المیے اور پستیاں درس آگہی (اداریہ)


ذیقعد و ذی الحجہ 1434ھ/ ستمبر اور اکتوبر 2013، شمارہ  18

محمد تنزیل الصدیقی الحسینی۔ المیے اور پستیاں۔ اداریہ
محمد تنزیل الصدیقی الحسینی۔ المیے اور پستیاں۔ اداریہ

المیے اور پستیاں

درس آگہی (اداریہ)

محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

توحید کے بعد اسلام نے اگر کسی عالمگیر سچائی کو سب سے
زیادہ اہمیت دی ہے تو وہ فطرت انسانی کی تہذیب اور اس کا تزکیہ ہے ۔ توحید اعتقاد
ہے اور فطرت انسانی کے مختلف پَرتو ، اعمال ۔ اعتقاد اچھا ہوگا تو اعمال بھی درست
ہوں گے یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص اللہ سے محبت کرتا ہے اور اللہ کے بندوں سے
نفرت کرے ۔ اور یہ بات کس کے حاشیہ خیال میں آ سکتی ہے کہ توحید الٰہی کی صحیح
ترین معرفت رکھنے والا شخص لوگوں کے حقوق غضب کرے، ان کے آبگینہ دل کو ٹھیس پہنچائے
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کسی کی شمع حیات کو اس دارِ فانی میں ہمیشہ کے لیے بجھا دے
۔
وطن عزیز میں گزشتہ ماہ تسلسل سے ایک ہی نوعیت کے واقعات
ہوئے ۔ ٹارگٹ کلنگ ، بھتہ خوری اور بم دھماکے تو خیر باسیانِ وطن کے لیے معمولات
زندگی بن چکے ہیں ۔ مگر انسانیت کا اپنی سفاکی کی انتہائی سطح تک گر جانا کہ
درندوں کی درندگی بھی ان کے سامنے ماند پڑ جائے ۔ ایک طرف انسان تمدن و ارتقاء کی
منزلیں طے کر رہا ہے مگر دوسری طرف نفس پرستی کے قعر مذلت میں گرتا جا رہا ہے ۔
گوشت پوست سے ڈھکا وجود جسے انسان کہتے ہیں اپنی ہوسناکی کی
تسکین کے لیے جبر وتشدد کی راہ اختیار کرتا رہا ہے مگر آج جبکہ علم و دانش نے
افلاک کو فتح کرنی کی ٹھان لی ہے اور اخلاق و تربیت کے فلسفے سے فکر انسانی کی تشکیل
ہو رہی ہے تو نہ یہ علم و دانش ہی فطرت انسانی کی تہذیب کر رہا ہے اور ہی اخلاق
اور عمل کے فلسفے ہی سے خیر و صالحیت کا کوئی چشمہ پھوٹ رہا ہے ۔ یہ انسان ہی ہے
جو درندوں سے زیادہ بھیانک ہے کیونکہ درندوں کی درندگی بھی اپنے ابنائے جنس کے
حقوق کا لحاظ رکھتی ہے ۔ معصوم بچیوں کو جن کے اذہان کو تعلقات زن و شو کی کچھ خبر
تھی اور نہ ہی ان کے دل فطری اور سادہ احساس محبت ہی سے بالاتر ہی ہوئے تھے کہ ان
کی معصومیت کو سانحہ بنا دیا گیا ۔ یہ معصوم بچیاں اپنے اشک کس کے دامن پر گرائیں
؟ کیا معاشرہ ان کی معصومیت لوٹا سکتا ہے ؟ کیا انصاف اور قانون کی مقدس عدالت ان
کے رستے زخموں کو ناسور بننے سے بچا سکتی ہیں ؟ اور کیا حکومتِ وقت کی تسلی کا ایک
جملہ اس دکھیارے خاندان کے دکھوں کا مداوا کر سکتا ہے ؟ آہ
قفس
میں پرندوں کو مجبور پاکر
دکھاتے
ہیں صیاد کیا کیا تماشے
کسی
مست غنچے کی خوشبو چرالی
کسی
گل کا نازک بدن بیچ ڈالا

بہیمیت اور سفاکی کی یہی آخری حد نہیں ہے ۔ اس سے بھی
بڑھ کر سفاکی کی انتہا یہ رہی کہ ایک ظالم نے اپنی ہی بچی کو دریا برد کر دیا ۔ آہ
یہ کیسا بد بخت باپ تھا جس کے قلب میں اپنے ہی خون نے جوشِ محبت نہیں مارا ۔ ایک
بچہ یا بچی جب اس دنیا میں آتے ہیں تو ان کا پہلا اعتماد اس کے والدین ہوتے ہیں
اور اگر یہی یقین متزلزل ہوجائے تو زندگی کی کوئی امید باقی نہیں رہتی ۔

یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا۔ اوّلاً تو مجرم پکڑے نہیں
جائیں گے اور اگر پکڑ لیے جائیں تو رشوت دے کر رہا ہوجائیں گے ۔ جنہیں رہائی نہیں
ملے گی وہ مظلوم خاندانوں کو قتل کی دھمکیاں دے کر اپنی سزا معاف کرالیں گے ۔ جب
تک جرم کے مطابق سزا کا نفاذ نہیں ہوگا تب تک نہ انصاف پروان چڑھ سکتا ہے اور نہ
ہی جرائم کا خاتمہ ممکن ہے ۔ کیا اپنی سفلی جذبات کی تسکین کے لیے جبر و تشدد کی
راہ اختیار کرنے والے صرف اس معصوم بچی یا اس کے خاندان کے مجرم ہیں یا یہ پورے
معاشرے اور انسانیت کے مجرم ہیں ؟ اپنی ہی بچی کو صفحہ ہستی سے مٹانے والا شقی کیا
صرف اپنے گھر والوں کو جواب دہ ہے یا پورے معاشرے اور انسانیت کو ؟ یہ لوگ پوری
انسانیت کےمجرم اور معاشرے کے ناسور ہیں اس لیے کسی رحم کے مستحق بھی نہیں ۔ لیکن
جب الہامی تعلیمات کے مطابق ان کی سزا کا مطالبہ کیا جائے گا تو شیطان پرستوں کا
گروہ تہذیب و تمدن کے لبادے میں سامنے آکر حقوق انسانی کی تاویلیں پیش کرے گا ۔
کیا یہ مقام تعجب نہیں کہ جو حقوق غضب کرے اس کے لیے حقوق کا مطالبہ کیا جائے اور
جس کے حقوق غضب ہوئے ہوں اس کے حقوق کی کوئی قیمت مقرر نہ کی جائے ؟
ایسے افراد سزا کے نہیں ، عبرتناک سزا کے مستحق ہیں [1]۔
لاہور کی اس پانچ سالہ بچی کی زندگی میں رونما ہونے والا
سانحہ محض ایک حادثہ تھا اس کے پس پردہ کسی خفیہ طاقت کے خفیہ مقاصد نہ تھے شاید
یہی وجہ تھی کہ اس کے لیے عالمی انسانی ضمیر بیدار نہیں ہوا ۔ نوبل پرائز یا امن
کا سفیر بننے کا تو خیر سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔
اچھا عقیدہ ہی اچھا عمل تخلیق کرتا ہے ۔ جب ہمارے ایمان کی
بنیاد اللہ رب العزت کی ذات گرامی نہ رہی ہو تو ہمارے اعمال پر ایمان کی بہار کیسے
آئے گی ؟ جس عمارت کی بنیاد ہی میں کجی ہو وہ کبھی سلامت نہیں ر ہ سکتی ۔ ہمارا
ایمان سلامت نہیں اسی لیے کردار کی تعمیر بھی ممکن نہیں ۔
پھر اس معاشرتی جرم کے اسباب پر بھی
نظرڈالنے کی ضرورت ہے ۔ ہمارا میڈیا جو ایسی خبروں کو سب سے پہلے نشر کرنے کی بازی
میں ہمہ وقت مستعد رہتا ہے وہ جواب دہ ہے کہ کیوں اس کے اسکرین سے وہ حرکی نشہ
جلوہ پذیر ہوتا ہے جو ان وحشیوں کے سفلی جذبات کو پروان چڑھاتا ہے ؟ اگر کسی معصوم
کی عصمت دری جرم ہے تو اس جرم کا آلہ جرم تو وہ حیا باختہ فلمیں اور ڈرامے ہیں ۔
اگر ایسی سوچ لائقِ تعزیر ہے تو اس سوچ کو پروان چڑھانے والے مغرب کی مادر پدر
آزادی کا فلسفہ پڑھانے والے دانشوران ہیں ۔ جس معاشرے میں علمائے حق اور حقیقی
دانشوروں کی قدر نہ ہو وہاں انسانوں کو حیوان بننے میں زیادہ دیر نہیں لگتی ۔

 


[1]   الواقعۃ نمبر
15 شعبان المعظم 1434ھ میں راقم کا مضمون ” زنا بالرضا اور زنا بالجبر کا فرق
” شائع ہوا ہے جس میں نصوصِ شرعیہ کی روشنی میں ثابت کیا گیا ہے کہ زنا
بالجبر کرنے والا خواہ شادی شدہ ہو یا کنوارا ، مرد ہو یا عورت بہر صورت سزائے موت
کا حقدار ہے ۔
Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s