سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ


الواقعۃ شمارہ 44 – 45 محرم و صفر 1437ھ

اشاعت خاص : سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ

از قلم : قیام نظامی

امیر المومنین ، عز الاسلام و المسلمین ، ابا الفقراء ، دعائے رسول سرور عالم ﷺ حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ ہجرت نبوی سے 40 سال قبل پیدا ہوئے۔ ان کی پیدائش اور بچپن کے حالات کا پتہ نہیں چلتا۔ صرف دو واقعات ایسے ہیں جن سے مختصر سی روشنی آپ کے بچپن پر پڑتی ہے۔ ” تاریخ دمشق ” میں حافظ ابن عساکر نے عمرو بن عاص کی زبانی لکھا ہے :

پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

یک نظر بر فتوحات عہدِ فاروقی


الواقعۃ شمارہ 44 – 45 محرم و صفر 1437ھ

اشاعت خاص : سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ

از قلم : مولانا عبد الرحیم اظہر ڈیروی

نام و نسب

آپ کا نام عمر ، کنیت ابو حفص اور لقب فاروق تھا۔ الامام الحافظ المحدث ابو عمر یوسف بن عبد اللہ بن محمد  بن عبد البر بن عاصم النمری القرطبی المالکی نے آپ کا نسب اس طرح بیان کیا ہے :

عمر بن الخطاب بن نفیل بن عبد العُزیٰ بن رباح بن عبد اللہ بن قُرط بن رزاح بن عدی بن کعب القرشی العدوی ابو حفص ، اُمّہ حَنتَمۃ بنت ھاشم بن المغیرہ بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم۔[1]

پڑھنا جاری رکھیں

خلافت فاروقی میں آراضی کی تنظیم و تقسیم


الواقعۃ شمارہ 44 – 45 محرم و صفر 1437ھ

اشاعت خاص : سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ

از قلم : مولانا محمد تقی امینی

ذرائع پیداوار کی صحیح تنظیم و تقسیم ہی پر مملکت کی خوشحالی  و فارغ البالی موقوف ہے، اور اس میں آراضی کے مسئلہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

مشاہیر فاروقی


الواقعۃ شمارہ 44 – 45 محرم و صفر 1437ھ

اشاعت خاص : سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

سیّدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کی اولادو احفاد کا تذکرہ

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت اور اسلام میں متعدد نکاح کیے۔ ان کا پہلا نکاح زینب بنت مظعون سے ہوا ، جو مشہور صحابی رسول حضرت عثمان بن مظعون کی بہن تھیں۔ حضرت زینب نے اسلام قبول کیا ، ان کی وفات مکہ معظمہ ہی میں ہوئی۔ ان کے بطن سے ام المومنین حفصہ ، عبد اللہ اور عبد الرحمٰن الاکبر پیدا ہوئے۔

پڑھنا جاری رکھیں

حضرت عمر کا محاذ جنگ پر بھیجا گیا ایک مجاہدانہ مکتوب


الواقعۃ شمارہ 44 – 45 محرم و صفر 1437ھ

اشاعت خاص : سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ

از قلم : رحمت بانو

خلیفہ اوّل حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی کے عہد میں مسلمانوں کی فتوحات کا آغاز ہو گیا تھا۔ حضرت عمر فاروق جب خلیفہ بنے تو ان کے سامنے سرحدوں پر جنگی محاذ زور و شور سے جاری تھیں۔ حضرت عمر ہی کے عہد میں مسلمانوں نے ایسی جنگیں لڑیں جو نہ صرف تاریخ اسلام کی بلکہ تاریخ عالم کی فیصلہ کن جنگیں تھیں۔ جنگِ یرموک اور جنگ قادسیہ کا شمار بلا شبہ ایسی ہی جنگوں میں ہوتا ہے۔ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح ، حضرت خالد بن ولید ، حضرت عکرمہ ، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہم وغیرہم مستقل محاذ جنگ پر مصروف عمل تھے اور مرکز خلافت سے مسلسل رابطے میں تھے۔

پڑھنا جاری رکھیں

حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ


الواقعۃ شمارہ 44 – 45 محرم و صفر 1437ھ

اشاعت خاص : سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ

از قلم : مولانا حافظ جلال الدین احمد جعفری

حضرت عمر بن الخطاب کے حالات

ایام جاہلیت میں بھی آپ کا خاندان نہایت ممتاز تھا۔ آپ ہجرت سے 40 سال قبل پیدا ہوئے۔ اسلام سے قبل آپ نے سپہ گری ، پہلوانی، شہسواری سیکھ لی تھی۔ نسب دانی میں بھی آپ کو مہارت تھی۔ لکھنا پڑھنا بھی سیکھ لیا تھا۔ منصب سفارت پر مامور تھے۔ قبائل عرب میں جب کوئی رنج پیدا ہو جاتا تو آپ سفیر بن کر جاتے۔آپ کا نام عمر اور ابو حفص کنیت اور فاروق لقب تھا۔ آپ کے والد کا نام خطاب تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا مقام اجتہاد


الواقعۃ شمارہ 44 – 45 محرم و صفر 1437ھ

اشاعت خاص : سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

” اجتہاد " اسلامی قانون و شریعت کی اہم ترین بنیاد ہے۔ اجتہاد ہی ہے جو شریعت کو جامد و ساکت ہونے سے محفوظ رکھتی ہے۔ اجتہاد ہی کے ذریعے تمدنی ضرورتوں اور مختلف زمانے کے تہذیبی روّیوں کی تکمیل شریعت کے مطابق ہوتی ہے۔ اجتہاد ہی کے ذریعے سے مختلف زمانوں میں مختلف احوال و ظروف کے دائرے میں رہ کر شرعی قوانین وضع کیے جاتے ہیں اور شریعت اسلامیہ کو  ہر شخص کے لیے قابلِ عمل بنایا جاتا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں