رحم مادر کا اجرت پر حصول موجودہ صورتحال اور اسلام کا نقطہ نظر Womb on Rent and the Islamic point of view


ذیقعد و ذی الحجہ 1434ھ/ ستمبر اور اکتوبر 2013، شمارہ  18AlWaqiaMagzine, Al-Waqia,  AlWaqiaMagzine.wordpress.com, Al-Waqia.blogspot.com, مجلہ الواقعۃ

جدید فقہی مسائل 

رحم مادر کا اجرت پر حصولموجودہ صورتحال اور اسلام کا نقطہ نظر

محمدرضی الاسلام ندوی

موجودہ دور میں سماجی
سطح پر جو نئے مسائل ابھرے ہیں ان میں سے ایک اہم مسئلہ وہ ہے جسے ” رحمِ مادر
کا اجرت پر حصول "
Womb
on Rent
یا قائم مقام مادریت Surrogacy کا نام دیا گیا ہے۔
مغرب میں فحاشی ،اباحیت ، زنا بالرضا اور کثرتِ اسقاط کے نتیجے میں عورتیں
تیزی سے پیداواری صلاحیت
Reproductive
Ability

 سے محروم
ہو رہی ہیں ۔ اس کا اندازہ
Centre for Disease Control and Pevention
کی
ایک رپورٹ سے لگایا جا سکتا ہے ، جس میں بیان کیا گیا ہے کہ 2010ء میں
7.3 Millionعورتیں ، جن کی عمریں 15 سے 44 سال کے
درمیان تھیں ، بچہ پیدا کرنے کے قابل نہیں تھیں ۔ اس کے علاوہ مغربی ممالک میں بعض
معاشرتی برائیوں کو قانونی جواز فراہم کر دیا گیا ہے ، مثلاً ہم جنس پرستی
Homosexuality
جس
میں دو مرد یا دو عورتیں باہم رشتۂ ازدواج میں منسلک ہو
کر زندکی
گزارتے ہیں
۔  ایسے لوگ جو قدرتی یا اکتسابی طور پر اولاد
سے محروم ہوں اور وہ اولاد چاہتے ہوں ، ان کے لیے یہ طریقہ نکالا گیا کہ وہ پیداواری
صلاحیت کی حامل کسی عورت کی خدمات حاصل کریں ، مصنوعی طور پر اس کی بار آوری
Fertilization عمل میں آئے ، وہ حمل اور وضعِ
حمل کے مراحل سے گزرے ، پھر جو بچہ اس کی کوکھ
سے نکلے ، اسے وہ ان کے حوالے کر دے ۔

تاریخ
اور موجودہ صورتحال

 

زمانۂ قدیم میں وہ
جوڑے ، جو شوہر یا بیوی کے اعضائے تولید میں کسی نقص کی بنا پر اولاد سے محروم رہتے
تھے ، خاندان یا اس سے باہر کے کسی بچے کو لے کر اسے اپنا بیٹا بنا لیتے تھے ۔ لیکن
ماضی قریب میں میڈیکل سائنس کی غیر معمولی ترقی کے نتیجے میں ایسے افراد میں بھی صاحبِ
اولاد ہونے کی امید جاگی اور اس کے لیے نت نئے طریقے اختیار کیے گئے ۔ ان میں سے ایک
اجرت پر رحمِ مادر کا حاصل کرنا ہے۔
گزشتہ صدی کے ربع اخیر میں اس میدان میں انقلابی کامیابیاں حاصل ہوئیں ۔ 1971ء میں نیویارک
میں تجارتی بنیادوں پر مادۂ منویہ کی ذخیرہ اندوزی کا پہلا مرکز
Sperm Bank  قائم ہوا ۔ 1978ء میں انگلینڈ میں
، بیرون رحم ٹیسٹ ٹیوب میں مخلوط نطفہ کی بار آوری
In Vitro Fertilization کا کامیاب تجربہ کیا گیا ، اس کے نتیجے میں پہلی ٹیسٹ ٹیوب بے بی پیدا ہوئی
۔ 1985ء میں امریکا میں قائم مقام مادریت کا پہلا کامیاب تجربہ کیا گیا ۔ ایک عورت
نے اپنا بیضہ اور رحم دونوں اس کام کے لیے پیش کیے ۔ ایک مرد کے نطفے سے اس کے بیضے
کو مخلوط کر کے اسی کے رحم میں استقرار حمل کا کام انجام پایا ۔ اگلے سال اس سے ایک
بچی پیدا ہوئی ، جسے
Baby
M
کا نام دیا گیا ۔ پھر تو پوری دنیا میں اس تکنیک
کو اختیار کیا جانے لگا ۔ ابتدا میں اولاد چاہنے والے جوڑوں اور جنین کی پرورش کے لیے
اپنا رحم پیش کرنے والی عورتوں کے درمیان کچھ تنازعات سامنے آئے ، کہ وہ عورتیں وضع
حمل کے بعد مادرانہ جذبات سے مغلوب ہو کر بچے حوالے کرنے سے انکار کر دیتی تھیں ، لیکن
بہت جلد عدالتی چارہ جوئی اور قوانین کی تشکیل کے ذریعے ان مسائل پر قابو پا لیا  گیا ۔
رحمِ مادر کی کرایہ
داری کی دو صورتیں ہیں ، ایک صورت ہمدردانہ
Altruistic یا رضا کارانہ Voluntary ہے ، جس میں عورت اپنی خدمت
کے عوض کوئی رقم نہیں لیتی ، اور دوسری تجارتی
Commercial ہے ، جس میں وہ بھاری معاوضہ وضول کرتی ہے ۔ بعض ممالک میں اس تکنیک سے
صرف رضا کارانہ طور پر فائدہ اٹھانے کی اجازت ہے ، اس خدمت کا کوئی معاوضہ وصول کرنا
ممنوع ہے ، جب کہ بیش تر ممالک میں قانونی طور پر دونوں صورتوں کی اجازت ہے ۔ مغرب
میں اس چیز نے ایک منافع بخش کاروبار کی شکل اختیار کرلی ہے ، جو عورتیں اس خدمت کے
لیے اپنے آپ کو پیش کرتی ہیں وہ اس پر خطیر رقم طلب کرتی ہیں ۔ اس کا اندازہ اس بات
سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکا میں اس تکنیک سے بچہ حاصل کرنے پر اسّی  ہزار سے ایک لاکھ امریکی ڈالر کا صرفہ آتا ہے۔

ہندوستان میں اجرت پر رحمِ مادر کا حصول

عالمی سطح پر رحمِ
مادر کی کرایہ داری کے معاملے میں ہندوستان سرِ فہرست ہے ۔ اس کی دو وجہیں ہیں : ایک
یہ کہ اس تکنیک کو اختیار کرنے پر ترقی یافتہ ممالک میں جو صرفہ آتا ہے ، ہندوستان
میں اس کی ایک تہائی رقم سے کام چل جاتا ہے ۔ دوسری وجہ یہ کہ یہاں غربت کے مارے افراد
کو اس خدمت کے لیے خود کو پیش کرنے پر خاطر خواہ رقم مل جاتی ہے ، جسے وہ اپنے لیے
نعمتِ غیر مترقبہ سمجھتے ہیں ۔ ہندوستان میں 2002ء سے رحم کی کرادیہ داری کی قانونی
طور پر اجازت ہے ۔ ابتدا میں یہ اجازت صرف رضا کارانہ طور پر تھی، معاوضہ حاصل کرنا
ممنوع تھا ۔ 2008ء میں سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے کے ذریعے اس کی بھی اجازت دے دی
۔ اس کے نتیجے میں مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے اولاد کے خواہشمند افراد بڑے پیمانے
پر ہندوستان کا رخ کرنے لگے ۔ ان ممالک میں امریکا
،
برطانیہ ، کینیڈا ، تائیوان ، فرانس اور آسٹریلیا خصوصیت سے قابل ذکر ہیں
۔ ایک طرف ان لوگوں کو یہ فائدہ ہوا کہ انھیں کم خرچ پر یہ سہولت حاصل ہوگئی ۔ کہاں
تو ان ممالک میں اس پر ایک لاکھ ڈالر کا صرفہ آتا تھا اور کہاں ہندوستان میں 15 سے
20 ہزار ڈالر میں کام چلنے لگا ۔ دوسری طرف ہندوستانی بھی اس منافع بخش کاروبار سے
مالا مال ہونے لگے ۔ ایک غریب یا اوسط درجے کا ہندوستانی دس سال میں جتنا کچھ کما پاتا
ہے ، اس کی بیوی ایک بار نو ماہ کے لیے اپنے رحم کو کرایے پر دے کر اتنی رقم حاصل کرلیتی
ہے ۔ اس چیز نے ہندوستان میں ایک انڈسٹری کی شکل اختیار کرلی ہے ، جسے
Fertility Tourism Industry کا نام دیا گیا ہے ۔ اس کا شمار بہت تیزی سے ترقی کرنے والی انڈسٹریز میں
ہونے لگا ہے ۔ 2011ء کے ایک سروے کے مطابق اس انڈسٹری
میں بیس بلین روپے کا سرمایہ لگا ہوا تھا ۔
اس صورتِحال نے ہندوستان کو
Surrogacy Capital of the
world
کا درجہ دے دیا ہے ۔

دوسری عورت کا رحم اجرت پر لینے کے اسباب

بچے کے لیے دوسری عورت
کی خدمات حاصل کرنے اور اس کا رحم اجرت پر لینے کے متعدد اسباب ہیں :
1)
اس کا سب سے بڑا سبب
یہ ہوتا ہے کہ کسی مرض کی وجہ سے عورت کا رحم نکال دیا گیا ہو ، مثلاً اس میں کینسر
ہو ، یا اس سے مسلسل جریانِ خون ہو رہا ہو اور کسی بھی طریقے سے وہ رک نہ رہا ہو ،
یا اس میں رسولی
Tumour ہو۔
2)
عورت کسی ایسے مرض
میں مبتلا ہو ، جس مرض کے ، اس کے رحم میں استقرار حمل کی صورت میں ، جنین میں منتقل
ہو جانے کا اندیشہ ہو ، مثلاً ایڈز ۔
3)
عورت کے رحم میں جنین
کی پرورش وضع حمل تک صحیح طریقے سے نہ ہو پاتی ہو ، جنین بار بار رحم میں مر جاتا ہو
یا اس کا اسقاط ہو جاتا ہو ۔
4)
عورت کی عمر زیادہ ہوگئی ہو ، جس کی بنا پر اس کے رحم میں استقرار حمل ممکن
نہ ہو ۔
5)
اپنی جسمانی ساخت اور
حسن کی حفاظت یا عیش و عشرت کے لیے بعض عورتیں حمل و وضع حمل کے بکھیڑوں میں نہیں پڑنا
چاہتیں ، اس لیے وہ اس تکنیک سے فائدہ اٹھاتی ہیں ۔
6)
مغرب میں غیر شادی
شدہ مرد یا عورتیں
Single
Parents
اس تکنیک کے ذریعے اپنا حیاتیاتی Biological بچہ حاصل کرتی ہیں۔
7)
ہم جنس پرست افراد
Same Sex
Couple
بھی بچہ حاصل کرنے کے لیے اس تکنیک کو استعمال کرتے
ہیں۔

قائم مقام مادریت کی صورتیں

قائم مقام مادریت کی
بنیادی طور پر چار صورتیں ہو
سکتی ہیں
:
1)
شوہر نطفہ اور بیوی
بیضہ فراہم کر سکتی ہو ، لیکن بیوی رحم کے کسی مرض کی وجہ سے حاملہ نہیں ہوسکتی یا
ہونا نہیں چاہتی ، لہٰذا زوجین کسی دوسری عورت کے رحم کو کرایے پر لے لیتے ہیں ۔ ٹیسٹ
ٹیوب میں دونوں کے مادوں کا ملاپ کر کے حاصل شدہ جنین کو اس عورت کے رحم میں منتقل
کر دیا جاتا ہے اور ولادت کے بعد اس بچے کو زوجین کے حوالے کر دیا جاتا ہے  ۔  اسے
Traditional Surrogacy کہا جاتا ہے۔
2)
بیوی سے بیضہ بھی حاصل
نہیں ہو سکتا ۔ شادی شدہ جوڑا اولاد کے لیے کسی دوسری عورت کی خدمات حاصل کرتا ہے
، تاکہ شوہر کا نطفہ اس (دوسری عورت) کے بیضہ سے مل کر بہ صورت جنین اس کے رحم میں
پرورش پائے ۔ اسے
Geostational
Surrogacy
کا نام دیا گیا ہے۔
3)
نہ نطفہ شوہر کا ہو
نہ بیضہ بیوی کا
۔ نطفہ کسی دوسرے مرد کا اور بیضہ کسی دوسری عورت
کا حاصل کیا جائے اور ان کی بار آوری کسی اور عورت کے رحم میں
، جسے کرایہ پر حاصل کیا گیا ہو، کی جائے۔
اس کام کے لیے مغرب میں بڑے بڑے کمرشیل اسپرم بینک قائم ہو
گئے ہیں
۔ ابھی چند ماہ پہلے خبر آئی تھی کہ ہندوستان میں بھی اس طرز کا بینک قائم ہو
گیا ہے۔
4)
بیضہ بیوی کا ہو ، لیکن نطفہ شوہر کا نہ ہو ۔ اسپرم بینک سے اپنی
پسند کا کوئی نطفہ حاصل کر کے اور اسے بیضہ سے بار آور کراکے استقرار حمل کسی دوسری
عورت کے رحم میں کروایا جائے ۔ یہ صورت اس وقت اختیار کی جاتی ہے جب شوہر نامرد ہو
اور بیوی کا رحم استقرارِ حمل کے قابل نہ ہو ، البتہ اس کا بیضہ صحیح سالم ہو ۔

اخلاقی اور تہذیبی جواز ؟

ربع صدی سے زائد عرصہ
گزر جانے کے باوجود یہ مسئلہ عالمی سطح پر ماہرینِ سماجیات کے درمیان اب تک بحث و گفتگو
کا موضوع نہیں بن سکا ہے اور اس کے اخلاقی ، سماجی اور تہذیبی مضمرات کا ٹھیک سے جائزہ
نہیں لیا گیا ہے ۔ اسے صرف اس پہلو سے دیکھا گیا ہے کہ جو جوڑے فطری طریقۂ تولید کے
ذریعے اولاد نہیں حاصل کر سکتے یا جو افراد رشتۂ ازدواج میں بندھے بغیر اولاد چاہتے
ہیں ، اس تکنیک کے ذریعے انہیں اپنی خواہش پوری کرنے کا زرّیں موقع ہاتھ آ گیا ہے
، لیکن اس کام کے لیے جو عورت اپنا رحم پیش کرتی ہے وہ اس کے عوض چند ٹکے تو پا
جاتی ہے ، لیکن اپنے رحم میں پرورش پانے والے جنین کو دوسرے شخص کے حوالے کرنے کے جو
نفسیاتی اثرات اس پر پڑتے ہیں اس کا تجزیہ کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی ہے ۔ اس معاملے
میں زیادہ سے زیادہ ، غریب عورتوں کے استحصال کے امکان کے پیش نظر تفصیلی قوانین وضع
کیے جانے کا مطالبہ کیا  گیا ہے ، اور بعض ممالک
میں ایسے قوانین منظور بھی ہو گئے ہیں ۔ لیکن اس مسئلے پر اس سے زیادہ توجہ دینے اور
اس کے مختلف پہلوؤں پر بحث و مذاکرہ کی ضرورت ہے۔
آئندہ سطور میں اس
موضوع پر بحث کی جائے گی کہ اسلام اس پورے معاملہ کو کس نظر سے دیکھتا ہے ؟ اور اس
سلسلے میں اس کا کیا موقف ہے؟

اسلام کی بنیادی تعلیمات

قبل اس کے کہ اس موضوع
پر اسلام کے موقف کی بہ راہ راست وضاحت کی جائے
، مناسب
معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے عائلی نظام سے متعلق چند بنیادی تعلیمات
بیان کر دی جائیں ۔
(الف) نکاح ـ توالد و تناسل کا واحد
جائز ذریعہ
اسلام نے توالد و تناسل
کو رشتۂ ازدواج سے منسلک کیا ہے ۔ اس کے نزدیک نسل انسانی میں اضافہ کا فطری طریقہ
یہ ہے کہ مردوں اور عورتوں کے درمیان باہم نکاح ہو اور جائز اور قانونی طریقہ سے ان
کے درمیان جنسی تعلق قائم ہو ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ ٱتَّقُواْ
رَبَّكُمُ ٱلَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفۡسٖ وَٰحِدَةٖ وَخَلَقَ مِنۡهَا
زَوۡجَهَا وَبَثَّ مِنۡهُمَا رِجَالٗا كَثِيرٗا وَنِسَآءٗۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ
ٱلَّذِي تَسَآءَلُونَ

بِهِۦ وَٱلۡأَرۡحَامَۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَيۡكُمۡ رَقِيبٗا

١]النساء : 1 [

” لوگو !
اپنے رب سے ڈرو ، جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا
اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورت دنیا میں پھیلا دیے ۔”
وَاللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ
اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّجَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ بَنِيْنَ
وَحَفَدَةً وَّرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ
]النحل  : 72 [
” اور وہ اللہ
ہی ہے جس نے تمہارے لیے تمہاری ہم جنس بیویاں بنائیں اور اسی نے ان بیویوں سے تمہیں
بیٹے پوتے عطا کیے اور اچھی اچھی چیزیں تمہیں کھانے کو دیں ۔”
نا جائز جنسی تعلق
کو اسلام میں سراسر حرام قرار دیا  گیا ہے ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَلَا تَقۡرَبُواْ ٱلزِّنَىٰٓۖ
إِنَّهُۥ كَانَ فَٰحِشَةٗ وَسَآءَ سَبِيلٗا

٣٢
]الاسراء  : 32 [
” زنا کے قریب
نہ پھٹکو ، وہ بہت برا فعل ہے اور بڑا ہی برا راستہ ۔”
(ب) مرد کے نطفے سے کسی غیر عورت کو بار آور نہیں
کیا جا سکتا
اسلامی شریعت کی رو
سے یہ قطعاً نا جائز ہے کہ کسی مرد کے نطفے سے ایسی عورت کو بار آور کیا جائے جو اس
سے رشتۂ ازدواج میں منسلک نہ ہو ۔ حضرت رویفع بن ثابت سے روایت ہے کہ رسول اللہ
ﷺ  نے ارشاد فرمایا :
لا یحللامرٔیومنباللّٰہو  الیومالآخرانیسقیماؤہزرعغیرہ ۔"[1]
” کسی شخص کے لیے ، جو اللہ اور روز آخرت
پر ایمان رکھتا ہو ، جائز نہیں ہے کہ اپنے پانی ( یعنی مادۂ تولید ) سے کسی دوسرے
کی کھیتی کو سیراب کرے ( یعنی غیر عورت سے مباشرت کرے )۔”
اس حدیث میں اصلاً
” استبراءِ  رحم ” کا حکم بیان ہوا
ہے ، یعنی اگر کوئی عورت کسی مرد سے حاملہ ہو ، تو اس کے وضعِ حمل سے قبل کسی دوسرے
مرد کے لیے اس سے مباشرت کرنا جائز نہیں ہے ۔ راوی حدیث حضرت رویفع نے

ای اتیان الحبالیٰ "
کے الفاظ سے یہی تشریح  کی ہے ، لیکن اس حدیث کا عام مفہوم بھی لیا جا
سکتا ہے کہ کسی مرد کے لیے اپنا نطفہ کسی اجنبی عورت کے رحم میں داخل کرنا جائز نہیں
ہے ۔ مولانا شمس الحق عظیم آبادی نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے :
"اییدخلنطفتہمحلزرعغیرہ۔"[2]
یعنی ( کسی مسلمان
کے لیے جائز نہیں کہ ) اپنا نطفہ ایسی جگہ داخل کرے جہاں دوسرے کے بچے کی پرورش ہوتی
ہے۔
(ج) شرم گاہ کی حفاظت
اسلام نے مردوں اور
عورتوں دونوں پر لازم کیا ہے کہ و ہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں ۔ اللہ تعالیٰ کا
ارشاد ہے :
قُل لِّلۡمُؤۡمِنِينَ يَغُضُّواْ
مِنۡ أَبۡصَٰرِهِمۡ وَيَحۡفَظُواْ
فُرُوجَهُمۡۚ ۔ ۔۔ ۔

وَقُل لِّلۡمُؤۡمِنَٰتِ يَغۡضُضۡنَ مِنۡ أَبۡصَٰرِهِنَّ وَيَحۡفَظۡنَ فُرُوجَهُنَّ

]النور  : 30 – 31 [

” (اے نبی) مومن
مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں … اور
(اے نبی) مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی
حفاظت کریں ۔ "
دوسری آیت میں یہی
بات کھول دی گئی ہے کہ ممانعت اصلاً ناجائز جنسی تعلق کی ہے ، چنانچہ اہل ایمان کا
ایک وصف یہ بھی بیان کیا  گیا ہے :
وَالَّذِيْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَ Ĉ۝ۙ
اِلَّا عَلٰٓي اَزْوَاجِهِمْ ۔۔۔۔
]المؤمنون  : 5 – 6 [
” اور جو اپنی
شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ، سوائے اپنی بیویوں کے ……۔”
” شرم گاہوں کی حفاظت ” میں جہاں یہ
بات شامل ہے کہ ماورائے نکاح کسی طرح کا جنسی تعلق قائم نہ کیا جائے ، وہیں اس کا اطلاق
اس پر بھی ہوتا ہے کہ جنسی اعضاء سے کوئی ایسا کام نہ لیا جائے جو فطری طریقۂ تولید
کے مغایر ہو ۔ اسی بنا پر لواطت[3] 
Homosexulity استمناء بالید Masterbation اور جنسی تسکین کے دیگر غیر فطری طریقوں کو نا جائز قرار دیا  گیا ہے ۔[4]
(د)  نسب
کی حفاظت ضروری ہے
اولاد کی خواہش انسان کی فطری خواہش ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد
ہے :
زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ
النِّسَاۗءِ وَالْبَنِيْنَ
]آلعمران  : 14 [
” لوگوں کے لیے مرغوبات نفس : عورتیں ، اولاد … بڑی خوش
آیند بنا دی گئی ہیں  ۔ "
اگر کسی وجہ سے کسی
شادی شدہ جوڑے کی یہ خواہش پوری نہ ہو سکے تو اسلام اجازت دیتا ہے کہ وہ کسی رشتہ دار
یا یتیم بچے کو اپنا کر اس کی پرورش کر سکتے ہیں ۔ لیکن ساتھ ہی وہ نسب کی حفاظت پر
بہت زور دیتا ہے ۔ اس کے نزدیک یہ جائز نہیں کہ کوئی شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی دوسرے
کو اپنا باپ کہے یا کوئی شخص کسی دوسرے کی اولاد کو اپنی اولاد قرار دے ۔ احادیث میں
ایسا کرنے سے سختی سے منع کیا  گیا ہے اور اس
پر وعید سنائی گئی ہے ۔
حضرت واثلہ بن اسقع
بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ  نے ارشاد فرمایا
:
انمناعظمالفِرَیانیدّعیالرجلالیٰغیرابیہ۔[5]
” سب سے بڑا بہتان یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے
باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے ۔ "
حضرت ابوذر سے روایت
ہے کہ نبی ﷺ  نے فرمایا :
لیسمنرجلادّعیلغیرابیہوہویعلمہالاکفر۔"[6]
” جس شخص نے جان بوجھ کر اپنی نسبت اپنے
باپ کے علاوہ کسی اور شخص کی طرف کی اس نے کفر کیا ۔ "
عہد جاہلیت میں کوئی
شخص کسی دوسرے کے بچے کو اپنا بیٹا بنا لیتا تھا تو وہ اسی کی طرف منسوب ہو جاتا تھا
اور اس کا تعارف اس کے بیٹے کی حیثیت سے ہونے لگتا تھا ۔ اس سے روک دیا گیا اور یہ
آیت نازل ہوئی :
وَمَا جَعَلَ اَدْعِيَاۗءَكُمْ اَبْنَاۗءَكُمْ
ۭذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاهِكُمْ ۭ وَاللّٰهُ يَـقُوْلُ الْحَـقَّ وَهُوَ
يَهْدِي السَّبِيْلَ   
Ć۝اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَاۗىِٕهِمْ هُوَ اَقْسَطُ
عِنْدَ اللّٰهِ ۚ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْٓا اٰبَاۗءَهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِي
الدِّيْنِ وَمَوَالِيْكُمْ
الاحزاب  : 4 – 5 [
” اور نہ اس نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو
تمہارا حقیقی بیٹا بنایا ہے ۔  یہ تو وہ باتیں
ہیں جو تم لوگ اپنے منہ سے نکال دیتے ہو ، مگر اللہ وہ بات کہتا ہے جو مبنی برحقیقت
ہے اور وہی صحیح طریقے کی طرف رہ نمائی کرتا ہے ۔  منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو
، یہ اللہ کے نزدیک زیادہ منصفانہ بات ہے اور اگر تمہیں معلوم نہ ہو کہ ان کے باپ کون
ہیں تو وہ تمہارے دینی بھائی اور رفیق ہیں ۔”
علامہ قرطبی نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے :
” اس آیت کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ”
تبنّی ” (کسی کو منہ بولا بیٹا بنانا)  کا حکم اٹھا لیا اور کسی شخص کو جو حقیقی بیٹا نہ
ہو ، بیٹا کہنے سے روک دیا اور اس بات کی طرف رہ نمائی کی کہ زیادہ بہتر اور مبنی بر
انصاف رویّہ یہ ہے کہ آدمی کو اس کے نسبی باپ کی طرف منسوب کیا جائے ۔”[7]

رحم کی کرایہ داری ـ اسلام
کا نقطۂ نظر

رحم کی کرایہ داری
کی جو صورتیں رائج ہیں اور جن کا گزشتہ سطور میں تذکرہ کیا گیا ہے ، ان میں دینی و
شرعی اعتبار سے بڑے مفاسد پائے جاتے ہیں :
1)
قرآن میں اہل ایمان
مردوں اور عورتوں دونوں کو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کاحکم دیا گیا ہے ۔  جو عورت اپنے رحم میں کسی غیر مرد کے بار آور نطفہ
کی پرورش کرتی ہے وہ اس حکم کو پامال کرتی ہے ۔
2)
اسلام نے توالد و تناسل
کو نکاح کے ساتھ مشروط کیا ہے ۔ اس تکنیک کے ذریعے جو عورت اپنے رحم میں کسی مرد کے
نطفے کا استقرار کرواتی ہے ، اس سے اس کا ازدواجی رشتہ نہیں ہوتا ۔
3)
اسلام نے نسب کی حفاظت پر بہت زور دیا ہے ، جب کہ اس تکنیک کو اختیار کرنے سے
اختلاطِ نسب کا قوی شبہ پیدا ہو جاتا ہے ۔
4)
انسان کا جسم اور اس کے اعضاء اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہیں ۔ انہیں نہ
فروخت کیا جا سکتا ہے نہ کرایہ پر اٹھایا جا سکتا ہے ۔
5)
جو عورت اس خدمت کے
لیے اپنے آپ کو پیش کرتی ہے وہ اگر بے شوہر کی ہے (کہ غیر شادی شدہ یا مطلقہ یا بیوہ
ہے) تو سماج میں اس پر بدکاری اور دیگر نا پسندیدہ الزامات لگنے کا قوی اندیشہ ہوتا
ہے ۔
ان مفاسد کی وجہ سے
تمام علماء نے متفقہ طور پر قائم مقام مادریت کی مذکورہ بالا تمام صورتوں کو حرام قرار
دیا ہے ۔ یہ موضوع بین الاقوامی فقہ اکیڈمیوں میں بھی زیر بحث رہا ہے اور ان میں بھی
ان کی حرمت پر علماء کا اتفاق رہا ہے ۔ ان اجلاسوں کی تفصیل درج ذیل ہے :
·
ـ  رابطہ عالم اسلامی کی زیر نگرانی قائم اسلامک فقہ
اکیڈمی مکہ مکرمہ کا آٹھواں اجلاس ، منعقدہ 28 ربیع الثانی تا 7 جمادی الاولیٰ 1405ھ
(1985ء)  
·
ـ  تنظیم اسلامی کانفرنس کی زیر نگرانی قائم بین الاقوامی
اسلامی فقہ اکیڈمی جدہ کا تیسرا اجلاس منعقدہ عمان مورخہ 8 تا 13 صفر 1407ھ
(1986ء)
·
ـ  مصر کی مجمع البحوث الاسلامیۃ کا اجلاس قاہرہ ،
2001ء
عالم اسلام کے مشہور فقہاء : ڈاکٹر جاد الحق علی جاد الحق (سابق
شیخ الازہر مصر)
، ڈاکٹر محمد سید طنطاوی (شیخ
الازہر)
، ڈاکٹر یوسف القرضاوی (قطر) ، ڈاکٹر مصطفی زرقاء  رکن اسلامک فقہ اکیڈمی مکہ مکرمہ وغیرہم نے بھی رحم
کی کرایہ داری کی مذکورہ بالا تمام صورتوں کو حرام قرار دیا ہے ۔ [8]

قائم مقام مادریت کی ایک جائز صورت

ایک صورت یہ ہے کہ
ایک شخص کی دو بیویاں ہوں
۔ایک بیوی میں بیضہ Ovumتو بنتا ہو ، لیکن
وہ رحم
Uterus کے کسی ایسے مرض میں مبتلا ہو کہ اس میں حمل کا استقرار نہ ہو سکتا ہو
، اس کا بیضہ لے کر شوہر کے نطفے
Sperm سے اسے بار آور Fertilize کیا جائے ، پھر اس کی پرورش دوسری بیوی کے رحم میں ہو ۔  کیا اسلامی شریعت اس کی اجازت دیتی ہے؟
تنظیم اسلامی کانفرنس
کی زیر نگرانی قائم بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی جدہ کے اجلاس عمان 1407ھ (1986ء)
میں اس صورت کو بھی نا جائز قرار دیا گیا ہے ۔ رابطہ عالم اسلامی کی زیر نگرانی قائم
اسلامی فقہ اکیڈمی کے اجلاس مکہ مکرمہ 1404ھ (1984ء) کے شرکاء نے اس صورت کو جائز قرار دیا تھا ، لیکن اگلے اجلاس 1405ھ (1985ء)
میں اس فیصلے کو واپس لے لیا گیا اور اس صورت کو بھی حرام قرار دے دیا گیا ۔ اس

کی دلیل یہ دی گئی کہ اس سے اختلاطِ نسب کا شبہ پیدا ہوتا ہے ۔ البتہ ہندوستانی فقہاء
اس صورت کے جواز کا رجحان رکھتے ہیں ۔ مولانا محمد برہان الدین سنبھلی نے لکھا ہے :
” بیضہ جس عورت سے لیا گیا اگر وہ بھی بیوی ہو
اس مرد کی ، جس کے نطفہ سے مخلوط کیا گیا ہے اور پھر یہ مرکب جس عورت کے جسم میں داخل
کیا گیا ہے وہ بھی اس مرد کی بیوی ہو تو جواز کا امکان ہے ، ورنہ نہیں ۔”[9]
مولانا خالد سیف اللہ
رحمانی نے جواز کی ایک صورت یہ بتائی ہے:
” شوہر اور اس کی
ایک بیوی کا مادہ حاصل کیا جائے اور اس کے آمیزے کو اسی شوہر کی دوسری بیوی کے رحم
میں منتقل کردیا جائے ۔ اس لیے کہ اس کی پہلی بیوی زچگی کی متحمل نہ ہو ، یا طبّی اسباب
کی بناپر تولید کی اہل نہ ہو ۔”[10]

ایک شاذ رائے

اجرت پر رحم مادر کے
حصول کی درج بالا صورتوں میں سے پہلی صورت کو بعض علماء نے جائز قرار دیا ہے ۔ وہ یہ
کہ شوہر نطفہ اور بیوی بیضہ فراہم کر سکتی ہو ، لیکن اس کے رحم میں کسی مرض کی وجہ
سے بار آور نطفہ کا اس میں استقرار نہ ہو سکتا ہو ۔  چنانچہ دونوں کے مادوں کو ٹیسٹ ٹیوب میں بار آور
کرکے کسی دوسری عورت کے رحم میں منتقل کردیا جائے اور وہ جنین کی پرورش کر کے ولادت
کے بعد بچے کو زوجین کے حوالے کر دے ۔ ڈاکٹر عبدالمعطی بیومی ، رکن مجمع البحوث الاسلامیہ
و سابق پرنسپل کلیۃ اصول الدین جامعۃ الازہر (مصر) کی رائے میں یہ صورت جائز ہے ۔ انہوں
نے اسے ” رضاع ” کے مسئلے پر قیاس کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ جس طرح شریعت
نے بچے کو ماں کے علاوہ کسی دوسری عورت کے لیے دودھ
پلانا جائز قرار دیا ہے ، بچہ اس کے دودھ سے تغذیہ حاصل کرتا اور پرورش پاتا ہے ۔ اسی
طرح جنین کی تشکیل اصلاً شوہر کے نطفہ اور بیوی کے بیضہ سے ہو جاتی ہے
۔ کسی
دوسری عورت کا رحم اس کو صرف غذا فراہم کرتا ہے ۔ اس لیے اگر کچھ احتیاطی تدابیر اختیار
کی جائیں ، مثلاً یہ کہ اپنا رحم پیش کرنے والی عورت اگر شادی شدہ ہو تو اس زمانے میں
اس کا شوہر اس سے مباشرت نہ کرے ، تاکہ اختلاط نسب کا خدشہ نہ پایا جائے تو اس صورت
کو جائز قرار دیا جا سکتا ہے ۔[11]
یہ ایک کم زور رائے ہے ۔ اجنبی عورت کے رحم میں جنین کی پرورش کو مسئلہ رضاع
پر قیاس کرنا درست نہیں ہے ۔ رضاع کی اجازت شریعت میں ایک زندہ وجود (بچے) کی زندگی
کی حفاظت و بقا کے لیے دی گئی ہے ، جب کہ اجنبی عورت کے رحم کو اجرت پر حاصل کر کے
ایک نئی زندگی کو وجود میں لانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔  رضاع کی صورت میں اختلاط نسب کا  کوئی امکان نہیں ہوتا ، جب کہ موخر الذکر
صورت میں
اختلاطِ نسب کا قوی اندیشہ ہوتا ہے ۔ اسی بنا پر
اس رائے کو علماء کے درمیان مقبولیت نہیں حاصل ہوئی ہے ۔
اجرت پر رحم مادر کے حصول کا معاملہ موجودہ دور کے نئے مسائل میں سے ہے ، گو
یہ پوری دنیا میں بڑے پیمانے پر رواج پا رہا ہے ، لیکن اس میں چونکہ اسلام کے عائلی
نظام سے متعلق متعدد مفاسد پائے جاتے ہیں ، اس لیے شرعی اعتبار سے اس کی کوئی صورت
اختیار کرنا جائز نہیں ہے ۔
( بشکریہ :
سہ ماہی
” تحقیقات اسلامی ” علی گڑھ ،
انڈیا )


 

[1]  سنن ابی
داود  ، کتاب انکاح  ، باب فی وطی السبایا  ،
2158
[2]  عون المعبود شرح سنن ابی داود  ، شمس الحق عظیم آبادی  ، المکتبۃ السلفیہ  ، مدینہ منورة
،
1968ء  ، 6 / 195
[3]   مرد کا مرد کے ساتھ غیر فطری تعلق کے لیے اردو میں ایک لفظ ” لواطت ” اور
اس کے فاعل کے لیے ” لوطی ” کا لفظ معروف و مروج ہوگیا ہے ، حتیٰ کہ عوام و خواص
دونوں ہی اس غلطی کا کثرت
سے استعمال
کرتے ہیں ، جو قطعاً غلط ہے ۔
کیونکہ
اس کا انتساب ایک جلیل القدر پیغمبر سیدنا لوط علیہ السلام کی طرف ہو جاتا ہے جبکہ
اس سے مراد ایک قبیح فعل ہے ۔ نادانستگی ہی میں سہی ایک پیغمبر کی توہین ہوتی ہے ۔
حدیث میں عمل قوم لوط کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں فعل کو اس کے صحیح فاعل یعنی قوم
لوط کی طرف منسوب کیا گیا ہے نہ کہ لوط علیہ السلام کی جانب ۔ انگریزی میں اس کے
لیے سدومیت کا لفظ مستعمل ہے نیز اردو میں بھی اس کا ایک مترادف اغلام بازی موجود
ہے ۔  (تنزیل )
[4]  تفسیر القرآن
العظیم ، ابن کثیر ، دار ابن حزم بیروت ،
1420ھ/ 2001 ء ، ص 1291
[5]  صحیح بخاری ، کتاب المناقب ، 3509
[6]   صحیح بخاری  : 3508
[7]الجامع لاحکام القرآن ، قرطبی
، دار الکتب العلمیہ بیروت ، 1988ء ، جلد  7 ، جزء : 14 ، ص : 80
[8]   مقالہ : تاجیر الارحام فی الفقہ الاسلامی ، د.ھند
الخولی ، مجلۃ جامعۃ دمشق للعلوم الاقتصادیۃ و القانونیۃ  ، جلد
27 ، شمارہ
3 ، 2011ء   ، ص  282
– 283
[9]   موجودہ
زمانے کے مسائل کا شرعی حل ، مولانا برہان الدین سنبھلی ، طبع دہلی ،
1992ء   ، ص  182
[10]  حلال و
حرام ، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ، دار العلوم سبیل السلام حیدر آباد ،
1993ء
، ص  303
[11]  مقالہ تاجیر
الارحام ، حوالہ سابق

 

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s