اے ماؤ ، بہنو ، بیٹیو


مجلہ "الواقعۃ” شعبان المعظم 1434ھ/ جون، جولائ2013، شمارہ  15

اے ماؤ ، بہنو ، بیٹیو !

ابو عمار سلیم

8 O! dear mothers and sisters pdf_Page_1

پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

کیا قیامت کی اہم نشانیاں ظاہر ہونے والی ہیں؟


مجلہ "الواقعۃ” شعبان المعظم 1434ھ/ جون، جولائ2013، شمارہ  15

کیا قیامت کی اہم نشانیاں ظاہر ہونے والی ہیں ؟

محمد جاوید اقبال 

 

پڑھنا جاری رکھیں

یہودی کون ہے؟ کیا ہے؟


مجلہ "الواقعۃ” شعبان المعظم 1434ھ/ جون، جولائ2013، شمارہ  15

اللہ کے دھتکارے ہوئے اور خلق کے راندھے ہوئے یہودی کا تاریخی اور نفسیاتی پس منظر.

اللہ کا دھتکارا ہوا یہودی آج اللہ کے نام لیواؤں کو دھتکار رہا ہے…کیوں؟ اسے یہ قوت کس نے دی؟

یہودی کون ہے؟ کیا ہے؟ قسط 1

"حکایت” ڈائجسٹ لاہور کا شمار ملک کے مؤقر رسائل و جرائد میں ہوتا ہے۔ ذیل کا قیمتی مضمون "حکایت” (لاہور) ستمبر ١٩٨٢ء میں طباعت پذیر ہوا ۔
اس کے مضمون نگار  "حکایت” کے بانی و مدیر جناب عنایت اللہ ( ١٩٢٠ء – ١٩٩٩ء ) ہیں ۔ ان کا تعلق پاکستان آرمی سے تھا۔ ریٹائر ہونے کے بعد انہوں نے خود کو ہمہ وقت علم و ادب سے منسلک کرلیا ۔
انہوں نے اپنے قلم کی طاقت سے ایک با شعور ادب تخلیق کیا ۔ ان کے متعدد ناول طباعت پذیر ہوئے اور قارئین نے انہیں بے حد سراہا ۔ ان کے یادگار ناولوں میں "داستان ایمان فروشوں کی”، "اور ایک بت شکن پیدا ہوا”، "
شمشیر بے نیام”، "دمشق کے قید خانے میں”، "اور نیل بہتارہا”، "حجاز کی آندھی”، "فردوس ابلیس”، "طاہرہ” وغیرہا شامل ہیں۔ ذیل کا مضمون بھی ان کی اعلیٰ ادبی صلاحیتوں کا مظہر ہے ۔ گو اس عرصے میں گردش لیل و نہار کی کتنی ہی ساعتیں گزر گئیں ۔ مگر اس مضمون کی افادیت آج بھی برقرار ہے ۔ اسی وجہ سے "حکایت” کے شکریے کے ساتھ یہ مضمون قارئینِ "الواقعة” کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے ۔
تاہم قارئین دوران مطالعہ پیش نظر رکھیں کہ یہ مضمون ١٩٨٢ء کا تحریر کردہ ہے۔ (ادارہ  الواقعۃ)

 
جون ١٩٦٧ء کی عرب اسرائیل کی جنگ  (Arab Israel War June 1967) میں اسرائیلیوں نے بیت المقدس پر قبضہ کر لیا تو ان کے مذہبی پیشواؤں اور سیاسی لیڈروں نے کہا تھا کہ ہم (یہودی ) دو ہزار سال بعد اپنے گھر واپس آگئے ہیں ۔ اسی جنگ میں انہوں نے اسرائیل کے ارد گرد عربوں کے بیشمار علاقے پر قبضہ کرلیا تھا ۔ مسلمان ممالک کی افواج نے اتحاد کے فقدان کی وجہ سے اسرائیلیوں سے بہت بری شکست کھائی ۔ اس کے بعد اقوام متحدہ  (united nations)میں تقریروں ، قراردادوں اور مذاکرات کا وہ سلسلہ شروع ہوگیا جو چل تو پڑتا ہے مگر کسی انجام کو نہیں پہنچتا ۔
 
اسرائیلیوں نے اقوام متحدہ کی کسی ایک بھی تقریر اور ایک بھی قرارداد کی پروا نہ کی ۔ انہوں نے مقبوضہ علاقوں میں اپنی نئی بستیاں آباد
کرنی شروع کردیں ۔ شام کی جنگی اہمیت کے کوہستانی علاقے گولان کی بلندیوں پر بھی اسرائیلیوں نے ١٩٦٧ء کی چھ روزہ جنگ میں قبضہ کر لیا تھا ۔ وہاں انہوں نے پختہ اور مستقل مورچہ بندی قائم کرلی ۔ اسرائیلیوں کے اس روّیے اور اقدامات سے صاف پتہ چلتا تھا کہ وہ مقبوضہ علاقے نہیں چھوڑیں گے ۔ پڑھنا جاری رکھیں

دعوۃ یا تباہی۔ قسط 2 آخری


مجلہ "الواقعۃ” شعبان المعظم 1434ھ/ جون، جولائ2013، شمارہ  15

(دعوت  یا  تباہی (قسط 2 آخری

دعوت  یا  تباہی. قسط 1 کے لئے یہاں کلک کریں

ڈاکٹر ذاکر نائیک

تسہیل و حواشی :محمدثاقب صدیقی

ہم دعوة کیسے دیں ؟

اللہ تعالیٰ آپ کو سکھاتے ہیں کہ کس طرح سے دعوة پہنچانی ہے؟ اللہ تعالیٰ آسان طریقہ بتاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں سورة آلِ عمران الآیة :٦٤ میں ارشاد فرماتے ہیں:
  (قل ياهل الکتب)
"کہو اہلِ کتاب ( یہود و نصاریٰ ) سے”
(تعالوا الى کلمة سواء بيننا و بينکم )
"ہم آپس میں اس چیز کے اوپر ، جو چیز آپ میں اور ہم میں مشترک ہے ۔”
(الا نعبد الا الله)
"کہ ہم ایک اللّٰہ سبحانہ و تعالیٰ کی عبادت کریں”۔
(و لا نشرک به شيا)
"اور ہم کسی اَور کو اللہ کے ساتھ شریک نہیں کریں”۔
(و لا يتخذ بعضنا بعضا اربابا من دون الله)
"ہم آپس میں کسی کو معبود نہیں بنائیں اللہ کے علاوہ”
(فان تولوا فقولوا اشهدوا بانا مسلمون)
"اور اگر تم اس بات کو نہیں مانتے تو کہ دو کہ گواہ رہو ہم تو مسلمان ہیں”۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کبھی بھی غیر مسلموں کو دعوة دیں تو سب سے بہترین طریقہ ہے کہ: جو آپ میں اور ہم میں ایک جیسی چیز ہے کم از کم اُس پر عمل کریں ۔ تو سب سے اول اور بہترین چیز ہے کہ ایک اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی عبادت کریںاور کسی اور کو اللہ کے ساتھ شریک نہ کریں۔ پڑھنا جاری رکھیں