دین و شریعت میں فرق


03 Islam Deen Asaan TITLEجمادی الاول و جمادی الثانی1436ھ/ مارچ و اپریل2015ء شمارہ 36 اور 37

 دینیات

مولانا شاہ محمد جعفر پھلواروی

دین و شریعت میں فرقonline urdu

دین و شریعت کے فرق کو آسان لفظوں میں یوں ادا کیا جا سکتا ہے کہ زندگی کے وہ بنیادی حقائق و اصول جوقانون فطرت کی طرح غیر متبدل اور اٹل ہوتے ہیں وہی دین ہیں جن کو آج کل کی اصطلاح میں اقدار حیات Eternal Values کہتے ہیں۔ یہ ایک مجرد یعنی ذہنی و معنوی شئے ہے یہی چیز جب محسوسات میں جلوہ گر ہوتی ہے تو شہود شکل و صورت کو شریعت کہتے ہیں یہ دراصل ایک ڈھانچہ Form ہے جس کی وہ معنویت اختیار کر لیتی ہے۔ اس حقیقت کو ایک مثال سے یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ اللہ نے نماز کا حکم دیا ہے اور بار بار دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک محض ذہنی حکم نہیں ہے بلکہ یہ کوئی مشہود و محسوس شکل و صورت بھی چاہتا ہے۔ اس حکم کی روح ہے ” اظہار عبودیت ” جو اوقات پنجگانہ سے شروع ہو کر پوری زندگی پر پھیل جاتا ہے۔ یہ اظہار بندگی تو ہے دین اور اس میں کوئی تغیر و تبدّل نہیں۔ لیکن یہ نماز جب کوئی شکل اختیارکرے گی تو وہ مجموعہ ہوگا چند حرکات و کلمات کا۔ یہی مجموعی شکل نماز شریعت ہے۔ اس کے دوسرے شرائط و متعلقات سے اس وقت بحث نہیں ہے۔ کہنا یہ ہے کہ یہ شکل Form بلا شبہ ایک شریعت ہے لیکن یہ دین مثلاً اظہار عبودیت کی طرح غیر متبدّل نہیں بلکہ اس کی احوال و ظروف ، اختلاف زماں و مکاں ، صلاحیت ادا اور دوسری انفرادی و اجتماعی حالات کا جیسا بھی تقاضا ہوگا اسی کے مطابق اس شریعت یعنی طریقہ ادائے نماز میں بھی تبدیلی واقع ہو جائے گی۔ یہ نماز کبھی کھڑے ہو کر ادا کی جاتی ہے اور کبھی بیٹھ کر اور کبھی لیٹ کر۔ کبھی کھڑے کھڑے اور کبھی سواری کی پشت پر۔ کبھی ایک جگہ پر اور کبھی چلتے چلتے۔ کبھی پوری چار رکعتیں ، کبھی دو اور کبھی صرف ایک رکعت۔ کبھی ماثورہ کلمات کے ساتھ اور کبھی اپنے الفاظ میں۔ کبھی قبلہ رو ہو کر اور کبھی بلا تعین جہت۔ دین ، یعنی اظہار عبودیت ، سب میں یکساں جذبہ رکھتا ہے اور اس میں تغیر و تبدل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن شریعت یعنی طریقہ ادا اپنے وقتی تقاضوں کے مطابق ہر جگہ ہیت بدلتا رہتا ہے اور اس تبدیلی سے اصلِ دین کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا یہ مثال ہم نے دین کے سب سے زیادہ اہم رکن کی دی ہے۔ اس پر پورے دین کو قیاس کر لینا کچھ مشکل نہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ دین اصل اقدار حیات کے لحاظ سے تو کلمات اللہ یا خلق اللہ Law of Nature کی طرح غیر متبدل ہے اور شریعت ایسا متحرک قانون ہے جو صرف مجبورانہ احوال و ظروف کے تقاضوں سے ہی نہیں بلکہ منزل ارتقا کی طرف بڑھنے کے لیے بھی اپنی شکل بدلتا رہتا ہے۔ غرض دین متبدل نہیں اور شریعت جامد نہیں۔ مندرجہ ذیل قرانی آیت میں یہی حقیقت بیان کی گئی ہے :

فِطۡرَتَ ٱللَّهِ ٱلَّتِي فَطَرَ ٱلنَّاسَ عَلَيۡهَاۚ لَا تَبۡدِيلَ لِخَلۡقِ ٱللَّهِۚ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلۡقَيِّمُ وَ لَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ ٣٠ ( الروم : 30 )

” اللہ کی اس فطرت پر غور کرو جس پر اس نے انسان کو خلق کیا ہے۔ اللہ کے قانون خلق میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوتا۔ دین قیم کی بھی یہی حقیقت ہے لیکن بہت سے لوگ اتنی سی بات کو بھی نہیں سمجھتے۔”

قرآن پاک کے ارشاد کے مطابق یہی دین ” اسلام ” ہے اور یہ تمام انبیاء علیہم السلام کا واحد مشترک دین ہے۔ لیکن شریعتیں سب کی الگ الگ ہیں ان تمام شریعتوں کے اختلاف کے باوجود روح سب کی ایک ہی ہے اور ناقابل تبدیل ہے۔ فرق یہ ہے کہ پہلے ایک پیغمبر کی شریعت میں دوسرا پیغمبر ہی تبدیلیاں کرتا تھا اور اب نبوت ختم ہونے کے بعد یہ تبدیلیاں اہل حلّ و عقد کریں گے۔ غالباً اسی حقیقت کو حضور علیہ السلام نے یوں بیان فرمایا ہے کہ ” عُلَمَاء اُمّتِی کَاَنبِیَابَنِی اِسرَائیِل ” ( میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کے مانند ہیں)۔ اس حدیث کی سند خواہ کیسی ہی ہو لیکن زیر بحث نقطہ نگاہ سے اس کا مضمون بہت صحیح ہے۔

یہ واضح رہے کہ قانون شریعت کے متبدل ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ جس کا جی چاہے اور جب جی چاہے کسی قانون کو اپنی مرضی سے تبدیل کر دے۔ اس کے لیے بہت سی شرائط ہیں۔ جب تک وہ تمام اسباب موجود نہ ہوں جو تبدیلی کا تقاضا کرتے ہوں اس وقت تک ہر قانون شریعت کو باقی رکھنا ہوگا ، تبدیلی اسی وقت ہوگی جب زماں و مکاں کے اختلاف نے کوئی مجبوری پیدا کر دی ہو۔ عہد رسالت کے فیصلوں کو خلافت راشدہ میں بضرورت بدلنے کی ایک دو نہیں بے شمار مثالیں ملتی ہیں ہر دور کے نئے نئے تقاضے ہوتے ہیں اور شریعت میں ان کی رعایت ملحوظ رکھی جاتی ہے۔ اگر اس تبدیلی کو ختم کر دیا جائے تو شریعت جامد ہو کر رہ جائے گی اور شریعت کو جامد ماننا ایسی ہی غلطی ہے جیسی غلطی دین کو متبدل ماننا۔

یہ گنجائش تبدیلی ( شریعت میں ) صرف اس لیے رکھی گئی ہے کہ دین کو یُسر بنانا مقصود تھا۔ اگر شریعت عسر ہو تو دین بھی عسر ہو جاتا ہے اور وہ یُسر ہو تو یہ بھی یُسر ہوتا ہے۔ دین کی روح باقی رہے تو شریعت کے اشکال و صور میں تبدیلی سے کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ لیکن اگر شریعت ہر حال میں غیر متبدل اور جامد رہے تو دین سرا سر عُسر بن جائے گا۔ قانون ( شریعت ) کا تو مقصد ہی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنا ہے۔ وہ قانون ہی کیا ہوا جو زندگی میں دشواریاں ، مشکلات اور صعوبتیں پیدا کرے ؟ کسی انسانی فائدے کے لیے ہی مردار کو حرام کیا گیا ہے۔ یہ ایک شریعت یعنی قانون ہے لیکن ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب کہ کسی انسان کا مفاد مردار خوری سے ہی وابستہ ہو جاتا ہے۔ اگر حالت اضطرار پیدا ہو جائے اور اس مردار کے علاوہ اور کوئی شئے کھانے کو موجود نہ ہو تو انسانی جان بچانے کے لیے وہ قانون حرمت ، حلت سے بدل جاتا ہے۔ اگر یہ قانون غیر متبدل ہوتا اور مردار ہر حال میں حرام ہوتا تو یقیناً یہ ایک عُسر ہوتا۔ یہ محض اجازتِ تبدیلی ہے جس نے اسے یُسر بنا دیا ہے۔ لیکن دین جو اس موقع پر انسانی مفاد ہی کا دوسرا نام ہے دونوں صورتوں میں غیر متبدل ہے۔ شریعت اگر بدل جائے مگر اس میں روح باقی رہے تو یہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ شریعت تو علیٰ حالہا باقی رہے لیکن روح ختم ہو جائے۔

یُسر کے علاوہ حکمت بھی اسی کی متقاضی ہے کہ اعلیٰ و اصلی مقصد تو ہر حال میں باقی رہے اور اس کے حصول کے طریقے بدلتے رہیں یعنی جب اور جس طریقہ سے انسانی مفاد وابستہ ہو وہی اختیار کیا جائے۔ حلال گوشت انسان کے لیے بنایا گیا ہے وہ جب چاہے کھا سکتا ہے لیکن ایک وقت ایسا بھی آ سکتا ہے جب اسے عارضی طور پر — اور بعض اوقات مدة العمر کے لیے — گوشت کھانے سے روک دیا جائے۔ شریعت وہ بھی ہے اور شریعت یہ بھی۔ شکلیں دونوں کی بدلی ہوئی ہیں لیکن دونوں کی روح ( دین ) ایک ہی ہے اور وہ ہے انسان کا مفاد جسمانی۔

اسی طرح سمجھیے کہ روزہ مرد مسلم پر واجب ہے لیکن ایک موقع ایسا بھی آ سکتا ہے جب اس کا روزہ تُڑوا دیا جائے یا چُھڑوا دیا جائے۔ شریعت وہ بھی ہے اور یہ بھی۔ صورتیں دونوں مختلف بلکہ متضاد ہیں لیکن دین ایک ہی ہے اور وہ ہے مفاد انسانی کا قیام۔ مذکورہ انفرادی مسائل کی طرح اجتماعی مسائل بھی ہیں جن کا تعلق پورے معاشرے سے ہوتا ہے۔ ایک وقت ایک مسئلہ قانونی پوری قوم کے لیے مفید ہوتا ہے اور دوسرے وقت اسی کو ترک کر دینا یا بدل دینا ضروری ہوتا ہے۔ مقصد دونوں کا ایک ہی ہے یعنی معاشرہ انسانی کے مفاد کو برقرار رکھنا۔

اس موقع پر آپ صرف یہ شبہ پیش کر سکتے ہیں کہ ” ضرورةً تبدیلی قانون تو ٹھیک ہے لیکن صرف اتنی ہی اور اسی قسم کی تبدیلی کرنی چاہئے جس کا ثبوت ملتا ہو ، مردار کے جواز کا یا روزہ چُھڑوانے کا ثبوت چونکہ ملتا ہے اس لیے اتنا بھر تو ٹھیک ہے لیکن اس سے آگے جہاں کوئی ثبوت نہ ملتا ہو وہاں خواہ کیسی ہی شدید ضرورت ہو تبدیلی نہیں کرنی چاہیے۔” لیکن یہ شبہ خود ایک قسم کا جمود ہے جو اصول فقہ کی چوتھی کڑی ” قیاس ” کو بالکل ختم کر دیتا ہے۔ یہ کوئی ضروری نہیں کہ قرون اولیٰ میں بھی وہ تمام حالات و مقتضیات لازماً پیش آئے ہوں جو ہر دور میں پیدا ہوتے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ زمانے کے نت نئے مسائل کو پیدا ہونے سے کوئی روک نہیں سکتا۔ ایسے نئے مسائل زندگی میں حضرت امیر المومنین سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا فرمان ہمارے لیے بہترین راہبر ہے۔ یہ ایک تحریر ہے جو آپ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو قضا کے متعلق یوں لکھ بھیجی تھی :

” الفہم ، الفہم فیما اختلج فی صدرک مما لم یبلغک فی الکتاب و السنة و اعرف الامثال و الاشباہ ثم قس الامور عند ذٰلک "

” جو مسئلہ تمہیں کتاب و سنت میں نہ ملے اور تمہیں اس کے بارے میں تردد ہو تو اس پر غور کرو اور اچھی طرح غور کرو اور اس سے ملتے جلتے مسائل پر اسے قیاس کرلو۔ ” ( رواہ الدارقطنی )

اس اصول کے مطابق صرف اسی قدر نہیں ہوگا کہ اگر نظائر ملیں تو قیاس کر لیا جائے ورنہ چھوڑ دیا جائے۔ اگر نظائر نہ مل سکیں تو عدل و رحمت اور مصالح و حکمت کا جو تقاضا ہوگا وہ پورا کیا جائے گا۔ عَمواس میں جب وبائے طاعون پھیلی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فیصلہ دیا کہ لوگ مقام وبا کی طرف نہ جائیں ( شیخین ، موطا ، ابو داود )۔ اس وقت تک حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ قطعی معلوم نہ تھا کہ کتاب یا سنت میں اس کے متعلق کیا حکم ہے۔ پس فقط مصالح امت کا ایک عقلی تقاضا تھا جس کی بنا پر آپ نے یہ فیصلہ فرمایا تھا۔ اسی کا نام حکمت ہے اور یہ حسن اتفاق تھا کہ حضرت عبد الرحمٰن بن عوف نے بعد میں اس کی تائید میں ایک حدیث سنا دی اور حضرت عمر نے اس موافقت پر اللہ کا شکر ادا کیا۔ مطلب یہ کہ ہر ہر موقع پر کسی مقیس علیہ کا ہونا ضروری نہیں۔ صرف مصلحت و حکمت اور عدل و رحمت کے تقاضوں کو پورا کرنا کافی ہے۔ اللہ کے رسول نے ہمیں صرف کتاب اللہ کی تعلیم ہی نہیں دی ہے بلکہ ” حکمت ” بھی سکھائی ہے۔ ظاہر ہے کہ ہر موقع پر حکمت ایک ہی حکم نہیں لگاتی۔ شریعت صرف ان ہی احکام کا نام نہیں جو کتابوں میں لکھے جا چکے ہیں بلکہ زمان و مکان اور دوسرے احوال و ظروف کے تقاضوں سے کسی حکم کو بدل دینا بھی شریعت میں ہی داخل ہے۔

موجودہ دور میں ایک عام ہوا یہ بھی چلی ہے کہ ” انسان کو قانون سازی کا حق ہی نہیں۔” اگر اس قانون سے مراد حدود الٰہیہ ہیں تو یہ نظریہ درست تسلیم کیا جا سکتا ہے وہ بھی ایک حد تک لیکن اگر قانون کا مقصد Bye-Laws  ہے تو یہ دعویٰ بالکل درست نہیں۔ اس تصور کو یوں ادا کرنا ہمارے نزدیک زیادہ درست ہے کہ ” دین سازی کا اختیار انسان کو نہیں اور قانون سازی کا اختیار ہے۔” جس دین کا نام اسلام ہے وہ کوئی معین و غیر متبدل شکل و صورت ( Form ) نہیں بلکہ وہ ایک اعلیٰ مرکزی رحجان ( Attitude ) ہے۔ اس رجحان کی جو تشکیل عہد رسالت میں ہوئی یا خلافت راشدہ تک رہی اس سے بہتر تشکیل اس ماحول میں ممکن ہی نہ تھی۔ لیکن اسے کون نہیں جانتا کہ عہد رسالت کے بہت سے وقتی فیصلے خود عہد رسالت ہی میں بدلے گئے اور حضور کے بعد بہتیری چیزیں عہد رسالت کی تبدیل کر دی گئیں۔ یہ تبدیلیاں شرعی تبدیلیاں تھیں دینی نہ تھیں۔ یہ تبدیلیاں خود بتاتی ہیں کہ کسی ضرورت کے پیش نظر تبدیل قانون بھی قانون شریعت ہی ہے۔ بشرطیکہ اس تبدیلی ہی میں ” خیر ” ہو جو اصل رجحان دین ہے ہمارے معاشرے کو آج جتنی دینی پیچیدگیاں ، دقتیں ، مشکلیں پیش آ رہی ہیں اس کا سبب اصلی صرف یہ ہے کہ دین اور شریعت کو یکساں غیر متبدل اقدار تصور کر لیا گیا ہے۔ یہی عسر کا اصل سبب ہے دین کی رحمت ، حکمت ، عدل اور یُسر سب کچھ اس پر موقوف ہے کہ شریعت میں جو توسع و تیسّر رکھا گیا ہے اسے آج بھی اور آئندہ بھی باقی رکھا جائے اور اس سے فائدہ اٹھایا جائے۔

یہ ہو سکتا ہے کہ کسی دور میں جاگیرداری اجتماعی مفادات کے لیے مضر نہ ہو اس وقت جاگیرداری کو باقی رہنے دینا ہی شریعت ہوگا لیکن یہ عین ممکن ہے کہ دوسرے دور میں جاگیرداری معاشرہ کے لیے سم قاتل ہو ، اس وقت اسے کلیةً ختم کر دینا ہی عین شریعت ہوگا۔

اسی طرح یہ ممکن ہے کہ ایک دور میں تعدد ازدواج ضروری ہو اس وقت یہی شریعت ہوگا۔ پھر کسی دور میں یہ ممکن ہے کہ حدّ ازدواج ہی شریعت قرار پائے۔ شریعت مستقلہ نہ وہ ہے نہ یہ ہے۔ وہ بھی متبدل تھی اور یہ بھی متبدل ہوگی۔

یوں ہی غلامی کا رواج ایک دور میں شریعت کا جائز قانون ہو سکتا ہے اور دوسرے دور میں اسے ختم کر دینا ہی شریعت ہوگا۔ اس دور میں جون سی شکل ” خیر غالب ” کا پہلو رکھتی ہوگی وہی شریعت ہوگی۔

پھر ان ساری باتوں میں اس پر بھی نظر رکھنی ضروری ہوگی کہ دینی رجحان کا اصل مرکز کیا ہے اور ہماری وقتی شریعت ( قانون ) کا رخ اسی طرف ہے یا نہیں۔ مثلاً ان تین مثالوں کو ہی دیکھ لیں قرآن کا اصل رجحان ملکیت ذاتی اور جاگیرداری کو ختم کر دینا ہے ، اور ازدواج میں حدّ کو قائم کرنا ہے اور غلامی کی رسم کو نیست و نابود کر دینا ہے۔ پس دین کے ان مرکزی رجحانات تک پہنچنے سے پہلے جو شرعی قانون بھی بنے گا وہ عارضی ہوگا۔ اس میں ضرورت کے مطابق تبدیلیاں بھی ہوتی رہیں گی۔ البتہ ہر تبدیلی کے وقت یہ لحاظ رکھنا ہوگا کہ جس دور میں یہ تبدیلی ہو رہی ہے اس دور میں دین کے اصلی و مرکزی رجحان کی طرف زیادہ سے زیادہ رخ پھرا رہے۔

ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ سرسری طور پر یہاں چند مثالیں شرعی تبدیلیوں کی پیش کر دیں۔ ملاحظہ ہوں :

1 )        عہد رسالت میں شعراء اپنے کلام کی ابتدا عموماً تشبیب سے کرتے تھے۔ کعب بن مالک کی نعت ( قصیدہ بانت سعاد ) کا آغاز ہی ایک عورت ” سعاد ” کے ذکر سے یوں شروع ہوتا ہے ، ع بانت سعاد و قلبی الیوم متبول ( سعاد جدا ہو گئی اور آج میرا دل ٹکرے ٹکرے ہو گیا )

کعب کا یہ قصیدہ سب سے بہتر نعت نبوی میں شمار ہوتا ہے۔ لیکن سیدنا عمر نے اپنے دور خلافت میں کسی عورت کا نام لے کر تشبیب کرنے کو قطعاً روک دیا اور اس کے لیے کوڑوں کی سزا مقرر کی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس قسم کی شاعری سے عوام میں حیوانی جذبات کے بر انگیختہ ہونے کا خدشہ تھا۔ اسد الغابہ ( تذکرہ حمید بن ثور ) میں یوں لکھتے ہیں :

” تقدم عمر بن الخطاب الی الشعراء ان لا تشبیب احد بامراة الا جلدتہ ” یعنی حضرت عمر  نے شعراء کو آگاہ کر دیا کہ جو شخص کسی عورت کا نام لے کر تشبیب کرے گا اسے کوڑوں کی سزا دوں گا۔

2 )        جب قریش نے اسلام اور اہل اسلام کی اور خود آنحضرت کی شان میں ہجویہ اشعار کہنے شروع کیے تو حضور نے حضرت حسان بن ثابت کو جوابی ہجو کی اجازت دی۔ لیکن حضرت عمر نے اپنے دور میں یہ حکم جاری کیا کہ ان اشعار کو زبان پر نہ لایا جائے کیونکہ ان سے گذشتہ رنجشیں تازہ ہوتی ہیں۔ ( آغانی تذکرہ حسان بن ثابت )

3 )        حضرت ابوبکر صدیق تک شرابی کی تعزیر چالیس دُرّے تھی ، حضرت عمر نے اسے اسی ( 80 ) کر دیا اور حضرت عثمان نے دونوں ہی پر مختلف اوقات میں عمل کیا۔

4 )        حضرت ابوبکر صدیق کے عہد تک اُمّ ولد ( جس لونڈی کے بطن سے اولاد ہو جائے ) کی خرید و فروخت جائز تھی۔ حضرت عمر نے اپنے دور میں اس کی خرید و فروخت کو روک دیا کیونکہ قوانین غلامی کا اصل مقصد تدریجی طور پر غلامی کی رسم کو ختم کرنا تھا۔

5 )        غزوہ تبوک میں حضور نے ہر قیدی کا فدیہ ایک دینار مقرر فرمایا تھا لیکن حضرت عمر نے مختلف ممالک میں مختلف شرحیں مقرر فرمائیں۔

6 )        حضور کے عہد میں بعض مفتوحہ زمینیں ( مثلاً خیبر ) مجاہدوں کو تقسیم کی گئیں لیکن حضرت عمر نے اپنے عہد میں اس کو ختم کر دیا۔ ( کتاب الخراج )

7 )        حضور کے عہد سے لے کر عہد صدیقی تک ” طلقات ثلاث بیک مجلس ” کو طلاق رجعی قرار دیا جاتا رہا لیکن حضرت عمر نے اپنے دور میں اسے مغلظہ قرار دیا۔

8 )        حلالہ کرنے والے اور کرانے والے کو حضور نے ملعون قرار دیا۔ اس کے لیے نہ تو قرآن میں کوئی حد ہے نہ حدیث میں کوئی تعزیر لیکن حضرت عمر نے اپنے دور میں اعلان فرمایا کہ ” لا اوتی بمحلل و لا محلل لہ الا رجمة ” یعنی حلالہ کرنے والے اور حلالہ کروانے والے دونوں کو سنگسار کروں گا۔

9 )        حضور نے پورے رمضان میں بیس رکعت اور وہ بھی با جماعت تراویح نہیں پڑھی دور صدیقی میں بھی اس کا ثبوت نہیں ملتا لیکن حضرت عمر نے اپنے دور میں اس کا باقاعدہ اہتمام فرمایا اور وہ اب تک رائج ہے۔

10 )       حضور نے کاشتِ اجناس کی شرحِ خراج با تفصیل نہیں بتائی۔ حضرت عمر نے اپنے عہد میں بالتفصیل ہر جنس کے متعلق خراج کی شرح     (کہ فلاں جنس میں فی جریب اتنا ) متعین فرمائی۔

11 )      حضور نے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ کوئی عرب غلام نہیں بن سکتا۔ لیکن حضرت عمر نے رسم غلامی کو ختم کرنے کے لیے یہ پہلا قدم اٹھایا۔

12 )      حضور کے عہد میں قرآنی نص کے مطابق مولّفۃ القلوب کو صدقہ و زکٰوة دی جاتی تھی لیکن حضرت عمر نے اسے ختم کر دیا۔

13 )      حضرت صدیق اکبر کے دور تک غیر شادی شدہ کی سزائے زنا ، سو کوڑے کے ساتھ ملک بدری بھی تھی لیکن حضرت عمر نے اپنے دور میں ملک بدری کو روک دیا۔

14 )      حضرت عمر کی تمام اولیات کو بھی جن کی تعداد کم و بیش نصف صد ہے اسی میں داخل سمجھنا چاہیے مثلاً تجارتی گھوڑوں پر اور دریائی پیداوار پر (عنبر وغیرہ ) زکوٰة قائم کرنا وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح کے اور بھی بیسیوں فقہی مسائل ہیں۔

15 )      حضور سے لے کر حضرت عمر تک جمعے کی ایک ہی اذان ( قبل از خطبہ ) ہوتی تھی۔ لیکن جب تمدن وسیع ہو گیا اور کاروبار تجارت میں خاصا پھیلاؤ پیدا ہوگیا تو حضرت عثمان نے اپنے دور میں ایک اور اذان کا اضافہ فرمایا جو اب تک رائج ہے۔

16 )      حضرت عثمان کے عہد تک کتابیہ سے نکاح کا رواج ( اجازت قرآنی کے مطابق ) تھا ، لیکن حضرت علی نے اپنے عہد میں مسلمانوں کو بعض فتن کے اندیشے کی وجہ سے اس سے روک دیا۔

مثالیں کہاں تک پیش کی جائیں ؟ مختصر یہ کہ عبادات سے لے کر معاملات تک میں بیسیوں شرعی ترمیمات اس لیے ہوئیں کہ تمدن کی وسعت کا زمان و مکان کے اختلاف کا اور بدلتے ہوئے حالات کا تقاضا یہی تھا کہ بعض قانون میں ایسا حکّ و اضافہ کیا جائے کہ اس کی شکل و صورت تو مختلف ہو جائے لیکن اس کی روح اور مقصدیت اسی طرح باقی رہے۔ یہ ساری شرعی ترمیمات بھی داخل شریعت ہی تھیں۔ پھر یہ بھی واضح رہے کہ ان ترمیمات کو ابدی اور غیر متبدل سمجھ لینا بھی ویسی ہی غلطی ہے جیسی ان قوانین کو قبل از ترمیم ناقابل تبدیل سمجھنا۔ یہ حکّ و اضافہ ہر دور میں ہو سکتا ہے جبکہ حالات اس کے متقاضی ہوں۔

ذرا دیر کے لیے بڑی سنجیدگی سے غیر جانبدار ہو کر غور کیجئے کہ عہد رسالت سے بہتر دور اور جماعت صحابہ سے بہتر امت آسمان کی آنکھوں نے کبھی نہ دیکھی ، وہ دور بھی انتہائی سادگی کا دور تھا اس کے باوجود رسول اکرم کے بعد ہی تیس سال کے بہترین دور راشد میں بیسیوں شرعی ترمیمات ہوئیں تو کیا اس کے تیرہ صدیوں کے بعد آج کبھی کسی شرعی ترمیم کی ضرورت نہیں ہوگی۔ در آں حالیکہ ہزاروں مسائل زندگی ایسے پیدا ہو گئے ہیں جن کا پہلے کوئی وہم و گمان بھی نہیں کر سکتا تھا ، آج بیسیوں قدریں بدل گئی ہیں۔ زمان و مکان کے نظریے تبدیل ہو گئے ، زمانہ سمٹ گیا ، زمین سکڑ گئی ، سیاروں کے فاصلے اور سمندروں کی گہرائیاں ناپ لی گئیں ، برق و باد اور آب و آواز کی رفتارنے اپنے پیمانے بتا دیئے۔ زمیں و آسمان نے اپنے مخفی راز اگل دیئے ، کائنات کے بیشمار پوشیدہ راز انسانی قبضہ و تسخیر میں آ گئے ، علوم فنون نے اپنے دائرے وسیع تر کر دیئے اور تمدن و تہذیب نے نئی کروٹیں بدل لیں ، سائنس نے مردوں کو زندہ کرنا شروع کر دیا اور ابھی ” تیز تر گردد خرام روزگار ”۔ سوچیے کیا آج ہمیں کسی شرعی گوشے میں کسی قسم کے تغیر و تبدل کی ضرورت نہیں۔ یا تو یہ تسلیم کیجئے کہ ان مسائل زندگی سے شریعت کا کوئی تعلق نہیں لہٰذا مسائل خواہ کوئی صورت اختیار کریں لیکن شریعت جوں کی توں رہے گی۔ یا پھر اس کے قائل ہو جائیے کہ حالات و مسائل کے تقاضے سے شرعی قوانین نئی شکل بدل سکتے ہیں۔ پہلی صورت میں خلفائے راشدین کی شرعی ترمیمات کی توجیہ Justification میں شدید دشواریاں پیش آئیں گی۔ لہٰذا دوسری شکل کو ہی صحیح تسلیم کرنا چاہئے جو ہمارا مدعا ہے ورنہ دین یُسر نہیں رہ سکتا سراسر عُسر ہو جائے گا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

مندرجہ بالا مضمون جناب مولانا شاہ محمد جعفر پھلواروی کی کتاب ” اسلام – دین آسان ” سے ماخوذ ہے۔ فاضل مضمون نگار اپنے وقت کے ایک جید عالم تھے ، جو علوم دینی کے ساتھ ساتھ دنیاوی علوم پر بھی نظر رکھتے تھے۔ آپ کا طرز تحریر انتہائی سادہ مگر پر اثر ہوتا تھا اور دقیق سے دقیق موضوع کو بھی انتہائی سادہ زبان میں ایک عام ذہنی سطح کے قاری کے لیے قابل گرفت اور پر اثر بنا دیتے تھے۔ اس کتاب میں مولانا مرحوم نے اسلام کے ان مسائل پر جو الجھے ہوئے اور ناقابل عمل محسوس ہوتے تھے بڑی سادگی سے ان پر عقلی و نقلی روشنی میں بحث کی ہے۔ پوری کتاب ہی بہت اہم اور دلچسپ ہے۔ ہم نے اس کتاب سے دین و شریعت کے فرق کے موضوع پر بحث کے کچھ اقتباسات قارئین کے لیے نقل کیے ہیں۔ مضمون کی بعض جزئیات سے اختلاف رائے ممکن ہے لیکن بحیثیت مجموعی شاہ صاحب دین اور شریعت کے تعلق سے جس حکیمانہ نکتے کی طرف راہنمائی فرما رہے ہیں وہ اہم ہے۔ ( ادارہ الواقعہ )

 

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s