کیا امّت مسلمہ کی بے حسی برقرار رہے گی؟؟؟


جریدہ "”الواقۃ” کراچی، شمارہ  7  ذوالحجہ 1433ھ/ اکتوبر ، نومبر 2012

 محمد اسماعیل شیرازی

کیا امّت مسلمہ کی بے حسی برقرار رہے گی؟؟؟

یہ کچھ زیادہ دنوں کا قصہ نہیں برما ( میانمار)میں مسلمانوں پر زمین تنگ کردی گئی ۔عراق پر امریکی اور اس کے اتحادی افواج کا سلسلۂ ظلم و ستم جاری ہے ۔ افغانستان پر استعمار قابض ہے ۔ افریقہ کے مسلم ممالک عالمی طاقتوں کے ہاتھوں بے بس ہیں ۔ لیبیا کی حکومت کا تختہ الٹا جا چکا ہے ۔ نائجیریا ، مالی ، تیونس ، سوڈان ، مصر ، مراکش وغیرہا سازشوں کے نرغے میں ہیں ۔ یمن میں بد امنی ہے اور خود ہمارا اپنا ملک پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دہشت گردی کا شکار ہو رہا ہے ۔ بے شمار ڈرون حملے ، آئے دن کے بم دھماکے اور مسلسل جاری ٹارگٹ کلنگ ہمارا نصابِ زندگی بن گئے ہیں ۔ ان تمام تر سانحات سے بھی بڑا سانحہ یہ ہے کہ مسلم امہ پھر بھی بیدار ہونے کے لیے تیار نہیں ۔


ہر سال اللہ کے لاکھوں بندے فریضۂ حج کی ادائیگی کرتے ہیں ۔ کروڑوں افراد سنّت ابراہیمی انجام دیتے ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود نہ ہمارے اندر ایثار وقربانی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور نہ ہی ہمارے اندر عملِ صالح کی کوئی تحریک پیدا ہوتی ہے ۔ 
ہمارے لیے کس قدر آسان ہوتا ہے کہ ہم اپنی ہر غفلت کا الزام عالمی طاقتوں پر ڈال دیتے ہیں ۔ اپنی ہر برائی کا سبب امریکا کو قرار دیتے ہیں اور اپنے یہاں ہونے والی ہر آفت کے پیچھے یہودی سازش کا انکشاف کردیتے ہیں ۔ لیکن ہم خود اپنے عیوب و نقائص نہیں دیکھتے ۔ اسلام دشمن عناصر اگر اپنی دشمنی نبھارہے ہیں تو ان سے شکوہ کیسا ؟وہ اگر اپنے رہنما ابلیس کے احکام پر عمل کر رہے ہیں تو ان سے کس طرح گلہ کیا جا سکتا ہے ؟ جواب دہی تو ہم سے ہے کہ کیا ہم اپنے ربّ واحد کے احکامات پر عمل کر رہے ہیں ؟ اپنے پیغمبر کی اطاعت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں ؟ ہم اللہ کو تو ایک مانتے ہیں مگر اس کی ایک نہیں مانتے ۔
اللہ تعالیٰ کو ایک ماننے کا تقاضا کیا ہے ؟ ہمیں چاہیئے کہ ہم اس حقیقی معبود کی عبودیت کو تسلیم کریں ۔ اس کے احکامات کو رسم و رواج سمجھنے کی بجائے اسے اپنی زندگی میں شامل کریں اور اسی کے مطابق اپنی زندگیوں کو بسر کریں ۔ ہم دوسروں سے تبدیلی کا تقاضا کرنے کی بجائے خود اپنے اندر سے تبدیلی کا آغاز کریں ۔
ہم غیروں سے شکوہ کرتے ہیں کہ وہ اسلام اور پیغمبر اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں ۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ ہم ان سے بڑے گستاخِ رسول ہیں جو ہر روز اپنے نبی کے احکامات سے استہزاء کرتے ہیں ۔
قرآن عمل کی کتاب تھی اسے ہم نے مردے بخشوانے کی کتاب بنادیا ۔ اس کی آیات کو تعویذ بنا کر بازئوں میں باندھنے اور بندھوانے کا کاروبار شروع کردیا ۔ ہمارے ملک کے اخبارات اپنے اوّلین صفحات پر آیات قرآنی درج کرتے ہیں اور یہی اخبارات سڑکوں پر گرے ملتے ہیں اور کسی کو توفیق نہیں ہوتی کہ قرآنی آیات کا حترام کرتے ہوئے انہیں اٹھالے الّا ماشاء اللہ۔
ہم نے جو اس توہین کے اسباب پیدا کر رکھے ہیں کیا ہمیں اس کی سزا نہیں ملے گی ۔ سود جس کی لعنت قرآنِ حکیم اور احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے ۔ کیا پوری امت مسلمہ بحیثیت مجموعی اس لعنت کا شکار نہیں اور اگر ہے ، یقینا ہے تو کیا ہم اس کی سزا سے بچ سکتے ہیں ؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سودی کاروبار کرنے والوں کو جنگ کے لیے خبردار کیا ہے اور کیا ہم اللہ ربّ العزت سے جنگ کرکے جیت سکتے ہیں ؟ الامان الحفیظ ۔
ہم امریکا اور اسرائیل کے کایا پلٹ دینا چاہتے ہیں مگر خود ہمارے نفس نے ہماری کایا پلٹ رکھی ہے مگر ہم اس پر توجہ نہیں دیتے ۔
یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل و کرم کی انتہا ہے کہ اس نے ہمارے لیے آج بھی اسباب کامیابی مہیا کر رکھے ہیں ۔ امت مسلمہ بحیثیت مجموعی عذاب الٰہی میں گرفتار نہیں ۔ جس قدر وسائل اللہ نے امت مسلمہ کو دیئے ہیں اس قدر وسائل اور کسی کے پاس نہیں ۔ بس ہمارے پاس ایک ہی چیز نہیں ہے اور وہ ہے جرأت ایمانی ۔ ہمارا ایمان ہمارے پست اعمال کے سامنے شکست خوردہ ہوگیا ہے ۔ بقول محمد تنزیل الصدیقی الحسینی :
"جہاں تک ہمارے جذبۂ ایمان کا تعلق ہے تو ہمارے اعمال کی سطحیت نے اسے سخت مجروح کرکے رکھ دیا ہے ۔ ہم دینی تقاضے بھی غیر دینی طریقوں سے نبھاتے ہیں ۔ہم جانتے ہیں کہ "کوکاکولا” کا "لوگو” اسلام دشمنی پر مبنی ہے اور "پیپسی” کی کمائی اسلام دشمنی پر صرف ہوتی ہے لیکن کیا ہمارے بازاروں میں یہ بکنا بند ہوگئے ؟ کیا ہم نے اسے پینا ترک کردیا ؟ جب ہم لذت کام و دہن کی انتہائی ادنیٰ سی قربانی نہیں دے سکتے تو کیا توقع کی جاسکتی ہے کہ ہم اپنا سر دے کر بازی جیتنا کا حوصلہ رکھتے ہیں ۔ ” (مجلہ "الواقعة ” کراچی شمارہ نمبر ٥،٦)
ہمیں بخوبی جان لینا چاہئیے کہ ایمان اور عملِ صالح لازم و ملزوم ہیں ۔ ہمارا عمل ہی ہمارے ایمان کا آئینہ دار ہے ۔ جب تک امت مسلمہ ایک جسدِ واحد کی طرح اپنے دکھ سکھ میں شراکت نہیں کرتی تب تک ہم اغیار کی سازشوں کا ایسے ہی شکار ہوتے رہیں گے اور ہماری فلاح و کامرانی بھی ہم سے دور رہے گی ۔
Advertisements