قادیانی طریقہ بیعت اور قادیانی دجل


الواقعۃ شمارہ: 98 – 100، رجب المرجب تا رمضان المبارک 1441ھ

از قلم : عبید اللہ لطیف

قارئینِ "الواقعۃ” اس مضمون میں مرزا قادیانی اور اس کے متبعین کے اقتباسات یقیناً ایک صاحبِ ایمان کے لیے بہت تکلیف دہ ہیں۔ ان کے کفریہ ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ تاہم انھیں صرف اس لیے نقل کیا گیا ہے تاکہ امت مسلمہ میں موجود نادان افراد قادیانی دجل و فریب سے آگاہ ہو سکیں اور ان کے دام تزویر میں نہ آئیں۔ نیز یہ خیال رہے کہ نقل کفر کفر نباشد۔” (ادارہ)۔

محترم قارئین! قادیانی اپنے خودساختہ خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہوئے جن بنیادی باتوں کا اقرار کرتے ہیں وہ درج ذیل ہیں:-۔

۔1- کلمہ شہادت کا اقرار
۔2- حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین ماننا
۔3- مرزا غلام احمد قادیانی کو وہی امام مہدی اور مسیح موعود ماننا جس کی پیشگوئی جناب محمد رسول اللہ ﷺ نے کی ہے
۔4- قادیانی جماعت کے موجودہ سربراہ کے تمام احکامات کی پاسداری کرنا اور اسے بطور خلیفة المسلمین تسلیم کرنا۔

محترم قارئین ! اب میں آپ کے سامنے قادیانیوں کی بیعت کے ان چاروں اصولوں اور قادیانی دجل و فریب کو سٹیپ بائی سٹیپ بیان کرتا ہوں تاکہ کوئی عام آدمی کسی بھی قسم کے دھوکے کا شکار نہ ہو جائے۔

۔(1) قادیانی کلمہ شہادت کی حقیقت:۔

محترم قارئین ! قادیانی کلمہ کی حقیقت کو جاننے اور سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ یہ جان لیا جائے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ کیا تھا ؟ قارئین کرام یاد رکھیے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے نہ صرف خود محمد رسول اللہ ﷺ ہونے کا دعوی کیا ہے بلکہ اپنے اصحاب کو محمد رسول اللہ ﷺ کے اصحاب بھی قرار دیا ہے۔چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی خود لکھتا ہے:-۔

۔’’اور جو شخص مجھ میں اور مصطفیٰ میں تفریق کرتا ہے اس نے مجھے نہیں دیکھا اور نہ پہچاناہے۔‘‘ (خطبہ الہامیہ صفحہ  171، مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 259)۔

مزید ایک مقام پر مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے:-۔

۔’’پس وہ جو میری جماعت میں داخل ہوا در حقیقت میرے سردار خیر المرسلین کے صحابہ میں داخل ہوا۔‘‘ (خطبہ الہامیہ صفحہ 171، مندرجہ روحانی خزائن جلد 16، صفحہ 258)۔

محترم قارئین ! یہاں پر یہ بھی یاد رہے کہ قادیانیوں کے نزدیک آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی خود محمد رسول اللہ ﷺ ہے کیونکہ مرزا قادیانی خود محمد رسول اللہ ﷺ ہونے کادعویٰ کرتے ہوئے لکھتا ہے:-۔

۔’’مگر میں کہتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد جو درحقیقت خاتم النبین تھے، مجھے رسول اور نبی کے لفظ سے پکارے جانا کوئی اعتراض کی بات نہیں، اور نہ ہی اس سے مہر ختمیت ٹوٹتی ہے۔ کیونکہ میں بار بار بتلا چکا ہوں، میں بموجب آیت وَآخَرِیْنَ مِنْھُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ وہی خاتم الانبیاء ہوں۔ اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت ﷺ کا وجود قرار دیا ہے۔ پس اس طور سے آنحضرت ﷺکے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا۔ کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا اور چونکہ میں ظلی طور پر محمد ﷺ ہوں، پس اس طور سے خاتم النبین کی مہر نہیں ٹوٹی۔ کیونکہ محمدﷺ کی نبوت محمد ہی تک محدود رہی۔ یعنی بہرحال محمد ﷺ ہی نبی رہے اور نہ اور کوئی۔ یعنی جب کہ میں بروزی طور پر آنحضرت ﷺ ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے، میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں۔ تو پھر کونسا الگ انسان ہوا جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا۔‘‘ (ایک غلطی کا ازالہ، صفحہ 8، مندرجہ روحانی خزائن جلد 18، صفحہ 212)۔

اسی طرح ایک اور جگہ قادیانی کذاب لکھتا ہے:-۔

۔’’نبوت کی تمام کھڑکیاں بند کی گئیں مگر ایک کھڑکی سیرۃ صدیقی کی کھلی ہے۔ یعنی فنا فی الرسول کی۔ پس جو شخص اس کھڑکی کی راہ سے خدا کے پاس آتا ہے اس پر ظلی طور پر وہی نبوت کی چادر پہنائی جاتی ہے جو نبوت محمدی کی چادر ہے۔ اس لیے اس کا نبی ہونا غیرت کی جگہ نہیں کیونکہ وہ اپنی ذات سے نہیں بلکہ اپنے نبی کے چشمہ سے لیتا ہے۔ اور نہ اپنے لیے بلکہ اسی کے جلال کے لیے۔ اس لیے اس کا نام آسمان پر محمد اور احمد ہے۔ اس کے یہ معنیٰ ہیں کہ محمد کی نبوت آخر محمد کو ہی ملی۔ گو بروزی طور پر مگر نہ کسی اور کو ….. لیکن اگر کوئی شخص اسی خاتم النبین میں ایسا گم ہو کہ بباعث نہایت اتحاد اور نفی غیریت کے اسی کا نام پا لیا ہو اور صاف آئینہ کی طرح محمدی چہرہ کا اس میں انعکاس ہو گیا ہو تو وہ بغیر مہر توڑنے کے نبی کہلائے گا۔ کیونکہ وہ محمد ہے۔ گو ظلی طور پر۔ پس باوجود اس شخص کے دعویٰ نبوت کے جس کا نام ظلی طور پر محمد اور احمد رکھا گیا۔ پھر بھی سیدنا محمد خاتم النبین ہی رہا۔ کیونکہ یہ محمد (ثانی) (مرزا قادیانی) اسی محمد کی تصویر اور اسی کا نام ہے۔‘‘ (ایک غلطی کا ازالہ، صفحہ 3-5، مندرجہ روحانی خزائن، جلد 18، صفحہ 207-209)۔

مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد جسے قادیانی قمر الانبیاء کے لقب سے پکارتے ہیں اپنی کتاب میں ایک مقام پر لکھتا ہے:-۔

۔’’اور چونکہ مشابہت تامہ کی وجہ سے مسیح موعود اور نبی کریم ﷺ میں کوئی دوئی باقی نہیں کہ ان دونوں کے وجود بھی ایک وجود کا ہی حکم رکھتے ہیں جیسا کہ خود مسیح موعود (مرزا قادیانی ) نے فرمایا کہ صار وجودی وجودہ (دیکھو: خطبہ الہامیہ صفحہ 171) اورحدیث میں بھی آیاہے کہ حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مسیح موعود میری قبر میں دفن کیا جائے گا۔ جس سے یہی مراد ہے کہ وہ میں ہی ہوں یعنی مسیح موعود نبی کریم سے الگ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ وہی ہے جو بروزی رنگ میں دوبارہ دنیا میں آئے گا تاکہ اشاعت اسلام کا کام پورا کرے اور ھو الّذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ کے فرمان کے مطابق تمام ادیانِ باطلہ پر اتمام حجت کرکے اسلام کو دنیا کے کونوں تک پہنچاوے تو اس صورت میں کیا اس بات میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ قادیاں میں اللہ تعالیٰ نے پھر محمد ﷺ کو اتارا تاکہ اپنے وعدہ کو پورا کرے جو اس نے آخرین منھم لم یلحقوابھم میں فرمایا تھا۔‘‘ (کلمۃ الفصل، صفحہ 104-105)۔

محترم قارئین ! بعض لوگ قادیانیوں کے کلمہ پڑھنے سے بھی دھوکا میں آ جاتے ہیں کہ دیکھیں جی یہ بھی تو کلمہ پڑھتے ہیں۔ لہٰذا یہ بھی مسلمان ہی ہیں۔ حالانکہ قادیانی گروہ کلمہ میں جب ’’محمد رسول ﷲ ‘‘ کے الفاظ ادا کرتا ہے توا ن کا مقصد صرف محمد عربی ﷺ ہی نہیں ہوتا بلکہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ ساتھ مرزا غلام احمد قادیانی بھی ہوتا ہے جیسا کہ ہم مندرجہ بالا تحریروں میں مرزا قادیانی کے دعویٰ سے ثابت کر آئے ہیں۔

آئیے! قادیانی کلمہ کی مزید حقیقت جاننے کے لیے مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد کی درج ذیل تحریر کو بھی ملاحظہ کر لیں جب اس سے سوال کیا گیا کہ تم نے مرزا قادیانی کو نبی مانا ہے تو اپنا الگ کلمہ کیوں نہیں بنایا تو جواب دیتے ہوئے مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی لکھتا ہے:-۔

۔’’ہم کو نئے کلمے کی ضرورت پیش نہیں آتی کیونکہ مسیح موعود نبی کریمﷺ سے کوئی الگ چیز نہیں ہے جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے۔ صار وجودی وجودہ نیز من فرق بینی و بین المصطفی فما عرفنی وماریٰ اور یہ اس لیے ہے کہ حق تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبین کو دنیا میں مبعوث کرے گا جیسا کہ آیت آخرین منھم سے ظاہر ہے۔ پس مسیح موعود خود محمد رسول اﷲ ہے جو اشاعت اسلام کے لیے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔ اس لیے ہم کوکسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ ہاں اگر محمد رسول ﷲ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔ ‘‘ (کلمۃ الفصل، صفحہ 158، از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی )۔

محترم قارئین ! قاضی ظہور الدین اکمل نامی شخص مرزا قادیانی کا مرید خاص ہونے کے ساتھ ساتھ ایک شاعر بھی تھا اس نے مرزا قادیانی کی زندگی میں ایک نظم لکھی جو قادیانی اخبار بدر کے 25 اکتوبر 1906ء کے شمارے میں شایع ہوئی اس میں وہ مرزا قادیانی کو محمد رسول اللہ ﷺ قرار دے رہا ہے بلکہ محمد عربی ﷺ سے بڑھ کر قرار دے رہا ہے چنانچہ قاضی ظہور الدین اکمل لکھتا ہے:-۔

امام اپنا عزیزو اس زماں میں
غلام احمد ہوا دارالاماں میں
غلام احمد ہے عرش رب اکرم
مکاں اس کا ہے گویا لامکاں میں
غلام احمد رسول اللہ ہے برحق
شرف پایا ہے نوع انس و جاں میں
محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں

محترم قارئین ! اس نظم کے بارے میں قاضی ظہور الدین اکمل کا بیان ہے:-۔

۔”وہ اس نظم کا ایک حصہ جو حضرت مسیح موعود کے حضور میں پڑھی گئی اور خوشخط لکھے ہوئے قطعے کی صورت میں پیش کی گئی اور حضور اسے اپنے ساتھ اندر لے گئے۔ اس وقت کسی نے اس شعر پر اعتراض نہ کیا۔ حالانکہ مولوی محمد علی صاحب اور اعوانھم موجود تھے اور جہاں تک حافظہ مدد کرتا ہے بوثوق کہا جا سکتا ہے کہ سن رہے تھے اور اگر وہ اس سے بوجہ مرور زمانہ انکار کریں تو یہ نظم بدر میں چھپی اور شایع ہوئی۔ اس وقت ”بدر“ کی پوزیشن وہی تھی بلکہ اس سےکچھ بڑھ کر جو اس عہد میں ”الفضل“ کی ہے حضرت مفتی محمد صادق صاحب ایڈیٹر سے ان لوگوں کے محبانہ اور بے تکلفانہ تعلقات تھے۔ وہ خدا کے فضل سے زندہ موجود ہیں ان سے پوچھ لیں اور خود کہہ دیں کہ آیا آپ میں سے کسی نے بھی اس پر بھی ناراضگی یا نا پسندیدگی کا اظہار کیا اور حضرت مسیح موعود کا شرف سماعت حاصل کرنے اور اس پر جزاک اللہ تعالی کا صلہ پانے اور اس قطعے کو اندر خود لے جانے کے بعد کسی حق ہی کیا پہنچتا تھا کہ اس پر اعتراض کر کے اپنی کمزوری ایمان اور قلت عرفان کا ثبوت دیتا۔“ (اخبار الفضل قادیاں 22 اگست 1944ء)۔

محترم قارئین ! امید ہے کہ آپ قادیانیوں کی طرف سے کلمہ شہادت کے اقرار کے پس منظر میں جو حقائق ہیں ان سے بخوبی آگاہ ہو گئے ہوں گے اور ان کے دجل و فریب کو بھی پہچان چکے ہوں گے اب آپ کے سامنے قادیانیوں کی طرف سے نبی کریم ﷺ خاتم النبیین ماننے کی اصل حقیقت سے بھی آگاہ کرتا ہوں۔

۔(2) محمد رسول اللہ ﷺ بحیثیت خاتم النبیین اور قادیانی دجل:۔

قارئین کرام قادیانیوں سے بیعت لیتے ہوئے قادیانی سربراہ اس بات کا بھی اقرار لیتا ہے کہ وہ جناب محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین مانیں گے جس سے عام آدمی دھوکے کا شکار ہو جاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ قادیانی بھی تو عقیدہ ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں ان کو بلا وجہ کافر قرار دیا گیا ہے۔

محترم قارئین ! سب سے پہلے تو یہ ضروری ہے کہ اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ امت مسلمہ کے نزدیک عقیدہ ختم نبوت ہے کیا ؟

اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے:-۔

مَاکَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ وَلٰــکِن رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النِّبِیّٖنَ وَ کَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا (الاحزاب: 40)۔
۔”تمہارے مَردوں میں سے محمد (ﷺ) کسی کے باپ نہیں، لیکن آپ اﷲ تعالیٰ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کو ختم کرنے ۔والے ہیں۔ اور اﷲ تعالیٰ ہر چیز کو بخوبی جانتا ہے۔”۔

قرآن کریم کی اسی آیت کے ان معنوں اور مفہوم کی تائید فرمان رسول ﷺ سے بھی ہوتی ہے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:-۔

۔”وَاِذَا وُضِعَ السَّیْفُ فِیْ اُمَّتِیْ لَمْ یُرْفَعْ عَنْھَا إلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ وَلَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تَلْحَقَ قَبَائِلُ مِنْ اُمَّتِیْ بِالْمُشْرِکِیْنَ وَحَتّٰی تَعْبُدَ قَـبَائِلَ مِنْ اُمَّتِیْ الَاوْثَانَ وَإِنَّہ‘ سَیَکُوْنَ فِیْ اُمَّتِیْ کَذَّابُوْنَ ثَلَاثُوْنَ کُلُّھُمْ یَزْعُمُ اَنَّہ‘ نَبِیُّ اللّٰہِ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ وَلَا تَزَالُ طَائِفَۃٌ مِّنْ اُمَّتِیْ عَلَی الْحَقِّ ظَاھِرِیْنَ لَا یَضُرُّھُمْ مَنْ خَالَفَھُمْ حَتّٰی یَاْتِیَ اللّٰہُ بِاَمْرُ اللّٰہ۔”(سنن ابوداود، کتاب الفتن والملاحم: 4252، جامع ترمذی، کتاب الفتن:  2145)۔
۔”جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی تو وہ اس سے روز قیامت تک نہ اٹھائی جائے گی اور قیامت قائم نہ ہوگی حتی کہ میری امت کے بعض قبائل مشرکوں کے ساتھ نہ مل جائیں اور بتوں کی عبادت نہ کرنے لگیں۔ اور بے شک عنقریب میری امت میں تیس کذاب پیدا ہوں گے ان میں سے ہر ایک یہ گمان کرے گا کہ وہ ﷲ کا نبی ہے۔ جبکہ میں خاتم النبین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اور میری امت کا ایک گروہ حق پر رہے گا اور وہ غالب ہوں گے۔جو ان کی مخالفت کریں گے وہ ان کو ضرر نہ پہنچا سکیں گے حتی کہ اﷲ کا حکم آجائے۔”۔

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:-۔

۔”خَلَّفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ فِیْ غَزْوَۃِ تَبُوْکَ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تُخَلِّفُنِیْ فِی النِّسَآءَ وَالصِّبْیَانِ؟ قَالَ أمَا تَرْضٰی اَنْ تَکُوْنَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃَ ھَارُوْنَ مِنْ مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلاَم ؟ غَیْرَ اَنَّہ‘ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ۔” (صحیح مسلم، کتاب الفضائل: 6218، صحیح بخاری: 4416)۔
۔”رسول ﷲ ﷺ نے حضرت علی کو مدینہ میں اپنا نائب مقرر کیا۔ جب آپ ﷺ غزوہ تبوک کو تشریف لے گئے تو حضرت علی نے عرض کیا: یا رسولﷲ ﷺ آپ مجھ کو عورتوں اور بچوں میں چھوڑ کر جاتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم اس بات پر خوش نہیں کہ تمہارا درجہ میرے ہاں ایسا ہی ہو جیسے حضرت ہارونu کا موسیٰu کے ہاں تھا۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔”۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:-۔

۔” کَانَتْ بَنُوْ اِسْرَائِیْلَ تَسُوْسُھُمُ الْاَنْبِیَاءُ کُلَّمَا ھَلَکَ نَبِيٌّ خَلَفَہ‘ نَبِيٌّ اَخَرُ وَإِنَّہ‘ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ وَسَیَکُوْنَ الْخُلَفَآءُ فَیَکْثُرُونَ۔” (صحیح بخاری، کتاب الاحادیث الانبیاء حدیث: 3455، سنن ابن ماجہ ،حدیث: 2871)۔
۔”بنی اسرائیل کے انبیاء ان کی سیاسی رہنمائی بھی کیا کرتے تھے۔ جب بھی ان کا کوئی نبی فوت ہو جاتا تواس کی جگہ دوسرا نبی آجاتا لیکن یاد رکھو میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا مگر نائبین بکثرت ہوں گے۔”۔

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷲ ﷺ نے فرمایا:-۔

۔”لَوْ کَانَ نَبِیٌّ بَعْدِی لَکَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ۔” (سنن ترمذی، ابواب المناقب، حدیث: 3686، حسن)۔
ترجمہ: "اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتا۔”۔

ایک اور حدیث مبارکہ میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:-۔

۔”اِنَّ الرَّسَالَۃَ وَالنَبُوَّۃَ قَدِ انْقَطَعَتْ فَلَا رَسُوْلَ بَعْدِیْ وَلَا نَبِیَّ۔” (جامع ترمذی، کتاب الرویا، رواہ انس بن مالک حدیث: 2272)۔
"رسالت اور نبوت کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے۔ میرے بعد اب نہ کوئی رسول ہے اور نہ کوئی نبی۔”

اس حدیث مبارکہ میں نبی اور رسول دونوں کی نبی آخر الزمان ﷺ کے بعد آنے کی نفی کی گئی ہے۔ آئیے ذرا اس بات پر غور کریں کہ نبی اور رسول میں کیا فرق ہوتا ہے۔ اس ضمن میں اس دور کے سب سے بڑے کذاب داعی نبوت مرزا قادیانی کا اپنا بیان قابل توجہ ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی رقم طراز ہے:-۔

۔’’خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ کوئی رسول دنیا میں مطیع اور محکوم ہو کر نہیں آتا بلکہ وہ مطاع اور صرف اپنی اس وحی کا متبع ہوتا ہے جو اس پر بذریعہ جبرائیل نازل ہوتی ہے۔‘‘ (ازالہ اوہام، ص: 567، مندرجہ روحانی خزائن، جلد 3، صفحہ 411)۔

مرزا غلام احمد قادیانی نبی کی تعریف میں یوں رقم طراز ہے:-۔

۔’’نبی کے معنٰی صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو اور شرف مکالمہ اور مخاطبہ الٰہیہ سے مشرف ہو، شریعت کا لانا اس کے لیے ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ صاحب شریعت رسول کا متبع ہو۔‘‘ (ضمیمہ براہین احمدیہ، حصہ پنجم، صفحہ 138، مندرجہ روحانی خزائن، جلد 21، صفحہ 306)۔

محترم قارئین ! قادیانی دجال کے مندرجہ بالا بیانات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ رسول صاحب شریعت کا متبع ہوتا ہے اور نہ ہی وہ نئی شریعت اپنے ساتھ لاتا ہے۔ ان دونوں معنوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے حدیث کے الفاظ پر توجہ دیں تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ نبی کریم ﷺ کے بعد نہ صاحب شریعت نبی آ سکتا ہے اور نہ ہی صاحب شریعت رسول ‘رسول اور نبی دونوں کے آنے کی نفی کی ہے۔ جب کہ مرزا قادیانی نے نہ صرف نبوت کا دعویٰ کیا ہے بلکہ صاحب شریعت ہونے کا بھی مدعی ہے۔ جس کی تفصیل مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت میں موجود ہے۔

محترم قارئین ! قرآن کریم اور احادیث مبارکہ سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ نبی کریم ﷺ آخری نبی ہیں۔ ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور جو بھی دعویٰ نبوت کرے گا وہ بمطابق فرمان نبوی کذاب و دجال ہوگا ۔

اب آتے ہیں اس بات کی طرف کہ امت مرزائیہ کے نزدیک خاتم النبیین کا کیا مفہوم ہے جس کا بیعت لیتے ہوئے اقرار کروایا جاتا ہے لیکن اس سے پہلے مرزا غلام احمد قادیانی کا ایک ملفوظ ملاحظہ کر لیں چنانچہ مرزا قادیانی کہتا ہے:-۔

۔”یقینًا یاد رکھو کہ کوئی شخص سچا مسلمان نہیں ہو سکتا اور آنحضرت ﷺ کا متبع نہیں بن سکتا جب تک آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین یقین نہ کر لے جب تک ان محدثات سے الگ نہیں ہوتا اور اپنے قول اور فعل سے آپ ﷺ کو خاتم النبیین نہیں مانتا۔“ (ملفوظات، جلد دوم، صفحہ 64، طبع چہارم)۔

محترم قارئین ! مرزا غلام احمد قادیانی آیت خاتم النبیین کے مفہوم کے تحت کہتا ہے:-۔

۔”چنانچہ ان خوبیوں اور کمالات کے جمع ہونے کا ہی نتیجہ تھا کہ آپ پر نبوت ختم ہو گئی اور یہ فرمایا کہ مَاکَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ وَلٰــکِن رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النِّبِیّٖنَ (الاحزاب: 40) ختم نبوت کے یہی معنی ہیں کہ نبوت کی ساری خوبیاں اور کمالات تجھ پر ختم ہو گئے اور آئندہ کے لیے کمالات نبوت کا باب بند ہو گیا اور کوئی نبی مستقل طور پر نہ آئے گا۔
نبی عربی اور عبرانی دونوں زبانوں میں مشترک لفظ ہے جس کے معنی ہیں خدا سے خبر پانے والا اور پیشگوئی کرنے والا جو لوگ براہ راست خدا سے خبریں پاتے تھے وہ نبی کہلاتے تھے اور یہ گویا اصطلاح ہو گئی تھی مگر اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آیندہ کے لیے اللہ تعالی نے اس کو بند کر دیا ہے اور مہر لگا دی ہے کہ کوئی نبی آنحضرت ﷺ کی مہر کے بغیر نہیں ہو سکتا جب تک آپ کی امت میں داخل نہ ہو اور آپ کے فیض سے مستفیض نہ ہو وہ خدا تعالی سے مکالمہ شرف نہیں پا سکتا جب تک آنحضرت ﷺ کی امت میں داخل نہ ہو ۔“ (ملفوظات، جلد سوم، صفحہ 95، طبع چہارم)۔

ایک اور مقام پر مرزا قادیانی کہتا ہے:-۔

۔”مَاکَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ وَلٰــکِن رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النِّبِیّٖنَ وَ کَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا (الاحزاب: 40) اس آیت میں اللہ تعالی نے جسمانی طور سے آپ کی اولاد کی نفی بھی کی ہے اور ساتھ ہی روحانی طور سے اثبات بھی کیا ہے روحانی طور پہ آپ باپ بھی ہیں اور روحانی نبوت اور فیض کا سلسلہ آپ کے بعد جاری رہے گا اور وہ آپ میں سے ہو کر جاری ہو گا نہ الگ طور سے۔ وہ نبوت چل سکے گی جس پر آپ کی مہر ہوگی۔ ورنہ اگر نبوت کا دروازہ بالکل بند سمجھا جائے تو نعوذ باللہ اس سے تو انقطاع فیض لازم آتا ہے اور اس میں تو نحوست ہے اور نبی کی ہتک شان ہوتی ہے گویا اللہ تعالی نے اس امت کو جو کہا کہ کنتم خیر امة یہ جھوٹ تھا نعوذ باللہ۔ اگر یہ معنی کیے جائیں کہ آیندہ کے واسطے نبوت کا واسطہ ہر طرح سے بند ہے تو پھر خیرالامة کی جگہ شرالامم ہوئی یہ امت۔“ (ملفوظات، جلد سوم، صفحہ 248-249، طبع چہارم)۔

ایک اور مقام پر مرزا قادیانی نے کہا:-۔

۔”خود قرآن میں النبیین جس پر ال پڑا ہے موجود ہے اس سے مراد یہی ہے کہ جو نبوت نئی شریعت لانے والی تھی وہ اب ختم ہو گئی ہے اگر کوئی نئی شریعت کا دعویٰ کرے تو کافر ہے اور اگر سرے سے مکالمہ الٰہی سے انکار کیا جاوے تو پھر اسلام ایک مردہ مذہب ہو گا اور اس میں اور دوسرے مذاہب میں کوئی فرق نہ رہے گا کیونکہ مکالمہ کے بعد اور کوئی ایسی بات نہیں رہتی کہ وہ ہو تو اسے نبی کہا جائے۔ نبوت کی علامت مکالمہ لیکن اب اہل اسلام نے جو یہ اپنا مذہب قرار دیا ہے کہ اب مکالمہ کا دروازہ بند ہے اس سے تو ظاہر ہے کہ خدا کا بڑا قہر اس امت پر ہے ۔“ (ملفوظات، جلد سوم، صفحہ 52-53، طبع چہارم)۔

محترم قارئین ! ایک اور موقع پر مرزا قادیانی سے سوال کیا گیا کہ خاتم النبیین کے کیا معنی ہیں تو مرزا قادیانی نے جواب دیا:-۔

۔”اس کے یہ معنی ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی صاحب شریعت نہیں آوے گا اور یہ کہ کوئی ایسا نبی آپ کے بعد نہیں آ سکتا جو رسول اکرم ﷺ کی مہر اپنے ساتھ نہ رکھتا ہو۔“ (ملفوظات، جلد پنجم، صفحہ 565، طبع چہارم )۔

محترم قارئین ! مندرجہ بالا بحث سے یقیناً آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ امت مرزائیہ کے نزدیک خاتم النبیین سے مراد ایسا نبی ہے جس کے بعد شرعی نبوت بند ہو لیکن غیر شرعی اور امتی نبوت جاری ہو اور غیر شرعی امتی نبوت اس خاتم النبیین کے فیض سے ملتی ہو جبکہ اس کے برعکس امت مسلمہ ہر طرح کی نبوت کے بند ہونے کا عقیدہ رکھتی ہے ۔

۔(3) کیا مرزا قادیانی وہی امام مہدی اور مسیح موعود ہے جس کی پیش گوئی محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمائی تھی ؟

محترم قارئین ! ظہور امام مہدی کے بارے میں صحیح احادیث اس تواتر سے بیان ہوئی ہیں کہ جس کے بارے میں کسی بھی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ یہاں پر امام مہدی کے بارے میں چند احادیث بیان کرنے کے بعد مرزا قادیانی اور اس کی ذریت کے دجل و فریب کو آشکار کروں گا ان شاء اللہ پہلے چند ایک احادیث نبویہ ﷺ ملاحظہ فرمائیں چنانچہ نبی کریم ﷺ کا فرمان سنن ابو داود اور سنن ترمذی میں ہے:-۔

۔”لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا يَوْمٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ زَائِدَةُ فِي حَدِيثِهِ لَطَوَّلَ اللَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ اتَّفَقُوا:‏‏‏‏ حَتَّى يَبْعَثَ فِيهِ رَجُلًا مِنِّي أَوْ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي وَاسْمُ أَبِيهِ اسْمَ أَبِي زَادَ فِي حَدِيثِ فِطْرٍ يَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ ظُلْمًا وَجَوْرًا، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ:‏‏‏‏ لَا تَذْهَبُ أَوْ لَا تَنْقَضِي الدُّنْيَا حَتَّى يَمْلِكَ الْعَرَبَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ لَفْظُ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي بَكْرٍ بِمَعْنَى سُفْيَانَ.”۔
یعنی: "نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر دنیا کا ایک دن بھی رہ جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس دن کو لمبا کر دے گا، یہاں تک کہ اس میں ایک شخص کو مجھ سے یا میرے اہل بیت میں سے اس طرح کا برپا کرے گا کہ اس کا نام میرے نام پر، اور اس کے والد کا نام میرے والد کے نام پر ہو گا، وہ عدل و انصاف سے زمین کو بھر دے گا، جیسا کہ وہ ظلم و جور سے بھر دی گئی ہے۔ سفیان کی روایت میں ہے: دنیا نہیں جائے گی یا ختم نہیں ہو گی تآنکہ عربوں کا مالک ایک ایسا شخص ہو جائے جو میرے اہل بیت میں سے ہو گا اس کا نام میرے نام کے موافق ہو گا۔ ابو داود کہتے ہیں: عمر اور ابوبکر کے الفاظ سفیان کی روایت کے مفہوم کے مطابق ہیں۔” (سنن ابو داود، حدیث نمبر 4282)۔

۔”عَنْ عَلِيٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدَّهْرِ إِلَّا يَوْمٌ لَبَعَثَ اللَّهُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يَمْلَؤُهَا عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا۔”۔
۔”علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر زمانہ سے ایک ہی دن باقی رہ جائے گا تو بھی اللہ تعالیٰ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کھڑا بھیجے گا وہ اسے عدل و انصاف سے اس طرح بھر دے گا جیسے یہ ظلم و جور سے بھر دی گئی ہے۔” (سنن ابو داود، حدیث نمبر 4283)۔

جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:-۔

"قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكُونُ فِي آخِرِ أُمَّتِي خَلِيفَةٌ يَحْثِي الْمَالَ حَثْيًا لَا يَعُدُّهُ عَدَدً۔”
یعنی: "نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میری امت کے آخر (کے دور) میں ایک خلیفہ ہو گا جو لپیں بھر بھرکے مال دے گا اور اس کی گنتی نہیں کرے گا۔” (صحیح مسلم، حدیث نمبر 7167)۔

سیدنا ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:-۔

۔’’یخرج فی آخر امتی المھدی، یسقیہ اللہ الغیث وتخرج الارض نباتھا ویعطی المال صحاحا وتکثر الماشیة وتعظم الامة یعیش سجا او ثمانیا یعنی ححجا‘‘۔
۔’’میری امت کے آخر میں مہدی آئے گا جس کے لیے اللہ تعالیٰ بارشیں نازل فرمائے گا اور زمین اپنے نباتات اگلے گی عدل و انصاف سے مال تقسیم کرے گا ، مویشی زیادہ ہو جائیں گے اور امت کا غلبہ ہوگا وہ (اپنے ظہور کے بعد) سات یا آٹھ سال زندہ رہے گا۔‘‘ (المستدرک للحاکم، جلد 4، ص: 558)۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:-۔

۔’’المھدی منا اھل البیت یصلحہ اللہ فی لیلة‘‘۔
۔’’مہدی ہمارے اہل بیت میں سے، اللہ اسے ایک ہی رات میں درست کر دے گا۔‘‘ (مسند احمد بن حنبل، رقم: 645)۔

محترم قارئین ! مندرجہ بالا احادیث ظہور مہدی پر واضح دلالت کرتی ہیں۔ ان احادیث کے علاوہ اور بھی کئی احادیث اور آثار ہیں جو صحت کے مقام پر فائز ہیں۔ جن کا انکار کرنا کسی صاحب ایمان کو زیب نہیں دیتا۔

محترم قارئین ! متواتر احادیث کی روشنی میں اہل سنت و الجماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ امام مہدی کا نام محمد بن عبد اللہ ہو گا، وہ سیدہ فاطمہ کی اولاد سے ہوں گے، قرب قیامت ان کا ظہور ہو گا اور وہ پوری دنیا میں عدل و انصاف کے پھریرے لہرائیں گے۔
ائمہ دین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ امام مہدی کے ظہور کے بارے میں مروی احادیث صحیح اور قابل حجت ہیں۔ اس حوالے سے چند ایک ائمہ دین کی آراء ملاحظہ فرمائیں:-۔

۔1- امام ابوجعفر محمد بن عمرو بن موسیٰ بن حماد عقیلی رحمہ اللہ (م : 322ھ ) فرماتے ہیں:-۔
"وفي المهدي احاديث جيد۔”
۔’’امام مہدی کے بارے میں عمدہ احادیث موجود ہیں۔ “ (الضعفاء الكبير للعقيلي: 254/3)۔

۔2- امام ابوبکر احمد بن الحسین بن علی بن موسیٰ بیہقی رحمہ اللہ (384- 458ھ) فرماتے ہیں:-۔
"والاحاديث فى التنصيص على خروج المهدي اصح اسنادا، وفيها بيان كونه من عترة النبى صلى الله عليه وسلم۔”
۔’’امام مہدی کے خروج کے بارے میں احادیث صحیح سند والی ہیں۔ ان میں یہ وضاحت بھی ہے کہ امام مہدی، نبی اکرم ﷺ کے خاندان میں سے ہوں گے۔ “ (تاريخ ابن عساكر: 517/47، تهذيب التهذيب لابن حجر: 126/9)۔

۔3- شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (661- 728ھ) فرماتے ہیں:-۔
"والاحاديث التي يحتج بها خروج المهدي احاديث صحيحة۔”
۔’’جن احادیث سے امام مہدی کے خروج پر دلیل لی جاتی ہے، وہ احادیث صحیح ہیں۔ “ (منهاج السنة لابن تيمية: 95/4)۔

۔4- شیخ الاسلام ثانی، عالم ربانی، علامہ ابن القیم رحمہ اللہ (691- 751ھ) نے فرمایا:-۔
"وهذا الاحاديث اربعة اقسام، صحاح وحسان وغرائب و موضوعة۔”
۔’’یہ احادیث چار قسم کی ہیں جن میں سے صحیح بھی ہیں، حسن بھی ہیں، غریب بھی ہیں اور موضوع بھی۔ “ (المنار المنيف لابن القيم، ص: 148)

۔5- علامہ ابو عبد اللہ محمد بن جعفر بن ادریس کتانی رحمہ اللہ (1274 – 1345ھ) اس بارے میں تفصیلی گفتگو کرنے کے بعد خلاصہ یوں بیان فرماتے ہیں:-۔
"والحاصل ان الاحاديث الواردة في المهدي المنتظر متواترة۔”
۔’’خلاصہ کلام یہ ہے کہ مہدی منتظر کے بارے میں وارد احادیث متواتر ہیں۔ “ (نظم المتناثر في الحديث المتواتر للكتاني،ص: 47)۔

۔6- علامہ شمس الدین ابو العون محمد بن احمد بن سالم سفارینی رحمہ اللہ (1114 – 1188ھ) لکھتے ہیں:-۔
"من اشراط الساعة التي وردت بها الاخبار وتواترت في مضمونها الاثار۔”
۔’’امام مہدی کا ظہور قیامت کی ان علامات میں سے ہے جن کے بارے میں احادیث وارد ہوئی ہیں اور جن کے بارے میں متواتر آثار مروی ہیں۔ “ (لوامع الأنوار البهية للسفاريني: 70/2)۔

۔7- علامہ محمد امین بن محمد مختار شنقیطی رحمہ اللہ (1325 – 1393ھ) فرماتے ہیں:-۔
"وقد تواترت الاخبار واستفاضت بكثرة روايتها عن المختار صلى الله عليه وسلم بمجيء المهدي، وانه من اهل بيته۔”
۔’’امام مہدی کے آنے اور ان کے نبی اکرم ﷺ کے اہل بیت میں سے ہونے کے بارے میں نبی اکرم ﷺ سے متواتر و مشہور احادیث مروی ہیں۔“ (الجواب المقنع المحرر للشنقيطي، ص: 30)۔

محترم قارئین ! مندرجہ بالا احادیث مبارکہ اور محدثین کے اقوال کے بالکل برعکس مرزا غلام احمد قادیانی خود لکھتا ہے:-۔

۔”میرا یہ دعوی نہیں ہے کہ میں وہ مہدی ہوں جو مصداق من ولد فاطمة ومن عترتی وغیرہ ہے بلکہ میرا یہ دعوی تو مسیح موعود ہونے کا ہے اور مسیح موعود کے لیے کسی محدث کا قول نہیں کہ وہ بنی فاطمہ وغیرہ میں سے ہو گا۔ ہاں ساتھ اس کے جیسا کہ تمام محدثین کہتے ہیں اور میں بھی کہتا ہوں کہ مہدی موعود کے بارے میں جس قدر حدیثیں تمام مجروح اور مخدوش ہیں اور ان میں ایک بھی صحیح نہیں ….. مگر دراصل یہ تمام حدیثیں کسی اعتبار کے لائق نہیں۔“ (براہین احمدیہ، حصہ پنجم، مندرجہ روحانی خزائن، جلد 21، صفحہ 356)۔

قارئین کرام جیسا کہ میں نے صحیح احادیث اور محدثین کے اقوال سے امام مہدی کے بارے میں امت مسلمہ کا عقیدہ واضح کیا ہے لیکن مرزا غلام احمد قادیانی خود کو نہ تو ان احادیث کے مطابق امام مہدی قرار دیتا ہے بلکہ صریح کذب بیانی کرتے ہوئے ان تمام احادیث کو مجروح، مخدوش اور ناقابل اعتبار بھی قرار دیتا ہے پھر کیونکر مرزا قادیانی وہ امام مہدی ہو سکتا ہے جو نبی کریم ﷺ کی پیشگوئیوں کے مصداق ہو درحقیقت بیعت لیتے وقت قادیانی ذریت صریح دھوکہ دہی سے کام لیتی ہے۔

محترم قارئین ! مرزا قادیانی مزید لکھتا ہے:-۔

۔”اور ان حدیثوں کے مقابل پر وہ حدیث بہت صحیح ہے جو ابن ماجہ نے لکھی ہے اور وہ یہ ہے کہ لا مھدی الا عیسیٰ یعنی کوئی مہدی نہیں صرف عیسی ہی مہدی ہے جو آنے والا ہے۔“ (براہین احمدیہ، حصہ پنجم، مندرجہ روحانی خزائن، جلد 21، صفحہ 356)۔

محترم قارئین ! مرزا قادیانی نے سنن ابن ماجہ کی جو روایت پیش کی ہے وہ بمع سند ملاحظہ فرمائیں:-۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْجَنَدِيُّ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "لَا يَزْدَادُ الْأَمْرُ إِلَّا شِدَّةً، وَلَا الدُّنْيَا إِلَّا إِدْبَارًا، وَلَا النَّاسُ إِلَّا شُحًّا، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى شِرَارِ النَّاسِ، وَلَا الْمَهْدِيُّ إِلَّا عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ۔”۔
۔’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: معاملہ میں شدت بڑھتی جائے گی اور دنیا میں ادبار (افلاس اور اخلاق رذیلہ) بڑھتا ہی جائے گا، لوگ بخیل سے بخیل تر ہوئے جائیں گے اور قیامت انسانیت کے بد ترین افراد پر قائم ہوگی، مہدی نہیں ہوں گے مگر مریم کے بیٹے عیسیٰ (علیہ السلام)۔ “ (سنن ابن ماجہ ، حدیث: 4039)۔

یہ روایت سنن ابن ماجہ کے علاوہ دوسری کتابوں میں بھی ملتی ہے لیکن چونکہ تمام کتابوں میں اس کی سند ” محمد بن ادریس الشافعی ” رحمہ اللہ سے آگے ایک ہی ہے اس لیے ہم صرف سنن ابن ماجہ کی روایت پر ہی بات کریں گے۔

قارئین کرام ! اس روایت کو تمام محدثین نے ضعیف یا موضوع قرار دیا ہے اس روایت کے متعلق پہلے چند محدثین کی آراء کو ملاحظہ فرمائیں چنانچہ شارح مشکوۃ ملا علی القاری رحمہ اللہ لکھتے ہیں:-۔

"ثُمَّ اعْلَمْ أَنَّ حَدِيثَ: لَا مَهْدِيَّ إِلَّا عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ ضَعِيفٌ بِاتِّفَاقِ الْمُحَدِّثِينَ۔”
۔”جان لو کہ ” لا مھدی الا عیسیٰ "والی حدیث کے ضعیف ہونے پر تمام محدثین کا اتفاق ہے۔“ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح ، جلد 10، صفحہ 101)۔

علامہ محمد بن علی الشوکانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:-۔

"لَا مَهْدِيَّ إِلَّا عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ : قال الصغانی موضوع۔”
۔”اس حدیث کے بارے میں امام صغانی رحمہ اللہ (حسن بن محمد الصغانی، وفات 650ھ) نے کہا ہے یہ موضوع (من گھڑت) حدیث ہے۔“ (الفوائد المجموعة في الأخبار الموضوعة، صفحہ 439، المکتب الاسلامی )۔

نوٹ: امام صغانی نے اپنی یہ بات اپنی کتاب ” الدر الملتقط في تبيين الغلط میں ذکر کی ہے۔ (الدر الملتقط، صفحہ 34، روایت نمبر 44)۔

امام شمس الدین ذھبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:-۔

۔”لا مهدي إلا عيسى ابن مريم، وهو خبر منكر أخرجه ابن ماجة۔”۔
"یہ روایت منکر ہے جسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔” (ميزان الاعتدال، جلد 3، صفحہ 535)۔

شیخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:-۔

"”وَالْحَدِيثُ الَّذِي فِيهِ: "لَا مَهْدِيَّ إِلَّا عِيسَى ابْنَ مَرْيَم” رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَهُوَ حَدِيثٌ ضَعِيفٌ۔”
۔”وہ حدیث جس میں ہے کہ نہیں مہدی مگر عیسیٰ بن مریم اور جو ابن ماجہ نے روایت کی ہے ضعیف ہے۔” (منهاج السنة النبوية، جلد 4، صفحہ 101 – 102)۔

علامہ محمد عبد العزیز پرھاروی رحمہ اللہ یہ بیان کرتے ہوئے کہ احادیث متواترہ میں یہ بات آئی ہے کہ مہدی اہل بیت میں سے ہوں گے اور وہ زمین میں حکمرانی بھی کریں گے اور ان کی ملاقات عیسیٰ علیہ اسلام سے ہوگی۔ آگے بیان کرتے ہیں کہ ان متواترہ روایات کے خلاف اگر کوئی روایت ہے تو وہ صحیح نہیں، اور ان ہی روایات میں سے ” لا مھدی الا عیسیٰ ” والی روایت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:-۔

"”و کذا ما قِیل آنہ عیسیٰ علیہ اسلام بن مریم مستدلاَ بحدیث لا مھدی الا عیسیٰ بن مریم لان الحدیث لایصح۔”
۔”اسی طرح جو یہ کہا جاتا ہے کہ مہدی تو حضرت عیسیٰ بن مریم ہی ہیں اور دلیل میں یہ حدیث پیش کی جاتی ہے کہ نہیں مہدی مگر عیسیٰ بن مریم (تو یہ استدلال صحیح نہیں) کیونکہ یہ حدیث صحیح نہیں۔” (النبراس شرح شرح العقائد ، صفحہ 667)۔

محترم قارئین ! یہ تو تھے اس روایت کے متعلق محدثین کی آراء اب آپ کے سامنے اس حدیث کے ضعیف ہونے کے بارے میں مرزا قادیانی کا بھی اعتراف پیش کرتا ہوں چنانچہ مرزا قادیانی خود رقمطراز ہے:-۔

۔”اہل ولایت بذریعہ کشف آنحضرت ﷺ سے احکام پوچھتے ہیں اور ان میں سے جب کسی کو کسی واقعہ میں حدیث کی حاجت پڑتی ہے تو وہ آنحضرت ﷺ کی زیارت سے مشرف ہو جاتا ہے پھر جبرائیل علیہ السلام نازل ہوتے ہیں اور آنحضرت جبرائیل سے وہ مسئلہ جس کی ولی کوحاجت ہوتی ہے پوچھ کر اس ولی کو بتا دیتے ہیں یعنی ظلی طورپر وہ مسئلہ بہ نزول جبرائیل منکشف ہو جاتا ہے ‘ پھر شیخ ابنِ عربی نے فرمایا ہے کہ ہم اس طریق سے آنحضرت ﷺ سے احادیث کی تصیح کرا لیتے ہیں بہتیری حدیثیں ایسی ہیں جو محدثین کے نزدیک صحیح ہیں اور وہ ہمارے نزدیک صحیح نہیں اور بہتیری حدیثیں موضوع ہیں اور آنحضرت ﷺ کے قول سے بذریعہ کشف صحیح ہو جاتی ہیں۔‘‘ (ازالہ اوہام، صفحہ 77 – 78، مندرجہ روحانی خزائن، جلد 3، صفحہ 177 – 178)۔

ایک اورمقام پر مرزا قادیانی لکھتا ہے:-۔

۔’میرایہ بھی مذہب ہے کہ اگرکوئی امر خداتعالیٰ کی طرف سے مجھ پرظاہر کیا جاتا ہے مثلاً کسی حدیث کی صحت یا عدم صحت کے متعلق تو گو علمائے ظواہر اور محدثین اس کو موضوع یا مجروح ٹھہراویں مگر میں اس کے مقابل اور معارض کی حدیث کو موضوع کہوں گا اگر خدا تعالیٰ نے اس کی صحت مجھ پر ظاہر کر دی ہے جیسے لَامَہْدِیْ اِلَّا عِیْسٰی والی حدیث ہے محدثین اس پر کلام کرتے ہیں مگر مجھ پر خداتعالیٰ نے یہی ظاہر کیا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے اور یہ میرا مذہب میرا ہی ایجاد کردہ مذہب نہیں بلکہ خود یہ مسلّم مسئلہ ہے کہ اہلِ کشف یا اہلِ الہام لوگ محدثین کی تنقید حدیث کے محتاج اور پابند نہیں ہوتے۔‘‘ (ملفوظات مرزاغلام احمد قادیانی، جلد 2، صفحہ 45، طبع چہارم)۔

لیجیے قارئین کرام ! مندرجہ بالا تحریر میں مرزا قادیانی ایک طرف تو اس بات کا اقراری ہے کہ اس حدیث پر محدثین نے جرح کی ہے تو دوسری طرف یہ کہہ کر کہ اہل کشف محدثین کی جرح کے پابند نہیں ہوتے اپنے آپ احادیث کیا صحت کو جانچنے کے تمام قوانین سے آزاد قرار دے رہا ہے۔

قارئین کرام ! لفظ مسیح موعود کسی بھی حدیث میں نہیں آیا بلکہ یہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی ذریت کی طرف سے عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش ہے کیونکہ تمام احادیث میں نام کی صراحت کے ساتھ نزول عیسی ابن مریم علیہما السلام کا ذکر ہے جبکہ مرزا قادیانی کا نام مرزا غلام احمد قادیانی ابن چراغ بی بی ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے نزول عیسی ابن مریم کی پیشگوئی کی ہے نہ کہ غلام احمد قادیانی ابن چراغ بی بی کی۔ اب لوگوں دھوکہ دینے کے لیے احادیث میں موجود نام کی بجائے مسیح موعود کا لفظ ایجاد کیا گیا۔

اب میں آپ کو مرزا غلام احمد قادیانی کی ہی ایک تحریر پیش کر کے ثابت کروں گا کہ وہ مسیح موعود بھی نہیں ہے۔ چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی رقمطراز ہے:-۔

۔”پہلے نبیوں کی کتابوں اور احادیث نبویہ میں لکھا ہے کہ مسیح موعود کے ظہور کے وقت یہ انتشار نورانیت اس حد تک ہو گا کہ عورتوں کو بھی الہام شروع ہو جائے گا اور نا بالغ بچے نبوت کریں گے۔ اور عوام الناس روح القدس سے بولیں گے۔‘‘ (ضرورۃ الامام مندرجہ روحانی خزائن، جلد 13، صفحہ 475)۔

اب ہمارا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ صرف ایک حدیث ایسی پیش کر دی جائے ۓ جس میں یہ لکھا ہو کہ ”مسیح موعود کے ظہور کے وقت یہ انتشار نورانیت اس حد تک ہو گا کہ عورتوں کو بھی الہام شروع ہو جائے گا۔ اور نا بالغ بچے نبوت کریں گے۔ اور عوام الناس روح القدس سے بولیں گے۔‘‘ اگر ایسی کوئی حدیث نہ ملے تو یاد رکھیے نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے:-۔

"مَنْ يَقُلْ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ۔”
یعنی: "جو شخص میرے نام سے وہ بات بیان کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔” (صحیح بخاری، حدیث نمبر 109)۔

نبی کریم ﷺ کی طرف ایک ایسی بات جو نبی ﷺ نے نہیں کہی منسوب کر کے بموجب فرمان رسول ﷺ مرزا قادیانی جہنمی قرار پاتا ہے اور امام مہدی یا مسیح موعود کوئی جہنمی نہیں ہو سکتا۔ اگر قادیانی حضرات کوئی ایسی روایت پیش بھی کر دیں تو تب بھی یہ ثابت نہیں کر سکتے کہ مرزا قادیانی کے دور میں کسی نابالغ بچے نے نبوت کی ہو اور ان لوگوں نے اسے نبی مانا ہو۔ پس ثابت ہوا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نہ تو وہ امام مہدی ہے اور نہ ہی مسیح ابن مریم جن کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے پیش گوئی فرمائی تھی۔

۔(4) کیا قادیانی سربراہ خلیفۃ المسلمین ہے ؟

محترم قارئین ! جس گروہ کو اس کے کفریہ عقائد کی بنا پر امت مسلمہ اجتماعی طور پر زندیق اور مرتد قرار دے چکی ہو مسلمان کہلوانے کا بھی حق ختم کر چکی ہو اس بد ترین گروہ کے سربراہ کو خلیفة المسلمین سمجھنا اور قرار دینا کیا معنی رکھتا ہے ہاں خلیفة الزندیقین اور مرتدین کہا جائے ۓتو کوئی مضائقہ نہیں ویسے بھی دنیا کا یہ واحد گروہ ہے کہ جن کے پاس دنیا کے کسی بھی خطے کی حکومت نہیں ہے اور بذات خود عیسائیوں کے ملک میں پناہ گزیں ہیں اور یہود و نصاریٰ کی چھتری تلے اسلام اور امت مسلمہ کے خلاف ریشہ دیوانیوں میں مصروف ہیں تو ایسے گروہ کو خلیفة المسلمین تو دور کی بات مسلمان کہنے اور سمجھنے والا شخص بذات خود دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔

قارئین کرام ! آپ کے سامنے بتوفیق الہٰی قادیانیوں کے بیعت کے ڈرامے کی اصل حقیقت واضح کر دی ہے امید ہے کہ اب ان کے کافر زندیق اور مرتد ہونے میں آپ کو کسی بھی قسم کا شک و شبہ باقی نہیں رہے گا۔

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.