امام ابن رجب حںبلی رحمہ اللہ


الواقعۃ شمارہ : 58 ، ربیع الاول 1438ھ

از قلم : راشد حسن سلفی مبارک پوری، نئی دہلی

نام و نسب

یہ واقعہ بتاتا ہے کہ امام صاحب کس قدر اللہ تعالی سے قریب تھے۔ ان کے زہد و اتقاء کی شان یہ تھی کہ انہیں اپنے محبوب سے جلد ملاقات کی بابت پہلے ہی اندازہ ہو گیا تھا، اللہ تعالی ہمارے اندر ایسے صالح جذبات پیدا فرما دے اور اسلاف کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

امام حافظ علامہ زین الدین عبد الرحمن بن شیخ امام أحمد ابن شیخ امام محدث عبد الرحمن ابو رجب بن الحسن بن محمد بن أبی البرکات مسعود السلامی البغدادی ثم الدمشقی الحنبلی۔ یہ آپ کا مکمل نسب نامہ ہے مگر آپ علمی حلقوں میں "ابن رجب حنبلی” کے نام سے معروف ہوئے۔ (یہ نسبت قبیلہ بنی سلاماں کے ایک شخص یا بغداد کے شہر مدینة السلام کی طرف ہے۔ الأنساب:٢٠٨٧)

ولادت

آپ کی ولادت ۷۳۶ھ میں بغداد میں ہوئی۔ (ولادت کے سن کے سلسلہ میں اختلاف ہے مگر راجح یہی ہے)۔

تاریخ میں ابن رجب نام کی اور شخصیتیں بھی ملتی ہیں مگر جب بھی "ابن رجب” بولا جائے تو علی الاطلاق مراد امام ابن رجب حنبلی ہی ہوتے ہیں، یہ ان کے علم و فضل میں عظمت و بلندی کی دلیل ہے۔

امام ابن رجب بغداد کے علمی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، آپ کے آباء و اجداد اس زمانہ کے علم و فضل کے ستون سمجھے جاتے تھے، آپ کے دادا کی علمی مجلسوں کی خاص شہرت تھی اور خود آپ بھی ان کی مجلسوں کے حاضر باشوں میں سے تھے۔

سلف صالحین علم و فن کی بلندیوں کے ساتھ ساتھ مکارم اخلاق اور فضائل کی طرف خاص توجہ فرماتے تھے، امام ابن رجب کو اللہ تعالی نے علمی گہرائی اور پختگی کے دوبدو زہد و تقوی، خشیت و پاکبازی اور اللہ سے قربت و تعلق، نفس کی پاکیزگی و تزکیہ جیسی صفات سے پوری فیاضی کے ساتھ نوازا تھا۔

سیر و تراجم کی کتابوں میں تقریباً اتفاق ہے کہ امام ابن رجب کے اندر زہدو قناعت اور خدا ترسی کا جذبہ فراواں تھا، دنیوی رنگینیوں سے بہت دور رہتے تھے، سلف صالحین کے طرز پر نہایت سادہ زندگی گذاری، کبھی حکمرانوں اور امراء سے قریب نہیں ہوئے، نہ تو مال و دولت کو کبھی خاطر میں لاتے، زندگی بالکل زاہدانہ اور اللہ سے بے پناہ تعلق و قربت کی زندہ مثال تھی، ان کی زندگی کا یہ پہلو بہت نمایاں ہے چنانچہ اگر ان کی کتابوں پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ وہ اس دنیا میں کس قدر گمنامی اور اجنبیت چاہتے تھے، صالحین کی صحبت اور علمی مذاکرہ پر خصوصی توجہ تھی۔

ابن ناصر الدین کہتے ہیں:-

"أحد الأئمة الزھاد والعلماء العباد۔” (الرادالوافر، ص : ١٠٦)

"وہ متقی ائمہ اور عبادت گذار علماء میں سے ایک تھے۔”

ابن فہد کہتے ہیں:-

"کان رحمہ اللہ اماما ورعا زاہدا، مالت القلوبُ بالمحبة لیہ، وأجمعت الفرقُ علیہ۔” (لحظ الألحاظ، ص : ١٨١)

"امام ابن رجب زاہد اور پرہیز گار امام تھے، لوگوں کے دل محبت میں ان کی طرف مائل تھے اور تمام فرقے کے لوگوں کا ان کی نیک نفسی پر اجماع تھا۔”

امام ابن حجر فرماتے ہیں:-

”وکان صاحب عبادة و تھجد۔” (نباء الغمر بأبناء العمر : ١٧٦٣)

"آپ عبادت کرنے والے تہجد گذار تھے۔”

امام صاحب دنیا سے نہایت بیزار تھے، لوگوں سے ملنا چلنا بہت کم رکھتے تھے اور زندگی کے آخری ایام میں یہ چیز زیادہ ہوگئی تھی، ابن مجی لکھتے ہیں:-

"کان لایخالط أحدا ولا یتردد لی أحد۔” (نباء الغمر : ١٧٦٣)

"وہ کسی سے ملتے جلتے نہ تھے اور نہ کسی کے پاس آتے جاتے تھے۔”

امام ابن رجب رحمہ اللہ کی مجالس روحانیت اور قرب الٰہی کا سرچشمہ ہوا کرتی تھیں، علم حدیث، عقیدہ اور فقہ و فتاوی میں غیر معمولی دستگاہ رکھتے تھے، ان موضوعات پر ان کی عظیم تالیفات بہترین شاہد ہیں۔

بعض حضرات نے اما م صاحب کو صوفیاء میں شامل کرنے کی بے جا کوشش کی ہے، کیوں کہ کتابوں میں -جن میں ”کشف الکربة” بھی ہے- صوفیاء کے اقوال نقل کیے ہیں، لیکن حقیت یہ ہے کہ امام صاحب صوفی بالکل نہیں تھے، خالص علماء سلف کے متبع تھے، محض اقوال نقل کر دینے سے انھیں صوفیت سے نہیں جوڑا جا سکتا۔ یہ عجیب بات ہے کہ اسلامی تاریخ میں جن مشائخ و علماء نے صوفیاء کے اقوال نقل کیے یا زہد و عبادت کی طرف ان کا میلان زیادہ ہوا تو انہیں صوفیاء میں شمار کر لیا گیا۔

حتیٰ کہ یہ ظلم شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تک کے ساتھ کیا گیا، جن کی زندگی شرک و تصوف اور باطل افکار و نظریات کے ردو قدح میں گذری، زہدو تقوی، خشیت و پرہیزگاری اور کثرت عبادت ہی تو اصل اسلام ہے جس کی طرف خود امام ابن تیمیہ نے مجموع فتاوی میں اشارہ کیا ہے۔ ایک دوسرا تجاوز یہ ہے کہ تصوف کی مشابہت سے بچنے کی خاطر لوگ عبادت گذاری اور پرہیزگاری سے اس قدر دور ہوگئے کہ وہ ہر عبادت و ریاضت کو زبردستی تصوف سے جوڑنے لگے یہ عجیب معاشرتی تضاد ہے، جو اہل حدیثوں کے خانہ میں آتا ہے۔

بہر حال امام ابن رجب رحمہ اللہ کو تصوف سے جوڑنا بڑا مضحکہ خیز ہے، ان کی کتابوں میں کتاب و سنت سے الگ کوئی چیز نہ ملے گی اور کیوں کر ایسا نہ ہو جب کہ وہ اما م ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے خاص شاگرد امام ابن القیم کی مجلسوں کے حاضر باشوں اور فیض یافتگان میں سے تھے، امام ابن تیمیہ کی کتابوں کے خوشہ چینوں میں سے تھے، سلف صالحین کے عقیدہ پر سختی کے ساتھ کاربند بھی تھے۔ اس تصریح کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ان سے غلطی کا امکان نہیں، حاشا و کلا وہ تمام علماء کی طرح ہیں ان سے بھی غلطی کا امکان ہے لہٰذا ان کو بشری صفات سے الگ نہ سمجھا جائے۔ لیکن بایں ہمہ بطور متبع سنت کے ہمارا فریضہ یہ ہے کہ ہم ان علماء سلف کی تعظیم و توقیر کریں، ایسا اکثر ہوتا ہے کہ ہم محض کسی معمولی غلطی کی وجہ سے کسی سے بھی بالکلیہ دستبردار ہوجاتے ہیں، ان کی کتابوں سے استفادہ نہیں کرتے، یہ چیز بہرحال قابل ستائش تو نہیں کہی جا سکتی، ہاں اتنا کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں ایسی کتابیں جو ملحدانہ ہوں اور ان سے عقیدہ میں بگاڑ آئے تو ان سے بچنا لازمی ہے، علماء عرب نے اسی وجہ سے ”کتب حذر منھا العلماء” جیسی کتابیں تالیف کیں اور ان کتابوں کے مطالعہ سے سختی سے روکا جن سے فکری انحراف پیدا ہو سکتا ہے۔

امام ابن رجب رحمہ اللہ کی پوری زندگی کتاب و سنت کی خدمت میں گذری، بہت سی کتابیں تالیف کیں، ان میں مخطوط و مطبوع ۶۷ کتابیں ہیں۔ بعض اہم کتابوں کا ذکر کیا جا رہا ہے۔

١۔ فتح الباری شرح صحیح البخاری

٢۔ جامع العلوم والحکم

٣۔ شرح علل الترمذی

٤۔تفسیر سورۂ الاخلاص

٥۔ تفسیر سورة النصر

٦۔ فضل علم السلف علی علم الخلف

٧۔ أھل القبور

٨۔ لطائف المعارف فیما لمو اسم العام من الوظائف

٩۔ ذم المال والجاہ

١٠۔ نزھة الأسماع فی مسألة السماع

١١۔ذیل طبقات الحنابلہ

١٢۔اختیار الأولی فی شرح حدیث اختصام الملأ الأعلی

١٣۔ القواعد الفقہیة

١٤۔ کشف الکربہ فی وصف حال أھل الغربة

١٥۔ الحکم الجدید بالذاعة۔

آپ کی وفات ماہ رجب یا ماہ رمضان ۷۹۵ھ میں بمقام دمشق ہوئی اور مقبرہ باب صغیر میں شیخ ابو الفرج عبدالواحد الشیرازی المقدسی کے بغل میں دفن کیے گئے۔

ان کی وفات سے متعلق ایک عجیب و غریب قصہ مشہور ہے، ابن ناصرالدین کہتے ہیں:-

"جس شخص نے امام ابن رجب کی قبر بنائی اس نے بیان کیا کہ وفات سے چند روز قبل امام ابن رجب ان کے پاس تشریف لائے اور کہا میرے لیے یہاں قبر کھودو، میں نے قبر کھودی تو وہ قبر میں جاکر لیٹ گئے اور فرمایا یہ بہتر ہے پھر نکل گئے، وہ کہتے ہیں بخدا کچھ دنوں کے بعد ان کی نعش لائی گئی اور میں نے ان کو اسی جگہ دفن کیا۔” (الرد الوافر، ص : ١٠٧)

پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

محبت اور عشق میں فرق


الواقعۃ شمارہ : 58 ، ربیع الاول 1438ھ

از قلم : محمد زبیر شیخ ، ملتان

کسی سے اپنی عقیدت کو ظاہر کرنے کے لیے ہمارے ہاں زیادہ تر لفظ عشق استعمال کیا جاتا ہے اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ لفظ ہماری محبت اور عقیدت کو بالکل صحیح انداز سے واضح کردیتا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عشق اور محبت وعقیدت میں بہت فرق ہے۔  پڑھنا جاری رکھیں

جنرل راحیل شریف


الواقعۃ شمارہ : 58 ، ربیع الاول 1438ھ

از قلم : ابو عمار سلیم

پاکستان کی افواج کا شمار مملکت کے تمام سرکاری اداروں میں سر فہرست رہا ہے۔ ماضی میں بھی اور موجودہ دور میں بھی، بیشتر مواقع پر فوج کے کردار سے پوری قوم نے اتفاق کیا اور اس پر اپنے مکمل بھروسے اور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ہر مشکل گھڑی میں فوج نے اپنی جان جوکھم میں ڈال کر قوم کے مفاد اور حکومتی احکامات کو بجا لانے میں کسی کوتاہی کا ارتکاب نہیں کیا۔ پاکستانی اداروں کا تو یہ حال ہے کہ قوم ہر کام کے لیے فوج کی طرف دیکھتی ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں