زنا بالرضا اور زنا بالجبر کا فرق


جریدہ “الواقۃ” کراچی، شمارہ 15،شعبان المعظم 1434ھ/ جون، جولائ2013

زنا بالرضا اور زنا بالجبر کا فرق

محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

زنا بالرضا اور زنا بالجبر باعتبارِ کیفیت و نتائج دو مختلف جرم ہیں۔لہٰذا لازم ہے کہ قانون ان دونوں جرائم میں فرق کرے۔شواہد و دلائل کے اعتبا ر سے بھی اور زجر وتوبیخ کے اعتبار سے بھی ۔
 
زنا بالرضا میں دونوں فریق مستحق سزا ہونگے ۔اگر زانی شادی شدہ(محصن/محصنہ) ہے تو وہ سنگسار کیا جائے گا اور اگر غیر محصن ہے تو سورۂ نور کی آیت نمبر ٢ کے تحت سو کوڑوں کا مستحق قرار پائے گا۔
اس کے برعکس زنابالجبر میں مجبور پر کوئی حد نہیں ۔  "سنن ترمذی”میں ہے:

"استکرھت امرأة علیٰ عہد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم فدرء رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم عنھا الحد و اقامہ علی الذی اصابھا۔”(سنن الترمذی، ابواب الحدود،باب ماجآء فی المرأة اذا استکرھت علی الزنا)

ترجمہ:”رسول اﷲصلی 

اللہ علیہ و آلیہ وسلم کے عہد میں ایک عورت کے 

ساتھ زبردستی زنا کیا گیا تھا، رسول اﷲ صلی 

اللہ علیہ و آلیہ وسلم نے اس عورت پر حد قائم 

نہیں کیا اور اس پر حد قائم کیا جس نے اس عورت سے زنا کیا تھا۔”

گو یہ حدیث باعتبارِ اسنادغریب ہے اور اس کی اسناد بھی متصل نہیں۔لیکن نفس مسئلہ میں اہل علم کا اتفاق ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں:

"والعمل علی ھذا الحدیث عند اھل العلم من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم وغیرھم ان لیس علی المستکرہ۔”(حوالہ مذکور)

ترجمہ:”علماء صحابہ رضوان اﷲ علیہم وغیرہم کا اس حدیث پر عمل ہے کہ جس پر زبردستی کی جائے اس پر حدنہیں۔”

"موطاء امام مالک”میں ہے:

” انّ ابا بکر الصدیق اتیٰ برجل قد وقع علیٰ جاریة بکر فاحبلھا ثمّ اعترف علیٰ نفسہ بالزنا و لم یکن احصن فامر بہ ابوبکر فجلد الحدّ ثمّ نفی الیٰ فدک۔”(موطاء امام مالک،کتاب الحدود، باب ماجآء فیمن اعترف علیٰ نفسہ  الزنا)

ترجمہ:”سیدنا ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے پاس ایک شخص کو لایا گیاجس نے ایک کنواری لونڈی کو حاملہ کردیا تھاپھر اس سے اپنے زنا کا اقرار کیا،وہ غیر محصن تھا،لہٰذاسیدنا ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اسے کوڑے مارنے کا حکم دیا اور فدک کی طرف نکال دیا۔”

اس اثر کے الفاظ کو بخوبی ملاحظہ کرنے سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ زنا کا یہ صدور اس لونڈی کے ساتھ بالجبر کیا گیا تھا،اسی لیے سیدنا ابوبکر صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ نے اس لونڈی سے کچھ تعرض نہ کیا۔ایک دوسرے اثر سے یہ معاملہ
مزید واضح ہوجاتا ہے:

"عن نافع ان عبداًکان یقوم علیٰ رقیق الخمس وانّہ استکرہ جاریة من تلک الرقیق فوقع بھا فجلدہ عمر بن الخطاب ونفاہ ولم یجلد الولیدة لانّہ استکرھھا۔”(موطاء امام
مالک ،کتاب الحدود، باب جامع ماجآء فی حد الزنا)

ترجمہ:”نافع سے روایت ہے کہ ایک غلام ان غلام و لونڈیوں پر مقرر تھا جو خمس میں آتی تھیں،اس نے انہیں غلام لونڈیوں میں ایک سے زنا بالجبر کیا،سیدنا عمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ نے اس کو کوڑے مارے اور نکال دیااور لونڈی کو نہ ماراکیونکہ اس پر جبر ہوا تھا۔”

مرد سے امکانِ جبر
یہاں ایک اہم اختلاف اس امر میں ہے کہ آیا مرد کے معاملے میں بھی بالجبر کا عذر لائق تسلیم ہے یا نہیں ؟ کیونکہ اس کی حیثیت ایک طرح سے فاعل کی ہے اور بقول امام زُفر:”چونکہ یہ فعل بغیر انتشار عضو کے ممکن نہیں اور انتشارِ عضو بغیر اپنی شہوت کے ممکن نہیں ،اسی لیے اسے معاف نہیں کیاجاسکتا۔”(عین الہدایہ اردو شرح ہدایہ:٢/٥٤٨) لیکن انتشارِ عضو بے شک شہوت کی دلیل ہو،  رضا ورغبت کی دلیل ہر گز نہیں ہوسکتی ،اور اب یہ امر محتاج ثبوت نہیں رہا ، لہٰذا مرد سے بھی زنا بالجبر ممکن ہے۔ 
اما م ابو حنیفہ  کے قول کے مطابق اگر مرد کو حاکم وقت (اولی الامر)نے زنا پر مجبور کیا ہو تو اس پر حد نہیں لگائی جائے گی۔(فتاویٰ عالمگیری :٣/٢٦٧)
 
"فتاویٰ عالمگیری ” میں "سراج وہاج” کے حوالے سے لکھا ہے:

"اگر قصور از جانب عورت ہو تو اسی سے حد ساقط ہوگی اور مرد سے ساقط نہ ہوجیسے ایسی صغیرہ سے جو قابل جماع ہے یا مجنونہ یا مکرہہ یا نائمہ سے زنا کیا تو عورت سے ساقط اور مرد محدود ہوگا اور اگر قصور از جانب مرد ہو توحد دونوں سے ساقط ہوگی ۔” (فتاویٰ عالمگیری:٣/٢٦٧)

"ہدایہ”میں اس کی تشریح امام محمد کے اس قول سے ہوتی ہے:

"زنا کے معاملہ میں مرد کا فعل اصل ہے اور عورت اس کی تابع ہے،اس لیے جب اصل پر حد واجب
نہ ہوگی تو تابع پر بھی واجب نہ ہوگی اس کے برخلاف اگر تابع پر حد واجب نہ ہوگی تو اس کا مطلب یہ نہ ہوگا کہ اصل پر بھی ممکن نہیں ہے۔”(اسلامی قوانین١٩٧٩ئ:٦٤)

لیکن ہمارے نزدیک یہ اصول بایں و جہ درست نہیں کہ جہاں انسان نے ارتقاء کے منازل طے کیے ہیں ، وہیں اس کی فطری رذالت وضلالت نے بھی اپنی تسکین کے لیے نت نئے طریقے وضع کرلیے ہیں،لہٰذا زنا بالجبر میں ایسی صورت بھی ممکن ہے کہ جس میں عورت جابر ہو اور مرد مجبور ۔ بھلا ایسی صورت میں عورت سے حد کا وجوب کس طرح ساقط کیا جاسکتا ہے؟

زنا بالجبر کے شواہد وقرائن

چونکہ برضا و رغبت افرادِمرد وزن کا اس "سوء عمل”کا ارتکاب کرنا ایک دوسری نو عیت ہے،اور بالجبر کسی کو نشانہ بنانا ایک دوسری نوعیت۔اخلاقی طور پر جب کوئی سلیم الطبع و سلیم الفطرت شخص ایسے افعال جائز طریقے ہی سے انجام دیتا ہے تودوسری نگاہوں سے پردہ ضروری سمجھتا ہے۔پھر جو شخص غیر قانونی و غیر شرعی طور پر کسی کو اپنی ہوس کا نشانہ بنارہا ہو تو وہ اس امر کو کس طرح نظر انداز کرسکتا ہے ۔ ایسے میں نشانہ جبر بننے والے سے چار چشم دید گواہوں کامطالبہ اور مستزاد یہ کہ گواہوں نے ” حتیٰ غاب ذٰلک منک فی ذٰلک منھا "تک کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو،کس طرح جائز و درست ہوسکتا ہے؟ __ _ __ _ ایسے موقعے کے لیے گواہوں پر اصرار گویامعاشرے سے اصلاح کا خاتمہ کردینے کے مترادف ہے ،
یہی و جہ ہے کہ اسلام کی فطری تعلیم ایسے مواقع پر محض گواہوں پر اصرار نہیں کرتی ۔
 
حدود آرڈیننس ١٩٧٩ء کے ایکٹ کے مطابق زنا بالجبرکے لیے بھی چار گواہوں کی شرط موجود تھی جو ظاہرہے کہ اس قانون کا سقم ہے ،کیونکہ شریعت اسلامی ایسے مواقع پر محض گواہان کی موجودگی ہی پراصرار نہیں کرتی بلکہ قرائن و
آثار کو بھی لائق اعتنا سمجھتی ہے ۔اس کے شواہد احادیث و آثار میں موجود ہیں۔ 

چنانچہ سنن ابی داودکی ایک حدیث کے مطابق عہدِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم میں ایک عورت نماز کے لیے نکلی اسے ایک مرد ملا جس نے اس کے ساتھ زیادتی کی وہ عورت چلائی تاہم مرد بھاگ نکلا۔اس وقت ایک شخص اس عورت کے سامنے سے گزرا ۔اس عورت نے کہا کہ یہی شخص ہے جس نے مجھ سے زیادتی کا ارتکاب کیا ہے ۔ اسی وقت مہاجرین کی ایک جماعت بھی آگئی ۔عورت کی نشاندہی پر اس شخص کو پکڑ لیا گیااور اس طرح یہ مقدمہ دربارِ رسالت صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم
میں پیش ہوا ۔آپ
صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم نے اس شخص پر حد جاری کرنے کا حکم دیا یہ سن کر وہ شخص جس نے زیادتی کا ارتکاب کیا تھا کھڑا ہوگیا اور اپنے جرم کو قبول کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم نے اس عورت کو جانے کے لیے کہا کیونکہ اس نے یہ فعل اپنی مرضی سے نہیں کیا تھا۔بعض روایتوں کے مطابق اس مردکو رجم کیا گیا کیونکہ وہ محصن تھا۔یہ روایت سنن ابو داود،سنن ترمذی اورسنن نسائی میں موجود ہے۔

اسی طرح ” سنن البیہقی ” ، ” مصنف ابن ابی شیبہ”، "مصنف عبدالرزا ق”اور "شرح السنة للبغوی” میں عہدِ فاروقی کا ایک واقعہ موجود ہے جس سے واضح ہوجاتا ہے کہ صرف قرائن و آثار کی روشنی میں بھی زانی بالجبرسزا کا مستحق بن جاتا ہے۔واقعہ کچھ اس طرح ہے:

قبیلہ ہذیل کے لوگوں کے پاس ایک مہمان آیا ۔ لکڑیاں اکٹھی کرنے کے لیے انہوں نے اپنی ایک لونڈی بھیجی۔مہمان اس پرفریفتہ ہوگیا اوراسے برائی پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔عورت کے انکار پر اس نے دست درازی شروع کردی ۔کچھ دیرلڑائی جاری رہی کہ اسی اثنا میں وہ عورت پیچھے ہٹی اور ایک وزنی پتھر اسے دے مارا ۔پتھر نے اس کے جگرکے ٹکرے کردیے اوروہ مر گیا۔پھر وہ عورت اپنے گھر والوں کے پاس آئی اور سارا ماجرا سنایا۔اس کے گھر والے دربارِ فاروقی میں حاضر ہوئے اورصورتحال سے آگاہ کیا۔سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے تفتیش کے لیے کسی کو بھیجا ،تو ان دونوں کے نشانات حسب بیان مبینہ مقام پر پائے گئے ۔اس موقع پر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے جو فیصلہ دیاوہ تاریخ عدل و انصاف میں آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہے اور اس کی فطری تعلیمات کی دلیلِ بیّن بھی ۔ فرمایا:

"ذاک قتیل اللّٰہ ، واللّٰہ لا یؤدی أبداً۔” (السنن الکبریٰ للبیہقی:٨/٣٣٧)

"وہ 

اللہ تعالیٰ کا مارا ہوا ہے۔اللہ کی قسم اس کی دیت کبھی ادا نہ کی جائے گی۔”

ان روایات سے واضح ہوتا ہے کہ جس کے ساتھ زنا بالجبر ہوا ہے اس سے محض گواہوں کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا بلکہ اس ضمن میںقرائن وآثار بھی قوی شہادت کا درجہ رکھتے ہیں ۔اگر کوئی اپنی عزت وعصمت کی حفاظت کرتے ہوئے جبر
کرنے والے کو قتل بھی کردے تو اس سے قصاص طلب نہیں کیا جائے گا۔تاہم یہ بھی پیشِ نظر رہے کہ کسی کا محض دعویٰ دلیل نہیں بن سکتا دعوے کے ساتھ کسی چشم دیدگواہی یا قوی قرینے کا ہونا ضروری ہے۔

ڈی این اے بحیثیتِ گواہ

ڈی این اے موجودہ سائنسی دور کی اہم ترین دریافت میں سے ایک ہے ۔ لیکن اس حقیقت کو فراموش نہیں کیا جا سکتا کہ ڈی این اے صرف یہ معلومات دیتی ہے کہ متاثرہ عورت کے ساتھ جنسی رابطہ قائم ہوا یہ نہیں بتاتی کہ یہ رابطہ
بالجبر ہوا ہے یا برضا و رغبت ۔ یورپ میں بہت سی خواتین انتقاماً اپنے سابق آشناؤں کو مجرم ثابت کروادیتی ہیں اور خود سزا سے بچ جاتی ہیں ۔
 
اسلامی قانون میں ڈی این اے ایک اہم قرینے کی حیثیت رکھتا ہے ۔ بقیہ تمام قرائن کی روشنی میں اس کی درست سمت کا تعین کیا جا سکتا ہے ۔
یہ بھی ممکن ہے کہ کسی واقعے میں محض ڈی این اے ہی فیصلہ کن ثابت ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اسے یکسر مسترد کردیا جائے کیونکہ اس کا فیصلہ دیگر قرائن کی روشنی میں ہوگا ۔

زنا بالجبر کی سزا

جس طرح اسلام نے زنا بالرضا میں کنوارے اور شادی شدہ کے باریک لیکن نہایت اہم فرق کو ملحوظ رکھا بعینہ اسلام کی فطری تعلیمات نے زنا بالرضا اور زنا بالجبر کے فرق کو بھی ملحوظ رکھا ہے۔
 
قابل غور امریہ ہے کہ زنا بالرضا میں دو انسانی وجود باہم رضامندی سے اللہ تبارک و تعالیٰ کے حدود کوپامال کرتے ہیں جبکہ بالجبر زنا کرنے والا نہ صرف حدود اللہ کو پامال کرتا ہے بلکہ حقوق العباد کی حق تلفی کا بھی مرتکب ہوتا ہے ۔لہٰذا یہ دونوں جرم کیفیت اور نتائج میں یکساں کیسے ہوسکتے ہیں؟ 
قرآن پاک میں زنا بالرضا کے لیے چار گواہوں کی شرط لازم قرار دی گئی ہے جبکہ زنا بالجبرکے لیے آیتِ محاربہ سے استدلال زیادہ مناسب ہے۔ چنانچہ ارشاد ربّانی ہے:

(اِنَّمَا جَزٰائُ الَّذِیْنَ یُحَارِبُونَ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْأَرْضِ فَسَاداً اَنْ یُّقَتَّلُوْآ اَوْ یُصَلَّبُوآ اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْھِمْ وَ اَرْجُلُھُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ط ذٰلِکَ لَھُمْ خِزْی فِی الدُّنْیَا وَ لَھُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَاب عَظِیْم ) (المائدة:٣٣)

ترجمہ:”ان لوگوں کی سزا جو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم)سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرنے میں لگے ہوئے ہیں بس یہ ہے کہ قتل کیے جائیں یا سولی پر لٹکائے جائیں یا ان کے ہاتھ پاؤں بے ترتیب کاٹ دیے جائیں۔ ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں دردناک عذاب۔”

مذکورہ بالا آیت میں فساد فی الارض کے ضمن میں سرقہ بالجبر کا ذکر نہیں تاہم فقہاء نے اس کا شمار حرابہ میں کیا ہے کیونکہ حصولِ مال کے لیے جبروتشدد کی راہ اختیار کرتے ہوئے قوت و طاقت کا استعمال جرم کی نوعیت تبدیل کردیتا ہے اور بجائے حدِ سرقہ کے اس جرم کا شمار حرابہ میں ہوتا ہے ۔ زنا بالجبر کی بھی یہی نوعیت ہے ۔ قرآن کریم میں نسل کی بربادی کو فساد فی الارض ہی کے ضمن میں شمار کیا گیا ہے ۔ ملاحظہ ہو:

( وَ اِذَا تَوَلّٰی سَعٰی فِی الْأَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْھَا وَ یُھْلِکَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَ ط وَ اللّٰہُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ ) (البقرة: 205)

ترجمہ:”اور جب وہ تمہارے پاس سے جاتے ہیں تو ان کی 

کوشش زمین میں فساد برپا کرنے اور کھیتی اور نسل کو تباہ کرنے کے لیے ہوتی ہے اور 

اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔”

ایک شخص بالخصوص ایک عورت کے لیے عزت سے زیادہ قیمتی چیز کوئی نہیں ہوسکتی ہے کسی عورت کی عزت کا برباد کرنا مال وزر کے لوٹنے سے کہیں زیادہ قبیح فعل ہے ۔ کسی کا مال لوٹ لینا اگرمحاربہ میں شامل ہے تو کسی کی عصمت
دری بدرجۂ اولیٰ مجرم کو محارب ثابت کرنے لیے کافی ہے ۔
 
محارب کی لازمی سزا موت ہے۔کیونکہ وہ زمین پر فسادفی الارض کا مرتکب ہوا ہے۔جو اللہ تبارک وتعالیٰ کے نزدیک انتہائی ناپسندیدہ فعل ہے ۔فتنہ و فساد کے لیے حکم قرآنی کی اس حکمت کو نہیں بھولنا چاہیے کہ: ( اَلْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتَلِ )
 
پھر یہ بھی خیال رہے کہ زنابالجبر اسلامی قانون کی رُو سے صرف فوجداری جرم نہیں بلکہ دیوانی جرم بھی ہے شریعت میں کسی شخص کا جسم اس کی ملکیت ہے اور اس کی ملکیت کو نقصان پہنچانے والے پرلازم ہے کہ اس کا ازالہ کرے ۔مثلاً کسی انسان کی آنکھ یا دیگراعضاء کو اگر کوئی غیرقانونی طریقے سے نقصان پہنچاتا ہے تو اس پر دیت لازم ہوگی۔اسی طرح جنسی اعظاء کو نقصان پہنچانے والا بھی مجروح کو جرمانہ ادا کرنے کا پابند ہوگا۔ھذا ما عندی و العلم عنداللہ
Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.