عصرِ دجالیّت کے تین طاغوت سورة الکہف کی روشنی میں۔ اداریہ


مجلہ "الواقعۃ” شعبان المعظم 1434ھ/ جون، جولائ2013، شمارہ  15

(اداریہ)

عصرِ دجالیّت کے تین طاغوت

سورة الکہف کی روشنی میں

Three devils of contemporary  in the light of Surat ul Kahaf (The Cave)

    محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

سورة الکہف کا تعلق دجال اور دجالیت سے بہت گہرا ہے ۔ نبی کریم  صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم  نے اس سورہ مبارکہ کو اگر عصرِ دجالیت سے ایک نسبت خاص دی ہے تو وہ بلا وجہ نہیں ۔ لازم ہے کہ اس سورت کا مطالعہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم کے انوارِ نبوت کی روشنی میں کیا جائے ۔ دجال ایک فرد بھی ہے اور ایک نظام بھی ۔ سورة الکہف میں اس نظام کے اجزائے ترکیبی کے مظاہر دیکھے جا سکتے ہیں ۔ وہ نظر چاہیئے جو تعلیماتِ الہامی کی گہرائیوں میں اتر سکے ۔ سورة الکہف میں ہمیں تین طرح کے شرک کا ذکر ملتا ہے ۔ کو پڑھنا جاری رکھیں
Advertisements

آزادی کیا ہے ؟ آزادی کیا نہیں ہے ؟


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ  7  ذوالحجہ 1433ھ/ اکتوبر ، نومبر 2012

سید خالد جامعی (کراچی یونیورسٹی، کراچی)

آزادی کیا ہے ؟ آزادی کیا نہیں ہے ؟

قسط نمبر 1
ہر معاشرے میں صرف ایک قدر ہوتی ہے ، جو تما م اقدار سے ماورا ہوتی ہے۔ہر کام کو اس ایک قدر کے پیمانے پر پرکھا جاتا ہے۔یہ تصور الخیر[Good] یا اس تہذیب کا Hyper Good  ہوتا ہے۔ تمام اقدار و روایات اس تصور خیر سے ہم آہنگ ہوں گی۔ عصر حاضر میں یہ الخیر آزادی ہے۔لہٰذا عصر حاضر کے ہر معاشرے کے تصور عدل کو اس الحق الخیر تصور آزادی[Freedom] پر پرکھا جائے گا کہ معاشرہ فرد کی آزادی میں کتنا اضافہ کررہا ہے۔جو معاشرہ آزادی کے دائرہ میں جس قدر اضافہ کرے گا وہی سب سے عادل معاشرہ ہوگا ۔بہ ظاہر یہ تصور لوگوں کو اچھا لگتا ہے اور آزادی کے اس تصور پر عدل کی اس تعریف پر اس کا اصل تاریخی فلسفیانہ تناظر واضح کیے بغیر تنقید کی جائے تو لوگ مشتعل ہو جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انسانوں کو زنجیروں میں جکڑا جا رہا ہے ۔

اللہ کی بادشاہت


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ  7  ذوالحجہ 1433ھ/ اکتوبر ، نومبر 2012

مولانا محمد علی قصوری

اللہ کی بادشاہت

قسط نمبر 1
الحمد للّٰھ نحمدہ و نستعینھ و نستغفرہ و نومن بھ و نتوکل علیھ و نعوذ باللّٰھ من شرور انفسنا و من سیئات اعمالنا من یھد اللّٰھ فلا مضل لھ و من یضللھ فلا ھادی  لھ و نشھد ان لا الھ الا اللّٰھ وحدھ لا شریک لھ و نشھد ان محمدا عبدھ و رسولھ صلوت اللّٰھ و سلامھ علیھ و علیٰ الھ و ازواجھ و اصحابھ و ذریاتھ و اتباعھ اجمعین الیٰ یوم الدین ارسلھ بالھدی و دین الحق لیظھرھ علی الدین کلھ و کفیٰ باللّٰھ شھیدا ، اما بعد قال اللّٰھ تبارک و تعالیٰ :

( وَ لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْ نَقَضَتْ غَزْلَھَا مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْکَاثًا ) ( النحل )

” اس بڑھیا جیسے نہیں بنو جو اپنا محنت سے کاتا  ہوا سوت خود تار تار کردیتی تھی ۔ ”