دجالی فتنہ کے نمایاں خدّو خال


الواقعۃ شمارہ: 82 – 85، ربیع الاول تا جمادی الثانی 1440ھ

اشاعت خاص : فتنہ دجالیت

از قلم : مولانا مناظر احسن گیلانی

مشہور حدیث جو ابو داود، مسلم، ترمذی، نسائی، احمد، بیہقی وغیرہ سے محدثین کی کتا بوں میں پائی جاتی ہے، جس میں بیان کیا گیا ہے کہ دجال کے فتنوں سے جو محفوظ رہنا چاہتا ہے اس کو چاہیے کہ سورہ کہف کی ابتدائی یا خاتمہ کی آیتوں کی تلاوت کرے، بعض روایتوں میں ابتداء یا خاتمہ کا ذکر نہیں ہے بلکہ فرمایا گیا ہے کہ مطلقاً سورئہ کہف کی دس آیتوں کی تلاوت، اس کے تلاوت کرنے والوں کو دجال کے فتنوں سے بچا لیتی ہے۔ حضرت ابو سعید خدری، ابو درداء، ابن عمر، ابن عباس رضی اللہ عنھم صحابیوں سے الفاظ کی کمی بیشی کے ساتھ مندرجہ بالا کتابوں میں یہ حدیث مروی ہے۔ (1)۔

۔’’المسیح الدجال ‘‘ کی شخصیت اور حقیقت سے بحث نہیں، یہ ایک مستقل جداگانہ مسئلہ ہے، یہاں مقصود صرف وہ فتنہ ہے جسے ’’المسیح الدجال ‘‘ کی طرف پیغمبرانہ پیشین گوئیوں میں منسوب کیا گیا ہے۔

دجال کے متعلق آپ نے جو کچھ سنا ہوگا، یا کتابوں میں جن چیزوں کا انتساب اس کی طرف کیا گیا ہے، سب کو پیش نظر رکھنے کے بعد کلی تعبیر ان کی یہی ہو سکتی ہے کہ بعض قدرتی قوانین پر غیر معمولی اقتدار اس کو بخشا جائے گا، مثلاً مسافت یعنی مکانی فاصلوں کو صفر کے درجہ تک گویا اس کے زمانے میں پہنچا دیا جائے گا۔ اس تیز رفتاری کا تذکرہ کرتے ہوئے جو یہ فرمایا گیا کہ ’’جیسے بارش کو تیز آندھی اڑائے لے جاتی ہو ‘‘ کچھ یہی صورت اس کی رفتار کی ہوگی۔(2)۔

صحیح مسلم کے الفاظ ’’کالغیث استدبرتہ الریح‘‘ کا مطلب یہی ہے اور یہ کرئہ زمین کے ملکوں اور شہروں میں نہیں بلکہ ایشیا، افریقہ، یورپ و امریکہ وغیرہ کے ایک ایک گائوں تک رسائی اس کی چالیس دن میں ہو جائے گی۔ نواس ابن سمعان رضی اللہ عنہ والی روایت کے الفاظ ’’فلا ادع قریۃ الاھبطتھا فی اربعین لیلۃ‘‘ (مسلم) سے یہی سمجھ میں آتا ہے اور یہ حال تو اس کی تیز رفتاری کا ہو گا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ کی طرف ’’کنز العمال ‘‘ میں جو خطبہ منسوب کیا گیا ہے اس میں آئندہ پیش آنے والے حوادث کے سلسلہ میں دجال کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا گیا تھا کہ

۔’’ینادی بصوتہ یسمعہ ما بین الخافقین‘‘ (خلاصہ کنز العمال جلد۲، صفحہ ۷۵۳ بر مسند احمد)۔

۔’’پکارے گا دجال ایسی آواز سے جسے خافقین (مشرق و مغرب) کے درمیان رہنے والے سنیں گے۔‘‘ ۔

جس سے معلوم ہوا کہ نہ صرف رفتار بلکہ آواز کے سلسلہ میں بھی فاصلہ کا مسئلہ دجال کے زمانے میں غیر اہم ہو کر رہ جائے گا۔ اسی کتاب میں ’’مستدرک حاکم ‘‘ کے حوالہ سے عبد اللہ بن عمرو کی ایک روایت دجال ہی کے متعلق جو پائی جاتی ہے، اس میں بھی ہے کہ ’’دجال کی آواز کو مشرق و مغرب کے باشندے سنیں گے۔ ‘‘ (ص ۴۹، جلد۲، کنز العمال) ۔

اسی طرح روایتوں میں بیان کیا جاتا ہے کہ علاج و معالجہ کے طریقے ترقی کرکے اس حد تک پہنچ جائیں گے کہ الاکمہ (مادر زاد اندھے) الابرص (کوڑھی) تک کو چنگا کرنے کی صلاحیت پیدا ہو جائے گی۔ (کنز، ص۴۸، جلد ۲)۔

یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ سخرت لہ انھار الارض (یعنی زمین پر بہنے والے دریائوں اور نہروں پر بھی اس کو قابو عطا کیا جائے گا) جس سے معلوم ہوا کہ سیرابی کے ذرائع میں غیر معمولی ترقیاں رونما ہوں گی۔ اسی کے ساتھ ثمارھا کا اضافہ بھی ہے یعنی زمین کی پیداواروں پربھی اس کو قابو بخشا جائے گا۔ سیرابی کے ذرائع پر قابو پانے کا لازمی نتیجہ ہے اور یہی نہیں بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مون سون برساتی ہوائوں سے بھی کام لینے کی تدبیر اس پر منکشف ہو جائے گی۔ حدیث کے الفاظ ہیں:-

۔’’یامر السماء فتمطر والارض فتنبت۔‘‘ (ص: ۳۸ ، جلد ۲ ، کنز بر مسند) ۔

۔’’بادل کو حکم دے گا تو برسنے لگے گا اور زمین کو حکم دے گا تو اگانے لگے گی۔‘‘ ۔

اس کا بھی پتہ چلتا ہے کہ نباتاتی پیداواروں کے سوا زمین کے پیٹ کے معدنی ذخیروں کو برآمد کرنے میں غیر معمولی کرشموں کا دجال اظہار کرے گا، حدیث کے الفاظ ہیں:-۔

۔’’ویمر بالخریۃ فیقول لھا اخرجی کنوزک فتبعہ کنوزھا۔‘‘ (کنز، ص ۳۸، جلد ۲)۔

۔’’اجاڑ زمینوں پر گذرے گا اور کہے گا کہ نکال اپنے ذخیروں کو پس یہ ذخیرے اس کے پیچھے ہو لیں گے۔‘‘ ۔

اور ان ہی روایتوں میں دجال کی طرف یحی الموتیٰ (یعنی وہ مردے کو زندہ کرے گا) کے الفاظ جو منسوب کیے گئے ہیں ان سے تو ثابت ہوتا ہے کہ مردوں کو زندہ کرنے کی بھی قدرت اس میں پیدا ہو جائے گی۔ یہ بھی ہے کہ مردے کو زندہ کرکے دکھائے گا بھی۔ صحاح میں ہے کہ زندہ آدمی کو چیر کر رکھ دے گا پھر دونوں ٹکروں کو جوڑ کر اسی کو زندہ کر دے گا اور کچھ اسی نقطہ پر ختم ہوتا نظر نہیں آتا بلکہ روایتوں کے اس حصے پر غور کیجیے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ دجال لوگوں کو ایک اور کرشمہ دکھائے گا کہ بعض خبیث روحیں یعنی شیاطین لوگوں کے سامنے نمودار ہو کر کہیں گے کہ ہمارا یہ نام ہے اور تمہارے ہم مرے ہوئے باپ یا مری ہوئی ماں یا دوسرے عزیز ہیں، الفاظِ روایت کے یہ ہیں:-۔

۔’’و یبعث معہ الشیاطین علی صورۃ من قد مات من الاباء والامھات والاخوان والمعارف فیاتی احدھم الی ابیہ و اخیہ فیقول الست فلانا، الست تعرفنی۔ ‘‘ (کنز العمال، ص: ۴۵)۔

۔’’اور اٹھائے جائیں گے دجال کے ساتھ بعض شیاطین ان لوگوں کی شکلوں میں جو مر چکے ہیں باپ، ماں، بھائی اور جانے پہچانے لوگ، پھر کوئی اپنے باپ یا بھائی کے پاس جائے گا تب وہی پوچھے گا کہ میں فلاں آدمی کیا نہیں ہوں ؟ کیا تم مجھے نہیں پہچانتے ؟‘‘ ۔

بعض روایتوں کے الفاظ کا ترجمہ یہ ہے:-۔

۔’’دجال کے ساتھ کچھ شیاطین ہوں گے جو مردوں کی سی شکل بنا کر زندوں سے کہیں گے مجھے تم پہچانتے ہو میں تمہارا باپ یا تمہارا فلاں رشتہ دار ہوں کیا تم نہیں جانتے کہ ہم مر چکے ہیں۔ ‘‘ (ص ۴۷)۔

الغرض اس کا بھی سراغ ملتا ہے کہ مردوں کے ساتھ زندوں کے تعلق پیدا کرنے کا دعویٰ بھی اسی طریقہ سے کیا جائے گا، جیسے سنا جاتا ہے کہ یورپ و امریکہ میں آج کل مردوں کا حاضر کرانے اور ان سے مکالمہ کرانے کے مواقع ان مردوں کے زندہ عزیزوں کے لیے ’’اسپریچولیزم‘‘۔

Spiritualism

  والوں کی طرف سے مہیا کیے جاتے ہیں۔ حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ  کے حوالہ سے مسند احمد میں دجال ہی کے متعلق ایک طویل حدیث پائی جاتی ہے جس کا ایک جزو یہ بھی ہے:-۔

۔’’دجال کسی دیہاتی سے کہے گا کہ تمہارے ماں، باپ کو میں زندہ کرکے کھڑا کردوں تو تم مجھے اپنا رب مانو گے ؟ دیہاتی کہے گا کہ اچھا ایسا کر کے دکھائو۔ تب دو خبیث روحیں اس دیہاتی کے سامنے اس کے ماں باپ کی شکل اختیار کر کے نمایاں ہوں گی اور دیہاتی سے کہیں گی کہ اے میرے بیٹے تم دجال کا ساتھ دو اور اس کی پیروی کرو، یہی تمہارا رب ہے۔ ‘‘ (کنز العمال، ص ۴۰، جلد ۲)۔

بہر حال قدرتی قوانین پر دجال کو جو غیر معمولی اقتدار عطا کیا جائے گا وہ یہی، یا اسی قسم کی دوسری باتیں ہوں گی جن کی تفصیل دجال سے متعلق حدیثوں میں پڑھی جا سکتی ہیں، لیکن جہاں تک میرا خیال ہے دجال کو دجال بنانے والا اس کا وہ طرز عمل ہوگا جو اپنے اس غیر معمولی اقتدار کے استعمال میں وہ اختیار کرے گا۔

میرا مطلب

یہ ہے کہ قوانین قدرت پر غیر معمولی اقتدار بجائے خود ایسی چیز نہیں کہ جو آدمی کو دجال بنا دے بلکہ قرآنی تعلیم کی رو سےتو قدرت کے قوانین سے استفادہ نسل انسانی کے مقام اور خلافت کا عام اقتضا ہے۔ آدم علیہ السلام کو اسماء کا جو علم بخشا گیا تھا اسی اجمالی علم کی یہ تفسیر ہے، ما سویٰ اس کے کون نہیں جانتا کہ حضرات انبیاء علیہم السلام کو بھی اس قسم کا غیر معمولی اقتدار بخشا گیا تھا۔ علوی جرام یا سفلی اجسام کی تسخیر کی مثالوں سے ان کی زندگی معمور نظر آتی ہے۔ سمندر کا حضرت موسیٰ علیہ السلام  کے ضربِ عصا سے پھٹ جانا، یا شق القمر کا معجزہ جو رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب ہے یا پھر قرآن میں ذکر کیا گیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اکمہ و ابرص کو بھلا چنگا کرتے تھے بلکہ مردوں کو بھی زندہ کرکے بھی دکھاتے تھے، بہر حال پیغمبروں کی زندگی میں اس قسم کی چیزوں کی کیا کمی ہے مگر پیغمبروں کو جب یہی اقتدار بخشا گیا تو اپنے اس اقتدار سے جو کام وہ لیتے تھے، اس سے دنیا واقف ہے یعنی اقتدار بخشنے والے قادر و توانا کے شکر سے ان کے قلوب بھی معمور ہو جاتے تھے اور دوسروں کو بھی اسی خدائے بخشایندہ مہربان کی طرف کھینچتے تھے، تسخیری مظاہر کو حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے سامنے پاکر فرمایا کرتے تھے:-۔

۔قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّيْ ۖ لِيَبْلُوَنِـىٓ ءَاَشْكُـرُ اَمْ اَكْفُرُ ۖ وَمَنْ شَكَـرَ فَاِنَّمَا يَشْكُـرُ لِنَفْسِهٖ ۖ وَمَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّىْ غَنِىٌّ كَرِيْـمٌ (النمل: ۴۰)۔

۔’’یہ میرے پروردگار کی مہربانی ہے، مجھے وہ جانچتا ہے کہ میں اس کے گن گاتا ہوں یعنی شکر کرتا ہوں یا نا شکری کرتاہوں،۔ جو شکر کرتا ہے اپنے لیے کرتا ہے اور جو نا شکری کرتا ہے اسے معلوم ہو کہ میرے رب کی ذات سب سے بے پروا اور عظمت والی ہے۔‘‘ ۔

لیکن اس کے بالکل برعکس جیسا کہ سب جانتے ہیں دجال اپنے اقتدار کے کرشموں کو اقتدار بخشنے والے خدا سے خود باغی بننے اور دوسروں کو بھی خدا سے بیزار و باغی بنانے میں استعمال کرے گا۔ اس کی یہ خصوصیت اتنی نمایاں ہوگی کہ عوام و خواص ہر ایک پر بشرطیکہ وہ مومن ہوں، حدیثوں میں آیا ہے کہ پہلی نظر میں اس کے مشن کا یہ امتیازی نصب العین خود بخود واضح ہو جائے گا۔ صحیح بخاری وغیرہ میں یہ مشہور روایت جو دجال ہی کے متعلق پائی جاتی ہے، یعنی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:-۔

۔’’انہ مکتوب بین عینیہ ک ف ر یقرءہ کل مومن کاتب او غیر کاتب ۔‘‘۔

۔’’دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان میں لکھا ہوگا ک ف ر (کفر) جسے ہر مومن پڑھ لے گا خواہ وہ کاتب ہو یا غیر کاتب۔‘‘ ۔

۔’’کاتب‘‘ یعنی لکھنے پڑھنے والے لوگ اور ’’غیر کاتب‘‘ یعنی نوشت و خواند کا سلیقہ جن میں نہ ہو، کسی سے بھی دجال کی یہ خصوصیت مخفی نہ رہے گی۔ گویا یوں سمجھنا چاہیے کہ کفر یعنی ’’ک، ف، ر ‘‘ یہی دجالی تمدن و تہذیب کا امتیازی چھاپ ہو گا۔ ماحول ہی ایسا پیدا ہو جائے گا کہ دنیا بے ایمانی، الحاد، بے دینی کا شکار ہوتی چلی جائے گی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے تھے رسول اللہ ﷺ نے ایک دن دجال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’دجال کو دیکھنے کا موقع جسے مل جائے اس کو چاہیے کہ وہ اس سے دور ہی رہے ‘‘ اس کے بعد یہ ارشاد ہوا تھا:-۔

۔’’واللہ ان الرجل لیاتیۃ و ھو یحسب انہ مومن فیتبعہ مما یبحث بہ الشبہات۔‘‘ (ابو داود وغیرہ)۔

۔’’اللہ کی قسم ہے کہ دجال کے پاس ایک آدمی آئے گا یہ خیال کرتے ہوئے کہ وہ مومن ہے مگر اس سے ملنے کے بعد اس کا پیرو بن جائے گا، جس کی وجہ سے وہ شبہے اور شکوک ہوں گے جو دجال سے ملنے کے ساتھ ہی پیدا ہو جائیں گے۔‘‘۔

اس سے معلوم ہوا کہ دوسروں کو اپنے خیالات سے متاثر کرنے کی صلاحیت اس میں پائی جائے گی اور اس کا بھی پتہ چلتا ہے کہ مردوں سے آگے بڑھ کر عورتوں کو بھی متاثر کرے گا۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں:-۔

۔’’اخر من یخرج الیہ النساء حتی ان الرجل یرجع الی امہ و بنتہ و اختہ و عمتہ فیو ثقھار باطا۔ ‘‘ ۔

۔’’دجال کے ساتھ آخر میں عورتیں بھی نکل پڑیں گی حالت یہ ہوگی کہ آدمی اپنی ماں، بہن، بیٹی اور پھوپھی کو اس اندیشہ سے باندھے گا کہ کہ کہیں دجال کے ساتھ نہ نکل پڑیں۔ ‘‘ ۔

بہر حال قدرتی قوانین پر غیر معمولی اقتدار کا غلط بلکہ قطعی معکوس استعمال یہی وہ ’’فتنہ‘‘ ہے جس میں المسیح الدجال خود بھی مبتلا ہوگا اور کوشش کرے گا کہ اس کی بھڑکائی ہوئی فتنے کی اس آگ میں دوسرے بھی جھونک دیئے جائیں۔ باقی یہ مسئلہ اپنی کرشمہ نمائیوں میں وہ کن ذرائع سے کام لے گا ؟ ظاہر ہے کہ جب تک المسیح الدجال خود دنیا کے سامنے نہ آجائے اس سوال کا صحیح جواب نہیں دیا جا سکتا۔ کیا سحر جادو یا اسی قسم کے غیر مادی ذرائع پر اس کو قابو بخشا جائے گا ؟ یا جیسا کہ حافظ ابن حزم محدث کا خیال ہے۔

ابن حزم کا نقطہ نظر

۔’’انما ھو محیل یتحیل بحیل معروفۃ کل من عرفھا عمل مثلہ۔ ‘‘ ( الملل و النحل، ص: ۴۱) ۔

۔’’دجال حیلوں سے کام نکالے گا، ایسے حیلے جن کا علم جو بھی حاصل کرے گا وہی سب کچھ کرکے دکھا سکتا ہے جو دجال دکھائے گا۔‘‘ ۔

جس کا حاصل یہ ہوا کہ ابن حزم کے نزدیک دجال ’’حیل ‘‘ سے کام لے گا۔ ’’حیلہ ‘‘ لفظ کی جو جمع ہے۔ عام طور پر میکانکی طریقوں کی تعبیر عربی زبان میں ’’حیل ‘‘ کے لفظ سے کی جاتی ہے۔ مثلاً جر ثقیل کے طریقوں کا ذکر ’’حیل ‘‘ کے ذیل میں کرتے ہیں۔ ’’علم الحیل ‘‘ نام ہی اس علم کا ہے جس میں میکانیکی طریقوں سے چیزوں پر قابو حاصل کرنے کی تدبیریں بتائی جاتی ہیں اور یہی ابن حزم کا بھی مقصود ہے۔ انھوں نے دوسری جگہ ’’دجالی کرشموں‘‘ کا تذکرہ کرتے ہوئے بعض مثالوں سے ’’دجالی کرتبوں‘‘ کو سمجھانا چاہا ہے، مثلاً لکھا ہے کہ اس کی نوعیت وہی ہوگی جیسے بعض لوگ مرغیوں کو ہڑتال کھلا کر دکھاتے ہیں کہ مرغیاں مر گئیں۔ ان کی حس و حرکت غائب ہوگئی پھر ان ہی مرغیوں کے حلق میں زیتون کا تیل جب ٹپکاتے ہیں تو پھڑ پھڑا کر اٹھ بیٹھتی ہیں، بھڑوں کے متعلق اپنا تجربہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ان کو پانی میں ڈال دیا کرتے تھے، تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ مرگئیں، پھر ان ہی مردہ بھڑوں کو دھوپ میں لا کر تھوڑی دیر کے لیے چھوڑ دیتے تو زندہ ہو جاتی تھیں۔ اسی سلسلہ میں اپنے وطن (اندلس) کے ایک آدمی محرق کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بند کمرے میں یہ تماشہ دکھاتا تھا کہ کوئی دوسرا بولنے والا اس کمرے میں موجود نہیں ہے لیکن بولنے کی آواز اسی کمرے میں گونجتی تھی۔ حافظ کا بیان ہے کہ اس کمرے کی دیوار میں مخفی نلکی لگی ہوتی تھی جس سے لوگ نا واقف تھے۔ اس نلکی کے دوسرے سرے پر کمرے سے باہر بات کرنے والا بات کرتا تھا، مگر محرق باور کراتا تھا کہ کہ کسی بولنے والے کے بغیر اس کے سامنے آوازیں آتی ہیں۔ (الملل و النحل) ۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حدیثوں میں بھی اس کی تصریح نہیں کی گئی کہ دجال اس راہ میں کن ذرائع سے کام لے گا اور نہ یہ بیان یا گیا ہے کہ قدرتی قوانین کا علم حاصل کرنے کے بعد ان کو اپنے قابو میں لائے گا۔

اور یہ قصہ کچھ دجالی کرشموں تک ہی محدود نہیں ہے۔ قیامت سے پہلے آیندہ پیش آنے والے جن واقعات کا حدیثوں میں ذکر کیا گیا ہے سب ہی کے متعلق یہ مناسب ہے کہ دیکھنے سے پہلے خواہ مخواہ اپنی طرف سے ان کے اسباب و علل کے متعلق فیصلہ نہ کر دیا جائے۔(3)۔

پچھلے دنوں بعض لوگوں نے عجلت سے کام لے کر یورپ و امریکہ کے موجودہ تمدن و تہذیب کو دجالی تہذیب و تمدن قرار دیتے ہوئے یہ فیصلہ بھی کر دیا کہ ’’المسیح الدجال ‘‘ جس کی پیشین گوئی کی گئی ہے وہ آگیا ہے اور اب مسلمانوں کو ’’دجال ‘‘ کے انتظار کی زحمت نہیں کرنی چاہیے۔ اس میں شک نہیں کہ یہ فیصلہ بھی زود فکری و زود بیانی کا نتیجہ تھا اور اب بھی جن لوگوں کو اس خیال پر اصرار ہے تو سمجھنا چاہیے کہ زود فکری کے مرض سے وہ شفا یاب نہیں ہوئے ہیں۔

یہ صحیح ہے کہ قدرتی قوانین پر غیر معمولی اقتدار پچھلی دو ڈھائی صدیوں میں یورپ و امریکہ والوں کا مسلسل قائم ہوتا چلا جا رہا ہے اور اپنے اس اقتدار کو ان ممالک کے باشندے بھی ان ہی ’’دجالی اغراض‘‘ میں جیسا کہ دیکھا گیا ہے استعمال کر رہے ہیں، ’’ک، ف، ر‘‘ یعنی کفر و الحاد یا اللہ سے بیزاری یا انحراف موجودہ مغربی تہذیب کا ایسا عام چھاپ ہے، جسے ہر جاہل و عالم بشرطیکہ ایمان کی کوئی کرن اپنے اندر رکھتا ہو، جانتا اور پہچانتا ہے۔ خالق کی مرضی کے مطابق اس کے بندوں کے آگے زندگی کا جو نظام اللہ کے پیغمبروں نے پیش کیا ہے، اس نظام زندگی کی طرف سے پژمردگی اور افسردگی پیدا کرنے میں آج یورپ جن چابک دستیوں سے کام لے رہا ہے ان کو دیکھتے ہوئے نبوت کی وہ پیشین گوئی سمجھ میں آتی ہے کہ مومن دجال کے پاس جائے گا لیکن جب واپس لوٹے گا تو طرح طرح کے شکوک و شبہات کی چنگاریاں اپنے اندر بھڑکتی ہوئی پائے گا۔ یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ مردوں سے متجاوز ہو کر یہ آگ عورتوں کو بھی گھیرتی چلی جا رہی ہے، اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ ۔’’اسپریچولیزم‘‘۔

Spiritualism

کے شیطانی تجربات کے دعوے پیش کرکے اس معیار کو ہی یورپ والوں نے چاہا کہ مشتبہ کر دیں، جس سے مذہب و دیانات کے سلسلہ میں حق و باطل کو جانچا جاتا تھا، اگر واقعی یہ مان لیا جائے کہ جن مخفی روحوںسے مکالمہ کا ادعاء اس طبقہ کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے یہ شیاطین نہیں بلکہ گزشتہ مرے ہوئے لوگوں کی روحیں ہیں تو اس کا مطلب یہ ہو گا مرنے والی زندگی کی بھلائی اور برائی، خیر و شر کا تعلق ان امور سے نہیں ہے جن کے ساتھ خیر و شر کے نتائج کو مذاہب سے وابستہ قرار دیتے ہیں، اور یہ بھی صحیح ہے کہ گو صاف صاف واضح لفظوں میں خدائی کا دعویٰ یورپ کی طرف سے ابھی دنیا میں نہیں رکھا گیا لیکن جس فکری رفتار کا لوگوں کو اس زمانے میں عادی بنا دیا گیا ہے اس رفتار کا آخری نتیجہ یہی ہے اور یہی ہو سکتا ہے کہ بجائے اللہ کے سب سے آخری اقتداری قوت کائنات کی بنی نوع انسانی کو تسلیم کر لیا جائے۔مسئلہ ارتقاء جو مغربی طریقہ فکر کی تنہا مخصوص راہ ہے، وہی اس نتیجہ تک خود بخود لوگوں کو پہنچا دیتا ہے۔ بلکہ انسانوں میں بھی آج ہر قسم کی طاقتوں اور قوتوں کا مرکز یورپ و امریکہ ہی بنا ہوا ہے، اسی ’’خدا ‘‘ کے لفظ کا اطلاق خواہ مغربی تہذیب و تمدن کے نمائندوں پر نہ کیا جائے لیکن خدا اگر اسی طاقت کا نام ہے جس کے اوپر کوئی طاقت نہیں ہے تو آج ان دلوں کو چیر کر دیکھیے جو مغربی تمدن کے زیر اثر ہیں ان کے اندر سے یہی عقیدہ اور احساس باہر نکل پڑے گا۔ یعنی یورپ و امریکہ والوں سے بڑا کوئی نہیں اور ان پر ہی سارے کمالات کی انتہا ہوتی ہے۔ جو کچھ اس تہذیب و تمدن کے متعلق لکھا اور پڑھا جاتا ہے اور جس قسم کی گفتگو یورپ کی اس نشاۃ جدیدہ کے متعلق عوام و خواص کی مجلسوں میں کی جاتی ہے، رسالوں، اخباروں، سینمائوں اور تھیٹروں میں جو کچھ سنایا اور دکھایا جاتا ہے، شعوری و غیر شعوری طور پر یہی اثر ان سے دماغوں اور دلوں پر جاگزیں ہوتا چلا جا رہا ہے، کوئی شک نہیں کہ یہ سب ہو رہا ہے مگر بایں ہمہ جیسا کہ میں نے عرض کیا کھلے کھلے صاف لفظوں میں خدائی کا دعویٰ ابھی نہیں کیا گیا ہے، اور قوانینِ قدرت پر بھی ان کا اقتدار بلندی کے نقطہ تک ابھی نہیں پہنچا ہے، جس نقطہ پر حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ ’’المسیح الدجال‘‘ کا اقتدار پہنچ جائے گا۔ اس کی کوشش جیسا کہ سنا جاتا ہے ان ممالک میں ہو رہی ہے کہ مردوں کو زندہ کرنے کا راز بھی دریافت کر لیا جائے۔ ایسی خبریں بھی کبھی کبھی آ جاتی ہیں کہ بعض حیوانوں بلکہ شاید انسانوں تک کے متعلق احیاء موتی یعنی مردوں کو زندہ کرنے کا عمل کامیاب ہو چکا ہے۔ یہ بھی سننے میں آتا ہے کہ بادلوں پر بھی قریب ہے کہ قابو پا لیا جائے مگر انصاف کی بات یہی ہے کہ صحیح کامیابی جیسی کہ چاہیے اس راہ میں مغرب کی جدید تہذیب اور اس کی ارتقائی و صنعتی کوششیں ابھی نہیں ہوئی ہے اور اس کے سوا بھی ایسے مختلف وجوہ و اسباب ہیں جن کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ کہنا چاہیے کہ نبوت کی پیشین گوئیوں میں جس ’’المسیح الدجال ‘‘ کا ذکر جن خصوصیتوں کے ساتھ کیا گیا ہے اس کے خروج و ظہور کا دعویٰ بھی قبل از وقت ہے، ہاں اتنی بات صحیح ہے کہ مغرب کا جدید تمدن بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ’’المسیح الدجال‘‘ کے خروج کی زمین تیار کر رہا ہے کیونکہ اپنے اقتداری قوتوں سے وہی کام یورپ کی اس نشاۃ جدیدہ میں بھی لیا جا رہا ہے جس میں ’’المسیح الدجال‘‘ اپنی اقتداری قوتوں کو استعمال کرے گا۔ خدا بیزاری یا خدا کے انکار کی ہر دل عزیزی کی راہ یورپ صاف کر رہا ہے یا کر چکا ہے لیکن بجائے خدا کے خود اپنی خدائی کے اعلان کی جرأت اس میں ابھی پیدا نہیں ہوئی ہے۔ ’’المسیح الدجال‘‘ اسی قصے کی تکمیل کر دے گا۔ کچھ بھی ہو صحیح اور صاف جچی تلی بات جس میں خواہ مخواہ نبوت کے الفاظ میں کھینچ تان اور رکیک تاویلوں کی ضرورت نہیں ہوتی یہی ہے کہ ’’المسیح الدجال‘‘ کے خروج کا دعویٰ تو قبل از وقت ہے، مگر ’’المسیح الدجال‘‘ جس فتنہ میں دنیا کو مبتلا کرے گا اس فتنے کے ظہور کی ابتدا کسی نہ کسی رنگ میں مان لینا چاہیے کہ ہو چکی ہے، دوسرے لفظوں میں چاہیں تو کہہ سکتے ہیں کہ دجال آیا ہو یہ نہ آیا ہو لیکن ’’دجالیّت‘‘ کی آگ یقیناً بھڑک چکی۔ آخر حدیثوں میں یہ بھی تو آیا ہے کہ ’’المسیح الدجال‘‘ سے پہلے ’’دجاجلہ‘‘ کا ظہور ہوگا، بعض روایتوں میں ان کی تعداد ۳۰ اور بعض میں ستر چھہتر تک بتائی گئی ہے۔ ’’دجال‘‘ سے پہلے ان ’’دجاجلہ‘‘ کی طرف دجالیت کا انتساب بلا وجہ نہیں کیا گیا ہے، بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ ’’المسیح الدجال‘‘ جس فتنے کو پیدا کرے گا کچھ اسی قسم کے فتنوں میں اس سے پہلے ’’دجاجلہ‘‘ دنیا کو مبتلا کریں گے۔

اسی بنیاد پر میرا خیال ہے کہ ’’المسیح الدجال‘‘ کے زہر کا علاج جیسے بتایا گیا ہے کہ سورہ کہف کی آیتوں میں پوشیدہ ہے اسی طرح اگر چاہا جائے تو ہر دجالی فتنہ کا ازالہ بھی اسی سورئہ مبارکہ آیتوں اور جن معارف و مضامین پر یہ آیتیں مشتمل ہیں ان میں تلاش کیا جائے چونکہ موجودہ مغربی تہذیب و تمدن جس کے زیر اثر دنیا کی اکثریت آچکی ہے اور آتی چلی جا رہی ہے، دجالی جراثیم کا جیسا کہ دنیا دیکھ رہی ہے سر چشمہ بنی ہوئی ہے، تقریباً وہی فتنے جن کے ظہور کی خبریں ’’المسیح الدجال‘‘ کے عہد میں دی گئی ہے، یورپ کے اس تہذیب و تمدن سے مل رہی ہے۔

حواشی

۔(1)۔ مستند روایتوں میں بھی ہے کہ جمعہ کے دن سورہ کہف کو جو پڑھے گا وہ اس جمعہ تک نور اور روشنی میں رہتا ہے، مستدرک حاکم اور بیہقی کی روایت ہے۔ بعض روایتوں میں ہے کہ اس جمعہ سے آئندہ جمعہ تک گناہ اس کے بخش دیئے جائیں گے۔یہ بھی ہے کہ سورہ کہف جس گھر میں پڑھی جاتی ہے اس میں شیطان داخل نہیں ہو سکتا۔ مسلمانوں کا عام دستور بھی ہے کہ ان میں متقی اور پرہیز گار لوگ ہر جمعہ کو سورہ کہف ضرورت تلاوت کرتے ہیں۔ مسجدوں میں اسی لیے اس سورہ کے متعدد نسخے رکھنے کا عام رواج ہے۔ ارباب ثروت کو یہ کرنا بھی چاہیے۔

۔(2)۔ آج لوگوں کے سامنے ہوائی جہاز کی شکل میں جو سواری آچکی ہے ان کے لیے نبوت کی بیان کی ہوئی اس تشبیہ کے سمجھنے میں کوئی شاید کوئی دشواری نہ ہوگی، باقی اس سلسلہ میں دجال کے گدھے کا عام چرچا جو عوام میں پھیلا ہوا ہے اس میں شک نہیں کہ عام شہرت اس گدھے کو ضرور حاصل ہو گئی ہے، لیکن صحاح کی کتابوں میں دجال کے متعلق حدیثوں کا جو ذخیرہ پایا جاتا ہے اس کو اس گدھے کے ذکر سے ہم خالی پاتے ہیں، البتہ ابن عساکر وغیرہ کی ایسی کتابیں جن کی روایتوں کا معیارِ صحت بہت کچھ بحث طلب ہے ان میں حمار کے لفظ سے دجال کی سواری کا ذکر ضرور کیا گیا ہے۔ مگر آگے جو تشریحی صفات اس حمار یا گدھے کے بیان کیے گئے ہیں مثلاً یہی کہ اس گدھے کے دو کانوں کے بیچ کا فاصلہ ۸۰ ہاتھ کا ہوگا یعنی ۴۰ باع ہوگا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خطبہ میں تو اس گدھے کے ایک ایک کان کے متعلق بیان کیا گیا ہے کہ تیس تیس ہاتھ کے برابر ہوں گے، اور اس سے بھی عجیب تر اس کی یہ صفت کہ اس گدھے کے ایک قدم کا فاصلہ دوسرے قدم سے اتنا طویل ہوگا کہ عام حالات میں اس فاصلہ کو لوگ ایک دن اور ایک رات یعنی چوبیس گھنٹوں میں طے کر سکتے ہیں۔ الفاظ عربی کے یہ ہیں: ’’ما بین حافر حمارہ الی الحافر الاخر مسیرۃ یوم و لیلۃ ‘‘ (ص ۵۳ ج ۲ خلاصہ کنز) ایسی صورت میں گدھے والی روایت کی صحت اگر صحیح تسلیم بھی کر لی جائے جب بھی ’’حمار ‘‘ کے لفظ سے عموماً جو بات سمجھ میں آتی ہے دجال کے گدھے کی حقیقت چاہیے کہ اس سے مختلف ہو۔ یہ ظاہر تفہیم کا ایک تمثیلی طریقہ معلوم ہوتا ہے ورنہ ہمارے سامنے جو گدھے ہیں ان میں یہ خصوصیتیں کہاں مل سکتی ہیں۔ آج مچھلی کی شکل ہوائی جہازوں کی بنائی جاتی ہے۔ اگر کبھی گدھے کی شکل یا قالب ان ہی کو عطا کر دی جائے تو کیا تعجب ہے۔

۔(3)۔ مثلاً روایتوں میں آتا ہے کہ یاجوج وماجوج کے اچانک مرجانے اور ختم ہوجانے کے بعد جب زمیں ان کی گندگیوں سے صاف ہوجائے گی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اہلِ ایمان کے ساتھ پہاڑ سے اتر کر زمین پر آئیں گے تو بیان کیا گیا ہے کہ زمین کی نشو و نما کی طاقت اتنی زیادہ بڑھ جائے گی کہ ایک ایک انار سے بڑی بڑی ٹولیاں سیر ہوجائیں گی اور انار کا خول دانوں کے نکالنے کے بعد جو رہ جائے گا وہ اتنا بڑا ہوگا کہ یہی ٹولیاں اس کے سائے میں قیام کریں گی۔ ایک طرف اس خبر کو رکھیے اور دوسری طرف غور کیجیے کہ ان تجربات پر جو جاپان میں ایٹم بم کے چلنے کے بعد کیے گئے۔ کہتے ہیں جس علاقے میں چلایا گیا تھا وہاں کی زمین میں جو چیز بعد کو بوئی گئیں تو اپنی مقدار میں حیرت انگیز طور پر دیکھا گیا کہ وہ بڑھی ہوئی ہیں۔ شلجم، مولی وغیرہ کی جو جسامت اس سلسلہ میں بیان کی گئی ہے عام حالات میں اس کا باور کرنا مشکل ہے۔

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.