو انسان کے کردار کی تعمیر صرف اسماء حسنیٰ پر غور
اور صفات الہی کو ممکنہ حد تک اپنانے میں مضمر ہے اور غور کریں تو اسلام کے سارے
عقائد اور ساری تعلیمات کا منبع اسماء حسنیٰ ہیں۔
تمام اسماء
حسنیٰ کا تفصیلی جائزہ لیا جائے تو پورے قرآن کی ایک نئے ڈھنگ سے تفسیر لکھنی پڑے
گی ۔ صرف چند اسماء حسنیٰ کا مختصر اور سرسری جائزہ لیں اللہ کے اور تین اسماء
حسنیٰ علیم ، خبیر ، بصیر ہیں۔ اسم علیم کے اور دو صیغے عالم اور علام بھی استعمال
ہوئے۔ علیم کا اسم عموم کے لیے استعمال ہوا۔ ”واللہ بکل شیئٍ علیم ” پھر جزئیات
میں بھی ۔ اعلم ما لا تعملون ، و اعلم ما تبدون و ما کنتم تکتمون ، یعلم ما بین
ایدیہم و ما خلفہم ، یعلم ما فی السمٰوٰات و الارض ، یعلم ما یسرون و ما یعلنون ،
علیم بذات الصدور ، عالم الغیب و الشھادۃ ، ان اللہ علام الغیوب اسی طرح اسم خبیر
ہے ۔ و اللہ بماتعملون خبیرا اور یہ اسم دیگر تین اسماء حسنیٰ حکیم ، لطیف اور
علیم کے ساتھ استعمال ہوا ۔ ایک اور اسم بصیر ہے۔ ایک آیت میں عموم کے طور پر
استعمال ہوا ۔ انہ بکل شیئٍ بصیر ۔ پھر جزئیات میں  ان اللہ بما تعملون بصیر ، ان کان لعبادہ
خبیراً بصیرا ، ھواللہ السمیع البصیر ۔اللہ کو علیم ، بصیر اور خبیر جاننے اور
ماننے کا انسانی کر دار پر کیسے اثر پڑتا ہے اس کی اس دور کی ایک چھوٹی مثال سے سب
مسلمان واقف ہیں۔ حضرت عمر کے دور میں ایک عورت اپنی بیٹی سے کہتی ہے کہ دودھ میں
پانی ملاؤ۔
کوئی حکومتی نگرانی نہیں ہے ۔ بیٹی کہتی ہے عمر  ( یعنی حکومت ) نہیں دیکھ رہا ہے اللہ دیکھ رہا ہے۔ جرائم اور تمام قسم کی
برائیوں کے انسداد کے لیے کوئی قانون اتنا مؤثر نہیں جتنا اللہ کو علیم و خبیر و
بصیر  اور حسیب ماننے کا اعتقاد اور مکمل
مثال یہ ہے کہ حضرت مہبط قرآن مجسم قرآن تھے ۔ بی بی عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے
درخواست کی گئی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم کے اخلاق بیان کیجئے ۔ ام
المومنین نے فرمایا : ان خلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان القرآن ۔ آپ کا
اخلاق ہمہ تن قرآن تھا۔ اسمائے صفات کی تعداد معروف روایت کے مطابق 99 ہے گو اس کی
صحیح تعداد اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔ اسماء کی تقسیم صفتی اور فعلی اسماء میں
کی ہے ۔ مثلاً اللہ کا اسم صفت  واجد قرآن
میں
نہیں لیکن سورہ و الضحٰی میں اللہ کا فعل وجد آیا ہے ۔ اسی سے اسم صفت واجد بنا ۔ علماء نے صفات کو صفت مفردہ اور
صفت المضافتہ میں تقسیم کیا ہے۔ احکم الحاکمین ، ذو انتقام ، شدید العذاب وغیرہ
صفات المضافۃ ہیں ۔ بعض اسماء حسنٰی کثرت سے استعمال ہوئے بعض کم اور بعض صرف ایک
بار یا دو بار اول ، اخر ، معز ، معید ، احد ، صمد وغیرہ تقریباً 30 اسماء حسنٰی
صرف ایک ایک بار استعمال ہوئے ۔ مقتدر ، حسیب ، قدوس ، کریم ، مجید ، ودود ، وھاب
وغیرہ تقریباً 10 اسماء حسنٰی 2 ، 2 بار
رب ، رحمٰن ، رحیم ، حکیم ، علیم ، عزیز ، غفور ، یہ الفاظ اوران کے ثلاثی
مادہ کے مشتقات بہت کثرت سے استعمال ہوئے ۔ بعض اسم مفرد یعنی اکیلے استعمال ہوئے
بعض مرکب یعنی دوسرے اسم کے ساتھ ۔ لفظ قدیر اسماء علیم اور غفور کے ساتھ آیا ہے
لفظ غنی الفاظ حمید، حلیم اور کریم کے ساتھ۔ اسم رب صرف غفور اور رحیم کے ساتھ ہی
آیا ہے ۔ غور  کریں حکیم کا لفظ غفور کے
ساتھ کیوں نہیں آیا ۔ غفور 6 اسماء کے ساتھ آیا اس میں قدیر شامل نہیں مخصوص  صفت کا
مخصوص صفات کے ساتھ جوڑ کو آیات کے تناظر میں دیکھیں تو بہت سی حکمتیں نظر
آتی ہیں۔
جیسا کہ بیان
ہوا تمام صفات مفردہ و صفات المضافۃ کا جائزہ لینا پورے قرآن کی نئے ڈھنگ سے تفسیر
کے مترادف ہے جو اس موضوع کے دائرہ سے باہر ہے اب صرف تین چار اسماء  صفات کا مختصر تذکرہ حدیث دیگراں کی حیثیت سے
ہی پیش ہے لیکن کن اسماء کا انتخاب کریں ۔ قرآن سے ہی رہنمائی حاصل کریں ۔

3-  اسم صفت رب

قرآن کی ایک سو
چودہ سورتوں  میں سورہ فاتحہ کی اولیت
اہمیت و فضیلت مسلمہ ہے اس سورت میں اللہ کے اسم صفات رب ، رحمٰن ، رحیم ، مالک
یوم الدین استعمال ہوئے ۔ رب کا لفظ ، رب العالمین ، رب کل شیئٍ، رب العرش العظیم ،
رب السمٰوٰت و الارض ، ربکم و رب اباء کم الاولین ، رب المشارق و المغارب کے اسماء
صفات المضافۃ میں آیا ہے۔ رب کی تشریح و تفسیر کے لیے ابو الکلام آزاد کی تفسیر
سورہ فاتحہ دیکھیں کیا فرماتے ہیں: ” رب العالمین ، الرحٰمن، الرحیم ، مالک
یوم الدین۔ چونکہ الرحٰمن اور الرحیم کا تعلق ایک ہی صفت کے دو مختلف پہلووں سے ہے
اس لیے دوسرے لفظوں  میں انہیں یوں تعبیر
کیا جا سکتا ہے کہ ربوبیت ، رحمت ، عدالت ، تین صفتوں کاذکر کیا گیا ہے۔
الہ” کی طرح ” رب” بھی سامی زبانوں کا ایک کثیر الاستعمال مادہ ہے عبرانی ، سریانی اور عربی زبانوں میں اس کے معنی پالنے کے ہیں اور چونکہ پرورش کی
ضرورت کا احساس انسانی زندگی کے بنیادی احساسات میں سے ہے اس لیے اسے بھی قدیم
ترین سامی تعبیرات میں سے سمجھنا چاہئے ۔ پھر چونکہ معلم ، استاد اور آقا کسی نہ
کسی اعتبار سے پرورش کرنے والے ہی ہوتے ہیں اس لیے اس کا اطلاق ان معنوں میں بھی
ہونے لگا ۔ چناچہ عبرانی اور آرامی کا ”ربی” اور ”رباہ” پرورش کنندہ ، معلم
اور آقا تینوں معنی رکھتا تھا اور قدیم مصری اور خالدی زبان کا ایک لفظ ”رابو”
بھی انہیں معنوں میں مستعمل ہوا ہے اور ان ملکوں کی قدیم ترین سامی وحدت کی خبر
دیتا ہے۔
بہر حال عربی
میں ربوبیت کے معنی پالنے کے ہیں لیکن پالنے کو اسکے وسیع اور کامل معنوں میں لینا
چاہئے۔ اس لیے بعض ائمہ لغت نے اس کی تعریف ان لفظوں میں کی ہے: ” ھو انشاء حالاً
فحالاً الٰی حدالتمام ”
( مفروات راغب اصفہانی) یعنی کسی چیز کو یکے بعد دیگر اس کی مختلف حالتوں اور ضرورتوں کے مطابق اس طرح
نشو و نما دیتے رہنا کہ اپنی حد کمال تک پہنچ جائے ۔ اگر ایک شخص بھوکے کو کھانا
کھلادے یا محتاج کو روپیہ دے دے تو اس کا کرم ہوگا ، جود ہوگا ، احسان ہوگا لیکن
وہ بات نہ ہوگی جسے ربوبیت کہتے ہیں ۔ ربوبیت کے لیے ضروری ہے کہ پرورش اور
نگہداشت کا ایک جاری اور مسلسل اہتمام ہو اور ایک وجود کو اس کی تکمیل و بلوغ کے لیے
وقتاً فوقتاً جیسی کچھ ضرورتیں پیش آتی ہیں ان سب کا سرو سامان ہوتا رہے نیز ضروری
ہے کہ سب کچھ محبت و شفقت کے ساتھ ہو کیونکہ جو عمل محبت و شفقت کے عاطفہ سے خالی
ہوگا ربوبیت نہیں ہو سکتا ۔ ربوبیت کا ایک خاص نمونہ ہم اس پرورش میں دیکھ سکتے
ہیں جس کا جوش ماں کی فطرت میں و دیعت کر دیا گیا ہے ۔ بچہ جب  پیدا ہوتا ہے تو محض گوشت پوست کا ایک متحرک
لوتھڑا ہوتا ہے اور زندگی اور نموکی جتنی قوتیں بھی رکھتا ہے سب کی سب پرورش و
تربیت کی محتاج ہوتی ہیں ۔ یہ پرورش محبت و شفقت ، حفاظت و نگہداشت اور بخشش و
اعانت کا ایک طول طویل سلسلہ ہے اور اسے اس وقت تک جاری رہنا چاہئے جب تک بچہ اپنے
جسم و ذہن کے حد بلوغ تک نہ پہنچ جائے ۔ پھر پرورش کی ضرورتیں ایک دو نہیں بے شمار
ہیں اس کی نوعیت ہمیشہ بدلتی رہتی ہے اور ضروری ہے کہ ہر عمر اور ہر حالت کے مطابق
محبت کا جوش ، نگرنی کی نگاہ اور زندگی کا سروسامان ملتا رہے ۔ حکمت الہی نے ماں
کی محبت میں ربوبیت کے یہ تمام خدوخال پیدا کر دئیے ہیں یہ ماں کی ربوبیت ہے جو
پیدائش کے دن سے لے کر بلوغ تک بچے کو پالتی ، بچاتی سنبھالتی اور ہر وقت اور ہر
حالت کے مطابق اس کی پرورش کا سامان مہیا کرتی رہتی ہے۔
جب بچہ کا معدہ
دودھ کے سوا کسی غذا کا متحمل نہ تھا تو اسے دودھ ہی پلایا جاتا تھا۔ جب دودھ سے
زیادہ قوی غذا کی ضرورت ہوتی تو ویسی ہی غذا دی جانے لگی جب اس کے پاؤں میں کھڑے
ہونے کی سکت نہ تھی تو ماں اسے گود میں اٹھائے پھرتی تھی جب کھڑے ہونے کے قابل ہوا
تو انگلی پکڑلی اور ایک ایک قدم چلانے لگی ۔ پس یہ بات کہ ہر حالت اور اس کے مطابق
ضروریات مہیا ہوتی رہیں اور نگرانی اور حفاظت کا ایک  مسلسل اہتمام جاری رہا وہ صورتحال ہے جس سے
ربوبیت کے مفہوم کا تصور کیا جاسکتا ہے۔
مجازی ربوبیت
کی یہ ناقص اور محدود مثال سامنے لاؤ اور ربوبیت الہی کی غیر محدود حقیقت کا تصور
کرو اس کے رب العالمین ہونے کے معنی یہ ہوئے کہ جس طرح اس کی خالقیت نے کائنات
ہستی اور اس کی ہر چیز پیدا کی ہے اسی طرح اس کی ربوبیت نے ہر مخلوق کی پرورش کا
سروسامان بھی کر دیا ہے اور یہ پرورش کا سروسامان ایک عجیب و غریب نظام کے ساتھ ہے
کہ ہر وجود کو زندگی اور بقاء کے لیے جو کچھ مطلوب تھا وہ سب کچھ مل رہا ہے اور اس
طرح مل رہا ہے کہ حالت کی رعایت ہے ، ہر ضرورت کا لحاظ ہے ، ہر تبدیلی کی نگرانی
ہے اور ہر کمی بیشی ضبط میں آ چکی ہے۔۔۔۔۔
یہ مولانا کی
تشریح کا ایک حصہ ہے ۔ آگے چل کر انہوں نے نظام ربوبیت ، ربوبیت معنوی ، برہان
ربوبیت کے عنوانات اور نظام ربوبیت سے توحید ، ضرورت وحی و رسالت ، وجود معاد پر
استدلال وغیرہ کے ذیلی عنوانات کے تحت
متعلقہ آیات کی تشریح کی ہے ۔ انظر کیف نصرف الایات لعلھم یفقھون۔
 اس اسم حسنٰی کی مزید پہلوؤں کی تلاش میں متد اول تراجم و تفاسیر کی طرف
رجوع کیا گیا ۔
1
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کے ترجمہ و تفسیر میں اس لفظ کی
کوئی تشریح نہیں ہے۔
2
حضرت شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی نے لفظ رب کو نظر انداز کیا لفظ
عالمین پر گہری نظر ڈالی اور فرمایا
: مجموعہ مخلوقات کو عالم کہتے ہیں اور اس لیے اس کی جمع نہیں لاتے۔ مگر آیت میں
عالم سے مراد ہر ہرجنس  
 ( مثلاً عالم جن، عالم ملائکہ، عالم انس وغیرہ
وغیرہ)
ہیں اس لیے جمع لائے تاکہ جملہ افراد عالم
کا مخلوق  جناب باری ہونا خوب ظاہر ہو
جائے۔
3
اعلیٰ حضرت احمد رضا خاں صاحب کے ترجمے پر مبنی مولانا سید نعیم الدین مراد آبادی
کی تفسیر میں ارشاد ہوا : رب العالمین میں تمام کائنات کے حادث ، ممکن محتاج ہونے
اور اللہ تعالیٰ کے واجب قدیم ازلی ابدی حی قیوم قادر علیم ہونے کی طرف اشارہ ہے
جس کو رب العالمین مستلزم ہے ۔ دو لفظوں میں علم الہیات کے اہم مباحث طے ہوگئے۔
4
مولانا سید ابوالاعلی مودودی نے لکھا : رب کا لفظ عربی میں تین معنوں میں
استعمال ہوتا ہے (1) مالک اور آقا (2) مربی پرورش کرنے والا ، خبرگیری اور نگہبانی
کرنے والا (3) فرماں روا ، حاکم مدبر اور منتظم ۔ اللہ تعالیٰ ان سب معنوں میں
کائنات کا رب ہے۔

4- اسماء صفت رحمٰن رحیم

رب رحمٰن اور
رحیم اور  مالک یوم الدین کی تشریح ممکنہ
اختصار کے ساتھ درج ہے۔
مولانا آزاد نے
لکھا : الرحمٰن اور الرحیم دونوں رحم سے ہیں عربی میں رحمت عواطف کی ایسی رقت نرمی
کو کہتے ہیں جس سے کسی دوسری ہستی کے لیے محبت و شفقت ، فضل ، احسان سب مفہوم داخل
ہے اور مجرد لطف اور فضل سے زیادہ وسیع اور حاوی ہے۔
اگرچہ یہ دونوں
اسم رحمت سے ہیں لیکن رحمت کے دو مختلف پہلوؤں کو نمایاں کرتے ہیں۔ عربی میں فعلان
کا باب عموماً ایسے صفات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو محض صفات عارضہ ہوتے ہیں
جیسے پیاسے کے لیے عطشان ، غضبناک کے لیے
غضبان ، سراسیمہ کے لیے حیران ، مست کے لیے سکران ، لیکن فعیل کے وزن میں
صفات قائمہ کا خاصہ ہے یعنی عموماً ایسے صفات کے لیے بولا جاتا ہے جو جذبات و
عوارض ہونے کی جگہ صفات قائمہ
ہوتے ہیں مثلاً کریم
کرم کرنے والا ، عظیم بڑائی رکھنے والا ، علیم علم رکھنے والا ، حکیم حکمت رکھنے
والا پس الرحمٰن کے معنی یہ ہوئے کہ وہ ذات جس میں  رحمت ہے اور الرحیم کے معنی یہ ہوئے کہ وہ ذات
جس میں نہ صرف رحمت ہے بلکہ جس سے ہمیشہ رحمت کا ظہور ہوتا رہتا ہے اور ہرآن ہر
لمحہ تمام کائنات خلقت اس سے فیض یاب ہورہی ہے۔
رحمت کو دو الگ
الگ اسموں سے کیوں تعبیر کیا گیا؟ اس لیے کہ قرآن خدا کے تصور کا جو نقشہ ذہن نشین
کرنا چاہتا ہے اس میں سب سے زیادہ نمایاں اور چھائی ہوئی صفت رحمت ہی کی صفت ہے
بلکہ کہنا چاہئے تمام تر رحمت ہی ہے” و رحمتی وسعت کل شیئ”ً اور میری رحمت دنیا
کی ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے
(7:156)  پس یہ ضروری تھا کہ خصوصیت کے ساتھ اس کی صفتی
اور فعلی دونوں حیثیتیں واضح کردی جائیں یعنی اس میں رحمت ہے کیوں کہ وہ الرحمٰن
ہے اور صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ہمیشہ اس سے رحمت کا ظہور بھی ہورہا ہے کیوں کہ وہ
الرحمٰن کے ساتھ الرحیم بھی ہے لیکن اللہ
کی رحمت کیا ہے؟ قرآن کہتا ہے: کائنات ہستی میں جو کچھ بھی خوبی و کمال ہے
وہ اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ رحمت الہی کا ظہور ہے۔
جب ہم کائنات
ہستی کے اعمال و مظاہر پر غور کرتے ہیں تو سب سے پہلی حقیقت جو ہمارے سامنے نمایاں
ہوتی ہے وہ کائنات کا نظام ربوبیت ہے کیوں کہ فطرت سے ہماری شناسائی ربوبیت کے
ذریعے ہوتی ہے  لیکن جب علم و ادراک کی راہ
میں چند قدم آگے بڑھتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ ربوبیت سے بھی ایک زیادہ وسیع اور عام
حقیقت یہاں  کار فرما ہے اور خود ربوبیت
بھی اسی کے فیضان کا ایک گوشہ ہے۔
آگے مولانا نے
ذیلی عنوانات کے تحت مبحث کو بہت دور تک پھیلایا ہے اس بارے میں ایک آیت اور ایک
حدیث بھی نقل کی ہے۔ یہ نقل کر کے اس مبحث کو بند کیا جاتا ہے۔
قُلْ لِّمَنْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ
وَالْاَرْضِ ۭ قُلْ لِّلّٰهِۭ كَتَبَ عَلٰي نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ
(الانعام:12)
(اے
پیغمبر)
ان لوگوں سے پوچھو آسمان و زمین میں جو کچھ ہے وہ کس کے لیے
ہے۔
( اے پیغمبر )  کہہ دے کہ اللہ کے لیے ہے جس نے اپنے لیے ضروری
ٹھہرا لیا ہے کہ رحمت ہو اور میری رحمت دنیا کی ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔”
ارحموا من فی الارض یرحکم فی السماء من رحم و لو ذبیحة عصفور رحمہ
اللہ یوم القیامہ
(رواہ
بخاری)
”  تم زمین پر
رحم کرو تاکہ وہ جو آسمان پر ہے تم پر رحم کرے اللہ کی رحمت رحم کرنے والوں کے لیے
ہے اگر چہ یہ رحم ایک چڑیا کے لیے کیوں نہ ہو۔”
رحمت کی وسعت
کی تلاش کے لیے اور متداول اردو تفاسیر سے رجوع کیا گیا
:
1
مولانا اشرف علی تھانوی کی تفسیر سورہ فاتحہ میں ان اسماء حسنٰی کی تشریح
نہیں ملی۔
2
نعیم الدین مرادآبادی  نے سورہ فاتحہ
کی دیگر دو صفات پر توجہ کی۔ الرحمٰن اور الرحیم پر توجہ نہ کی۔
3
شبیر احمد عثمانی صاحب نے صرف یہ فرمایا کہ رحمٰن و رحیم مبالغہ کے صیغے ہیں
اور رحمٰن میں رحیم سے زیادہ مبالغہ ہے۔
4
مولانا ابو الاعلیٰ مودودی صاحب کا بیان : رحمٰن عربی میں بڑے مبالغہ کا صیغہ
ہے لیکن خدا کی رحمت اور مہربانی اپنی مخلوق پر اتنی زیادہ ہے اتنی وسیع ہے ایسی
بے حدو حساب ہے کہ اس کے بیان میں بڑے سے بڑا مبالغہ کا لفظ بول کر بھی جی نہیں
بھرتا اس لیے اس کی فراوانی کا حق ادا کرنے کے لیے پھر رحیم کا لفظ استعمال کیا
گیا ۔
خدا کی ربوبیت
کی طرح اس کی رحمت بھی عام تھی اور ہے ۔ وہ رب العالمین ہے  بس ضرور تھا کہ اس کی راہ کی طرف دعوت دینے
والا بھی رحمۃ للعلمین ہو ۔ چناچہ ارشاد ہوا  :
و ما ارسلنٰک الا رحمۃ للعالمین (اے پیغمبر) ہم نے آپ کو نہیں
بھیجا مگر تمام عالموں کے لیے رحمت قرار دے کر۔
مگر ہم دیکھتے
ہیں کہ عرب و عجم میں رحمۃ للعٰلمین کی امت کا نامہ اعمال برادرکشی کے خون میں لت
پت ہے اور نامہ اعمال میں رحمت کا خانہ خالی ہے ۔ یہ درد ناک حقیقت بھی سامنے آئی
کہ اردو کی بیشتر تفاسیر کی بزم میں ” رحمت ”  کو داخلہ نہ ملا حتٰی کہ جھانکنے کی بھی اجازت
نہ ملی تو یہ صفت معاشرہ سے روپوش ہو گئی ۔ صحابہ کے لیے قرآن نے فرمایا رحماء
بینھم ، اشد علی الکفار ۔ آج معاملہ بالکل بر عکس ہے۔

5- اسم صفت  مالک یوم الدین

مولانا آزاد کی
تفسیر سورہ فاتحہ میں مالک یوم الدین کی تشریح 20 صفات پر پھیلی ہوئی ہے ۔ انہوں
نے لفظ دین کی اصل کی تحقیق کی پھر لکھا ہے :  ” ربوبیت اور رحمت کے  بعد جس صفت کا ذکر کیا گیا ہے وہ  ” عدالت ” ہے اور اس کے لیے یوم الدین
کی  تعبیر اختیار کی گئی ہے عربی زبان میں
” الدین” کے معنی  بدلے اور مکافات کے
ہیں خواہ اچھائی کا ہو یا برائی کا۔ پس مالک یوم الدین کے معنی  ہوئے وہ جو جزاء کے دن کا حکمران ہے۔
………………….. ربوبیت اور رحمت
کے بعد صفات قہر و جلال میں سے کسی صفت کا ذکر نہیں کیا گیا بلکہ ” مالک یوم
الدین” کی صفت بیان کی گئی جس سے عدالت کا تصور ہمارے ذہن پیدا ہوجاتا ہے اس سے
معلوم ہوا کہ قرآن نے خدا کی صفات کا جو تصور قائم کیا ہے اس میں قہر و غضب کے لیے
کوئی جگہ نہیں ہے
البتہ عدالت ضرور ہے  اور صفات قہر یہ جس قدر بیان کی گئی ہیں دراصل اسی کے مظاہر ہیں فی الحقیقت صفات الہی کے
تصور  کا یہی مقام ہے جہاں فکر انسانی نے
ہمیشہ ٹھوکر کھائی ہے یہ ظاہر ہے کہ فطرت کائنات ربوبیت و رحمت کے ساتھ اپنے  مجازات بھی رکھتی ہے اور اگر ایک طرف اس میں
پرورش و بخشش ہے تو دوسری طرف مواخذہ و مکافات بھی ہے ۔ فکر
انسانی کے
لیے فیصلہ طلب سوال یہ تھا کہ فطرت کے مجازات اس کے قہر و
غضب کا نتیجہ ہیں یا عدل و  قسط کے؟ اس کا
فکر نارسا عدل و قسط کی حقیقت معلوم نہ کر سکا  اس نے مجازات کو قہر و غضب پر محمول کر لیا اور
یہیں سے خدا کی صفت میں خوف و دہشت کا تصور پیدا ہوگیا۔ حالاں کہ اگر وہ فطرت
کائنات کو زیادہ قریب ہو کر دیکھ سکتا تو معلوم کر لیتا کہ جن مظاہر کو قہر و غضب
پر محمول کر رہا ہے وہ قہر و غضب کا نتیجہ نہیں بلکہ عین مقتضائے رحمت ہیں اگر
فطرت کائنات میں مکافات کا مواخذہ نہ رہتا
یا تعمیر کی تحسین و تکمیل کے لیے تخریب نہ ہوتی تو میزان عدل قائم نہ رہتا
اور تمام نظام ہستی درہم برہم ہوجاتا ۔ جس طرح کا رخانہ خلقت اپنے وجود بقاء کے لیے
ربوبیت اور رحمت کا محتاج ہے اسی طرح عدالت کا بھی محتاج ہے۔ یہی تین معنوی عناصر
ہیں جن سے خلقت و ہستی کا قوام ظہور میں آیا ہے۔ ربوبیت پرورش کرتی ہے ۔ رحمت
افادہ و فیضان کا سرچشمہ ہے اور عدالت سے بناؤ اور خوبی ظہور میں آتی ہے اور نقصان
و فساد کا ازالہ ہوتا ہے۔”
اب  تحقیق مزید کے لیے اور تفاسیر کی طرف رجوع ہوں۔
1
مولانا اشرف علی تھانوی کی تفسیر سورہ فاتحہ میں اس صفت کی تشریح نہیں کی
گئی۔
2
مولانا شبیر احمد عثمانی فرماتے ہیں : مالک روز جزا کا اس کے خاص کرنے کی
اول وجہ تو یہی ہے کہ اس دن بڑے بڑے امور پیش آئیں گے ۔ ایسا خوفناک روز نہ پہلے
ہوا نہ آگے کو
ہو ۔ دوسرے اس روز بخز ذات پاک حق تعالٰی کے کسی کو ملک و حکومت ظاہری بھی نصیب نہ ہوگی لمن الملک
الیوم للہ الواحد القہار۔
3
نعیم الدین صاحب فرماتے ہیں : مالک یوم الدین ۔ ملک کے ظہور تام کا بیان ہے
اور یہ دلیل ہے کہ اللہ کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں کیونکہ سب اس کے مملوک ہیں
اور مملوک مستحق عبادت نہیں ہو سکتا ۔  اسی
سے معلوم ہوا کہ دنیا دار العمل ہے اور اس کے لیے ایک آخر ہے جہاں کے سلسلہ کو
ازلی و قدیم کہنا باطل ہے اختتام دنیا کے بعد ایک جزاء کا دن ہے ۔ اس سے تناسخ
باطل ہوگیا۔
4
مولانا ابوالاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں : یعنی اس دن کا مالک جبکہ تمام اگلی
پچھلی نسلوں کو جمع کر کے ان کا نامئہ زندگی کا حساب لیا جائے گا اور ہر انسان کو
اس کے عمل کا پورا صلہ یا بدلہ مل جائے گا۔ اللہ کی تعریف میں رحمٰن و رحیم کہنے
کے بعد مالک روز جزاء کہنے سے یہ بات نکلتی ہے کہ وہ بڑا مہربان ہی نہیں بلکہ منصف
بھی ہے اور منصف بھی ایسا با اختیار منصف کہ آخری فیصلے کے روز وہی پورے اختیار کا
مالک ہوگا نہ اس کی سزا میں کوئی مزاحم ہو سکے گا نہ جزاء میں مانع لہذا ہم اس کی
ربوبیت و رحمت کی بناء پر اس سے محبت ہی نہیں کرتے بلکہ اس کے انصاف کی بناء پر اس
سے ڈرتے بھی ہیں اور یہ احساس بھی رکھتے ہیں کہ ہمارے انجام کی بھلائی اور برائی
بالکلیہ اس کے اختیار میں ہے۔
5
ایک شیعہ عالم دین مترجم و مفسر قرآن
دقیقہ شناس رموز قرآنی و مناظر لاثانی حکیم سید مقبول احمد دہلوی نے رب
العالمین کا ترجمہ بھی عالموں کی پرورش کرنے والا اور مالک یوم الدین کا  ترجمہ فیصلے کے دن کا مالک کیا ہے اور لکھا ہے
الرحمٰن کے معنی ہیں اپنی مخلوق پر مہربان اور ایسا رزق دینے والا کہ گو  اس کی بندگی اور اطاعت چھوڑ دیں  مگروہ ان کے وسائل معاش کو بحال رکھے ۔ الرحیم
کے معنی یہ ہیں کہ اپنے مومن بندوں پر ایسا رحم کرنے والا کہ ان کے لیے تھوڑی سی
عبادت پر بہت سا ثواب مقرر کیا ہے اور کافر بندوں پر ایسا رحم کرنے والا کہ ان
کوہلاکت ابدی سے بچانے کے لیے نرمی کے ساتھ قبول دین کی دعوت کرتا ہے۔
 اللہ کے اسماء حسنٰی
میں 3 نام مقسط، عدل اور عفو  ہیں۔
1- مقسط کا ثلاثی مادہ قسط ہے ۔
قسط  اردو میں قرض کی کل رقم کی جزوی ادائی
کے معنوں میں ہے۔ تراجم قرآن میں اس کا ترجمہ انصاف کرنا کیا گیا ہے۔ لفظ نصف قرآن
میں5 بار اور نصفۃ 2 بار استعمال ہوا ۔ ان دو مشتقات کے علاوہ دوسرے مشتقات نہیں
لیکن باب افعال میں لفظ انصاف سرے سے استعمال
نہیں ہوا اور نصف صرف مقدار کے تعین کے لیے یعنی کسی چیز کے آدھے حصے کے لیے
استعمال ہوا ۔ مقسط کے 6 مشتقات 25 بار استعمال ہوئے۔ قسط کا تعلق انسانی  معاشرہ میں منصفانہ طرز عمل سے ہے اور عورت اور
مرد کے تعلقات ومعاملات کے سلسلے میں جو
بے اعتدالیاں ہوتی ہیں اس سلسلے میں بہتر طرز عمل کی تاکید کے لیے یہ لفظ
استعمال ہوا اور پھر عمو می طرز عمل کے لیے سورہ مائدہ آیت 8 میں ارشاد ہوا :
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا
قَوّٰمِيْنَ لِلّٰهِ شُهَدَاۗءَ بِالْقِسْطِ ۡ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ
قَوْمٍ عَلٰٓي اَلَّا تَعْدِلُوْا
ۭاِعْدِلُوْا   ۣ هُوَ اَقْرَبُ
لِلتَّقْوٰى ۡ وَاتَّقُوا اللّٰهَ  ۭاِنَّ
اللّٰهَ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ
 ” مسلمانو ! ایسے ہو جاؤ کہ خدا ( کی
سچائی )
کے لیے مضبوطی سے قائم رہنے والے اور انصاف کے لیے گواہی
دینے والے ہو۔ اور
( دیکھو ) ایسا کبھی نہو کہ کسی
گروہ کی دشمنی تمہیں اس بات کے لیے ابھارے کہ
( اس کے ساتھ ) انصاف نہ کرو ۔ ( ہر حال میں انصاف کرو کہ یہی
تقوے سے لگتی ہوئی بات  ہے اور اللہ کی نا فرمانی
کے نتائج )
 ڈرو ۔ تم جو کچھ
کرتے ہو وہ اس کی خبر رکھنے والا ہے۔”
اور اللہ  نے 3 بار فرمایا ان اللّٰہ یحب المقسطین ” اللہ انصاف
کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے ۔”
2- عدل ۔ عدل اور عدل کے مشتقات
اعتدال ، معتدل ، معادلت ، عدالت بکثرت اس طرح اردو میں استعمال ہوتے ہیں گویا خود
اردو کے الفاظ ہیں ۔ معتدل ، انسان ، موسم ، دواؤں ، غذاؤں کے مزاج ، تاثیر کے لیے
استعمال ہوتا ہے۔ لفظ عدل کے 9 مشتقات 28 بار قرآن میں استعمال ہوئے ۔ عدل کا
دائرہ اطلاق قسط کے مقابلے میں بہت وسیع ہے اس کا اطلاق صرف انسانی معاشرہ کے
افعال کے لیے نہیں یہ تخلیق کی تکمیل کا ایک درجہ ہے جہاں
تعدلو ابین النساء اور اعدلوا ھواقرب للتقویٰ فرمایا گیا ہے وہیں
سورہ  انفطار آیت 6 تا 8 میں ارشاد
ہوا  :
يٰٓاَيُّهَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّكَ
بِرَبِّكَ الْكَرِيْمِ   6. الَّذِيْ
خَلَقَكَ فَسَوّٰىكَ فَعَدَلَكَ7. فِيْٓ اَيِّ صُوْرَةٍ مَّا شَاۗءَ رَكَّبَكَ8.
” اے غافل
انسان !  کیا ہے جس کے گھمنڈ نے تجھے اپنے
مہربان اور پیار کرنے والے آقا سے سرکش بنا دیا ہے ۔ وہ پرودگار جس نے تجھے پیدا
کیا پھر ٹھیک درست کر دیا۔ پھر تمہارے ظاہری و باطنی قویٰ میں اعتدال و تناسب
ملحوظ رکھا ۔”
سورہ الاعلیٰ  میں ارشاد ہوا :
الَّذِيْ خَلَقَ فَسَوّٰى 2۔ وَالَّذِيْ
قَدَّرَ فَهَدٰى3۔
اس سے لفظ عدل
کی وسعت کا اندازہ ہوتا ہے کہ تقدیر و ہدایت بھی اللہ کے عدل کا تقاضہ ہے۔
3- عفو ۔ لفظ عفو کے 17 مشتقات 35 بار
استعمال ہوئے ۔ عفو کو بھی اقرب للتقویٰ قرار دیا ۔
وَاَنْ تَعْفُوْٓا
اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى
 (البقرہ
: 237)
 اور ایک سے زائد
بار صفت عفو کو صفت غفور اور
قدیر کے ساتھ بیان
فرمایا
اِنَّ اللّٰهَ
كَانَ عَفُوًّا غَفُوْرًا43
( النساء ) ،  فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِيْرًا149(النساء
)
اور عفو کے ساتھ ایک لفظ صفح جس کو ایک جگہ صفت جمیل کے
ساتھ صفح جمیل بیان کیا گیا صفح کا ترجمہ درگزر کیا گیا عفو پر زور دینے کے لیے یہ
لفظ استعمال کیا گیا اور اردو میں بھی عفو کے ساتھ فارسی لفظ درگزر استعمال کیا
جاتا ہے جو صفح کا ترجمہ ہے احادیث میں عفو و درگزر کی بہت تاکید ہے کہ تم بندوں
کو معاف کرتے رہو تو ہی اللہ سے عفو کی امید رکھ سکتے ہو۔
اب دیکھو رحمت
، انصاف ، عدل ، عفو کا ہمارے معاشرہ میں بالکل گزر نہیں  ۔  کیوں ؟
اس لیے کہ معاشرہ میں ان اوصاف کی کسی کے کردار میں جھلک نظر نہیں آتی خواہ وہ کسی
طبقہ سے تعلق
رکھتا ہوخصوصاً
علماء کے طبقہ میں یہ صفات ناپید ہیں ۔
ان کے بجائے حرص ، حسد ، جاہلانہ غرور ریا کاری اور حکام کی چاپلوسی ان کی
شناخت ہیں اور آیات کی تجارت اور کتمان حق کی قرآن کی بیان کردہ علماء سوء کے
اوصاف سے وہ متصف ہیں۔ مذہبی ضروریات نہیں معاشی مجبوریات نے ٹی وی چینل کے
بازاروں میں علماء کی چند نئی اقسام متعارف کرائی ہیں ٹی وی کے اینکر ان اقسام کے
سیلز مین ہیں ان کی کوششوں سے دو اقسام کا چلن زیادہ ہے ایک تاجر جو عالم نہیں
عالم نما ہے دوسرے کھلے فاجر فنکار علماء ۔ سیلز مین اور ان
بازاری اجناس کا گٹھ جوڑ دونوں کے معاشی مفادات کا ضامن ہے
اور بھی گھٹیا اقسام  پائے جاتے ہیں ۔ اور
سب کے سب مسلمانو ں کے  دین اور ثقافت کی ،
بیخ کنی کے یہودی منصوبے کے آلہ کار ہیں۔

6- تلاوت قرآن و تد بر فی القرآن

تلاوت قرآن
بلاشبہ باعث ثواب ہے ۔ لیکن تدبر  فی القرآن
کا بدل سمجھ کر اس پر اکتفاء نہیں
کرنا چاہئے وہ بام فہم
کازینہ ہے اورزینے کو منزل سمجھ لینا صریح نادانی ہے  جگنو
حرکت میں ہو ، اڑ رہا ہو تو روشنی پیدا ہوتی ہے ۔ انسانی دماغ میں بھی
روشنی اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب وہ غور وفکر میں مصروف رہے ۔ حصول معلومات اور غور
وفکر میں وہی تعلق ہے جو غذا و ہاضمہ میں ہے افلاطون کا قول ہے غور و فکر کرنا روح
کا اپنے آپ سے گفتگو کرنا ہے ۔ پس یہ ایک جسمانی فعل ہی نہیں ایک روحانی
عمل ہے ایک فرانسیسی فلسفی ڈیکارٹ (Descartes) نے کہا دماغی ترقی کے لیے سیکھنے سے زیادہ غور و خوض ضروری
ہے ۔ اسماء حسنیٰ پر تدبر اور نتیجتاً صفات الہیٰ کی ممکنہ پیروی سے ہی انسان اللہ
کی زمین پر خلیفہ کے اعزاز کا مستحق ہوتا ہے ورنہ اللہ نے ہی غور وفکر نہ کرنے
والے انسانوں کو چوپایوں سے بدتر قرار دیا ہے یا ہم کہہ سکتے ہیں وہ بغیر پنکھ کا
پرندہ ہے۔
بنی آدم کا
انسانی فکرو دانش کاسفر شروع سے جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا ۔ قرآن قیامت تک
کے لیے انسان کی ہدایت کے لیے نازل ہوا اور کوئی ہدایت آنے والی نہیں تو اس کا
مطلب یہ ہوا کہ قیامت تک انسانی فکری استعداد کے ارتقاء کے آنے والے تمام مدارج
تمام مسائل و منازل میں وہ راہ نمائی کا کام انجام دے گا۔ اس
کا ناخن گرہ کشا رشتہ فکر کی ساری گرہیں کھولے گا اور اللہ
تعالٰی اپنے بندوں میں بعض خوش نصیبوں کو شرح صدر عطا کر کے قرآن کی ختم نہ ہونے
والی حکمتوں میں سے کچھ ان پر اور ان کے ذریعہ تمام بندوں پر ظاہر فرمائے گا۔ جس
طرح مادیات کی کھوج کے سفر میں ہو رہا ہے اللہ نے حکم دیا کہ تفکر،
تعقل، تفقہ کی راہ پر چلتے رہیں اور اس راہ میں ” شخصیت
پرستی  ” اور
بغیاً بینھم کے دو سنگ گراں ہیں ان سے بچنے کی کوشش کریں۔ قرآن کی کسی
تفسیر کو  حرف آخر نہ سمجھیں ۔ قرآن کے
ترجمے اور تفسیر کے فرق کو ملحوظ رکھیں۔
من یھد اللّٰہ فمالہ من مضل ، و من یضلل اللّٰہ
فلا ھادی لہ ۔ اللّٰھم احفظنا من شرور انفسنا و من سیئات اعمالنا و من کل بلاء
الدنیا و العذاب الآخرۃ ۔ سبحان ربک رب العزة عما یصفون و  سلام علی المرسلین و الحمد للّٰہ  رب العالمین۔

 

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s