کلکی اوتار۔ رسالت محمدی ﷺ کی صداقت ہندؤوں کی مقدس اور مذہبی کتابوں کے آئینہ میں۔ ایک ہندو پروفیسر پنڈت وید پرکاش کی تحقیق


ذیقعد و ذی الحجہ 1434ھ/ ستمبر اور اکتوبر 2013، شمارہ  1806 kalki avatar AlWaqiaMagzine, Al-Waqia,  AlWaqiaMagzine.wordpress.com, Al-Waqia.blogspot.com, مجلہ الواقعۃ

کلکی اوتار

رسالت محمدی ﷺ کی صداقتہندؤوں کی مقدس اور مذہبی کتابوں کے آئینہ میںایک ہندو پروفیسر پنڈت وید پرکاش کی تحقیق

عبد القدیر کانجوں ۔ترجمہمولانا محمد خاں محمدی ملکانی

ہندی زبان میں ایک تحقیقی
کتاب شائع ہوئی جس  نے پورے ہندستان میں تہلکہ
مچا دیا اور جس سے سارے ہندوستان میں ایک  شور
بپا ہو گیا  ۔ اس ہندی زبان میں شائع ہونے والی
کتاب ” کالکی اوتار ”
( یعنی اس ساری کائنات کا رہبر یا پیغمبر ) کا لکھنے والا کوئی مسلمان ہوتا تو نہ صرف اسے جیل بھیجا جاتا
بلکہ اس کتاب کے شائع کر نے اور تقسیم کر نے پر بھی سخت قسم کی پابندی عائد کی جاتی
۔ اس اہم اور تحقیقی کتاب کے مصنف کا تعلق بنگالی نسل سے ہے اور وہ الہٰ آباد یونیورسٹی
میں ایک شعبے میں قلمندان سبنھالے ہوئے ہیں ۔ جو کہ سنسکرت کے اسکالر اور بہت بڑے محقق
پنڈت وید پرکاش اپادیھ برھمن ہندو ہیں۔
بڑی محنت اور تحقیق کے بعد اپنی اس علمی کاوش
کو پنڈت وید پر کاش نے آٹھ بہت بڑے پنڈتوں کے سامنے پیش کیا جو خود بھی تحقیق کے میدان
میں نام پیدا کر چکے ہیں  ۔ جن کا شمار اپنے
وقت کے بڑے مذہبی دانشوروں اور مذہبی اسکالروں میں کیا جاتا ہے  ۔ ان پنڈتوں نے کتاب کو اول سے آخر تک پڑھنے کے بعد
اس تحقیقی کتاب کو صحیح اور مسلمہ تحقیقی کام تسلیم کیا ہے ۔

 


 

ہندو مت اور ہندؤوں کی جن اہم اور بڑی مذہبی کتابوں میں جس رہبر
اور رہنما کا ذکر
"کلکی اوتار ” کے نام سے کیا گیا
ہے وہ در حقیقت عربستان کے باشندے جناب حضرت محمد ﷺ  کی ذات مبارکہ پر ہی صادق ہوتا ہے ۔  اس لیے ساری دنیا کے ہندؤوں کو چا ہیے کہ وہ مزید
کسی انتظار کی تکلیف نہ کریں بلکہ اس ہستی ” کلکی اوتار ” یعنی پیغمبر اسلام ﷺ پر
ایمان لے آئیں ۔ اسی کتاب کے مصنف جناب وید پرکاش اور ان آٹھ پنڈتوں نے واضح الفاظ
میں لکھا ہے کہ ” ہندو مت کے سمجھنے اور ماننے
والے ابھی تک ” کلکی اوتار ” کے آنے کا انتظار کر رہے ہیں ۔ ان کا یہ انتظار
ایسا ہے جو کہ قیامت تک ختم ہو نے والا نہیں ہے کیونکہ یہ جس اعلیٰ ہستی کا انتظار
کر رہے ہیں ۔ اس مقدس ہستی کا ظہور اس دنیا میں ہو چکا ہے ( یعنی وہ تشریف لا چکے ہیں
) ۔ اور وہ اپنا  کام مکمل
کر کے اور اپنی مفوضہ ذمہ داری  ادا کر کے چودہ سو سال قبل اس دنیا سے رحلت فرما
گئے ہیں ۔ پنڈت وید پر کاش صاحب نے اس تحریر کے ثبوت کے لیے ہندؤوں کی مقدس کتاب
” وید ” سے دلیل نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

(1)
” وید ” ( ہندؤوں
کی اہم اور مذہبی کتاب )
میں مذکور ہے کہ ” کلکی
اوتار ” اس دنیا میں بھگوان
( اللہ تعالیٰ ) کے آخری پیغمبر
ہونگے جو ساری دنیا کی رہنمائی کرنے کے لیے بھیجے جائیں گے ۔ اس حوالہ کو نقل کر نے
کے بعد پنڈت صاحب لکھتے ہیں کہ یہ بات صرف نبی علیہ السلام پر ہی صادق آتی ہے ۔
(2)    ہندو مت کی ایک پیشین گوئی کے مطابق ” کلکی اوتار ” (
پیغمبر عالم )
ایک دیپ یعنی جزیرہ میں پیدا ہوں گے ۔ ہندو مت کے کہنے کے مطابق
یہ عرب کا علاقہ ہے جو کہ ” جزیرة العرب ” کے نام سے مشہور ہے ۔
(3)    ہندؤوں
کی مقدس ، مذہبی اور دھرمی کتابوں میں ” کلکی اوتار
” کے والد کا نام ” وشنو بھگت ” اور والدہ کا نام
” سوماتب ” بتایا گیا
ہے ۔ سنسکرت میں ” وشنو ” کے لفظی معنی ” اللہ ” اور بھگت معنیٰ ”
بندہ ” ہے اس لیے عربی میں ” وشنو بھگت ” کے معنیٰ عبد اللہ ہوگا اور اسی طرح سنسکرت
میں ” سومانی ”  کا لفظی ترجمہ ہوگا ” امن
و سلامتی ” جس کو عربی میں ” آمنہ ” کہا جاتا ہے ۔ جبکہ آپ ﷺ  کے والد کا نام بھی عبد اللہ اور والدہ ماجدہ کا
نام آمنہ ہے ۔
(4)    ہندؤوں کی بڑی بڑی مذہبی اور دھرمی کتابوں میں مذکور
ہے کہ ” کلکی اوتار ” کا معاش زندگی کھجور اور زیتون پر ہوگا نیز یہ بھی لکھا ہوا
ہے کہ وہ سب سے بڑھ کر قول و قرار کے سچے ہوں گے اور سب سے زیادہ ایماندار ہو ں گے
نیز وہ امن و سکون کی زندگی گزارے گا ۔ اس حوالے
سے جناب پنڈت وید پرکاش صاحب لکھتے ہیں ” یہ بات بھی جناب محمد ﷺ  کے علاوہ کسی اور پر ثابت نہیں ہوتی ۔”
(5)
” وید ” میں لکھا
ہوا ہے کہ ” کلکی اوتار ” اپنے علاقہ کے معزز اور شریف خاندان میں پیدا ہوں گے ۔
جبکہ یہ بات بھی عیاں ہے کہ جناب محمدﷺقریش کے معزز اور شریف خاندان میں پیدا ہوئے
اور اسی قبیلہ کو مکہ میں انتہائی عزت و احترام کا مقام حاصل تھا ۔
(6)
” کلکی اوتار کو ” بھگوان ” ( اللہ تعالیٰ ) اپنے خاص قاصد ( فرشتہ ) کے ذریعہ ایک غار میں تعلیم دیں گے ۔ اس معاملہ میں یہ بھی انتہائی سچی بات
ہے کہ جناب محمد ﷺ  ہی وہ واحد شخص تھے جنہیں
اللہ تعالیٰ کی طرف سے جبریل امین علیہ السلام نے غار حرا میں تعلیم دی ۔
(7)    ہندؤوں کی ان کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ ” بھگوان ” ” کلکی
اوتار ” کو ایک تیز گھوڑا دیں گے جس پر سوار ہو کر وہ ساری دنیا اور ساتوں آسمانوں
کا چکر لگا لیں گے نبی اکرم ﷺ کا براق پر سوار ہونا اور معراج والے واقعہ کی اس سے
تصدیق ہوتی ہے ۔
(8)    ہندؤوں کی ان مذہبی اور دھرمی کتابوں میں یہ بھی لکھا ہوا ”
کلکی اوتار ”
( نبی ﷺ ) کو بھگوان ( اللہ
تعالیٰ )
آسمانی تائید اور زبردست نصرت پہنچاتے رہیں گے ۔ جبکہ ہمیں یہ
بھی معلوم ہے کہ جنگ بدر میں اللہ تعالیٰ نے رسول ﷺ  کی خاص مدد و نصرت اپنے فرشتوں کے ذریعہ کی تھی
۔
(9)    مزید لکھا ہوا ہے کہ ” کلکی اوتار ” گھڑ سواری
، تیر اندازی اور تلوار زنی میں ماہر ہوں گے ۔اس کے متعلق جناب پنڈت وید پرکاش صاحب
نے جو کچھ لکھا ہے ، وہ بڑا ہی اہم اور غور کرنے کے لائق ہے ۔ لکھتے ہیں کہ ” نیزوں
، تلواروں اور گھوڑوں کا زمانہ کب کا ختم ہو چکا
ہے جبکہ اب جدید ترین ہتھیاروں یعنی ٹینک ،
بندوقوں ، میزائلوں اور ایٹمی ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے اس لیے اب کسی تیر یا تلوار والے ” کلکی اوتار ” کا انتظار کرنا
بڑی بے وقوفی اور حماقت ہے ۔  حقیقت یہ کہ آسمانی
کتاب ” قرآن
مجید ” والے محمد ﷺ ہی اصل
” کلکی
اوتار ”
( پیغمبر
ﷺ )
ہیں جن کا تذکرہ ہماری مقدس اور اہم مذہبی و دھرمی کتابوں میں
موجود ہے مزید کسی اور ” اوتار ” کا انتظار غیر دانشمندانہ ہو گا ۔

 


 

بے جا نہ ہو گا اگر میں ( مترجم ) اسی سلسلہ میں وہ تحقیق بھی درج کردوں جو کہ عالمی ریسرچ اسکالر
ڈاکٹر حمید اللہ  نے کی ہے ۔ بہاولپور یونیورسٹی
میں 1981ء  کو اپنے ایک لیکچر میں ہندؤوں کے
دس مذہبی پرانوں میں سے ایک پران
( مذہبی کتاب ) کے حوالے سے کہا کہ ” آخری زمانہ میں ایک ایسا شخص ریگستان
کے علاقہ میں پیدا ہوگا اس کی ماں کا نام ” قابل اعتماد ” اور باپ کا نام ” اللہ
کا بندہ اور غلام ” ہوگا ۔  وہ اپنے وطن سے
شمال کی طرف جا کر بسنے پر مجبور ہوگا اور پھر وہ اپنے وطن کو دس ہزار آدمیوں کی مدد
سے فتح کرے گا ۔ جنگ میں اس کی رتھ کو اونٹ کھینچنے گے اور وہ اونٹ اس قدر تیز ہوں
گے کہ آسمان تک پہنچ جائیں گے ۔” ( خطبات بہاولپور )  

 

سیرت محمدی ﷺ کی تاریخیت

” آنحضرت ﷺ کی سیرت کے بیان میں مسلمانوں نے ہزاروں لاکھوں کتابیں لکھیں اور لکھ رہے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کتاب دوسرے انبیاء کی سیرتوں کے مقابلہ میں زیادہ صاف ، زیادہ معتبر اور زیادہ تاریخی ہے ۔ سیرت و اخبار نبوی ﷺ کی ابتدائی کتابیں ، ہر مصنف کے سیکڑوں اور ہزاروں اشخاص نے سن کر اور پڑھ کر اوران کا ہر ایک حرف سمجھ کر دوسروں تک پہنچائیں ۔ حدیث کی پہلی کتاب موطا کو اس کے مصنف امام مالک سے 600 آدمیوں نے سنا ، جن میں سلاطینِ زمانہ ، علماء ، فقہاء ،حکماء ، ادباء اور صوفیاء ہرطبقہ کے آدمی تھے ۔ امام بخاری کی تصنیف جامع صحیح کو صرف ان کے شاگرد فربری سے ساٹھ ہزار آدمیوں نے سنا ۔ اس احتیاط ، اس استناد اور اس اہتمام سے بتاؤ کس شارع یا بانی دین کی سیرت و اخبار کا مجموعہ مرتب ہوا اور یہ تاریخیت محمد رسول اللہ ﷺ کے سوا اور کس کے حصہ میں آئی ۔ "
علامہ سید سلیمان ندوی کی کتاب ” خطبات مدراس ” سے ماخوذ

 

Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s