اسلام کا سیاسی نظام


الواقعۃ شمارہ نمبر ٢

مولانا صفدر زبیر ندوی

اسلامک فقہ اکیڈمی ( انڈیا ) کے زیر اہتمام سیمینار کی رودادبمقام : علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی ( علی گڑھ ) بتاریخ : ٢٨ -٢٩ اپریل ٢٠١٢ء

اسلامک فقہ اکیڈمی (انڈیا) جہاں ایک طرف امت مسلمہ ہندیہ کی دینی رہنمائی کا فریضہ انجام دے رہی ہے، وہیں مختلف تازہ موضوعات پر سمینار کر کے اور اس کے ذریعہ لوگوں تک معلومات منتقل کر کے انھیں غور وفکر کا رخ بھی بتا رہی ہے، اور انھیں ایک باشعور شہری بنانے میں مدد اور تعاون کرتی ہے، چنانچہ پوری دنیا خصوصا عرب دنیا میں آئی بیداری کے پس منظر میں اکیڈمی نے سب سے پہلے ”اسلام کا سیاسی نظام” کے عنوان سے ایک سمینار منعقد کرنے کا فیصلہ کیا
تاکہ اسلامی سیاسی نظام کے تعلق سے لوگوں کے ذہنوں میں ابھرنے والے سوالات کو حل کیا جا سکے اور موجودہ مسلم حکومتوں کے نظامہائے حکومت کے تعلق سے پیدا ہونے والے شبہات کو دور کیا جا سکے، اس مرکزی عنوان کے حسب ذیل ذیلی محاور مقرر کیے گئے تھے:

١ ـ اسلامی سیاسی نظام کے اصول ومبادی
٢ـ خلافت علی منہاج النبوہ ـ خصوصیات وامتیازات
٣ـ اسلام میں شوری کی اہمیت اور دائرہ اختیار
٤ـ اسلام اور ملوکیت
٥ـ اسلامی سیاسی نظام ـ عہد بہ عہد
٦ـ اسلامی مملکت میں رعایا کے حقوق
٧ـ انتخابی نظام ـ اسلامی ہدایات کی روشنی میں
٨ـ اسلامی مملکت میں آزاد عدالتی نظام
٩ـ اسلامی مملکت میں وضع قانون اور اس کے لیے طریقہ کار
١٠ ـ اسلامی مملکت میں حکمرانوں کا احتساب
١١ـ اسلامی مملکت میں حکمرانوں کے حقوق واختیارات
١٢ ـ موجودہ جمہوری نظام اور اسلامی اصولوں پر اس کی تشکیل
١٣ ـ اسلامی سیاسی نظام اور دیگر نظامہائے سیاست کے درمیان توافق وہم آہنگی کی صورتیں
١٤. اسلامی سیاسی تصورات ـ اہل یورپ کی تحریروں میں

اکیڈمی کو اس سمینار کے لیے مختلف موضوعات پر اردو میں تقریباً ٨١ مقالے اور انگریزی میں ١١ مقالے موصول ہوئے۔ چنانچہ اکیڈمی نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اشتراک سے مورخہ٨ ٢۔٢٩/ اپریل ٢٠١٢ء کو مذکورہ موضوع پر دو روزہ قومی سمینار کا انعقاد کیا، جس کی تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں:

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے آرٹس فیکلٹی لاؤنج میں ٢٨/ اپریل بروز شنبہ صبح٠ ١ بجے اس فکری سمینار کا افتتاحی اجلاس شروع ہوا، جس کی صدارت ملک کے مشہور محقق جناب پروفیسر یسین مظہر صدیقی نے فرمائی اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر محمد محب الحق نے انجام دیئے، اور جس میں ملک کے مختلف علماء اور اساتذہ سیاسیات و تاریخ نے خطاب کیا، جس کی ترتیب کچھ اس طرح ہے:

صدارت: پروفیسر یسین مظہر صدیقی (سابق چیئرمین، شعبہ اسلامک اسٹڈیز، علی گڈھ مسلم یونیورسٹی)

نظامت: ڈاکٹر سید محب الحق (اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ سیاسیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)

تلاوت قرآن: عبدالخالق کامل
استقبالیہ کلمات:پروفیسر عبد الرحیم بیجاپور(چیئرمین، شعبہ سیاسیات، علی گڈھ مسلم یونیورسٹی)

افتتاح:پروفیسر محسن عثمانی ندوی (صدر شعبہ عربی، ایفلو، حیدرآباد)

کلیدی خطبہ: مولانا خالد سیف اللہ رحمانی(جنرل سکریٹری، اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا)

اظہار خیال:

١۔ پروفیسر سعود عالم قاسمی(ڈائرکٹر سر سید اکیڈمی، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ)
٢۔ پروفیسر رفاقت علی خان(سابق صدر شعبہ تاریخ، جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی)
٣۔ڈاکٹر عرشی خان (اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ سیاسیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)

صدارتی خطاب:پروفیسر یسین مظہر صدیقی (سابق چیئرمین، شعبہ اسلامک اسٹڈیز علی گڈھ مسلم یونیورسٹی)

کلمات تشکر: پروفیسر عبد الرحیم بیجاپور(چیئرمین، شعبہ سیاسیات، علی گڈھ مسلم یونیورسٹی)

تلاوت قرآن کے بعداستقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے شعبہ سیاسیات کے صدرپروفیسرعبدالرحیم بیجاپورنے کہاکہ ”جس جگہ اس موضوع پر سب سے زیادہ گفتگو ہونی چاہیے تھی وہاں بھی عموماًاس سے اعراض کیاجاتارہاہے۔آج ہمیں خوشی ہے کہ ہم اس موضوع پر گفتگوکررہے ہیں۔”

پروفیسرمحسن عثمانی ندوی(سابق صدر شعبہ عربی، ایفلو، حیدر آباد) نے اپنی گفتگومیں امامت کبری ،سیاست اورخلافت کی اہمیت سے متعلق کہاکہ اس نظام کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ نبی اکرم ۖ کی تدفین کے معاملہ کو بھی مئوخر کیاگیا۔انہوںنے افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ پچاس سال میں اسلام کے سیاسی نظام پر کوئی وقیع کتاب اردومیں نہیں لکھی گئی ۔یہی حال عربی کا بھی ہے البتہ حال ہی میں عربی زبان میں فقہ الدولة اورفقہ الجہاد(یوسف القرضاوی ) کی آئی ہیں جن کا اردومیں ترجمہ کیاجانابہت ضروری ہے۔”

کلیدی خطبہ میں مولاناخالدسیف اللہ رحمانی جنرل سیکریٹری اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیانے اسلامی سیاست کے اہم پہلوئوں کو آسان اوررواں زبان میں پیش کیا۔اس خطبہ کو پمفلٹ کی شکل میں سامعین میں تقسیم کردیاگیاتھا۔اس خطبہ میں سیرحاصل بحث کے ذریعہ اسلام کے سیاسی نظام کے خدوخال واضح کیے گئے ۔
افتتاحی نشست سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی خلافت کے زوال کے پس منظرمیںسرسیداکیڈمی کے ڈائرکٹر پروفیسر سعود عالم قاسمی نے کہاکہ اسلامی نظام سیاست کو خراب کرنے میں ملائیت ،سرمایہ داری اورملوکیت ،تینوں اداروں نے بڑھ چڑھ کرحصہ لیاہے۔

ڈاکٹرعرشی خان (مشرق وسطی کے ماہر) نے اپنے خطاب میں ملیشیامیں مقیم معروف اسلامی مفکرسیدنجیب العطاس (جنہوںنےIslam and Secularism کے نام سے کتاب لکھی ہے) کے حوالہ سے کہاکہ مسلمانوںکو سب سے پہلے یہ طے کرناچاہیے کہ انسان کا آخری مقصد کیاہے اورPure knowledgeکیاہے ۔موجودہ زمانہ جاہلیت اورکنفیوژن کا دورہے جس سے ہم اس وقت تک نہیں نکل سکتے جب تک اپنے paradigme میں نظام زندگی اورنظام سیاست پر گفتگونہیں کرتے ۔

پروفیسررفاقت علی خاں سابق صدرشعبہ سیاست جامعہ ملیہ اسلامیہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہارکیااورتقسیم ہندکے بعدہندوستانی مسلمانوںکے مستقبل کے سوال پر مولانامودودی اورمحمدعلی جناح کے خیالات پر تنقیدکی۔

صدارتی کلمات پروفیسریٰسین مظہرصدیقی نے پیش کیے اورکہاکہ ہمارانقطہ نظرعموماً traditional  ہوتاہے ۔ دانشوراورعلماء سب اسی کو اختیارکرتے ہیں ۔انہوںنے کہا کہ خلیفہ کا انتخاب امت کے اجتماعی شعورکی ذمہ داری ہے ۔ انہوںنے یہ بھی کہاکہ امت کے پہلے تین خلفاء کو مدینہ کا تحفظ (protection)حاصل تھا جوکہ چوتھے خلیفہ ٔراشد حضرت علی کو حاصل نہیں ہوسکا۔انہوںنے یہ بھی کہا بدلے ہوئے حالات میں پورے عالم اسلام کا ایک خلیفہ ممکن نہیں رہا،اس بات کو ہم سب نظراندازکرتے ہیں ۔اس کے علاوہ انتظامی چیزوں کو بھی ہم political systemسے جوڑ دیتے ہیں مثال کے طورپر جزیہ کا مسئلہ ہے جو ایک administrative  چیز تھی ۔

پروفیسرصدیقی نے یہ اہم بات بھی کہی کہ علماء کا کہنا ہے کہ غیرمسلموںکو اسلامی نظام میں برابرکے حقوق نہیں دیے جائیں گے بلکہ ان کو دوسرے درجہ کا شہری قراردیاجائے گا ، دوسرے لوگ بھی مسلمانوں کو عملًایہی درجہ دیے ہوئے ہیں ، علماء اس تصورپر اٹکے بیٹھے ہیں حالانکہ یہ تصوربالکل غلط ہے۔
اس افتتاحی نشست کے بعد مقالات و مباحثات کی نشستیں شروع ہوئیں، اور اس کی پہلی نشست سوا بارہ بجے شروع ہوئی، جس کا عنوان ”اسلام کا سیاسی نظام: اصول وضوابط” رکھا گیا تھا اور جس کی صدارت اسلامک فقہ اکیڈمی کے جنرل سکریٹری جناب مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب نے فرمائی اور نظامت کی ذمہ داری ڈاکٹر سمیع اختر فلاحی (اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ عربی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) نے سنبھالی،اور درج ذیل مقالہ نگاروں نے اپنے مقالات پیش کیے جن پر مناقشے اور مباحثے بھی ہوئے:

١۔پروفیسر سعود عالم قاسمی (علی گڑھ)
اسلام میں حکمراں کے انتخاب کا طریقہ

٢۔ڈاکٹر سید عبد الباری شبنم سبحانی (دہلی)
کیا جمہوریت اور اسلام کے سیاسی نظام میں مطابقت ممکن ہے؟

٣۔ڈاکٹر محمد محب الحق(علی گڑھ)
Beyond the Paradigm of State and Government: Perspectives on  Islamic Commonwealth

٤۔ڈاکٹر عبید اللہ فہد فلاحی (علی گڑھ)
Islamic Shura and its Jurisdiction: A Political Study

اس کے بعد اس سمینار کی دوسری نشست سوا تین بجے شروع ہوئی، جس کا عنوان ” خلافت اسلامیہ اور منہاج نبوت” رکھا گیا تھا، اور جس کی صدارت مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے شعبہ جغرافیہ کے سابق چیئرمین پروفیسر صلاح الدین قریشی نے اور نظامت مولانا عمر عابدین مدنی (المعہد العالی الاسلامی ، حیدر آباد) نے فرمائی۔اس نشست کے مقالہ نگاروں کے اسمائے گرامی اور ان کے موضوعات مندرجہ ذیل ہیں:

١۔مولانا محمد شاہجہان ندوی (کیرالا)
خلافت علی منہاج النبوة ـ خصوصیات وامتیازات

٢۔ڈاکٹر عبد المجید خان(علی گڑھ)
Spirituo, Political Institution of ”خلافة علی منہاج النبوة” : Nature, Legitimacy and Relevance

٣۔ڈاکٹر غطریف شہباز ندوی(دہلی)
اسلامی سیاسی فکر ـ جدید اسلامی فکر کے تناظر میں

٤۔پروفیسر صلاح الدین قریشی(علی گڑھ)
Social Inequality and Political Instability in the Muslim Countries and Islamic Measures to Reduce it

مقالات کے اختتام پر شرکاء نے سوالات بھی کیے اور ان پر بحثیں بھی ہوئیں۔ پھر بعد نماز مغرب سوا سات بجے سے تیسری نشست شروع ہوئی،جس کا عنوان تھا: ” اسلامی مملکت میں عدالتی نظام اور رعایا کے حقوق”، اس نشست کی خاص بات یہ تھی کہ اس پوری نشست کو ریسرچ اسکالر کے لیے خاص کیا گیا تھا، اس نشست کی صدارت دو ممتاز افراد یعنی ڈاکٹر شیخ شوکت حسین (شعبہ قانون،کشمیر یونیورسٹی)/ پروفیسر عبد الرحیم بیجاپور (شعبہ سیاسیات، اے ایم یو) نے فرمائی ، اور نظامت کے فرائض عنبرین جمالی (سوشل سائنسز، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) نے انجام دیئے،اس نشست میں درج ذیل ریسرچ اسکالرز نے اپنے اپنے مقالات پیش کیے:

١۔محمد معاذالحق
Independance of Judiciary under Islam

٢۔ظفر دارک
میثاق مدینہ کی سیاسی اہمیتـ عہد حاضر میں

٣۔عبد الخالق کامل ندوی
اسلامی تناظر میں انسانی حقوق اور خاص کر اقلیتی حقوق کا تحفظ

٤۔محمد ناصر
اسلام اور انسانی حقوق

٥۔محمد نظیر حسین 
Social Security in Islam

٦۔عبرت جہاں
اسلامی عدل کی حکمرانی۔ اندلس کی اموی تاریخ قضا کا ایک جائزہ

٧۔گورو وارشنے
Insurance system of Islam

٨۔شہلا جمیل انصاری
اسلام میں عورت کے معاشی حقوق

اس کے بعد دوسرے دن٩ ٢/ اپریل کو صبح ساڑھے نو بجے چوتھی نشست کا آغاز اسلامک فقہ اکیڈمی کے سکریٹری برائے علمی امور مولانا عتیق احمد بستوی صاحب کی صدارت اورڈاکٹر ضیاء الدین ملک فلاحی(شعبہ اسلامک اسٹڈیز، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) کی نظامت میں ہوا، اس نشست کا عنوان ” اسلام ، جمہوریت اور جدید سیاسی رجحانات” رکھا گیا، اور اس کے تحت سات مقالے پیش کیے گئے جو درج ذیل ہیں:

١۔ڈاکٹر مسعود عالم فلاحی(لکھنؤ)
غیر اسلامی ریاست میں حصہ داری ـ علامہ یوسف القرضاوی کی آراء کی روشنی میں

٢۔مولانا عمر عابدین مدنی(حیدر آباد)
انتخابی نظام ـ اسلامی ہدایات کی روشنی میں

٣۔پروفیسر عارف الاسلام(علی گڑھ)
مغربی جمہوریت اور اسلام

٤۔ڈاکٹر توقیراحمد(علی گڑھ)
Economic Exploitation in the Modern World: Looking for Alternative Model

٥۔ڈاکٹر سمیع اختر فلاحی(علی گڑھ)
اسلامی مملکت میں جمہوریت اور شہریت: علامہ غنوشی کے افکار کا مطالعہ

٦۔ڈاکٹر عنبرین جمالی(علی گڑھ)
Contemporary Feminist Discourse and Islamic Perspectives

٧۔پروفیسر اقبال علی خان (علی گڑھ)
Human Rights and Islam

اور پھر اس کے فورا بعد ہی ١١ بجے سے پانچویں نشست پروفیسر رفاقت علی خان (سابق صدر شعبہ تاریخ، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی) کے زیر صدارت اور ڈاکٹر مسعود عالم فلاحی (اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ عربی، مانو، لکھنؤ برانچ) کے زیر نظامت شروع ہوئی، جس کا عنوان تھا: ” اسلامی مملکت میں حکمرانوں کے اختیارات و فرائض”۔ اس نشست میں مندرجہ ذیل مقالہ نگاروں نے اپنے مقالے پیش کیے:

١۔پروفیسر محسن عثمانی ندوی(حیدر آباد)
حکمرانوں کا احتساب۔ ایک فریضہ

٢۔ ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی(دہلی)
اسلامی مملکت میں حکمرانوں کا احتساب

٣۔ ڈاکٹر ضیاء الدین ملک فلاحی(علی گڑھ)
شراکت اقتدار اور اسلام: بعض علماء اور دانشوران کے افکار کا مطالعہ

٤۔ ڈاکٹر شیخ شوکت حسین(کشمیر)
Minority Protection with Islamic Political Thought

٥۔ ڈاکٹر محمد حبیب الحق انصاری(علی گڑھ)
اسلام اور جمہوریت کی ہم آہنگی۔ تیونس کے انقلاب میں 
کار فرما خیالات کا جائزہ

٦۔ مولانا محمد راشد قاسمی خیر آبادی (بنارس)
اسلامی مملکت میں آزاد عدالتیں

ان پانچ نشستوں میں مقالات پیش کیے جانے اور ان پر بحث و مباحثہ کے بعد تقریبا ًپونے ایک بجے سے اختتامی نشست کا آغاز کیا گیا،جس کی صدارت انگلش اینڈ فارن لینگویجزیونیورسٹی حیدر آباد کے شعبہ عربی کے سابق صدر جناب پروفیسر محسن عثمانی ندوی نے فرمائی اور نظامت کے فرائض صفدر زبیر ندوی (رفیق شعبہ علمی،اسلامک فقہ اکیڈمی) نے انجام دیئے،اور شرکاء سمینار میں سے بعض اہم افراد نے اس سمینار کے تعلق سے اپنے بہتر تاثرات کا اظہار کیا، اختتامی نشست کی ترتیب کچھ اس طرح رکھی گئی تھی:

صدارت: پروفیسر محسن عثمانی ندوی(سابق صدر شعبہ عربی،انگلش اینڈ فارن لنگویجز یونیورسٹی، حیدرآباد)

نظامت: صفدر زبیر ندوی (شعبہ علمی اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا)

اختتامی خطاب:پرفیسر یسین مظہر صدیقی (سابق چیئرمین، شعبہ اسلامک اسٹڈیز، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)

تاثرات:

١۔ مولانا عتیق احمد بستوی (سکریٹری اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا)

٢۔ پروفیسر عبد الباری (سابق چیئرمین، شعبہ عربی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)

٣۔ پروفیسر سعود عالم قاسمی (ڈائرکٹر سر سید اکیڈمی، علی گڑھ مسلم 
یونیورسٹی )

٤۔ پرفیسر اقبال علی خان (سابق چیئرمین، شعبہ قانون، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)

٥۔ ڈاکٹر مفتی محمد زاہد علی خان (ناظم شعبہ سنی دینیات، علیگڑھ مسلم یونیورسٹی)

٦۔ڈاکٹر محمد محب الحق (اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ سیاسیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)

تجاویز:صفدر زبیر ندوی (شعبہ علمی اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا)

صدارتی کلمات:پروفیسر محسن عثمانی ندوی

کلمات تشکر: پروفیسر عبد الرحیم بیجا پور

ناظم شعبہ سنی دینیات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ڈاکٹرمفتی زاہدعلی خاں نے کہاکہ انڈیاکے دستورمیں پہلے سیکولرازم کا لفظ نہیں تھا بعدمیں بڑھایاگیا،لہٰذادستورکے ارتقاء پر بھی ہماری نظر ہونی چاہیے ۔پروفیسر عبد الباری (سابق صدر شعبہ عربی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) نے کہاکہ دین سے شعوری وابستگی بہت اہم ہے اور ہمارے ہاں اس کی کمی ہے، اور دوسری بڑی کمی سیاسی بصیرت کی ہے۔

پروفیسراقبال علی خاں (سابق چیئرمین شعبہ قانون علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) نے کہاکہ غیراسلامی ریاست میں ہمارا کیارول ہوناچاہیے یہ پہلوبہت زیادہ اہم ہے۔انہوں نے یہ رائے بھی دی ہے کہ مسلم پرسنل لا بورڈ کا دائرہ وسیع کرنا چاہیے۔ڈاکٹرمحب الحق(اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ سیاسیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) نے کہاکہ علماء کو وقت کی صورت حال کو سمجھناچاہیے، کیونکہ out  of context فتووںسے مسلمانوں کی بے عزتی ہوتی ہے۔اس سیمنارمیں یہ کمی محسوس ہوئی کہ موجودہ صورت حال کے بارے میں کوئی گفتگو سامنے نہیں آئی ۔

پروفیسرسعودعالم قاسمی (ڈائریکٹر سر سید اکیڈمی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) نے مسلم دنیاکے حالات کے ضمن میں کہاکہ سعودی عرب میں ٢٥یونیورسٹیاں ہیں اورکسی یونیورسٹی میں بھی سیاسیات کا شعبہ نہیں ہے ۔وہ چاہتے ہی نہیں کہ سیاست پرکوئی بات ہو یاکوئی مثبت تنقید ہو۔ مزید کہا کہ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے اساتذہ وطلبہ کو ہمت کرنی چاہیے اورنئے سیاسی نظریات اوراسلام کا تقابلی مطالعہ کرنا چاہیے ۔

اسلامک فقہ اکیڈمی کے سکریٹری مولانامفتی عتیق احمدبستوی نے فرمایاکہ موضوع بڑااہم ہے اورا س پر ایک سمینارسے کام نہیںچلے گا،ایسے مذاکرے باربارہونے چاہئیں اورتیاری کے ساتھ ہونے چاہئیں ۔انہوںنے یہ بھی کہاکہ زندہ قومیں کسی ایک ادارہ وتنظیم پر تکیہ نہیں کرتیں مختلف ادارے ڈیولپ کرتی ہیں۔ اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے شیخ عز الدین عبدالسلام کے حوالہ سے کہاکہ انہوںنے لکھاہے کہ : ”اگردوشخصوں کے پاس حکومت جانے کا خطرہ ہو، اور دونوں نقصان دہ ہوں ،مثلاایک قاتل ہے دوسراغاصب ، اب اگرہم دونوں کو چھوڑکر کنارہ کھڑے ہوجائیں اوراخف الضررین کو اختیارنہ کریں تو ہم بھی مجرم ہوں گے ۔” مولانا نے یہ بھی کہاکہ موجودحالات میں یہی موقف زیادہ درست ہے کہ سیاست میں حصہ لیاجائے۔

پروفیسریٰسین مظہرصدیقی نے کہاکہ ”ہم ماضی کے اسیرہیں ،کسی میدان میں نئی بات سوچنے اورکہنے کی ہمت نہیں رکھتے ،اس چیز کا ازالہ ہوناچاہیے ،انہوںنے کہاکہ اسلام کے سیاسی نظام پر علماء اورعصری علوم کے ماہرین کے اشتراک سے ہی اس کام کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔ 

اس نشست کے آخرمیںاپنی مختصراورجامع صدارتی گفتگومیں موضوع کی مناسبت سے پروفیسرمحسن عثمانی ندوی (سابق صدر شعبہ عربی، ایفلو، حیدر آباد) نے کہاکہ دین وسیاست کی صحیح تعبیرکرنابہت اہم بھی ہے بہت نازک بھی۔ انہوںنے کئی دینی تنظیموں کے ا فکار و نظریات کی مثال دیتے ہوئے اپنی بات واضح کی اوران پر صحت مندانہ تنقیدبھی کی اوراس حوالہ سے لوگوںکو مزیدمطالعہ کی رہنمائی بھی کی۔

 پروفیسرعبدالرحیم بیجاپور (چیئرمین شعبہ سیاسیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) نے اسلامک فقہ اکیڈمی ،ملک کے مختلف مقامات سے آئے ہوئے علماء اوراسکالرز اورشعبہ سیاسیات کے اساتذہ اورطلبہ وطالبات اوردیگرمعاونین کا شکریہ ادا کیا۔ 

اس سمینار کے لیے تقریباً ٤٠ مقالات موصول ہوئے ، نشستوں میں موجود مقالہ نگاروں کے مقالے پیش ہوئے اور ان کی کاپیاں شرکاء کے درمیان بھی تقسیم کی گئیں، لیکن ہمارے بعض مقالہ نگار ایسے بھی تھے جنھوں نے اپنے مقالے اکیڈمی کو بھیجے، لیکن کسی وجہ سے وہ سمینار میں شریک نہ ہوسکے، تو ان کے مقالے نشستوں کے دوران پڑھے نہیں جا سکے ، البتہ ان مقالوں کی کاپیاں شرکاء سمینار کے درمیان تقسیم کی گئیں، تاکہ شرکاء ان کی تحریروں سے بھی استفادہ کر سکیں، ان حضرات کے اسمائے گرامی مندرجہ ذیل ہیں:

١۔مولانا راشد حسین ندوی(رائے بریلی)
اسلامی مملکت میں رعایا کے حقوق

٢۔مولانا اختر امام عادل قاسمی (سمستی پور)
آزاد عوامی حکومت۔ اسلامی تصور

٣۔ڈاکٹر سید احمد ومیض ندوی(حیدر آباد)
اسلامی مملکت میں حکمرانوں کا احتساب

٤۔ڈاکٹر شکیل احمد صمدانی (علی گڑھ)
Administration of Justice by Hazrat Umar(RA)

٥۔پروفیسر عبد الخالق( علی گڑھ)
اسلام کا سیاسی نظام

٦۔مولانا ضیاء الدین ندوی قاسمی (فیض آباد)
اسلامی مملکت میں آزاد عدالتیں

٧۔ثنا تہذیب(علی گڑھ)
Democratic Key Features of Islamic Governance: Consitution, Consent, Shura

٨۔محمد تنزیل الصدیقی الحسینی (کراچی )
انتخابی نظام۔ اسلامی ہدایات کی روشنی میں

٩۔محمد طارق محمود نیازی (ملتان)
اسلامی مملکت میں رعایا کے حقوق

  سات نشستوں پر مشتمل یہ دو روزہ قومی سمینار بحسن و خوبی اپنے اختتام کو پہنچا، اس سمینار میں دہلی، حیدر آباد، کشمیر، کیرالا، لکھنؤ اور بنارس سے اہل علم و دانش کی شرکت کے ساتھ ساتھ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے مختلف شعبوں کے اساتذہ، طلباء اور خصوصاً ریسرچ اسکالرز کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اخیر میں تجاویز پیش کی گئیں جنھیں شرکاء سمینار نے بالاتفاق منظور کیا، وہ تجاویز درج ذیل ہیں:

تجاویز
٢٨۔٩ ٢اپریل ٢٠١٢ء کو آرٹس فیکلٹی لاؤنج علی گڈھ مسلم یونیورسٹی علی گڈھ میں ”اسلام کے سیاسی نظام” پر دو روزہ سمینار شعبہ سیاسیات مسلم یونیورسٹی علی گڈھ اور اسلامک فقہ اکیڈمی (انڈیا) کے تعاون واشتراک سے ہوا، موضوع کے مختلف پہلوؤں پر مقالات پڑھے گئے اور مذاکرات ہوئے۔ شرکاء سمینار نے درج ذیل تجاویز منظور کیں:

١ـاسلام ایک جامع او رمکمل نظام حیات ہے، اس نے حیات انسانی کے تمام پہلوؤں اور زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں جامع ہدایات دی ہیں، چنانچہ اس نے حکومت وسیاست مدن کے بارے میں بھی بڑی عادلانہ اور حکیمانہ تعلیمات دی ہیں، جن پر عمل کرنے سے دنیا میں امن وامان قائم ہوگا اور عدل وانصاف کا فروغ ہوگا او رملک کے تمام باشندوں کو ان کے حقوق حاصل ہوںگے۔

٢ـ شرکاء سمینار کا مشترکہ احساس ہے کہ موجودہ عالمی حالات میں اسلام کے سیاسی نظام اور اس سے وابستہ موضوعات پر زیادہ گہرائی او رجامعیت کے ساتھ تحقیق وبحث کی ضرورت ہے، اس موضوع پر کتاب وسنت کی تصریحات واشارات، فقہاء اسلام کے اجتہادات اور موجودہ عالمی حالات کے تقاضوں کی بنیاد پر اسلام کے سیاسی نظام کو زیادہ منقح اور روشن کرنے کی ضرورت ہے۔

٣ـ یہ سمینار اسلامک فقہ اکیڈمی کے ذمہ داروں سے اپیل کرتا ہے کہ ”اسلام کے سیاسی نظام” سے متعلق اہم سوالات کو مرتب کرکے ان پر سنجیدہ علمی تحقیق کرائے اور علماء اور ماہرین سیاسیات کی ایسی کمیٹی تشکیل دے جو موجودہ دور میں اسلام کے سیاسی نظام کا قابل عمل خاکہ تیار کرے اور اسے اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے کسی سمینار میں زیر بحث لائے۔

٤ـ یہ سمینار اس بات پر مسرت کا اظہار کرتا ہے کہ عالم اسلام کے مختلف ممالک میں استبداد کی زنجیریں ٹوٹ رہی ہیں، اور عامة المسلمین کو حکومت قائم کرنے کے مواقع حاصل ہورہے ہیں، اور یہ امید کرتا ہے کہ عالم اسلام میں حالیہ تبدیلیاں تمام انسانوں خصوصاً مسلمانوں کے لیے بہتر اور نفع بخش ثابت ہوںگی۔

٥ـ یہ سمینار ملک کی یونیورسٹیوں خصوصاً مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے شعبہ علوم سیاسیات اور شعبہ اسلامک اسٹڈیز سے یہ اپیل کرتا ہے کہ اسلام کے سیاسی نظام کو تحقیق اور تدریس کا موضوع بنائیں اور موضوع کے مختلف پہلوؤں پر ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالوں کی ہمت افزائی کریں۔
یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے شمارہ، رجب المرجب 1433ھ/ مئی، جون 2012- سے ماخوذ ہے۔
Advertisements

Please Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s