بیت المال کا اسلامی تصور


الواقعۃ شمارہ 56، محرم الحرام 1438ھ

از قلم : ابو نصر فاروق ، پٹنہ

جب کسی امت پر زوال طاری ہوتا ہے تب عقیدہ و ایمان اور عمل خیر و شر کے تعلق سے اس کے اساسی تصورات خلط ملط ہو جاتے ہیں اور زندگی صراط مستقیم سے محروم ہو کر جہالت کی گمراہیوں میں بھٹکنے لگتی ہے۔ ایک قادر مطلق حاکم اعلیٰ کے ہوتے ہوئے بھی اس کے ہونے کا یقینی تصور ذہنو ں سے اوجھل ہو جاتاہے اور قدم قدم پر اس سے بغاوت ہونے لگتی ہے اور جس حاکم کا سرے سے وجود ہی نہیں ہے اس کو حاکم جابر سمجھتے ہوئے تقویٰ اور خشیت کے ساتھ اس کی تابع داری ہونے لگتی ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

عبد الرحمٰن طاہر سورتی


الواقعۃ شمارہ 56، محرم الحرام 1438ھ

از قلم : عبد الوہاب بن محمود سورتی

نام و نسب

عبد الرحمن بن محمد بن  يوسف بن محمد بن احمد بن علی بن ابراہیم سورتی۔

تخلص

طاہر سورتی۔ پڑھنا جاری رکھیں

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مدافعت


چند مدافعانہ روّیوں کے تناظر میں

الواقعۃ شمارہ 55 ذی الحجہ 1437ھ / ستمبر 2016ء

اشاعت خاص : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اللہ کے محبوب بندے اور تقویٰ و صالحیت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھے۔ ان کی حق پرستی اور صداقت آفرینی ہی تھی جس کی وجہ سے اللہ رب العزت نےا نہیں اس امت مسلمہ کے دس بڑے مسلمانوں میں سے ایک بنا دیا۔  یہ امت عثمان ( رضی اللہ عنہ ) کے احسانوں سے کبھی سبک دوش نہیں ہو سکتی اور نہ ہی خونِ عثمان ( رضی اللہ عنہ) کے مقدس چھینٹوں کا قرض اتار سکتی ہے جسے بڑی بے دردی سے بہایا گیا۔  پڑھنا جاری رکھیں

یک نظر بر فتوحات عہد عثمانی


الواقعۃ شمارہ 55 ذی الحجہ 1437ھ / ستمبر 2016ء

اشاعت کاص : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ

از قلم : مولانا عبد الرحیم اظہر ڈیروی

اسم و نسب
عثمان بن عفان بن ابی العاص بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف قریشی اموی ہیں۔ ان کا نسب اور رسول اللہ ﷺ کا نسب عبد مناف میں مل جاتا ہے۔ ان کی کنیت ابو عبد اللہ تھی اور بعض لوگوں نے ابو عمرو بیان کی ہے اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ پہلے ان کی کنیت ابو عمرو تھی ، پھر ان کی کنیت ابو عبد اللہ ہو گئی جن کی والدہ رقیہ بنت رسول اللہ ﷺ تھیں۔ عثمان بن عفان کی والدہ ارویٰ بنت کریز بن ربیعہ بن حبیب بن عبد شمس جو عبد اللہ بن عامر کی پھوپھی زاد بہن تھیں اور ارویٰ کی والدہ بیضاء بنت عبد المطلب تھیں جو رسول کریم ﷺ کی پھوپھی تھیں۔ ذو النورین آپ کا لقب تھا۔ ( اسد الغابہ از الشیخ مؤرخ عز الدین بن الاثیر ابی الحسن علی بن محمد الجزری)
عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی ولادت سے متعلق علامہ الشیخ سیّد الشبلنجی المدعو بمؤمن لکھتے ہیں :- پڑھنا جاری رکھیں

نبوت عظمیٰ کا جانشین ثالث


عثمان ذی النورین بن عفان الاموی العبشمی

الواقعۃ شمارہ 55 ذی الحجہ 1437ھ / ستمبر 2016ء

اشاعت کاص : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ

از قلم : مولانا فدا علی طالب

حضرت عثمان کی شرافتِ خاندانی اور قومی وجاہت عام طور پر مسلم ہے ، خاندانِ بنی امیہ کا اقتدار اور ان کی سیادت و وجاہت تاریخ میں اس شرح و بسط کے ساتھ مذکور ہے کہ اس پر زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ حضرت عثمان کا نسب باپ کی طرف سے چار واسطوں سے اور ماں کی طرف سے دو واسطوں سے رسول اللہ ﷺ کے نسب سے مل جاتا ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

جود و سخا کا پیکر عظیم — خلیفہ ثالث حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ


الواقعۃ شمارہ 55 ذی الحجہ 1437ھ

اشاعت خاص : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ

از قلم : ابو عمار سلیم

اللہ رب العزت نے اپنی زمین کو بنایا اور اسے اپنی بہترین تخلیق یعنی انسان کے سپرد کردیا اور اس پر اسے اپنا نائب بنا کر اتار دیا۔اللہ نے جو تمام علوم کا منبع اور جاننے والا ہے، اپنی خلقت عظیم ،انسان کو خود اپنے علم کا جتنا حصہ چاہا عطا کر دیا۔اور یہ علم حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بذات خود بغیر کسی واسطہ کے عطا کیا۔اور اسی علم کی بدولت انسان تمام فرشتو ں کا مسجود بنا اور اللہ کے دربار میں شرف حاصل کیا۔ جب انسان زمین پر اتارا گیا تو اس نے اللہ کے ودیعت کردہ پڑھنا جاری رکھیں

شمع رسالت ﷺ کا ایک پروانہ


الواقعۃ شمارہ 55 ذی الحجہ 1437ھ

اشاعت خاص : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ

از قلم : محمد زبیر شیخ ( ملتان)

تاریخ اسلام کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو بہت سی خصوصیات سے نوازا ہے۔ ان مختلف الجہت خصوصیات میں سے ایک خصوصیت وہ رجال اللہ ہیں جنہیں تاریخ میں بلند مقام حاصل ہے۔ خصوصاً صحابہ کرام کی زندگیاں ہمارے لیے روشن مثال ہیں۔ اس مضمون میں انہی ہستیوں میں سے ایک منفرد ہستی کا تذکرہ کیا جا رہا ہے جن کی زندگی کفر کی موت تھی۔ وقت کی دھول بھی ان کی تابندہ سیرت کو دھندلا نہیں سکی۔ جو شرم وحیاء کا پیکر تھی۔ (مسلم: ۲۴۰۱) پڑھنا جاری رکھیں