سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم رحماء بینھم کی عملی تفسیر


الواقعۃ شمارہ : 76 – 77 رمضان المبارک و شوال المکرم 1439ھ

اشاعت خاص : سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ

از قلم : عبد المنان شورش، ڈیرہ غازی خان

نبی رحمت ﷺ کا وجود مسعود اس امت کے لیے سراپائے رحمت اس حد تک تھا کہ اگر کسی نے بحالت اسلام چہرہ پر انوار کا دیدار کر لیا تو ابد الآباد کے لیے جہنم سے چھٹکارا پا گیا۔ آپ ﷺ کے دو ر میں اہل اسلام انسانیت کا عروج اس بات کو سمجھتے تھے کہ جس نے شرفِ صحبتِ رسول پا لیا گویا اس نے دنیا و ما فیھا کا کل متاع خیر حاصل کر لیا ہے۔ یہ معیار عربی، عجمی، گورے کالے، مرد و زن تمام کے لیے یکساں تھا۔ پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

حضرت علی رضی اللہ عنہ : افراط و تفریط کے درمیان


الواقعۃ شمارہ : 76 – 77 رمضان المبارک و شوال المکرم 1439ھ

اشاعت خاص : سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

زبان رسالتِ مآب ﷺ نے اپنے بعض اصحابِ کرام کو بعض جزوی وصف کی بنا پر بعض گزشتہ انبیاء سے تشبیہ دی۔ سیدنا صدیق اکبر سے متعلق فرمایا کہ یہ سیدنا ابراہیم کے مشابہ ہیں۔ فاروقِ اعظم کی جلالی طبیعت کے پیش نظر ان کے جلال کو جلالِ موسوی پڑھنا جاری رکھیں

امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ


الواقعۃ شمارہ : 76 – 77 رمضان المبارک و شوال المکرم 1439ھ

اشاعت خاص : سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ

از قلم : مولانا سید اسماعیل مشہدی

آج ہم خلفائے راشدین المہدیین میں سے خلیفہ چہارم امیر المومنین حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کی سیرتِ مقدس پر لکھنے بیٹھے ہیں جس طرح ہم نے اصحابِ ثلاثہ سے متعلق مقالات لکھ کر ان لوگوں کے شکوک و شبہات اور غلط فہمیاں دور کرنے کی کوشش کی تھی، جو ان حضرات اصحابِ ثلاثہ پر کسی نہ کسی سبب سے بدظن اور بدگو ہیں، اسی طرح اس مقالے میں امیر المومنین حضرت علی کی عظیم الشان ہستی پڑھنا جاری رکھیں

نمک حرام کی حویلی اور رنگ محل کا باسی


الواقعۃ شمارہ: 74 – 75، رجب المرجب و شعبان 1439ھ

از قلم : مولانا محمد ابو القاسم فاروقی ، بنارس

مولوی بشیر الدین دہلوی نے "واقعات دار الحکومت دہلی” کی جلد دوم میں ایک عجیب و غریب حویلی کا ذکر کیا ہے، جو بہت خوب صورت اور عالی شان تھی، لیکن اس کا نام نمک حرام کی حویلی تھا، اس نام نے حویلی کے سارے حسن کو غارت کر دیا تھا، نام کس طرح کردار کا استعارہ بن جاتا ہے، اس کی مثال یہ حویلی تھی، در اصل مرہٹوں پڑھنا جاری رکھیں

خون بدل، آہ بلب، اشک بمژگاں آید – اداریہ


الواقعۃ شمارہ: 74 – 75، رجب المرجب و شعبان 1439ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

آج ہم تاریخ کے اس موڑ پر کھڑے ہیں جہاں ہمارے پاس اپنی عظمت رفتہ کو یاد کرنے کے لیے تو بیش قیمت سرمایہ موجود ہے مگر خود اپنے حال کی زبوں حالی پر اشک بہانے کے لیے اسباب و وجوہ کی کمی نہیں۔ عظمتِ رفتہ کے نقوش کتنے ہی شاندار کیوں نہ ہوں لیکن زمانہ حال کی پسماندگی کو دور نہیں کر سکتے۔ ہم اپنے شاندار ماضی کو کتنا ہی آراستہ کرکے دنیا کے سامنے پڑھنا جاری رکھیں

سفر سندھ : کچھ یادیں، کچھ باتیں – قسط : 1


الواقعۃ شمارہ: 74 – 75، رجب المرجب و شعبان 1439ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

عرصہ سے خواہش تھی کہ دیار سندھ کے ایک علمی مرکز پیر جھنڈا (سعید آباد، ضلع مٹیاری) اور نواب شاہ سے متصل لکھمیر میں موجود قیمتی کتب خانے کی زیارت کی جائے۔ الحمد للہ اس تقریب کی سعادت بھی بالکل اچانک ترتیب پا گئی۔ ہمارے محترم دوست مولانا انور شاہ راشدی عرصہ دراز سے ہمارے منتظر تھے ہی دوسری طرف ہمارے رفیقِ خاص حافظ شاہد رفیق (گوجرانوالہ) نے بھی اطلاع دی کہ پڑھنا جاری رکھیں

مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کا خاندان


الواقعۃ شمارہ: 72 – 73 جمادی الاول جمادی الثانی 1439ھ

از قلم : عبید اللہ لطیف، فیصل آباد

جب بر صغیر پاک و ہند میں صلیبی انگریزوں نے تجارت کی آڑ میں داخل ہو کر ایک سازش کے ذریعے مسلمانوں کی ہزار سالہ حکومت کو ختم کر کے نا جائز طور پر قبضہ کر لیا تو اس قبضہ کے خلاف مسلمانوں کے ایک طبقے نے انگریزوں کے خلاف کھلا اعلان جنگ کر دیا۔ ایسی صورت حال میں مسلمانوں میں سے جہادی جذبے کو ختم کرنے کے لیے پڑھنا جاری رکھیں