حریت فکر اصل جوہر حیات ہے


ذی قعد و ذی الحجہ 1434ھ ستمبر اور اکتوبر 2013، شمارہ 18AlWaqiaMagzine, Al-Waqia,  AlWaqiaMagzine.wordpress.com, Al-Waqia.blogspot.com, مجلہ الواقعۃ
فلسفہ زندگی

حریت فکر اصل جوہر حیات ہے

راحیل گوہر

انسان کی فکری اور
ذہنی  غلامی ، اس کی جسمانی غلامی سے کہیں زیادہ
مہلک ہوتی ہے
۔انسان  کے عقائد و افکار سے حریت فکر چھین لی جائے یا مفلوج
ہو
جائے تو سارا نظام ہی درہم برہم ہوجاتا ہے۔فکری اور ذہنی آبیاری قوموں اور نسلوں
کے قلب و نظر
میں ایک نئی روح پھونک دیتی ہے۔اگر انسانی فکر و ذہن کے افق پر کسی دوسری تہذیب و تمدن
کی گھٹا چھا جائے تو اس قوم کی فکری زمین کے سوتے خشک ہونے لگتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ
اس کی فکری ، نظری اور ذہنی سطح بنجر ہو
جاتی ہےاور زوال و اضمحلال اس کا مقدر بن جاتا ہے ۔ اس حادثہ کے
پس منظر میں کئی عوامل کار فرما ہوتے ہیں ، سیاسی
بھی ،
سماجی ، نفسیاتی اور معاشی بھی ۔
قوموں کی شکست و ریخت میں یہ انتہائی مؤثر کار پرداز ہیں ، جن کے سامنے وہی
قومیں اور نسلیں سینہ سپر ہو سکتی ہیں جو اپنے اندر حریت فکر ، وسعت نظر ، وسعت قلبی
، تحفظ اقدار کی پیش بندی ، شوق و ولولہ ، بے باک صداقت اور مقاصد کی رفعتیں ، زندگی
کی ہر سانس میں موجود رکھتی ہوں۔
امت مسلمہ وہ خوش نصیب
امت ہے جس کو اپنے داعی حق و صداقت رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل وہ حریت فکر
ملی ہے جو پوری انسانیت کے لیے اصل جوہر حیات ہے ۔ اطاعت رب اور احکام الہٰی کی بجا
آوری کے ساتھ محدود دائرے میں رہتے ہوئے  امت
کو جس انداز کی فکری اور ذہنی آزادی کی تعلیم دی گئی ہے ، وہ دنیا کے تمام فلسفہ ہائے
ادیان و علوم سے قطعی منفرد اور ممتاز ہے ۔ عقائد و عبادات میں ، رسم و رواج میں ،
غربت و امارت اور منصب و اقتدار میں ، انسانی زندگی کا کوئی پہلو  ایسا نہیں چھوڑا جس میں نسل انسانی کے اجتماعی منفعت
کو پیش نظر رکھتے ہوئے واضح اور مؤثر  ہدایات
نہ دی ہوں ۔ رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے تربیت یافتہ خلفاء راشدین اور
دیگر صحابہ کرام
رضی اللہ عنہما نے اسی آزادیٔ فکر و نظر کی بقاء و سلامتی کے لیے مسلسل
جدوجہد جاری رکھی ۔  کفر و شرک کی نجاستوں میں
لتھڑی فکری آلودگی نے انسان کی قوت متخیلہ کو جامد کر دیا تھا ۔ اسلام کی مصفاء اور
مطہرہ تعلیم نے ان کی فکری اور ذہنی غلاظتوں کو دھوکر آب زلال کی مانند منزہ اور  پاکیزہ کر دیا۔
خلافت راشدہ کی چاندنی
پھیکی پڑی اور پہلے بنو امیہ اور اس کے بعد بنو عباس کے دور اقتدار کا سورج طلوع ہوا  تو انہوں نے اس حریت فکر کی نبیادوں پر تیشہ چلانے
کے لیے نت نئے حربے آزمائے مگر جس عمارت کی بنیادوں میں حق و صداقت اور امانت و دیانت
کے خمیر کی آمیزش کی گئی ہو ، اسے ہلانا آسان نہیں ہوتا ۔ چنانچہ تقریباً تین صدیوں
تک حریت فکر کی اصل روح انسانوں کے احساس و ادراک میں باقی رہی ۔  حریت فکر انسان پر اندھی تقلید کی راہیں بند کر
دیتی ہے ، اس لیے کہ عقیدت میں غلو اور تقدیس میں غیر متوازن طرز عمل انسان کے غور
و فکر اور فہم و فراست میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتا ہے۔
انسان کی بڑائی اس
میں ہے کہ وہ محض اپنی رائے اور اپنی فکری اڑان کو دوسروں کے علم و فہم سے بالا تر
نہ سمجھے ۔ صحابۂ کرام   جیسی مقدس و محترم
ہستیاں بھی کئی معاملات میں ایک دوسرے سے اختلاف رائے رکھتی تھیں اور وہ  بلا خوف لومتہ لائم  تنقید کر دیا کرتے تھے اور یہی آزادیٔ اظہار رائے
کا واضح ثبوت ہے ۔ علامہ اقبال اپنے خطبات مدراس
” تشکیل جدید الہٰہیات اسلامیہ” کے دیباچہ میں کہتے ہیں :
” یاد رکھنا چاہئے
کہ فلسفیانہ غور و تفکر میں  قطعیت کوئی چیز
نہیں ۔ جیسے جیسے جہان علم میں ہمارا قدم آگے بڑھتا ہے ا ور فکر کے لیے نئے نئے راستے
کھل جاتے ہیں ، کتنے ہی اور ،  اور شاید ان
نظریوں سے جو ان خطبات میں پیش کیے گئے ہیں زیادہ بہتر نظریے ہمارے سامنے آتے جائیں
گے ۔ ہمارا فرض بہرحال یہ ہے کہ فکر انسانی کے نشو و نما  پر باحتیاط نظر رکھیں اور اس باب میں آزادی کے ساتھ
نقد  و
تنقید سے کام لیتے رہیں ۔” 
تاریخ کے اوراق اس
بات کے شاہد ہیں کہ قوموں کی آزادیٔ فکر پر قدغنیں لگانے کی ہر کوشش کی ہمارے اکابرین
نے ہمیشہ  حوصلہ شکنی کی ہے اور کسی ایسی روایت
کو پنپنے نہیں دیا جو انسانوں کی قلب و زباں پر مہر ثبت کر سکے ۔ عباسی خلیفہ منصور
نے جب حضرت امام مالک  کی کتاب  ” الموطاء ” کو تمام عالم اسلام کا واحد دستور
العمل بنانے کی خواہش ظاہر کی تاکہ تمام مذاہب فقہیہ کو موقوف کرکے صرف مذہب مالکی
کو نافذ و رائج کیا جائے تو خود امام صاحب
نے بلا جھجھک مخالفت کرتے ہوئے فرمایا کہ
وہ یہ روایت ڈال کر دوسروں کی تحقیق اور آزادیٔ رائے کا حق سلب کرنا نہیں چاہتے
۔ ایک اور موقعہ پر آپ نے ارشاد فرمایا کہ ” میں انسان ہوں ، میری رائے غلط بھی ہو
سکتی ہے اور صحیح بھی ۔ تم میری رائے پر نظر نہ رکھو ۔ جو کچھ کتاب و سنت کے موافق
پاؤ اسے قبول کرلو اور جو بات اس کے خلاف ہو اسے مسترد کردو ۔” امام اعظم حضرت امام
ابو حنیفہ کسی بھی رائے یا قول کو حتمی سند دینے کی تردید کرتے ہوئے فرماتے ہیں ”
دو مختلف اقوال میں سے ایک بہر حال غلط ہوگا ۔” خلیفہ اول سیدنا ابو بکر صدیق
رضی اللہ عنہماجب کسی
مسئلہ پر اپنے اجتہاد سے کچھ فرماتے تو ساتھ ہی یہ بھی فرما دیتے کہ  ” یہ میری رائے ہے ، اگر درست ہے تو اللہ کی طرف
سے ہے اور اگر غلط ہے تو یہ میری خطاہے اور میں
اللہ سے مغفرت چاہتا ہوں ۔
یہ اپنے ہی جیسے دیگر انسانوں کی حریت فکر اور آزادیٔ
اظہار رائے کا مسلمہ اصول ہے جو زندہ اور باشعور قوموں کاطرز زندگی ہوتا ہے۔
رسول کریم صلی
اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے امن و سلامتی والے دین کا سورج اپنی پوری ضیا پاش کرنوں
کے ساتھ تین صدیوں تک امت مسلمہ کے قلوب و اذہان
کو گرماتا رہا اور تحقیق و اجتہاد ،
تلاش حق ، فکر و تدبر اور انسانیت کی فلاح
و کامرانی کے حصول کا یہ سفر جاری و ساری رہا۔ لیکن پھر بتدریج یہ جذبات سرد پڑنے لگے
، فکر و تجسس کے سوتے خشک ہونے لگے۔ امت کی زبانیں گنگ اور سماعتیں حق سننے سے بیزار
ہونے لگیں اور پھر مکافات عمل کی پاداش میں جسمانی غلامی کے ساتھ ساتھ انسان کی بصارت و بصیرت ، فراست و ذہانت ، قوت فیصلہ
، اقدام و پیش بندی ، ہمت و مردانگی، عدالت و شجاعت ، غرض کہ کچھ بھی ایسا باقی نہ
بچا جو غلامی کی زنجیروں میں جکڑا نہ گیا ہو ۔ انسان اپنے معبود برحق سے منہ موڑکر
، اپنے جیسے دوسرے انسانوں کے سامنے سجدہ ریز ہونے لگا۔ ذاتی منفعت حق کہنے اور حق سننے میں آڑے آنے لگیں ۔ ایوان اقتدار ،
مدارس و مساجد ، تعلیم و تربیت کے مراکز ، نفوس تزکیہ کی علمبردار خانقاہیں ، علماء
و مشائخ  سب اس سیل رواں میں بہتے چلے گئے۔
حریت فکر اور آزادیٔ
رائے کی روح مضمحل ہونے لگے  تو حق صداقت پر
باطل قوتوں کو غلبہ پانا آسان ہو جاتا ہے ۔ امت مسلمہ آج اسی دردناک کیفیت سے دوچار
ہے ۔ حق پرستی پر جب مفاد پرستی اور ظلم و عدوان کی گرد جمنے لگے تو حریت و آزادی پر
جمود طاری ہو جاتا ہے اور غلامی اور کاسہ لیسی
انسان کا مقدر بن جاتی ہے ۔ یہ غلامی کبھی صدیوں تک قوموں اور نسلوں کے روح
و بدن کو پابند سلاسل رکھتی ہے اور یوں حیات انسانی کا اصل جوہر اس سے چھن جاتا ہے
اور اس کی علمی ، اخلاقی ، روحانی ،  نفسیاتی
بالیدگی اور صحیح خطوط پر نشو و نما ، مختلف غیر شفاف ، کثافتوں اور آلودگیوں میں لتھڑ
جاتی ہیں ۔ انسان کی حریت فکر اور آزادیٔ عمل کا آئینہ دھندلا جاتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے
کہ امت مسلمہ کو اپنی کھوئی ہوئی شناخت کو بازیافت کرنا چاہیے ۔ ذہنی اور فکری غلامی
کے حصار کو توڑ کر اور   اسلام کی اعلیٰ اقدار
کو اپنا کر اپنی آزادی اور حریت فکر و عمل کی اس آفاقیت کو عالم انسانیت کے سامنے پیش
کرنا چاہیے جو کبھی مسلمانان عالم کا طرۂ امتیاز تھا ۔ آپس کی چپقلش ، اپنی مفادات
کی فکر اور فرقہ پرستی ، اسلام دشمن عناصر کو اپنا ہمدم و غمگسار سمجھنا ، اپنی عقائد
و نظریات اور اپنے وجود پر تیشہ چلانے کے مترادف ہے ۔ باطل قوتیں کا تو منشور ہی یہ
ہے کہ اسلام کے پیرو کاروں کو ہر سطح اور ہر جہت سے غلامی کی بیڑیاں پہنا کر رکھا جائے
۔ اگر ہم نے انفرادی اور اجتماعی دونوں پہلوؤں سے اپنی حیثیت اور مقام و مرتبے کا شعوری
احساس اپنی قلب و ذہن میں اجاگر نہ کیا تو خاکم بدہن ہماری داستاں بھی نہ ہوگی داستانوں
میں ۔ اس لیے کہ اللہ بھی اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جسے خود اپنی حالت بدلنے کا قلبی
اور شعوری احساس نہ ہو ۔
اے  کہ  غلامی  سے  ہے  روح  تری  مضمحل
سینۂ  بے  سوز  میں  ڈھونڈ  خودی  کا  مقام!

 

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s