ختم نبوت اسلام کا اساسی عقیدہ


الواقعۃ شمارہ: 72 – 73 جمادی الاول جمادی الثانی 1439ھ

از قلم : مولانا عبد المعید مدنی، نئی دہلی، بھارت

مولانا عبد المعید مدنی ہندوستان کے نامور عالم و دانشور ہیں۔ انھوں نے "الواقعۃ” کی اشاعت خاص برائے "ختم نبوت” کے لیے ہماری استدعا پر ذیل کا مضمون تحریر فرمایا تھا مگر افسوس یہ مضمون بر وقت نہ پہنچ سکا۔ جس کی وجہ سے اشاعت خاص میں شامل نہ کیا جا پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

امت مسلمہ کی غفلت – اداریہ


الواقعۃ شمارہ: 72 – 73 جمادی الاول جمادی الثانی 1439ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

نئے عیسوی سال کی آمد کے ساتھ امت مسلمہ نئے مشکلات سے ہمکنار ہوئی۔ طاغوتی قوتوں کی پیش قدمی مسلسل جاری ہے اور امت مسلمہ کی غفلت اور سراسیمگی بدستور بر قرار۔ پڑھنا جاری رکھیں

غفلت


الواقعۃ شمارہ: 72 – 73 جمادی الاول جمادی الثانی 1439ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

غفلت، بادِ سموم کے جھونکے کی طرح ہوتی ہے۔ انسان جب مسموم فضا میں ہوتا ہے تو اپنی ہر سانس کے ساتھ اپنے جسم میں زہر اتارتا جاتا ہے حتیٰ کہ جسم زندگی کی حرارت سے محروم ہو جاتا ہے اور دل کی دھڑکن ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جاتی ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

مجلہ "الواقعۃ” کراچی : اشاعت خاص برائے "ختم نبوت”۔


Al Waqia Khatam e Nabuwat

الحمد للہ مجلہ الواقعۃ کی اشاعت خاص برائے "ختم نبوت” مرحلہ طباعت سے گزر کر منصہ شہود پر آ چکا ہے۔ حسب ذیل مقامات سے بآسانی دستیاب ہے

لاہور
مکتبہ بیت السلام (ڈسٹری بیوٹر) 03334413318

احمد پور شرقیہ
ادارہ تفہیم الاسلام، مولانا حمید اللہ خان عزیز 03022186601

حیدر آباد
رحمانیہ کتاب گھر حیدر آباد ٹریڈ سینٹر، حیدر چوک 03333030804

کراچی
مکتبہ دار الاحسن، یٰسین آباد، فیڈرل بی ایریا 03333738795
فضلی بک، سپر مارکیٹ، اردو بازار 03219294753
بیت القلم، اردو بازار 03003509152
کتب خانہ سیرت بک مال، اردو بازار 03333114696
حرمین پبلی کیشنز بک مال، اردو بازار 03333030804
حرمین پبلی کیشنز مسجد الصدیق، منور چورنگی، گلستان جوہر 03333030804

 

خاتم النبییٖن سے خاتم الامۃ تک – اداریہ


الواقعۃ شمارہ: 70 – 71 ربیع الاول و ربیع الثانی 1439ھ

اشاعت خاص : ختم نبوت

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

اسلام میں توحید اور ختم نبوت، یہ دو ایسے عقیدے ہیں جو محض رسمی نظریات نہیں بلکہ عملی قوت کی حیرت انگیز تاثیر رکھتے ہیں۔ توحید کا تقاضا تو ہر امت اور ہر فردِ بشر سے کیا گیا اور اس میں اسلام اور مذاہب گزشتہ کی کوئی تخصیص نہیں مگر ختم نبوت کا عقیدہ صرف اس امتِ آخر سے مخصوص ہے اور سر دست یہاں اسی عقیدے سے متعلق گزارشات پیش کرنا پڑھنا جاری رکھیں

عقیدہ ختم نبوت کو متنازعہ نہ بنایا جائے ! – اداریہ


الواقعۃ شمارہ : 68 – 69، محرم الحرام و صفر المظفر 1438ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

عقیدہ ختم نبوت، اسلام کے نظریہ ایمان و ہدایت کا ایک بنیادی و اساسی عقیدہ ہے۔ جس کے اعتراف کے بغیر کوئی انسان دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہو سکتا۔ یہ مشترکہ اسلامی میراث ہے جس پر کسی فرقہ کی کوئی اجارہ داری نہیں۔ کوئی مسلمان ایک لمحے پڑھنا جاری رکھیں

بیرسٹر عبد العزیز، عزیز ملت


الواقعۃ شمارہ : 66 – 67، ذیقعد و ذی الحجہ 1438ھ

از قلم : سید محمد رضی ابدالی

دسمبر ۱۹۰۶ء کو ڈھاکہ میں آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا۔ ڈھاکہ کے اجلاس میں صوبہ بہار کے مسلم زعماء میں جسٹس شرف الدین، مظہر الحق بار ایٹ لاء، سر سیّد علی امام، جسٹس حافظ سیّد عنایت کریم، نواب نصیر حسین خیالؔ عظیم آبادی اور مولانا شمس الہدیٰ وکیل نے شرکت کی تھی۔ آل انڈیا مسلم لیگ بہار کے رہنماؤں میں ایک اہم نام بیرسٹر عبد العزیز کا بھی ہے۔ انھوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کے پہلے عوامی اجلاس کے جو دسمبر ۱۹۳۸ء کو پٹنہ میں منعقد ہوا، کے تمام اخراجات برداشت کیے تھے۔ بیرسٹر عبد العزیز ۱۸۸۲ء کو پٹنہ (بہار) میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد سیّد حفاظت حسین ایک بلند پایہ حکیم تھے۔ آپ کے والدین کا انتقال بچپن میں ہی ہو گیا تھا۔ آپ نے اسکول کی تعلیم جسٹس شرف الدین کے گھر میں رہ حاصل کی جو آپ کے قریبی عزیز بھی تھے۔ بعد ازاں پٹنہ اسکول میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے کے بعد سینٹ کولمبس کالج ، ہزاری باغ سے انٹر میڈیٹ کیا، انٹر میڈیٹ کے بعد آپ کو بیرسٹری کے لیے لندن بھیج دیا گیا۔ انگلستان میں قیام کے دوران آپ نے مقامی اخباروں میں مضامین لکھے جس کی وجہ سے انھیں بڑی مقبولیت حاصل ہوئی۔ ۱۹۱۱ء میں آپ نے لندن سے بیرسٹری کی سند حاصل کی اور ۱۹۱۲ء میں وطن واپس لوٹے۔ بیرسٹر سیّد عبد العزیز نے وکالت کا آغاز کلکتہ ہائی کورٹ سے شروع کیا جہاں آپ کو سر سیّد علی امام اور سیّد حسن امام کے ساتھ وکالت کرنے کا موقع ملا۔ ۱۹۲۶ء میں کلکتہ میں ہندو مسلم فساد ہوا اور مسلمانانِ کلکتہ کو بہت بڑی تعداد میں گرفتار کر لیا گیا ان کے مقدمات کی پیروی کے لیے مسلمانوں کی نظر انتخاب بیرسٹر عبد العزیز پر پڑی۔ ان کی قانون سے متعلق صلاحیتوں کے پیشِ نظر حکومت برطانیہ نے دلی سازش کے مقدمہ کی پیروی کے سلسلے میں ۱۹۳۲ء میں ان کی خدمات حاصل کیں۔

مسلمانانِ بہار نے ہندو مسلم اتحاد کے لیے ہمیشہ بڑی کوشش کیں۔ لیکن جب شدھی اور سنگھٹن تحریک شروع ہوئی اور بہار میں ہندو مہا سبھائیوں نے مسلمان برقع پوش عورتوں کی زندگی اجیرن بنا دی تو مسلمانانِ بہار نے ’’انجمن محافظت‘‘ قائم کی، جس کے صدر سر سیّد علی امام منتخب کیے گئے اور نائب صدارت کے لیے بیرسٹر عبد العزیز کا انتخاب عمل میں آیا۔ آپ نے انگریزی اور اردو میں ’’پروگریس‘‘ اور ’’پیام‘‘ کے نام سے دو اخبار جاری کیے ان اخبارات کے ذریعے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت کی خلیج کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ آپ اپنی آمدنی سے آنکھ کے مریضوں کاہر سال کیمپ بھی قائم کیا کرتے تھے۔ یہ سلسلہ ۱۹۳۹ء سے ۱۹۴۳ء تک قائم رہا۔ مریضوں میں ہندوؤں اور مسلمانوں کی کوئی تخصیص نہ تھی۔

بیرسٹر عبد العزیز نے وکالت کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی ہمیشہ دلچسپی لی اور بہار صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں ۲ مرتبہ کامیابی حاصل کی۔ آپ اس صوبے کے وزیر زراعت اور وزیر تعلیم بھی مقرر ہوئے۔ ۱۹۳۵ء کے انڈیا ایکٹ کے نفاذ کے بعد بر صغیر کے مسلمانوں نے ہر صوبے میں مقامی طور پر سیاسی جماعتیں تشکیل دے دیں۔ بیرسٹر عبد العزیز نے بھی ایک پارٹی قائم کی جس کا نام ’’یونائیٹڈ پارٹی‘‘ تھا۔ ۱۹۳۷ء میں مسلم لیگ کی تنظیم کے لیے قائد اعظم پٹنہ آئے تو اس موقع پر بیرسٹر عبد العزیز نے اپنی پارٹی کو آل انڈیا مسلم لیگ میں ضم کرنے کا اعلان کیا۔

بیرسٹر عبد العزیز آل انڈیا مسلم لیگ کی پہلی ورکنگ کمیٹی کے ممبر اور بہار مسلم لیگ کے صدر بھی منتخب ہوئے تھے۔ آل انڈیا مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کا پہلا جلسہ محمد علی پارک کلکتہ میں ۲۷ دسمبر ۱۹۳۷ء کو منعقد ہوا تھا۔ اس موقع پر قائد اعظم نے بیرسٹر عبد العزیز کو انجمن کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے خصوصی طور پر دعوت نامہ ارسال کیا۔ دسمبر ۱۹۳۸ء کے آخری عشرے میں آل انڈیا مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس پٹنہ (بہار) میں منعقد ہوا اور آپ مجلس استقبالیہ کے صدر منتخب ہوئے۔ اپنی افتتاحی تقریر میں انھوں نے محمد علی جناح کو ’’قائدِ اعظم‘‘ کے خطاب سے نوازا۔ پنجاب کے ایک مسلم لیگی رضا کار میاں فیروز الدین نے مسٹر جناح کے پنڈال میں داخل ہوتے وقت ’’قائدِ اعظم زندہ باد‘‘ کا نعرہ بلند کیا جو بعد میں سارے ہندوستان میں مشہور ہو گیا۔ پٹنہ کے اجلاس میں آل انڈیا خواتین مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی۔ آل انڈیا مسلم لیگ پٹنہ کے سالانہ اجلاس کے بعد بیرسٹر عبد العزیز نے پٹنہ میں ایک جلسہ عام طلب کیا جس کی صدارت سردار اورنگ زیب خان (سابق وزیر اعلیٰ سرحد) نے کی۔ نواب بہادر یار جنگ کو خصوصی طور پر مدعو کیا تھا اس جلسہ میں ریاستی مسلم لیگ کی بنیاد پڑی اور نواب بہادر یار

پڑھنا جاری رکھیں