مسلم امہ اور عہدِ جدید کے تقاضے


05 muslim umma 1 TITLEonline urduجمادی الاول و جمادی الثانی1436ھ/ مارچ و اپریل2015ء شمارہ 36 اور 37

عالم اسلام

محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

 مسلم امہ اور عہدِ جدید کے تقاضے

آج دنیا افراط و تفریط کی جس راہ پر گامزن ہو چکی ہے ، اس نے افرادِ انسانی سے اس کا امن و سکون چھین لیا ہے اور کارِ انسانیت کو انتشار و افتراق کی ان ظلمتوں کی نذر کر دیا ہے کہ بظاہر اس سے نجات کی کوئی سبیل نظر نہیں آتی۔ یہ صورت حال مسلم امہ کے لیے بھی ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ عالمی طاقتوں نے یہ تمام تر تلخیاں مسلمانوں ہی کے لیے بالخصوص وضع کی ہیں۔ آج مسلمان سیاسی ، اقتصادی ، علمی الغرض تمام شعبوں میں انتہائی مجبور حد تک ناکام و نا مراد ہیں اور عالمی طاقتوں کی شیطنیت اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ اس راہ میں اخلاقی قدریں بھی مانع نہیں رہیں۔ یہ انسانی حقوق کے علمبرداروں کا کردار و عمل ہے اور اسی پر شیطان کو کہنا پڑا

باقی نہیں اب میری ضرورت تہہ افلاک

یہ میرا منصب نہیں کہ اپنی فکری کم مائیگی ، قلّتِ علمی اور محدود معلومات کا ادراک رکھتے ہوئے بھی ان مسائل پر اظہارِ فکر کروں لیکن میرے لیے نا  ممکن تھا کہ اپنے اضطرابِ قلب کا اظہار کیے بغیر رہ جاتا۔

جس طرح کتاب و سنت اور سیرت نبوی ﷺ سے تعلق اس دنیا کی سب سے بڑی سعادت ہے بعینہ اس سے بُعد و دوری بھی دنیا کی سب سے بڑی شقاوت ہے۔ یہ وہ اجزائے ثلاثہ ہیں جنہیں کسی صورت تقسیم نہیں کیا جا سکتا اور اگر کسی کی نگاہِ وحدت نا آشنا ان کی بنیادوں میں بھی فرق و اختلاف تلاش کر لے تو ایسی کج نظری پر ہزار افسوس اور ایسی کم فہمی پر ہزار ماتم۔

علم بے شک کسب و سعی کے مراحل سے گزر کر حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن فہم و معرفت صرف عطیہ الٰہی کا ثمرہ ہے۔ آج ضرورت اسی دینی فہم کے اجاگر کرنے کی ہے جس کی کمی کی وجہ سے تشدد و انتشار جنم لیتا ہے۔ مسلمان سب کچھ کر سکتے ہیں لیکن صرف اس صورت میں کہ ان کی صفیں منظم و مربوط ہوں وگرنہ تمناؤں اور خواہشوں کے باب تو کھلے ہیں مگر حقیقتوں کا سامنا نہیں ہو سکے گا۔

اس وقت مسلم امہ کو سیاسی ، اقتصادی اور علمی میادین میں اہم ترین اور انتہائی مشکل حالات کا سامنا ہے۔ ان مسائل کا مختصر تجزیہ درج ذیل ہے۔

عہد جدید کے سیاسی تقاضے

خفیہ عالمی طاقتوں نے ایک طویل عرصے سے دنیا کو یہ بآور کرایا ہے کہ مسلمان جنگی جنون میں مبتلا ہیں اور اپنے ” مقدس جہاد ” کے ذریعے دنیا کا امن و سکون تباہ کر دینا چاہتے ہیں ۔ یہ وہ منفی پروپیگنڈہ ہے جو آج بھی جاری ہے۔ تقریباً ڈھائی دہائیاں قبل برطانیا سے شائع ہونے والے یہودی مجلہ ” جیوئش کرانیکل ” (Jewish Chronicle) میں ” الجہاد فی الاسلام ” کے عنوان سے ایک مقالہ شائع ہوا تھا ، اس میں مقالہ نگار نے لکھا تھا کہ

” عالم اسلام میں مختلف جماعتوں ، تنظیموں اور تحریکوں کی طرف سے اسلام کے بنیادی اصولوں کی طرف رجوع کرنے اور ان پر سختی سے کاربند ہونے کی دعوت مسلسل دی جارہی ہے۔ یہ تحریکیں اور جماعتیں کافی مضبوط ہوچکی ہیں اور مغرب کی سیاسی حکمت عملی ترتیب دینے والوں نے اگر ان جماعتوں کی اس دعوت کو ملحوظ رکھ کر اپنی اسٹرٹیجی نہ بنائی تو یہ ان کی کوتاہ بینی کا بہت بڑا ثبوت ہوگا۔” [1]

اسی طرح برطانیا سے شائع ہونے والے ایک دوسرے مجلے ” سنڈے ٹیلی گراف ” میں ” اسلامی خطرے کا مقابلہ ” کے عنوان سے ایک مقالہ شائع ہوا جس کے مقالہ نگار نے انتہائی گمراہ کن پروپیگنڈہ کرتے ہوئے لکھا:

” ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کچھ عرصے تک عرب اور مسلمان ملک دنیا پر قابض ہو جائیں گے ، بغیر اس کے کہ وہ اپنے ہاں دورِ جدید کے نئے ترقی یافتہ ادارے قائم کریں ۔ بعض عرب ملکوں کے عوام میں تجدیدُ الاسلام کا عمل بھی جاری ہے ، یہ ایک نیا خطرہ ہے۔ ہم پر لازم ہے کہ اس خطرے کے سدّباب کے لیے مناسب وسائل اختیار کریں ممکن ہے کہ اس غرض کے لیے عسکری قوت سے بھی کام لینا پڑے ، کیونکہ اسلام تجدید جہاد کی دعوت دیتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے مذاہب کو ختم کر دیا جائے ۔” [2]

چنانچہ ” خفیہ عالمی طاقتیں ” مسلمانوں کو ” نیست و نابود ” کرنے کے ” مقدس مشن ” کی تکمیل میں مصروفِ عمل ہو گئیں۔ C.I.A کی خفیہ سروس کے سربراہ رچرڈ بی مچل نے بظاہر الاخوان المسلمون کے خاتمے کی تجاویز پیش کیں لیکن حقیقت میں یہ حربہ ہر خطہ اسلامی میں آزمایا گیا ۔ موصوف کی تجاویز ملاحظہ ہوں :

” 1-مکمل خاتمے کی بجائے جزوی خاتمے پر اکتفا کیا جائے۔ صرف ان راہنما شخصیتوں کا خاتمہ کیا جائے جو دوسرے ذرائع سے جن کا ذکر ہم آگے کرنے والے ہیں ، قابو میں نہ آئیں ۔ ہم اس بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ ان شخصیتوں کا خاتمہ ایسے طریقوں سے کیا جائے جو بالکل طبعی اور فطری معلوم ہوں ۔

2-جن شخصیتوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کا فیصلہ کیا جائے۔ ان کے سلسلے میں ہم مندرجہ ذیل اقدامات کی سفارش کرتے ہیں۔

الف          جن لوگوں کو بڑے بڑے مناصب دے کر ورغلایا جا سکتا ہے ان کو بے ضرر قسم کے بڑے بڑے اسلامی منصوبوں میں منصب دیئے جائیں تاکہ ان کی قوتیں یہی منصوبے نچوڑ لیں۔ اس کے ساتھ ہی ان پر اور ان کے اہل و عیال پر مادّی سہولتوں کی بارش کر دی جائے ، تاکہ وہ ان میں پوری طرح منہمک ہو جائیں۔ ان کی قوتیں وہیں صرف ہو جائیں اور عوام سے ان کا رابطہ کاٹ کر ان کی بنیاد ختم کر دی جائے۔

ب         جن کے کاروباری رجحانات ہوں ، ان پر کام کر کے انہیں کاروباری منصوبوں میں حصہ دار بنانے کی کوشش کی جائے۔

ج          پٹرول پیدا کرنے والے عرب ملکوں میں ان کے لیے کام کے مواقع پیدا کیے جائیں اس طرح وہ اسلامی سرگرمیوں سے دور ہو جائیں گے۔

د           یورپ اور امریکا میں جو عناصر فعال ہیں ان کے بارے میں ہماری تجاویز حسبِ ذیل ہیں :

ان کی قوتوں اور کوششوں کو غیر مسلموں پر صرف کروایا جائے۔ پھر اپنے اداروں کے ذریعے ان کاوشوں کو لا حاصل بنا دیا جائے۔

ان کی کوششوں کو اسلامی کتابیں چھاپنے اور شائع کرنے میں کھپا دیا جائے اور ساتھ ہی ان کے نتائج کو ناکام کر دیا جائے۔

ان کی قیادتوں میں آپس میں شکوک و شبہات پیدا کیے جائیں۔ ان میں اختلاف کے بیج بو کر ان کو نمایاں کیا جائے تاکہ نتیجہ خیز سرگرمیوں کی بجائے ان اختلافات میں اپنی قوتیں جھونک دیں۔

3-نوجوانوں کے بارے میں ہم تجویز کرتے ہیں کہ

الف        ان کی قوتوں کو مذہبی رسوم و عبادات میں کھپا دیا جائے۔ اس سلسلے میں وہ مذہبی قیادتیں مفید ثابت ہو سکتی ہیں جو صرف عبادات پر زور دیتی ہیں اور جو سیاست سے تعرض نہیں کرتیں۔

ب         مذہبی و فروعی اختلافات کی خلیج کو وسیع کیا جائے اور نوجوانوں کے ذہنوں میں ان کو نمایاں کیا جائے۔

ج          سنت پر حملوں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور سنت اور دوسرے اسلامی مآخذ کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کیے جائیں۔

4-مختلف اسلامی جماعتوں میں پھوٹ ڈالی جائے اور ان جماعتوں کے اندر اور مابین تنازعات کھڑے کیے جائیں۔

5-نوجوانوں کی توجہ اسلامی تعلیمات کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یہ ایک رو ہے جس کا مقابلہ ضروری ہے۔ خاص طور پر لڑکیاں اسلامی لباس کا التزام کر رہی ہیں ، اس کا مقابلہ ذرائع نشر و اشاعت اور جوابی ثقافتی سر گرمیوں کے ذریعے ضروری ہے۔

6-مختلف مراحل میں تعلیمی سرگرمیوں کے ذریعے اسلامی جماعتوں کی کاوشوں کو بے اثر بنایا جائے اور ان کا دائرہ محدود کرنے کی کوشش کی جائے۔” [3]

موصوف کی تجاویز تقریباً 35 برس قبل کی ہیں جس کے نتیجے میں آج مسلمان استعماریت کے ہاتھوں کھلونا بن گئے ہیں۔ فیا سفا علیٰ ھذا

اس وقت تمام اسلامی دنیا شدید ترین سیاسی بحران کا شکار ہے۔ اسلامی ممالک میں اتحاد و یگانگت کا فقدان ہے۔ فلسطین ، کشمیر ، چیچنیا ، عراق ، کوسوو وغیرہا بلادِ اسلامیہ میں مسلمانوں کو بد ترین مظالم کا سامنا ہے تمام اسلامی ممالک اس صورت حال کو ملاحظہ کرنے کے باوجود بے بس ہیں اس لیے جرات ایمانی و قوت روحانی سے محروم ہیں۔ اس سیاسی بحران سے نکلنے کے لیے درج ذیل تدابیر پر عمل ناگزیر ہے:

تمام اسلامی ممالک ایوانِ کفر میں سرنگوں ہونے کی بجائے آپس میں اتحاد و محبت کی فضا پیدا کریں۔

O.I.C کو واقعتاً متحرک و فعال بنایا جائے۔

اپنے اندرونی معاملات میں استعماریت کی دخل اندازی کو سختی سے روکا جائے۔

تمام اسلامی ممالک ایسی کمیٹیاں تشکیل دیں جو مختلف اسلامی ممالک کے مابین رشتوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں۔

اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنایا جائے اور اس کے لیے تمام اسلامی ممالک ایک دوسرے کی معاونت کریں۔

عہدِ جدید کے اقتصادی مسائل

اس وقت ملٹی نیشنل کمپنیوں نے دنیا کو بالعموم اور اسلامی دنیا کو بالخصوص اقتصادی طور پر اپنا یرغمال بنا رکھا ہے۔ آج کی مادی دنیا نے انسان کو مادی خواہشوں کو بے لگام کر دیا ہے کہ ہر شخص اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے ہر حد تک جانے کے لیے تیار ہو گیا ہے۔ سلسلہ مال و دولت کا ارتکاز محض ایک مخصوص طبقے تک محدود ہو کر رہ گیا ہے جس نے معاشرے میں بے چینی و اضطراب کو جنم دیا اور یہی بے چینی و اضطراب ہے جس کی کوکھ سے جرائم جنم لیتے ہیں گویا اقتصادی بحران کا دائرہ اثر و نفوذ پورے معاشرے کو اپنے احاطے میں لیے ہوئے ہے۔ اسلامی دنیا میں ان ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ذریعے یہ اقتصادی بحران بڑے غیر محسوس طریقے سے اثر انداز ہوا حتیٰ کہ حکومتیں بھی ان کے سامنے بے بس ہو گئیں۔ انگریزوں نے قارہ ہند کو اقتصادیات ہی کی راہ سے اپنا یرغمال بنایا تھا اور آج پھر اسلامی دنیا اسی راہ سے مغلوب ہو رہی ہے ۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نہ صرف برصغیر کی تاریخ کا بلکہ اسلامی تاریخ کا بھی سیاہ باب ہے ہمیں اسے بھولنا نہیں چاہیے۔

یہ ملٹی نیشنل کمپنیاں نہ صرف ہماری اقتصادی جڑوں پر ضرب کاری لگا رہی ہیں بلکہ اپنی مصنوعات و مشروبات میں حرام اجزاء کو شامل کر کے مسلمانوں کے ایمان پر بھی نقب زن ہو رہی ہیں۔ یہ ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنی آمدنی کا ایک معتد بہ حصہ اسرائیل کے تحفظات کے لیے وقف کر دیتی ہیں۔ گویا مسلمان ان کمپنیوں کی مصنوعات خرید کر خود اپنی تباہی و ہلاکت کا سامان تیار کر  رہے ہیں۔

اقتصادی طور پر اس بحران سے نکلنے کے لیے گزیر ہے کہ

اسلامی حکومتیں ملک کے اندر ہونے والی صنعتی ترقی کی حوصلہ افزائی کریں۔

ان تمام مصنوعات و سامانِ اکل و شرب پر سرکاری سطح پر پابندی عائد کی جائے ، جس میں حرام کی آمیزش ہو۔

مسلمان سب سے پہلے اسلامی اداروں کی تیار کردہ مصنوعات کو فوقیت دیں اس کے بعد ان اداروں کی مصنوعات خریدیں جن کی آمدنی اسلام دشمنی میں صرف نہ ہو رہی ہو ۔

وہ تمام اسلام دشمن صنعتی ادارے جو اپنی آمدنی اسلام دشمنی پر خرچ کر رہے ہیں ان کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے۔

عہدِ جدید کے علمی تقاضے

اس وقت مسلم امہ کو علمی میادین میں بہت بڑا چیلنج درپیش ہے۔ ایک طرف قدامت پسند علماء ہیں جو اصابتِ فکر و صلابتِ رائے سے محروم ، رسومات ہی کو دین سمجھ بیٹھے ہیں ۔ سلف نے جو کچھ اپنے اجتہاد و قیاس سے کہہ دیا ہے اس دین کے اصل سر چشمہ مصفا پر فوقیت دیتے ہیں۔ انہوں نے اس قرآنی حکم کو یکسر فراموش کر دیا دوسری طرف تجدد پسند علماء کی کھیپ تیار ہورہی ہے جو دین کے ہر معاملے میں اپنے ناقص عقل کی پیوند کاری ضروری سمجھتے ہیں۔

علمی طور پر جو سرمایہ اس وقت جمع ہو رہا ہے اس میں اسلامی فکر کے احیاء کی غزا مفقود ہے۔ فروعات پر کتابوں کے انبار لگ رہے ہیں ، ہر روز نت نئی سنتیں ایجاد ہو رہی ہیں ۔ جب امام مہدی کا انتظار ہی دنیا کی سب سےبڑی فضیلت بن چکا ہو تو عمل کی گنجائش کس طرح نکل سکتی ہے؟

ہمارے پاس قرآن موجود ہے جس نے چودہ صدیاں قبل یہ دعویٰ کیا تھا کہ  أَلَا بِذِكۡرِ ٱللَّهِ تَطۡمَئِنُّ ٱلۡقُلُوبُ ٢٨ لیکن افسوس کہ ہم اپنے دلِ شکستہ کی تسکین کے لیے آلات لہو و لعب کے خوگر بنتے چلے گئے اور اب صورت حال یہ ہو گئی ہے کہ

و کاس شربت علیٰ لذۃ

و اخریٰ تداویت منھا بھا

کتاب و سنت سے اعراض مسلمانوں کی ہیئت اجتماعی کا سب سے بڑا علمی سانحہ تھا۔ غیر مسلم اسکالرز کا علمی پروپیگنڈہ اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے ، جس نے عالمی رائے عامہ پر نہایت گمراہ کن اثر ڈالا ہے ، اس کے بر عکس مسلم اسکالرز کی کثیر تعداد اپنی قلمی جولانیاں اندرونی اختلافات کی نذر کرتی رہیں۔ بیروت کی امریکن یونی ورسٹی کے ڈاکٹر کمال صلیبی ( جن کا نسلی ربط یہودیوں سے بھی ہے ) نے یہ جدید انکشاف کیا ہے کہ یہودیوں کا اصل وطن فلسطین نہیں بلکہ منطقہ عہد سعودی عرب ہے۔ ایک دوسرے یہودی مستشرق پروفیسر برنارڈ لیوس نے “The Jews of Islam” میں اسلام کے نمود کو مسیحی علم الاساطیر اور یہودی خرافات سے منسلک کرنے کی کوشش کی۔ تحقیق کے جدید اسالیب کو استعمال کرتے ہوئے موصوف نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اسلام نے علمی و فکری غذا یہودیت سے حاصل کی ہے۔ اس کےعلاوہ مغرب کا بیشتر تحریری اثاثہ اسی قسم کی زہر آلود مسموم تحقیقات سے معمور ہے۔

لیکن مسلم اسکالرز نے اس کی تردید میں جو کچھ تحریر کیا اسے خود مسلمانوں نے لائقِ اعتنا نہیں سمجھا۔ جس کی وجہ سے ان کی آواز صدا بصحرا ہو کر رہ گئی۔ اب کچھ اجتماعی کوششیں کی جا رہی ہیں اللہ اس کے دائرہ اثر و نفوذ میں اضافہ فرمائے ۔آمین

علمی میادین میں مسلم اسکالرز اور ارباب اقتدار کو بالخصوص درج ذیل امور پیشِ نظر رکھنے چاہیے۔

اسلامی ممالک کی تعلیمی پالیسی میں دینی تعلیم کو صحیح مقام دیا جائے۔

ایسا نصاب تعلیم تشکیل دیا جائے جو ہمیں  اپنی دینی اساس سے بھی وابستہ رکھے اور ہماری تاریخ کو بھی گمشدہ نہ ہونے دے۔

تعلیم کے لیے کی گئی تمام اصلاحات اس وقت تک غیر مؤثر رہیں گی جب تک کہ میڈیا کو مشرف باسلام نہ کر لیا جائے ، گو آج میڈیا جس درجہ آزاد ہو چکا ہے اور ہمارے ذہنوں کو جس طرح اپنا اسیر بنا چکا ہے ، اس نے طہارت فکر و نظر اور نظافت روح و قلب کے تصور ہی کو مجروح کر کے رکھ دیا ہے۔ اسلامی ممالک کی میڈیا اگر غیر اسلامی ثقافت کا پرچار کرے اور شعائرِ اسلامی کی تضحیک کرے تو یہ یقیناً افسوسناک امر ہے اور بد قسمتی سے ایسا ہی ہے۔ عوام اور خواص دونوں ہی نے اس صورت حال کو قبول کر لیا ہے۔اس کا سد باب ضروری ہے۔

دینی دارے ہوں یا انفرادی شخصیتیں ، ضرورت اس امر کی ہے کہ وسعت قلبی کے ساتھ دینی خدمت کے لیے مستعد ہوں ، ایک دوسرے کو برداشت کرنے اور ہم آہنگی کی فضا پیدا کرنے کی سعی کریں۔

مستشرقین کی وہ تحریریں جو اسلام کی حقانیت کا پرچار کرتی ہوں ان کی زیادہ سے زیادہ تشہیر کی جائے۔ مثلاً ڈاکٹر فرینک ٹیلر نے اپنی کتاب “Physics of Imortality” میں جو اہم ترین سائنسی انکشافات کیے ہیں اس سے اسلامی عقیدے کا اثبات ہوتا ہے۔ اسی طرح عالمی شہرت یافتہ سائنسدان موریس بو کائلے ( جنہوں نے بعد ازاں اسلام قبول کرنے کی سعادت حاصل کی ) کی کتاب “The Bible, The Quran and Science” بھی اس حوالے سے مفید کتاب ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس قسم کے علمی سرمایے کو زیادہ سے زیادہ عام کیا جائے۔

عربی زبان قرآن کی زبان ہے ، یہ وہ زبان جو تمام اسلامی ممالک کو ایک رشتہ وحدت میں پرو سکتی ہے۔ اس زبان کی تعلیم کو داخل نصاب کیا جائے۔

مسلمانوں میں قرآن و حدیث سے استفادے کا ذوق ماند پڑتا جا رہا ہے ۔ اس ذوق کو پروان چڑھایا جائے۔

آج تک یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ قرآن مسلمانوں کی کتاب ہے لیکن یہ غلط ہے کیونکہ قرآن تو انسانوں کی کتاب ہے اور حاملینِ قرآن کا سب سے اہم فریضہ یہ ہے کہ وہ انسانیت کو اس کی متاعِ گم گشتہ لوٹا دیں۔

حضراتِ گرامی ! دین کی خدمت ایک بہت بڑی سعادت ہے وگرنہ یہ تو ظاہر ہے کہ اللہ کا دین میری ، آپ کی یا کسی فردِ انسانی کی خدمت کا محتاج نہیں۔ یہ نا ممکن ہے کہ اللہ کا دین بھی کبھی معدوم ہو جائے۔ آج ہم عمل کی دنیا میں ہیں اور احتساب کا وقت نہیں آیا ۔ کل میدانِ احتساب میں ہوں گے اور عمل کا کوئی موقع نہ ہوگا، آئیے اس سے پہلے کہ وقت کی ساعتیں دغا دے جائیں ہم خلوص و انابت کے جذبے سے سرشار ہو کر اللہ کے دین کی نصرت کے لیے جو کچھ ممکن ہو کر گزریں۔

[1]   ہفت روزہ ” زندگی ” لاہور : 16 مارچ 1979ء

[2]   حوالہ مذکور

[3]   حوالہ مذکور

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s