پیرس حملہ اور اس کے مضمرات


الواقعۃ شمارہ 46 ربیع الاول 1437ھ

از قلم : ابو عمار سلیم

فرانس کے شہر پیرس پر حملہ ہوتے ہی مغربی دنیا نے مسلمانوں کی طرف سے ایک اور دہشت گردی کی کارروائی کا پرچار کرنا شروع کر دیا۔ میڈیا نے اپنا پرانا راگ پورے جوش و خروش سے الاپا اس لیے کہ پوری دنیا کو یہ سمجھا دیا گیا ہے کہ مغربی ممالک میں جہاں کہیں بھی کوئی غیر انسانی کارروائی ہوگی وہ یقیناً مسلمان دہشت گردوں کی طرف سے ہوگی اورکھینچ تان کر اس کے تانے بانے ملا کر مسلمانوں کے سر اس کو منڈھ دیا جاتا ہے۔ نائین الیون سے جو کارروائی شروع ہوئی ہے وہ کسی طور بھی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ یہاں تک کہ میڈیا کے اس شر انگیز پراپیگنڈہ نے اب عام انسان کے دل میں یہ بات ڈال دی ہے کہ واقعی یہ کارروائی مسلم  انتہا پسندوں کی طرف سے ہو رہی ہے۔ پیرس پر حملہ ہوتے ہی مسلمانوں کے دل کانپ گئے اور بہت سے مسلمانوں نے سوشل میڈیا پرمنمناتے ہوئے مسلمانوں کی طرف سے صفائی پیش کرنے کی خاطر بہت کچھ لکھا مسلم دہشت گردوں کو برا بھلا کہا اور یوں لگا کہ معافی مانگنی شروع کر دی ہے۔ حق تو یہ ہے کہ میڈیا جو کچھ بھی بول رہا ہے اور دکھا رہا ہے وہ سب صرف اور صرف جھوٹ کا پلندہ ہے۔ ہم مسلمانوں نے یہ کارروائی کی ہی نہیں تو پھر نہ تو کسی صفائی کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی کے اس الزام کو ہمارے سر منڈھنے کی کوششوں کو قبول کرنے کی۔ بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ پوری امت اسلامی کی طرف سے ہر اسٹیج پر اس کا بطلان کیا جائے۔ حکومت کی طرف سے بھی اور امت اسلامی کے ائمہ کرام اور شیوخ عظام کی طرف سے بھی۔ اور اگر ضرورت ہو تو حکومتی سطح پر احتجاج اور سخت تردید کی بھی گنجائش بنتی ہے۔ مگر ہم ہیں کہ اپنی بے عزتی اور بدنامی برداشت کرنے میں انتہا درجے کی بے غیرتی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔اتنے دن گزرنے کے بعد اب یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ یہ تمام کارروائی اسی طرح کی اندرونی کارروائی یعنی  "Inside Job" ہے جیسے کہ نائین الیون کی کارروائی تھی۔ مغربی دنیا کا وہ سنجیدہ طبقہ جو تمام معاملات کو تعصب کی عینک کے بغیر دیکھتا ہے اور ہونے والے واقعات کو اچھی طرح چھان پھٹک کر اپنی رائے قائم کرتا ہے وہ اس بات کا بار بار اعادہ کر رہا ہے کہ مسلمانوں کو خواہ مخواہ پھنسایا جا رہا ہے۔

اگر بغور دیکھا جائے تو یہ بات صاف نظر آ رہی ہے کہ اس تمام معاملہ میں کتنی ہی باتیں ایسی ہیں جن کا جواب نہیں مل رہا ہے۔ سب سے پہلی بات یہ کہ ایک ایسی کارروائی جس کو مغرب کے سارے بڑے مل کر انسانیت کے خلاف سازش قرار دے رہے ہیں یقیناً ایک بہت بڑی تیاری اور زبردست پلاننگ کے بغیر ممکن ہی نہیں تھی۔ اگر ایسا ہے تو پھر اس کی پلاننگ میں ضرور بالضرور کافی وقت لگا ہوگا بڑی سوچ بچار ہوئی ہوگی اور اس کام کو کر گزرنے کے لیے شائد کئی بار ریہرسل بھی کی گئی ہوگی۔اگر یہ ساری باتیں درست ہیں تو اتنی بڑی کارروائی اس قدر چپ چپاتے کیسے ہوگئی کہ دنیا کے اتنے ترقی یافتہ ملک میں جہاں کے چپہ چپہ پر سیکیوریٹی کے انتہائی جدید اور سخت انتظام ہونے کے باوجود کسی کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہوئی ۔ اس پوری کارروائی کے کرنے میں کتنے ہی لوگوں کی ضرورت پیش آئی ہوگی ، کتنا بارود استعمال ہوا ہوگا اور وہ کس طرح باہر سے لا کر حادثہ والی جگہ تک پہنچایا گیا ہوگا جب کہ ہر دو ڈیگ پر اسکریننگ بھی ہو رہی ہوگی اور بارود کی بو سونگھنے والے کتے بھی ہر کس و ناکس کو سونگھتے پھر رہے ہونگے۔ کتنی رائفلیں اور گولیاں استعمال ہوئی ہونگی اور ان کو کہاں سے لایا گیا اور وہ کس طرح جائے حادثہ تک بغیر کسی چیکنگ کے پہنچ گئیں۔ فرانس کے انتہائی جدید جاسوسی کے ادارے اور ان کی ایسے معاملات سے عہدہ برا ہونے کی سخت ٹریننگ سب کہاں سو رہی تھی۔ کسی کو کسی بات کی کانوں کان خبر بھی نہ ہوئی۔ انتہائی حیرت کی بات تو یہ ہے کہ حادثہ کے رونما ہونے تک کسی کو ان تمام معاملات کی بھنک بھی نہیں پڑی مگر دوسرے دن اس تمام کارروائی کے پلاننگ کرنے والے ماسٹر مائنڈ کا نام بھی اخبار میں آ گیا اور یہ خبر بھی آ گئی کہ اس کی تلاش میں فرانس کی پولیس سرگرداں ہے اور مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہے۔ کیا یہ بات کسی طور بھی حلق سے نیچے اتر سکتی ہے۔  پیرس پر حملہ کے بعد فرانس کی حکومت اس قدر شدید غصہ میں آئی کہ اگلے روز ہی اس کی فوج نے شام میں اپنی انتقامی کارروائی شروع کر دی مگر کس کے خلاف ؟ ان دہشت گرد فوجوں کے خلاف نہیں جو ، ان کے کہنے کے مطابق اسلامی جہادی تھے بلکہ کسی اور محاذ پر۔ آخر ایسا کیوں؟۔

ان تمام باتوں کو پیش نظر رکھا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ یہ کارروائی مغربی ممالک کے دجالی گٹھ جوڑ  کے اپنے ذاتی فائدہ کے لیے کی گئی ہے۔ ہم سب پر یہ بات اب اظہر من الشمس ہے کہ نائن الیون کے بعد سے جتنابھی اسلامی دنیا کے خلاف محاذ کھلا ہے وہ صرف اور صرف اسرائیل کی گھناؤنی توسیعی سازش کا شاخسانہ ہے۔ اسرائیل کے ایک انتہائی اہم Document Strategic کے مطابق جو 1980ء میں تیار ہوا ہے اور اس کے تمام حلیف ممالک اس کو پورا کرنے کے لیے اس کے ہمنوا اور مددگار ہیں ، اسی کوشش میں مصروف ہیں۔ اس توسیعی سازش کو عملی جامعہ پہنانے کے لیے انہیں کوئی بہانہ چاہئے تھا اور اس کی آبیاری انہوں نے کئی دہائی پہلے سے شروع کر رکھی تھی جس میں مسلمانوں کے اندر اختلاف اور نفرت کا بیج بو کر اس درخت کو اتنا تنومند کر دینا تھا کہ ایک طرف تو وہ خود اس کی بھڑکتی ہوئی آگ میں جل کر ایک دوسرے کو تباہ کردیں اور پھر دنیا کو یہ باور کرا کر کہ نفرت کے یہ شعلے بجھانے بہت ضروری ہیں ورنہ پوری دنیا اس کے شعلوں کی زد میں آ جائے گی مسلمان متحارب گروہوں کے اوپر چڑھائی کر دی جائے۔ نتیجہ کے طور پر طالبان کا شوشہ چھوڑ کر اور ان کو خوب ہتھیار اور ڈالر کھلا کر مضبوط کیا گیا۔ ایک طرف روس کو انہی کے ہاتھوں رگیدا گیا اور دوسری طرف نائین الیون کے بہانے ان کے ملک میں گھس کر پورے ملک کو تہس نہس کر دیا گیا۔ اب یہ ہدف پورا ہوتا نظر نہیں آیا تو ایران عراق کی جنگ ، کویت عراق کے حوالہ سے خود صدام حسین کے خلاف کارروائیاں یہاں تک کہ عراق کو مکمل تباہ کرکے اس کا کنٹرول سنبھال لیا گیا اور اب شام میں ISIS کے نام سے ایسی فوجوں کو کھڑا کیا گیا جو ساری دنیا جانتی ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے سہارے وجود میں آئی ہے۔ اس فوج کا اسلام سے کوئی تعلق ہے نہ اس کو اسلام کے اصولوں سے کوئی لگاؤ ہے۔ یہ سب کچھ صرف اس لیے ہو رہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی ان تمام حکومتوں کو مسمار کر کے ایک پلیٹ فارم بنا کر اسرائیل کے حوالہ کر دیا جائے تاکہ اسرائیل اپنا دیرینہ خواب جو کہ دریائے نیل سے لے کر دجلہ و فرات تک کے مکمل علاقہ پر اپنی حکومت اپنے بادشاہ دجال کی آمد سے پہلے تیار کرلے جہاں سے بیٹھ کر وہ شیطان پوری دنیا پر اپنی حکومت چلا سکے۔

آج تمام حقیقت پسند دماغ اس بات پر متفق ہیں کہ داعش یا ISIS  کسی بھی طور سے اسلامی جیش نہیں ہے ۔ یہ امریکہ اور اسرائیل کے پٹھو ہیں اور ان ہی میں سے ہیں۔ اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ آج تک اس نام نہاد اسلامی جیش نے اسرائیل یا اسرائیلی فوجوں کے خلاف ، نہ اسرائیل کے اندر اور نہ اسرائیل کے باہر، کبھی کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ اب یہ بات بھی پایہ ثبوت کو پہنچ گئی ہے اور تمام مغربی دانشور یہ کہہ رہے ہیں کہ داعش کے زخمیوں کو گولان کے علاقہ میں اسرائیل کی طرف سے علاج معالجہ کی سہولت فراہم کی جا رہی ہیں اور ان کو اسلحہ اور گولہ بارود کی سپلائی بھی انہی راستوں سے کی جا رہی ہے۔

پیرس حملہ کے فوراً بعد G-20  کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ یہ بھی ایک سوچی سمجھی اسکیم کا حصہ تھا۔ اس کانفرنس کے دوران روسی صدر اور بارک اوباما کے درمیان خفیہ میٹنگ بھی ہوئی جس کی بہت ساری چیزیں اب میڈیا میں بھی آ گئی ہیں اور اسی کی مناسبت سے روسی صدر کا ایران کا دورہ بھی منسلک ہے جس کے بارے میں یہ کہا جا رہا ہے کہ امریکہ اور روس کے درمیان یہ بات طے پا گئی ہے کہ روس بشار الاسد کو شام کی فضاؤں سے غائب کر دے  جس کے لیے ایران کی حمایت ضروری ہے ،  اور شام کے بھی ٹکرے ٹکرے کر دیئے جائیں۔ یوں یہ سارا علاقہ مکمل طور سے ناٹو کی افواج کے زیر نگیں آ جائیں اور یوں وہ مقصد عظیم پورا ہو جائے جس کے لیے اتنے لمبے عرصہ سے یہ ساری پلاننگ ہو رہی ہے اور اتنا خون خرابہ ہوا ہے۔ اب اس بات میں دنیا بھر کے دانشور اتفاق رائے کے ساتھ یہ کہہ رہے ہیں کہ شام کی مکمل تسخیر اور اس کے حصے بخرے کرنے میں امریکہ بہادر اپنی انتہائی کوششوں کے ساتھ مصروف ہے اور اس کی اسرائیل کے ساتھ یہ وفاداری امریکہ کے مستقبل کی بہتری کی اسرائیلی گارنٹی سے مشروط ہے۔

ہم مسلمانوں کی یہ شدید ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اپنی صفوں میں دراڑ نہ پڑنے دیں، اپنے کو متحد متفق اور مضبوط کریں۔ اپنی تمام رنجشیں دور کریں، اپنا جائزہ لیں اپنے حالات درست کریں، اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں اللہ سے ڈریں اور اس کے علاوہ تمام طاغوتی طاقتوں کو کچلنے کی ہمت اور اسباب پیدا کریں۔اگر ہم نے یہ سب کچھ نہیں کیا تو وہ دن دور نہیں کہ دشمن ہمیں کچا چبا جائے گا۔ ہماری داستاں بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔ العیاذ باللہ۔

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s