پاکستان بلاؤں میں گرفتار ملک. تدارک کی تمنا2


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ  7  ذوالحجہ 1433ھ/ اکتوبر ، نومبر 2012

محمد احمد

پاکستان بلاؤں میں گرفتار ملک.  تدارک کی تمنا

قسط نمبر 2۔۔۔ قسط نمبر 1 پڑھئے
اس پر فتن دور میں ہماری ریاست کے ستونوں( مثلا ً  مقننہ ، عدلیہ ، اور منتظمہ ) کا استحکام شدید خطرات سے دوچار ہے۔ ایک اظہر من الشمس عدالت عظمیٰ کے احکامات نہ ماننا اور اس کی توہین اور بے توقیری پر ملک کے مقتدر طبقہ Elitesکا ڈٹ جاناہے۔ مندرجہ بالا قرانی آیات کا بالواسطہ اشارہ عدلیہ کے ضعف ایمان کی جانب ہے۔ پس مضبوطی ایمان کی دلیل ہے۔ ایک اور قرآنی تقاضہ ملاحظہ کیجئے:

"اے محمد ﷺ ! تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو اپنا فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو کچھ فیصلہ تم کرو اس میں اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی محسوس نہ کریں بلکہ سر بسر تسلیم کرلیں۔”                                                ( سورة النساء : ٦٥ )

اس آیت کا حکم صرف حضور ﷺ کی زندگی تک محدود نہیں ہے بلکہ قیامت تک کے لیے ہے۔جو کچھ اللہ کی طرف سے نبی ﷺ لائے ہیں اور جس طریقہ پر اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رہنمائی کے تحت آپ ﷺ نے عمل کیا ہے وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مسلمانوں کے درمیان سند ہے اور سند کو ماننے یا نہ ماننے ہی پر آدمی کے مومن ہونے یا نہ ہونے کافیصلہ ہے۔  ایک حدیث میں اسی بات کو نبی کریم ﷺ نے ان الفاظ میں ارشاد فرمایاہے:

” تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی خواہش نفس اس طریقہ کی تابع نہ ہو جائے جسے میں لے کر آیا ہوں ۔ ”

 معاشرہ میں چلن کچھ ایساچل پڑاہے کہ جو فرعون وقت ہو ، یا جس کو قارون کی طرح اپنی دولت پر گھمنڈ ہو یا ہامان کی طرحEstablishment  پر بھرپور اختیار ہونے کے ساتھ ساتھ مرد و زن کے بڑے بڑے مخلوط اجتماعات کراتے ہوئے Modernity کی بے قابو سونامی پیدا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو تو ” جسد جمہوریت ” میں جان پڑ جاتی ہے۔ اب ان بلائوں کے سد باب کے لیے ” صحیح اور مدبر لیڈر شپ کہاں سے دستیاب ہو ؟” کے جواب میں سب چپ سادھ لیتے ہیں۔ آیئے قران کی روشنی میں اس کا حل تلاش کیا جائے۔

” لوگو !ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں برادریاں بنا دیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ در حقیقت اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیز گار ہے ۔ یقینا اللہ سب کچھ جاننے والا اور با خبر ہے۔ ” ( سورة الحجرات: ١٣)

اس آیت میں پوری نوع انسانی کو خطاب کرکے اصلاح کی گئی ہے جو دنیا میں ہمیشہ عالمی فساد کا موجب رہی ہے۔ یعنی رنگ ، نسل ، زبان ، وطن اور قومیت کاتعصب۔  قدیم ترین زمانے سے آج تک ہر دور میں انسان بالعموم انسانیت کو نظر انداز کرکے اپنے گرد مختلف قسم کے منفی دائرے کھینچتا رہا ہے اور ان ہی محرکات نے نفرت ، عداوت ، تحقیر و  تذلیل اور ظلم و ستم کی بدترین دائرة السوء ( Vicious Circles) برپا کرتے ہوئے سوسائٹی کو اور کرپٹ کر دیا ہے۔ ان دگر گوں حالات میں اپنا رہبر اور رہنما وہی بن سکتا ہے جو دوسروں سے بڑھ کر اللہ سے ڈرنے والا ، برائیوں سے بچنے والا اور نیکی اور پاکیزگی کی راہ پر چلنے والا ہو۔
 
امن و امان کی فضا میں پروردہ ایک ریاست کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ ادنیٰ سے ادنیٰ فرد سے لے کر اعلیٰ سے اعلیٰ ریاستی منصب دار تک ہر شخص کے دل کا بحیثیت ایک ادارہ اور انصاف کرنے والے منصفین کا فردا ً فردا ً ادب و احترام دل میں بس جانا چاہئے تاکہ وہ صرف لبوں تک  (Lip Service) محدود نہ ہوجائے۔ اب اولین درجہ پر جج حضرات پر واجب ہے کہ وہ اپنے نفوس میں سورة حجرات کی تقویٰ سے متعلق ہدایات جانگزیں فرماتے ہوئے انصاف کا ترازو سنبھالیں۔ یاد رہے کہ ایسے مبارک افراد جو ذہین ترین بھی ہوتے ہیں بلا تخصیص مذہب ،بنی نوع انسانی میں ہر دور میں پائے گئے ہیں۔ چراغ کے تیل سے تمثیلاً استنباط کرتے ہوئے رب کائنات کا منشا ء مندرجہ ذیل ارشاد ربانی سے پوری طرح واضح ہوجاتاہے :

”   جس کا تیل آپ ہی آپ بھڑک پڑتا ہو چاہے اس کو آگ لگے نہ لگے ( اس طرح) روشنی پر روشنی (بڑھنے کے تمام اسباب جمع ہو گئے ہوں)۔” (سورة النور:٣٥)

کرپشن ایک لعنت کی طرح معاشرہ پر مسلط ہے اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سے جنگی بنیاد پر ( On War Footing) نمٹا جائے اور اس ضمن میں قران کریم کا یہ حکم ہے کہ

” اور تم لوگ آپس میں نہ تو ایک دوسرے کا مال ناروا طریقہ سے کھاؤ اور نہ حاکموں کے آگے اس کو اس غرض سے پیش کرو کہ تم کو دوسروں کے مال کا کوئی حصہ قصداً ظالمانہ طریقہ سے کھانے کا موقعہ مل جائے۔” (سورة البقرہ: ١٨٨)

اس آیت کا ایک مفہوم تویہ ہے کہ حاکموں کو رشوت دے کر ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کرو ۔ اور دوسرا یہ کہ جب تم خود جانتے ہو کہ مال دوسرے شخص کا ہے ، تو محض اس لیے کہ اس کے پاس ملکیت کا کوئی ثبوت نہیں ہے یا اس بنا پر کہ کسی اینچ  پینچ سے تم اس کو کھا سکتے ہو ، اس کا مقدمہ عدالت میں مت لے جاؤ۔ ہو سکتا ہے کہ حاکم عدالت مقدمہ کی روداد کے مطابق وہ مال تمہیں دلوادے۔حاکم کا یہ فیصلہ غلط بنائی ہوئی روداد سے دھوکہ کھا جانے کی سبب سے ہوگا۔ اس لیے عدالت سے اس کی ملکیت کا حق حاصل کرنے کے باوجود حقیقت میں تم اس کے جائز مالک نہیں ہوگے بلکہ عنداللہ وہ تمہارے لیے حرام ہی رہے گا۔ ( یہاں ہدایت الٰہی کا اطلاق  بعینہ بار کے ارکان پر اتنا ہی ہوگا جتنا کہ بنچ کے جج حضرات مکلف ہونگے۔)مزید وضاحت کے لیے حضور ﷺ فرماتے ہیں:

” میں بہر حال ایک انسان ہی تو ہوں۔ ہوسکتا ہے کہ تم ایک مقدمہ میرے پاس لاؤ اور تم میں سے ایک فریق دوسرے کی نسبت زیادہ چرب زبان ہو اور اس کے دلائل سن کر میں اس کے حق میں فیصلہ کردوں ۔ مگر یہ سمجھ لو کہ اس طرح سے اپنے بھائی کی کوئی چیز میرے فیصلے کے تحت تم نے حا صل کرلی تو تم دراصل دوزخ کا ایک ٹکڑا حاصل کروگے۔”

ایک اور حدیث مبارک کا ایک حصہ ملاحظہ کریں،حضور  ﷺ نے ارشاد فرمایا:

” سات قسم کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ اس دن اپنے (عرش کے) سایہ کے نیچے جگہ دے گاجس دن صرف اس کے عرش کا سایہ ہوگا (پہلا شخص) عدل کرنے والا حکمران۔” (صحیح بخاری)

اللہ رب العزت کے نزدیک ادنیٰ عادل جج یا مجسٹریٹ ، اور عادل سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے جج کے درمیان ان کے دنیاوی مراتب کی کوئی اہمیت و تخصیص نہیں کہ یہ ان کے لیے عرش کے سایہ کے فیصلہ کی بنیاد بن سکے۔ اس لیے ہر انصاف کی ترازو پکڑنے والے مسلمان کو اپنی کم تر حیثیت نظر انداز کرتے ہوئے اپنے پالنے والے کے اس بیان کردہ نعمت عظمیٰ کو اپنی زندگی کا اولین مقصد بنانے اور عملی میدان میں آگے سے آگے بڑھنے کی انتھک اور جاںگسل جدوجہد میں اپنا حصہ (وقت ضائع کیے بغیر)  ڈال دینا چاہئے۔چونکہ بنچ اور بار انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اصولی بنیادوں پرایک دوسرے کی معاونت کے پابند ہیں اس لیے عدالت میں تعاون کرنے والے وکلا اپنی حسن نیت کی برکت اپنے اللہ سے عرش بریں کے سایے تلے عادل و فاضل ججوں کے درمیان جگہ ان شا ء اللہ پالیں گے۔
 
ہم نہیں جانتے کہ ہماری صفوں میں ان مذکورہ بالا صفات کی شخصیات ہیں بھی کہ نہیں۔ اگر وہ ہیں تو اغلبا ً وہ کم تعداد میں ہوں یا نہ ہونے کے برابر ہوں اور غلبہ حاصل کرنے کی پوزیشن میں اب تک نہ آئے ہوں ۔ دراصل ہمارے وطن میں غلبۂ اشرار کم ہو ہی نہیں سکتا جب تک خدائی جنگ کی سیز فائر (Cease Fire) کروانے کے لیے اس ملک کے باسیوں کے قلوب رجوع الی اللہ کرتے ہوئے اپنے مقتدر طبقوں کو جنگ بندی اور اصلاح احوال پر پوری شدت سے اور پوری درد مندی سے مجبور نہ کر لیں۔ ان شا ء اللہ اس مضمون میں بیان کردہ آیات قرانی برہان قاطع ہیں۔ روز روشن کی مانند ہر خاص و عام کو نظر آرہا ہے کہ پاکستان فیصلہ خداوندی کے مطابق نرغہ اغیار میں ہے۔ حکمرانوں کو ایک طرف اپنے برگزیدہ کلام کے بارے میں خداوند تعالیٰ  فرماتے ہیں :

” یہ ایک نصیحت ہے ۔ اب جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف جانے کا راستہ اختیار کرے۔”(سورة المزمل: ١٩)

 تو دوسری جانب جھڑکتے ہوئے فرمایا :

"بے شک اللہ کے نزدیک بد ترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔ " (٢٢ :٨)

لگتا ہے کہ حکمران اپنے لیے خود ساختہ مگر دائمی استثنا ء  کے حصول کا تہیہ کر چکے ہیں۔ اور بر افروختہ بلاؤں نے ان مقتدر طبقوں کا بشمولیت سودی گماشتوں کے سرعت رفتار سے تعاقب جاری رکھا ہوا ہے۔ ہرانسان کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔، مگر استثناء کے عشق میں مبتلا گروہ اپنے رب کے حضور قیامت والی پیشی کے دن اپنے معیوب سفاکانہ طرز عمل کا مظاہرہ کرنے سے باز نہیں آئے گا ۔ مالک الملک کا ہم پر احسان ہے کہ وہ دنیا میں یوم الحسرت کا مشاہدہ اپنے متلو (یعنی تلاوت کیے جانے والے ) الفاظ میں کرا رہے ہیں :

” کاش تم دیکھو وہ وقت جب یہ مجرم سر جھکائے اپنے رب کے حضور کھڑے ہونگے ( اس وقت یہ کہہ رہے ہونگے)  اے ہمارے رب! ہم نے خوب دیکھ لیا اور خوب سن لیا اب ہمیں واپس بھیج دیجئے تاکہ ہم نیک عمل کریں، ہمیں اب یقین آگیا ہے۔( جواب میں ارشاد ہوگا) اگر ہم چاہتے تو پہلے ہی ہر نفس کو ہدایت دے دیتے مگر میری وہ بات پوری ہوگئی جو میں نے کہی تھی کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سے بھر دوں گا۔ بس اب چکھو مزا اپنی اس حرکت کا کہ تم نے اس دن کی ملاقات کو فراموش کر دیا ہے۔ چکھو ہمیشگی کے لیے عذاب کا مزہ اپنے کرتوتوں کی پاداش میں۔” (سورة  السجدہ: ١١٢ – ١١٤)

حکمرانوں کی دیرینہ خواہش بہر صورت الیکشن جیتنے کی ہوتی ہے۔ کامیابی کی صورت میں مناسب لیپا پوتی سے یہ لوگ اپنی غلطیوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں۔ اور گاڑی پرانے طرز پر ہی چلتی رہتی ہے۔ آخرت سے لا پرواہی کا قبیح ترین انجام قران پاک میں بیان ہو چکا ہے۔ حالا ت میں تبدیلی ناگزیر ہے ۔ اس لیے مسلمانوں کے روڈ میپ  (Road Map)  اگر مغربی ماہرین کے توسط سے بنیں گے تو اسلامی معاشرہ مذکورہ بالا بلاؤں کے تعاقب و مزاہمت کو نہ روک پائے گا۔ پہلی تبدیلی کا ایک خوش آئند حوالہ کلام پاک کے بابرکت الفاظ میں ملاحظہ کیجئے:

” اللہ مومنوں کو اس حالت میں ہرگز نہ رہنے دے گا جس میں تم اس وقت پائے جاتے ہو۔ وہ پاک لوگوں کو ناپاک لوگوں سے الگ کر کے رہے گا۔ مگر اللہ کا یہ طریقہ نہیں کہ وہ تم کو غیب پر مطلع کردے۔ غیب کی باتیں بتانے کے لیے تو وہ اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہے منتخب کر لیتا ہے۔ لہٰذا (امور غیب کے بارے میں)  اللہ اور اس کے رسول  ﷺ  پر ایمان رکھو۔ اگر تم ایمان اور خدا ترسی کی روش پر چلوگے تو تم کو بڑا اجر ملے گا۔” (سورة آل عمران: ١٧٩)

حزب اختلاف کے لیے خوش خبری ہے اگر وہ اپنے زمینی نقشہ جات کی مطابقت  (Alignment)   مکمل طور پر اسلام پر رکھیں اور بلا خوف و خطر عمل پیرا ہوجائیں۔ اس ضمن میں رب قدوس کے دو پالیسی احکام یہ ہیں:

١۔”اس فرمانبرداری (الاسلام) کے سوا جو شخص کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہے اس کا وہ طریقہ ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور آخرت میں وہ ناکام اور نامراد رہے گا۔” (سورة آل عمران: ٨٥)

٢۔” اے ایمان والو ! تم پورے کے پورے اسلام میں آجاؤ اور شیطان کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ جو صاف صاف ہدایات تمہارے پاس آچکی ہیں ، اگر ان کو پا لینے کے باوجود پھر تم نے لغزش کھائی ، تو خوب جان رکھو اللہ سب پر غالب اورحکیم و دانا ہے۔(ان ساری نصیحتوں اور ہدایتوں کے بعد بھی لوگ سیدھے نہ ہوں تو) کیا اب وہ اس بات کے منتظر ہیں کہ اللہ بادلوں کا چتر لگائے فرشتوں کے پرے ساتھ لیے خود سامنے آموجود ہو اور فیصلہ ہی کر ڈالا جائے؟۔ ” (سورة البقرة: ٢٠٨- ٢١٠)

یہ الفاظ قابل غور ہیں۔ ان سے اس حقیقت پر روشنی پڑتی ہے کہ اس دنیا میں انسان کی ساری آزمائش اس بات پر ہے کہ وہ حقیقت کو بغیر دیکھے مانتا ہے کہ نہیں اور ماننے کے بعد اتنی اخلاقی طاقت رکھتا ہے یا نہیں کہ نافرمانی کا ااختیار رکھنے کے باوجود فرمانبرداری اختیا ر کرے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی بعثت میں، کتابوں کی تنزیل میں ، حتیٰ کہ معجزات تک میں عقل کے امتحان اور اخلاقی قوت کی آزمائش کا ضرور لحاظ رکھا ہے اور کبھی حقیقت کو اس طرح بے پردہ نہیں کردیا ہے کہ آدمی کے لیے مانے بغیر چارہ نہ رہے۔ کیونکہ اس کے بعد تو آزمائش بالکل بے معنیٰ ہو جاتی ہے اور امتحان میں کابیابی اور ناکامی کا کوئی مفہوم باقی نہیں رہتا ہے۔ اسی بنا پر یہاں فرمایا جارہا ہے کہ اس وقت کا انتظار نہ کرو جب اللہ اور اس کی سلطنت کے کارکن فرشتے خود سامنے آجائیں کیونکہ پھر تو فیصلہ ہی کر دیا جائے گا۔ ایمان لانے اور اطاعت میں سر جھکانے کی ساری قدر و قیمت اس وقت تک ہے جب حقیقت تمہارے حواس سے پوشیدہ ہو اور تم اسے صرف دلیل سے تسلیم کرکے اپنی دانش مندی کا اور محض فہمائش سے اس کی پیروی اور اطاعت اختیار کرکے اپنی اخلاقی طاقت کا ثبوت  دو۔ ورنہ جب حقیقت بے نقاب سامنے آجائے اور تم بچشم سر دیکھ لو کہ اللہ اپنے جلال کے ساتھ تخت پر متمکن ہے اور اس ساری کائنات کی سلطنت اس کے فرمان پر چل رہی ہے اور یہ فرشتے زمین و آسمان کے انتظام میں لگے ہوئے ہیں اور تمہاری یہ ہستی اس کے قبضہ قدرت میں پوری بے بسی کے ساتھ جکڑی ہوئی ہے، اس وقت تم ایمان لائے اور اطاعت پر آمادہ ہوئے تو اس ایمان اور اطاعت کی قیمت ہی کیا ہے؟۔ اس وقت تو کوئی کٹے سے کٹا کافر اور بد سے بدتر مجرم بھی انکار اور نافرمانی کی جراء ت نہیں کر سکتا۔ ایمان لانے اور اطاعت قبول کرنے کی مہلت صرف اس وقت تک ہے جب تک پردہ کشائی کی وہ ساعت سامنے نہیں آتی۔ اور جب وہ ساعت آگئی تو پھر نہ مہلت ہے نہ آزمائش۔بلکہ وہ تو فیصلہ کا وقت ہے۔

 یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہ محشر میں ہے

پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے

پاکستان ، مدینہ منورہ کی بنی ہوئی اسلامی مملکت کے بعد پہلی نیشن اسٹیٹ (Nation State) ہے۔ جس کی بیخ کنی پر شیطانی قوتیں متحد و متفق ہیں ۔ ہم نے اپنے اس مقالے میں متعدد قرآنی حوالے پیش کرتے ہوئے آگاہ کیا ہے اللہ کے پاک کلام کو حرز جاں بنائے بغیر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ہمارے خلاف برپا جنگ سے چھٹکارا عبث ہے۔ مفکر پاکستان نے مختصرا ً بتا دیا

گر تو می خواہی مسلماں زیستن

نیست ممکن جز بہ قراں زیستن

یعنی قران کو حرز جاں آپ اسی وقت بنا سکتے ہیں جب اسے لے کر اٹھیں اور دعوت الی اللہ کا کام شروع کردیں اور جس طرح یہ کتاب ہدایت دیتی جائے اس طرح قدم اٹھاتے چلے جائیں تب و ہ سارے تجربات آپ کو پیش آئیں گے جو  نزول قرآن کے وقت پیش آئے تھے۔مکہ ، حبش اور طائف کی منزلیں بھی آپ کو دیکھنی پڑیں گی اور بدر و احد سے لے کر حنین اور تبوک تک کے مراحل بھی آپ کے سامنے آئیں گے۔ ابو جہل اور ابو لہب سے بھی آپ کو معاملہ ہوگا اور یہود و منافقین بھی آپ کو ملیں گے۔ اور مئولفة القلوب سے لے کر سابق الاولون تک سبھی قسم کے انسانی نمونے آپ دیکھ لیں گے اور برت بھی لیں گے۔ اس کی جس جس منزل سے آپ گزرتے جائیں گے قرآن کی کچھ سورتیں اور آیات بھی آپ کے سامنے آکر آپ کو بتاتی چلی جائیں گی کہ وہ اس منزل پر اتری تھیں اور یہ ہدایت لے کر آئیں تھیں۔پھر اسی کلیہ کے مطابق قرآن کے احکام اس کے معاشی و تمدنی ہدایات اور زندگی کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں اس کے بتائے ہوئے اصو ل و قوانین انسانی سمجھ میں آ ہی نہیں سکتے جب تک کہ وہ ان کو برت نہ لے۔ نہ وہ شخص اس کتاب کو سمجھ سکتا ہے جس نے اپنی انفرادی زندگی کو اس کی پیروی سے آزاد رکھا ہو اور نہ وہ قوم اس سے آشنا ہو سکتی ہے جس کے سارے اجتماعی ادارے اس کی بتائی ہوئی روش کے خلاف چل رہے ہوں۔
 
سودی مسائل کے ضمن میں اللہ کے نیک بندے خوش گمان ہیں کہ ہمارے عادل ججز فیصلہ کن اقدامات کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ اس لیے بہتر ہوگا کہ مزید تجزیہ کرلیا جائے ۔ اولاً عدالت عظمیٰ ملک کے توہین عدالت کے تمام قوانین ، رولز اور پروسیجرز کا تفصیلی جائزہ لے کہ یہ بنیادی قسم کے قوانین ہر لحظہ بے اثر ہوتے جارہے ہیں تو کیوں۔اگر آئینی چپقلش حل ہونے میں نہ آرہی ہوں تو توہین عدالت کی لاٹھی برسا کر کام نکالا جاسکتا تھا مگر اہانت عدالت اعلیٰ حکومتی عہدیداروں سے لے کر صف اول کے ممتاز بار کے ارکان کا طرہ امتیاز بنتا جارہا ہے ۔ غرضیکہ آئین بازیچئہ اطفال بن چکا ہے ۔ پارلیمانی روایات کا خاصہ آئین و قوانین کا تقدس اور سر بلندی برقرار رکھنا ایسا ہے جیسا مملکت کے سبز ہلالی کو اونچے سے اونچا رکھنا مگر عمل کی دنیا میں منفی سوچ بروئے کار ہے اور فروغ پارہی ہے۔ قرآنی اشارہ ” بات یہ ہے کہ صرف آنکھیں ہی اندھی نہیں ہوتی ہیں بلکہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔” (سورة الحج:٤٦) فعل تعقل کا انتساب دل سے کیا گیا ہے جس سے استدلال کیا گیا ہے کہ عقل کا محل قلب ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ محل عقل دماغ ہے۔بعض کہتے ہیں کہ فہم و ادراک کے حصول میں دل و دماغ دونوں کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے۔
 
ہم مزید آیات قرآنی کا مطالعہ ایک گہرے غور و فکر کی خاطر کرتے ہیں کہ ججز کو اپنے لیے روشن لائحہ عمل مرتب کرنا دشوار نہ ہو۔ رب کائنات کا ارشاد ہے :

”وہ منہ پر کہتے ہیں کہ ہم مطیع و فرمانبردار ہیں۔مگر جب تمہارے پاس سے نکلتے ہیں تو ان میں سے ایک گروہ راتوں کو جمع ہوکر تمہاری باتوں کے خلاف مشورہ کرتا ہے۔ اللہ ان کی یہ ساری سر گوشیاں لکھ رہا ہے۔ تم ان کی پرواہ نہ کرو اور اللہ پر بھروسہ رکھو وہی بھروسہ کے لیے کافی ہے۔ کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے ؟ اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت کچھ اختلاف بیانیاں پائی جاتیں۔”  

”یہ لوگ جہاں کوئی اطمینان بخش یا خوفناک خبر سن پاتے ہیں اسے لے کر پھیلا دیتے ہیں حالانکہ یہ اگر اسے رسول اور اپنی جماعت کے ذمہ دار اصحاب تک پہنچائیں تو وہ ایسے لوگوں کے علم میں آجائے جو ان کے درمیان اس بات کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ اس سے صحیح نتیجہ اخذ کر سکیں۔ تم لوگوں پر اللہ کی رحمت نہ ہوتی تو ( تمہاری کمزوریاں ایسی تھیں کہ)  معدودے چند کے سوا تم سب شیطان کے پیچھے لگ گئے ہوتے۔” (سورة النساء :٨١ ، ٨٢ ، ٨٣)

رب کریم ججز کو کیا خوب آگاہ فرما رہے ہیں کہ ہم واقف ہیں کہ کون سے سازشی کردار تمہاری عزت و حیثیت کو معاشرہ میں مجروح (Character Assasination)   کرنے کے درپے ہیں۔ تم ان سے خوف نہ رکھو اور نہ ہی پرواہ کرو۔ تمہارا بھروسہ صرف اور صرف باری تعالیٰ پر بلا شک و تشکیک ہونا چاہئے۔ رہے سازشی ، اللہ سبحانہ و تعالیٰ خود ان شک و شبہ والے نفوس سے نمٹ لیں گے۔ تم اللہ کی رسی کو مظبوطی سے تھامے رکھو۔ کتمان حق سے بچو اور اعلاء کلمة الحق دل و جان سے بلا کسی خوف و تردد کے کرتے رہو۔یہ لوگ میرے احکام سے غور و خوض سے اعراض برتتے  ہیں اور جھوٹی افواہ سازی کا ایک طوفان بپا کیے ہوئے ہیں ۔ یہ کام اپنی بے حد و حساب سودی رقومات سے مختلف النوع ذرائع ابلاغ  (Multimedia) استعمال کرتے ہوئے انجام دیتے ہیں۔ اگر ان میں امن و اصلاح ، اخلاق اور ایمان کی رمق ہوتی تو وہ یہ افواہ گڑھنے کی بجائے ایسی اطلاعات اللہ کے رسول اور اپنی جماعت کے ذمہ دار افراد کے علم میں لاتے تاکہ وہ اپنی مثبت صلاحیتوں سے احسن نتائج اخذ فرماتے۔ مگر ہو رہا ہے اس کے برعکس۔ یہ مالک کی رحمت و مہربانی کا تقاضا ہے کہ تمہیں شیطان کے چنگل سے نکالتا رہاہے۔ وُقعت و سرفرازی منبر و محراب مصطفیٰﷺ کو ہی زیبا ہے۔

نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن

پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

 اس لیے لازم ہے کہ ججز کرسئی عدالت کو بمع توہین عدالت کے ،ایک نوجوان مجسٹریٹ کے Summary Trial   سے زیادہ اہمیت نہ دیں راہ نجات اپنے آپ کو دین متین کی خدمت میں وقف کردینے میں ہے۔ پھر شعور حاصل ہوگا توتوہین عدالت تو دراصل توہین رسالت ہی ہے۔ پھر مفکر ملت کا یہ سمجھانا کیسا عقل و فہم کو ” سراجا ً منیرا ً ” کرے گا۔ 

قوت عشق سے ہر پست کو بالا کردے

دہر میں اسم محمد سے اجالا کردے

اس مقالہ کا مرکزی موضوع سودی طرز معیشت سے مکمل علیحدگی اور خدائی جنگ سے مکمل امن و امان کی طرف مراجعت ہے۔ اس لیے کہ سازشی کرداروں کے کرتوتوں کے متعلق رب العالمین ارشاد فرماتے ہیں :

”افسوس ان کے حال ، (ان کی زبان پر ہے)۔ اطاعت کا اقرار اور اچھی اچھی باتیں۔ مگر جب قطعی حکم دے دیا گیا اس وقت وہ اپنے عہد میں اللہ سے سچے نکلتے تو انہی کے لیے اچھا تھا۔اب تم لوگوں سے اس کے سوا کچھ اور توقع     کی جاسکتی ہے کہ اگر تم الٹے منہ پھر گئے تو زمین میں پھر فساد برپا کروگے اور آپس میں ایک دوسرے کے گلے کاٹو گے۔     یہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور ان کو اندھا اور بہرا بنا دیا ۔ کیا ان لوگوں نے قرآن پر غور نہیں کیا ، یا ان کے دلوں پر قفل چڑھے ہوئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ہدایت واضح ہو جانے کے بعد اس سے پھر گئے ان کے لیے شیطان نے ان کی روش کو سہل بنا دیا اور جھوٹی توقعات کا سلسلہ ان کے لیے دراز کررکھا ہے۔” (سورة محمد: ٢٠ – ٢٥)

ملکی زبوں حالی کا بھر پور اندازہ ہر خاص و عام کو ہو چکا ہوگا۔ قرآن دو راستے تجویز کرتا ہے ۔ اگر ملت کے قدم مضبوطی سے سیدھے راستے پر گامزن ہوگئے تو تا دم آخر نقشہ بروز قیامت یہ ہوگا:

 ” اس وقت جس کا نامہ اعمال سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کہے گا لو دیکھو پڑھو میرا نامہ اعمال ، میں سمجھتا تھا      کہ مجھے میرا حساب ملنے والا ہے ۔ پس وہ دل پسند عیش میں ہوگا عالی مقام جنت میں جس کے پھلوں کے گچھے جھکے      پڑے ہونگے (ایسے لوگوں سے کہا جائے گا) مزے سے کھاؤ پیو ان اعمال کے بدلے میں جو تم نے گزرے ہوئے دنوں میں کیے۔ ” (سورة الحاقہ: ١٩ -٢٤)

وگرنہ……..جب چڑیاںچگ گئیں کھیت تو جاٹ کھڑاپچھتائے

” اور جس کا نامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کہے گا ‘ کاش میرا اعمال نامہ مجھے نہ دیا جاتااور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے۔ کاش میری وہی موت (جو دنیا میں آئی تھی) فیصلہ کن ہوتی۔آج میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا۔ میرا سارا اقتدار ختم ہوگیا (حکم ہوگاکہ) پکڑو اسے جہنم میں جھونک دو اور اس کی گردن میں طوق ڈالدو اور اس کو ستر ہاتھ لمبی زنجیروں میں جکڑ دو۔ یہ نہ اللہ بزرگ و برتر پر ایمان لاتا تھا اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا۔ لہٰذا آج     یہاں اس کا کوئی یار ہے نہ غمخوار اور نہ ہی زخموں کے دھون کے سوا اس کے لیے کوئی کھانا جسے خطا کاروں کے سوا کوئی نہیں کھاتا۔” (سورة الحاقہ: ٢٥ -٣٧)

اے اللہ ! ہم کمزور ہیں ، بس اپنی رضا جوئی میں ہمارا ضعف اپنی قوت سے دور کردے اور کشاں کشاں ہمیں خیر کی طرف لے جا اور الاسلام کو ہماری پسند کا منتہا بنا دے۔ ہم ذلیل ہیں تو ہمیں عزت دے اور ہم محتاج ہیں تو ہمیں رزق دے۔ اے اللہ ! ہمارے دل ، ہماری مہار اور ہمارے اعضا تیری مٹھی میں ہیں اور تو نے ہمیں ان میں سے کسی کا مالک نہیں بنایا۔ پس جب تو نے ہمارے ساتھ یہ معاملہ کیا ہے تو ، تو ہی بس ہمارا ولی بن جا اور ہمیں سیدھے رستے پر لے جا۔ آمین یا رب العالمین
Advertisements

پاکستان بلاؤں میں گرفتار ملک۔ تدارک کی تمنا


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ  (5 / 6 )  شوال، ذیقعد  1433ھ/   ستمبر، اکتوبر 2012

پاکستان بلاؤں میں گرفتار ملک۔ تدارک کی تمنا

محمد احمد

اپنا عزیز از جان وطن بے شمار مسائل کی زد میں ہے۔ ان کی نوعیت اتنی حیران کن ہے بلکہ تباہ کن ہے کہ بے اختیار ان مسائل کو بلاؤں کا خطاب دئیے بغیر بات بنتی نظر نہیں آتی !  فی زمانہ ابلاغ عامہ کے ذرائع کی وسعت پذیری نے کرہ ارض کو ایک ہمہ جہتی بحر و بر پر محیط گاؤں Global Village کا درجہ عطا کردیا ہے ۔ اسی گاؤں کی مناسبت سے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ دنیا میں چین و سکون اور امن و امان کا دور دورہ ہوتا مگر حالات تیزی سے دوسرا رخ اختیار کر گئے اور فساد فی الارض سے امن امان تہ و بالا ہوگیا۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنی نازل کردہ آخری آسمانی کتاب میں چودہ سو سال قبل اس گاؤں والوں کو متنبہ فرماتے ہیں : 
“ خشکی اور تری میں لوگوں کی بد اعمالیوں کے باعث فساد پھیل گیا۔ اس لیے کہ انہیں ان کے بعض کرتوتوں کا پھل اللہ چکھا دے۔ (بہت) ممکن ہے کہ وہ باز آجائیں۔”(سورة الروم: ٤١)

ہر وہ مہیب جنگ جو ایک مملکتوں کا گروہ دوسرے ممالک سے لڑتا ہے ، اس سے جو کثیر جانی ، مالی اور معاشرتی نقصانات وقوع پذیر ہوتے ہیں ان کا اندازہ اور تخمینہ لگا نا کوئی مشکل امر نہیں ہے۔ مندرجہ بالا قرآنی اصول کا اطلاق ان اقسام کی جنگوں پر بالعموم اور گزشتہ ادوار کی دو جنگ عظیموں پر بالخصوص ہوتا ہے۔ اس ضمن میں دنیا بھر کی لائبریریاں گواہ ہیں ۔ ( یہ صرف ہوش اڑانے والے نقصانات بتانے پر اکتفا کرتی ہیں ۔ کتبِ سماوی کے جاری و ساری اصولوں سے انہیں غرض نہیں)  علاوہ ازیں یہ اصول پروردگار عالم کا تمام لوگوں ،تمام مذاہب کے ماننے والوں ، دہریوں اور مشرکوں پر پوری طرح لاگو ہے۔
من حیث الجماعة امت مسلمہ کا حال زار ذرا پتلا ہے اور دیگر مذاہب کے بالمقابل دگرگوں ہوتا چلا جا رہا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ امت میں عقائد ، علم اور اعمال کا بگاڑ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ دانشوران قوم دن رات بے شمار تجاویز اور حل ابلاغ عامہ کے ذرائع سے پیش کرتے رہتے ہیں مگر بہت کم خدائی احکامات سے رجوع فرمانے کی تگ و دو کرتے ہیں۔ ایک آیت کریمہ مسلمانوں کو توجہ دلاتی ہے : 
“ اے لوگو جو ایمان لائے ہو !  اگر تم میں سے کوئی دین سے پھرتا ہے (تو پھر جائے)، اللہ اور بہت سے لوگ ایسے پیدا کر دے گا جو اللہ کو محبوب ہونگے اور اللہ ان کو محبوب ہوگا۔ جو مومنوں پر نرم اور کفار پر سخت ہونگے۔ جو اللہ کی راہ میں جدوجہد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے وہ اسے عطا کرتا ہے ۔ اللہ وسیع ذرائع کا مالک ہے اور سب کچھ جانتا ہے۔”(سورة المائدة:٥٤)
پتہ چلتا ہے کہ اسلام کی نظر میں اس دور زبوں حالی میں بہترین لوگ ، اولوالعزم اور راسخ العقیدہ اور سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند افراد کار ( ؎  ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی) صدق دل سے اجتماعی توبہ و استغفار کرتے صراط مستقیم کی جانب رواں دواں ہوسکتے ہیں۔ بشرط یہ کہ امت مسلمہ کے ذہین ترین ، بر سر آوردہ اشرافیہ ، سب اقسام کی جنگوں سے زیادہ مہلک ترین جنگ جو ان کے سروں پر مسلط ہے اس کا مدلل اور محقق ادراک فرماتے ہوئے لائحہ عمل تجویز کریں اور اپنا تن من دھن اس جنگ سے نکالنے کے لیے قربان کردیں، تو بات بنے!
مالک الملک غضبناک لہجہ میں الٹی میٹم دے رہے ہیں :
“ اے لوگو،جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور جو سود کا بقایا ہے اس کو چھوڑ دو اگر تم ایمان والے ہو ، پس اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کے لیے تیار ہوجاؤ۔” (سورة البقرة:٢٧٩)
ماضی میں جنگ کے اشتہار سے جو مقصود مرادلیا جاتا تھا آج کی حربی اصطلاح میں اسے الٹی میٹم سے ہی تعبیر کریں گے۔اگر کوئی “ مخلوق” ملک یا سلامتی کونسل الٹی میٹم کے نام سے یا یک طرفہ پابندیوں کی شکل میں دھمکیاں دے تو ملک کی انتظامیہ کانپ جاتی ہے اور اس ناگہانی آفت سے نجات حاصل کرنے کے لیے ہر قسم کی دوڑ دھوپ سے جلد مضمحل ہو جاتی ہے۔ کسی صورت چین نصیب ہوتا نظر نہیں آتاہے۔ مگر رب العزت کے مندرجہ بالا احکام سے پہلو تہی پورے ملک کو کس پستی اور ذلت سے متعارف کرا رہی ہے اس کا مکمل اور محقق ادراک ہو نہیں پاتا۔ اس نہ ہونے والے ادراک کا تعلق ( مروجہ قانون کی زبان میں Nexus ) احکم الحاکمین کے حکم کے اس جملے : ”اگر تم ایمان والے ہو” سے ہے۔ مگر اس بات کا کیا کیا جائے بہ حیثیت مجموعی ایمانی حالت ڈانواں ڈول ہے اور اس خدائی جنگ کا خمیازہ پورا ملک بھگت رہا ہے۔

ہمارے اوپر ان بلاؤں کے پے درپے نزول کی واحد  وجہ ہے کہ ہم سود سے ناتہ نہیں توڑ سکے۔ اپنی کمزوری ، کم ہمتی  اور کم علمی کا بھر پور اعتراف کرتے ہوئے ہم اپنے رب علیم و  قدیر سے مدد طلب کرتے ہوئے سود جیسے گناہ کی سنگین نوعیت کا جائزہ قران و سنت کی روشنی میں اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کی تشکیل کے لیے لیں گے۔ یاد رہے کہ نہ صرف اسلامی جمہوریہ پاکستان سودی شکنجوں میں جکڑا ہے بلکہ خدائی جنگ کی شدت فزوں تر ہے اور اس جنگ سے پیدا شدہ نقصانات کا تخمینہ ہر اندازے سے کروڑوں گنا زیادہ ہے۔  

کیا ایسا نہیں ہے کہ علی الا علان ملک کی معیشت پر قابض حکمران اپنی دنیا کو خوب سے خوب تر بنانے کی خاطر ، اس ملک کو اس جنگ میں جھونک چکے ہیں؟ کیا اب ہمارا ان بلاؤں سے چھٹکاراچند انتظامی اقدامات سے ہو سکتا ہے؟ کیا یہ ایک اچنبھے کی بات نہیں کہ جس ملک کو لاالہ الا اللہ کے انتہائی عظیم الشان “ با مقصد “ اور دلوں کو نیا جوش اور ولولہ عطا کرنے والے نعرہ لگا لگا کر حاصل کیا گیا تھا ، ہم اپنی لا حاصل اور بے جا خواہشات کی نظر کر دیں گے؟ اللہ اور اس کے رسول  کے بالمقابل حالت جنگ میں ہوتے ہوئے پاکستان مختلف بلاؤں کے نرغہ میں آچکا ہے۔ چشم تصور میں اگر تمام حقائق اجاگر ہوجائیں  Complete Realization    تو ہر پاکستانی کا دن کا چین اور رات کا آرام حرام ہوجائے گا۔

ان بلاؤں میں سے چند کا ذکر کرتے ہیں۔

جنسی جرائم جو ان خطوں میں سننے کو نہیں آتے تھے اب روزانہ کی خبروں کا حصہ ہوتے ہیں۔اطلاعات کی شاہراہ (Information Super Higjhway)  پر جنس و جرائم کی ریڈیائی لہریں ہمارے ہم وطنوں کے اعصاب پر پوری شدت سے حملہ آور ہو رہی ہیں۔گاؤں ہو یا شہر ، میدان ہو یا پہاڑ سب جنسی جرائم کی آماج گاہ بنتی جارہی ہیں۔ پہلے کوئی شخص گینگ ریپ (Gang Rape)  کے فعل بد سے آشنا نہیں تھا۔ اب یہ لفظ میڈیا میں بلا جھجھک استعمال ہوتا ہے۔ شائد پہلے کبھی ان واقعات کے علم میں آنے کے بعد خون کے آنسو بہانا آسان تھا ، فی الوقت حس اور حیرانگی بھی جواب دے گئی ہے۔ہادیِ برحق کے مندرجہ ذیل برحق ارشادات کی روشنی میں “ ایسا کیوں ہورہا ہے “ کے سوال کا جواب دانشوران قوم کو تلاش کرنا پڑے گا۔

 رسول اللہ نے فرمایا کہ:” سود اتنا بڑا گناہ ہے کہ اس کو اگر ستر اجزا ء میں تقسیم کیا جائے تو ہلکے سے ہلکا جزو اس گناہ کے برابر ہوگا کہ آدمی اپنی ماں کے ساتھ زنا کرے۔” (ابن ماجہ)
کیا اس شہوانیت کی سونامی کی وجہ سود کی لعنت و وحشت میں علی وجہ بصیرت نظر نہیں آرہی ؟ کیا کوئی ہوش مند پاکستانی یہ ماننے میں تامل کرسکتا ہے کہ اس فعل بد کا عمل دخل ملک کی معیشت سے فی الفور خارج ہو جانا چاہئے؟ کیا اس قبیح فعل کے نقصانات واضح ہونے کے باوجود حضوراکرم کے ارشاد گرامی کی حقانیت اظہر من الشمس نہیں ہوگئی ؟ قرآن پاک کی آیتِ مبارکہ اور حدیث پاک کی روشنی میں خطرات اور محرکات دونوں پوری طرح آشکار ہو چکے ہیں۔طلب مغفرت اور رجوع الی اللہ دائمی امن وامان کے حصول کا ضامن ہو سکتا ہے صرف چشم بصیرت وا کرنے کی دیر ہے۔
اس ایک بلائے بے درمان یعنی فحاشی کی سونامی کے تعین کے بعدایک اور حدیث پاک کے مطالعہ کے ذریعہ اپنے ارد گرد نظر دوڑاتے ہیں کہ کہیں مزید بلاؤں نے ہمارا محاصرہ کرنے کا تہیہ تو نہیں کر رکھا ہے:
 رسول اللہ نے فرمایا کہ: ” میں نے آج رات دو اشخاص کو دیکھا جو میرے پاس آئے اور مجھے بیت المقدس لے گئے ، پھر ہم آگے چلے تو ایک خون کی نہر دیکھی جس کے اندر ایک آدمی کھڑا ہے اور دوسرا آدمی اس کے کنارے پر کھڑا ہے۔ جب نہر کے اندر والا آدمی باہر آنا چاہتا ہے تو کنارے والا آدمی اس کے منہ پر پتھر مارتا ہے جس کی چوٹ سے بھاگ کر وہ پھر وہیں چلا جاتا ہے جہاں کھڑا تھا۔ وہ پھر نکلنے کا ارادہ کرتا ہے تو پھر کنارے والا آدمی وہی معاملہ کرتا ہے۔ آنحضرت فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے ان دو ساتھیوں سے پوچھا یہ کیا ماجرا ہے جو میں دیکھ رہا ہوں؟ انہوں نے بتلایا کہ خون کی نہر میں قید کیا ہوا آدمی سود کھانے والا ہے (اپنے عمل کی سزا کھا رہا ہے)۔” (صحیح البخاری، کتاب البیوع)
ہمارے ملک میں بڑھتی ہوئی تخریب کاری جس کو روکنے کا اہتمام اب تک ہم نہ کر پائے ایک ایسی بلا ثابت ہوچکی جس نے جگہ جگہ خون کی نہریں بہا دی ہیں۔ یہ خونریزی اگر دو ممالک کی آپس میں دست و گریباں ہونے کی وجہ سے ہو تو کسی کی سمجھ سے بالا تر نہیں ہوسکتی ۔ یہاں البتہ صورت حال عجیب ہے کہ کسی ملک نے ہم پر حملہ بھی نہیں کیا۔ جس ملک سے ہم ماضی میں مسلسل بر سر پیکار رہے وہ ہماری ہنسی اڑاتا ہے کہ ہم نے اس کا کام آسان کردیا ہے۔ کیا یہ خون کی نہر ہم خود نہیں کھود رہے؟ اس نہر کو پاٹنے کی کوشش میں ہم سودی قرضوں سے امن و امان (Law and Order) قائم کرنے میں مدد دینے والے آلات اور گاڑیاں در آمد کرتے ہیں اور ہوتا یہ ہے کہ ہم اپنے اس سودی عمل سے خونی نہر کو اور گہرا کرتے جارہے ہیں۔اور اس طرح اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرنے کے کڑوے ثمرات سے اپنے دامن کو آلودہ کرتے جارہے ہیں۔کبھی نہر کا قیدی (حکومت پاکستان) نہر کے باہر والے پہریدار سے قید سے آزادی کی التجا کرتا ہے جو رد ہو جاتی ہے اور سودی قرضوں کا ایک مہیب پتھر (ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے توسط سے) نہر کے قیدی (حکومت وقت) کے منہ پر مار دیا جاتا ہے۔ قیدی نہر میں مزید غرق ہوجاتاہے۔ اس طرح قومی قرضوں سے نجات حاصل کرنے کے امکانات معدوم سے معدوم ہوتے جارہے ہیں۔

ہمارے وطن میں ایسے سیاسی گروہوں کی بھر مار ہوتی جارہی ہے جن میں اکثر فاشسٹ لبرل ہیں اور انہیں خفیہ (Clandestine)  ذرائع سے ہر قسم کے مہلک ہتھیار مہیا ہو جاتے ہیں۔ یہ لوگ ملک میں نہ صرف خو ف وہراس پھیلانے کا باعث بنتے ہیں بلکہ ملک کے مقتدر اور معزز رہنماؤں کو بے دردی سے قتل بھی کرتے ہیں اور عدلیہ سے اپنی بے گناہی کا پروانہ حاصل کرنے میں دیر بھی نہیں کرتے۔اس طرح ان دو بلاؤں (فحاشی اور تخریب کاری) نے ہمارے ملک کا محاصرہ کیا ہوا ہے اور مکمل حل کی طرف نہ کسی سیاستدان کی رسائی ہے اور نہ ہی کسی دانشور قوم کی کیونکہ اپنی دانست میں وہ سود کو معیشت کا ایک ضروری حصہ سمجھے ہوئے ہیں۔ بد نصیبی کے دھکے ہیں جو پاکستان کے مظلوم عوام کھاتے چلے جارہے ہیں۔

مزید بلائیں جو در پیش ہیں وہ مہنگائی اور کرپشن ہیں۔ اس موضوع پر ذخیرہ احادیث میں سے ایک حدیث مندرجہ ذیل ہے۔:
 رسول اللہ نے فرمایا :”جب کسی قوم میں سود کا لین دین رواج پا جاتا ہے تو اللہ تعالی ان پر ضروریات زندگی کی گرانی مسلط کردیتا ہے اور جب کسی قوم میں رشوت عام ہو جائے تو دشمنوں کا رعب اور غلبہ ان پر ہوجاتا ہے۔”(مسند احمد)
مندرجہ بالا حدیث مبارک میں رشوت اور سود کا تعلق چودہ سو سال قبل بتایا گیا جس کا اسلام نے قلع قمع کردیا تھا۔ البتہ موجودہ دور ببانگ دُہل ان دونوں بلاؤں کا اثبات کر رہا ہے بلکہ ان کا چولی دامن کا ساتھ اظہر من ا لشمس پوری وضاحت کے ساتھ کرہ ارض پر بسیرا کرنے والوںکو اظہار ابلاغ کے تمام ذرائع سے کراتا چلا جارہا ہے۔

فا عتبروا یا اولی الابصار۔
 اب ہم چند مثالوں سے مزید وضاحت کرنا چاہیں گے۔

رشوت خور حکومتی کارکن حکومت سے اپنی کارگزاری (خواہ کیسی ہی ہو)  کا صلہ حکومت سے پوری تنخواہ اور الاؤنس (اصل زر) کی شکل میں حاصل کرتا ہے۔ مگر وہ اپنی ہوس زر کی خاطر عوام الناس سے طلب رشوت (سود کی ایک شکل) کی شدید خواہش بھی رکھتا ہے۔ مثلاً ایک سرکاری وکیل قتل کے ایک ملزم ( مضبوط شواہد کی بنیاد پر بادی النظر (Prima Facie ) میں مجرم ) کی جرح عدالت کے روبرو کرنے کے لیے سرکار سے ایک ہزار روپیہ لیتا ہے۔ چونکہ مؤکل کا مفاد “ہاتھ ہولا رکھنے’ ‘ پر منحصر ہوتا ہے اس لیے وکیل دس ہزار رشوت (بمعنی سود ) سے اپنی ناتواں معیشت کی درستگی پر جٹ جاتا ہے۔ ایسے ہزاروں وکلا اپنے باس کی خوشنودی کی تمنا میں اور ان کے ہم عصر (دیگر محکمات)  کروڑوں اربوں روپے کی ہیر پھیر (Kick Backs and Horse Trading etc) میں ملوث ہوتے ہیں۔ یہ بین ثبوت ہے صادق و مصدوق کے اس قول کا کہ “ اللہ تعالی ان پر ضروریات کی گرانی مسلط کر دیتا ہے “ جو قوم کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی و شافی ہو جاتا ہے۔

مندرجہ بالا بلا اپنے وطن پر اس طرح مسلط ہوگئی ہے کہ بعض حلقوں میں کہا جاتا ہے کہ پاکستان کرپشن (Corruption) میں دنیا بھر کے ممالک میں اولین درجے پر فائز ہے۔ حدیث پاک کا بقیہ حصہ “ اور جب کسی قوم میں رشوت عام ہوجائے تو دشمن کا رعب و غلبہ ان پر ہوجاتا ہے” پوری طرح اور روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتا ہے۔  جتنا دفاعی سازوسامان سودی قرضوں کے ذریعہ سے لے کر اپنی فوجوں کے حوالہ کیا جائے گا اسی تناسب سے وہ اغیار کے رعب و دبدبہ کا شکار ہوتی رہیں گی۔نہ سودی قرضوں سے نجات ملے گی اور نہ ہی دشمنوں کے چنگل سے۔یہ کیسی دفاعی تیاری ہے ؟ کیا یہ عقلمندی کا فقدان نہیں ہے۔ کیا حکمران قوم کے حالات از خود خسارہ کے سالانہ بجٹ کے ذریعہ گرانی کے سپرد نہیں کررہے؟ سود کی بلا از خود اپنی گردنوں پر سوار کرنے والے سو ائے گرانی کے عذاب ( معیشتاً ضنکاً ) (القرآن) کے سوا اور کس چیز کے مستحق ہو سکتے ہیں ۔ یہ ایک (دائرة السوء )(التوبة) یعنی Vicious Circleہے۔ مکروہ دولت کی گردش ان حکمرانوں ، مرکزی بینک کے عہدہ داروں ، صنعت کاروں ، سیاست دانوں اور جاگیر داروں کے نعرہ “ھل من مزید” کی تکرار ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ عوام “ کالا نعام “ انتہائی عسرت ( Abject Poverty)  کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دئے گئے ہیں۔

کرہ ارض پر رہنے والے نسل در نسل دو واضح طبقات میں بٹ گئے۔ اول الذکر افراد اپنے معیار زندگی ( اقوام متحدہ کے منظور شدہ الفاظ Quality Of Life )  بلند سے بلند کرنے کی دوڑ دھوپ میں مصروف ہوگئے اور اپنے لیے  Havesکا لقب پا گئے۔ عسرت زدہ موخرالذکر Have Nots کی صفت سے مزین ہوئے اور حشرات الارض  کے لیول کے زمرہ میں شمولیت پر مجبور کر دئیے گئے۔ یا حسرةََ  علی العباد۔۔۔

ہائے افسوس متاعِ کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتارہا

Haves کا طبقہ فساد فی البر و البحر کے فتنہ کی آگ شب و روز بھڑکا رہا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں Have Nots  کا طبقہ تعداد میں روز بروز بڑھ رہا ہے اور ساتھ ساتھ ان کی زندگی کی ڈور کا سرا ان کے ہاتھوں سے چھوٹ بھی رہا ہے۔
ایک عقلمند آفاقی دنیا کی مشاہدات سے اور اللہ اور اس کے رسول کی تمثیلات سے اپنی روحانی و اُخروی زندگی کا ڈھب پوری طرح نہ صرف سمجھ سکتا ہے بلکہ اپنے آپ کو اور دیگر برادران اسلام کوان بلاؤں سے تحفظ دلانے کی تدبیر بھی کر سکتا ہے۔
 رسول اللہ ان خوفناک بلاؤں کے شکار لوگوں کی روحانی اور اُخروی زندگی کا ڈھب کیا ہوگا ، بتاتے ہیں :“ جب ہم ساتویں آ سمان پر پہنچے تو میں نے اپنے اوپر رعد و برق کو دیکھااس کے بعد ہم ایسی قوم پر سے گزرے جن کے پیٹ رہائشی مکانات کی طرح پھیلے اور پھولے ہوئے  ہیںاور جن میں سانپ بھرے ہوئے ہیں جو باہر سے نظر آ رہے ہیں۔ میں نے جبرائیل امین سے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : یہ سود خور ہیں۔”(مسنداحمد)
حسرت زدہ مسلم کے سَلَم (Slum) علاقوں سے الگ تھلگ پوش (Posh)  ماحول میں تعمیر شدہ وسیع و عریض مکانات سودی قرضوں کے طفیل وجود میں آتے ہیں۔ بعد ازاں انکی رجسٹریاں (Sale Deed) رہن رکھ کر Mortgage  بنکوں سے مزید سودی قرضے لیتے ہوئے دکانوں اور مکانوں کی تعمیر کا ایک طویل سلسلہ چل نکلتا ہے۔ پھر کیا تعجب کہ ایسی تعمیر میں مضمر خرابی ایسی ہو جیسی صادق و مصدوق ہمیں بتا گئے ہیں اور قیامت میں سود خوروں کے حرص و آز کے مسکن پیٹ ان دنیاوی ماڈل ( Global Village) کی اسکائی اسکریپر Sky Scraperکے مطابق مگر اُخروی تناسب سے بہت بڑے بنا دئیے جائیں گے۔ اگر سود خور آ سمان چھیلنے کا بے ہودہ نام اپنی تعمیرات کو دیتے ہیں تو آسمان والا جہنم میں یقینا انہیں ابد الاباد دہکتے ہوئے لوہے کے کنگھوں سے چھیلنے کے عذاب سے بھی نوازے گا اور کیا خوب کہ ان محلات پر نصب سیٹیلائٹ رسیورز اور ڈش ائنٹینے ان دوزخی سانپوں کے مشابہ ہوں جس کا تذکرہ حدیث بالا میں آیا ہے۔ یا یہ سانپ ان اینٹیناکے جوڑ ‘ تیزی سے بدلتے ہوئے جدید اور مختلف انواع کے Multimedia   آلات ابلاغ ‘ سے کرتے ہوئے کروڑوں ناظرین و سامعین کے سمع و بصر کے نظام کو زہر آلود کر رہے ہوں۔ اس زہر کے تریاق کی تلاش مفقود ہونے کے سبب گھناؤنے جنسی جرائم پر کمر بستہ شر پسند افراد کی لاٹری نکل آئی اور ملک میں انہوں نے فحاشی اور عریانی کے بے شمار اڈے کھول دئیے اور اندھا دھند غرق دریا ہوگئے۔

 اب ان لا حاصل خواہشات کے بندوں کے بارے  میں ہمارے حضور رسالت مآ ب کیا ارشاد فرما گئے ہیں مطالعہ کیجئے:“ پس قسم اللہ کی میں فقر و افلاس سے تمہارے لیے نہیں ڈرتا بلکہ اس بات سے ڈرتا ہوں کہ دنیا تم پر پھیلائی جائے گی جس طرح  تم سے پہلوں پر پھیلائی گئی اور جس طرح انہوں نے باہم رشک و تنافس کیا ، اسی طرح کہیں تم بھی نہ کرو اور تم بھی غافل نہ ہو جاؤ جس طرح وہ ہوگئے۔” (بخاری)
ایک اور جگہ ارشاد فرمایا :
“ اشرفیوں اور روپوں والے جھالر دار لباس والے سیاہ عبا والے سب گرے اور ہلاک ہوئے۔” (بخاری)
ایک اور جگہ ارشاد فرمایا :
“ اگر آدم کے بیٹے کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری کی تلاش میں مصروف ہوگا۔ اور آدم کے بچے کا پیٹ (یا آنکھ)  مٹی کے سوائے کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔”(بخاری)
پاک سر زمیں پر غلاظت اور گندگی کے ڈھیر پر انتہائی غریب عوام کے بچوں ، بوڑھوں اور نوجوانوں کے موت کا انتظار کرتے ہوئے لاشے نظر آنے لگے ہیں۔یہ قومی ہیومن ریسورس (Human Resource) کی دولت ہیروئین اور دیگر منشیات کی نذر ہوگئی۔ ان کے بدلے میں ڈرگ مافیہ معاشرہ کی سیاست اور معیشت پر چھا گیا اور وطن کو پنجہ اغیار پھنسا گیا۔
وطن کے ایک پہاڑی درے آدم خیل میں ہتھیار جہاد  فی سبیل اللہ کے لیے ذوق و جذبہ سے بنا کرتے تھے۔ اب قوم کی بد قسمتی ہے کہ شیطان نے اس پاکیزہ صنعت کا رخ تخریب کاری اور ڈکیتی کی طرف موڑدیا۔اب اس سے ایک اور مافیا وجود میں آگیا ہے یعنی ایک بلا دوسری بلا کو جنم دے رہی ہے۔ ان تمام مافیاؤں کی حرام رقومات سودی دلدل کو ہولناک انداز میں گہرا کرتی چلی جارہی ہیں اور اللہ اور اس کے رسول اللہ سے پاکستان کی جنگ نہ صرف شدت اختیار کرتی جارہی ہے بلکہ اس کے ختم ہونے کے آثار معدوم ہوتے جارہے ہیں۔
 ایسی دولت کی بے بضاعتی کا اظہار مالک الملک اس طرح کرتے ہیں :“ یقین رکھو جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور کفر کی ہی حالت میں جان دی ان میں سے کوئی اگر اپنے آپ کوسزا سے بچانے کے لیے روئے زمین بھر کر بھی سونا فدیہ میں تو اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔ ایسے لوگوں کے لیے دردناک سزا تیار ہے اور وہ اپنا کوئی مددگار نہ پائیں گے۔”( آل عمران :٩١)
کثیر تعداد میں پیدا ہونے والی بلاؤں کے غول کے غول پوری قوم پر اپنی سودی دولت سے خدائی جنگ کی شدت بڑھانے کی وجہ سے بے شمار مصائب کے بادل چھا گئے اور سود کے عظیم گناہ سے بچنے کا جو داعیہ لوگوں کے دلوں میں وقتاًفوقتاً ان کے ایمان کے تقاضوں کی بنیاد پر پیدا ہوتا رہا ، وائے افسوس ختم ہو چکا ہے۔ ١٩٨٠ کے عشرہ میں ایماندار طبقے نے اربوں روپے اکل حلال کمانے کے ذرائع میں اپنی معیشت کو ترویج دینے کے لیے لگائے۔مگر ملک کے سودی گماشتے گدھوں کی طرح ان پر ٹوٹ پڑے ۔ اب مہذب اور ترقی یافتہ اکیسویں صدی کا دور دورہ ہے۔ بے شمار بوڑھوں ، یتیموں اور بیواؤں کی دنیا اجڑ گئی بلکہ ان اجڑے ہوئے افراد میں سے بیشتر اللہ کو پیارے ہوگئے اور ایک نسل جوان ہوگئی۔ حکمران بشمول عدل و انصاف مہیا کرنے والے ادارے منقار زیر پر رہے۔   ؎            ناطقہ بر سر گریبان ، اسے کیا کہئے

عالمی پیمانے پر سودی گماشتوں کا آپس میں مضبوط گٹھ جوڑ ہوگیا۔ ملکی سطح پر ( جبکہ قدرت خداوندی ٤٠ سال قبل ملک کو بطور سزا دو لخت کر چکی تھی) حرام مال بغیر کسی لیت و لعل کے حلال کردیا گیا۔بالفاظ دگر کالا دھن سفید کرنا۔  ( Money Laundering )۔ اس طرح حرام کاری سے کمایا ہوا روپیہ حلال آمدنی پر غالب آگیا ، بڑھ گیا اور کافی بڑی مقدار میں ملک سے باہر فرار ہوگیا اور ہوتا چلا جارہا ہے۔ غیر ملکیوں کو کھلی آزادی ہے کہ وہ اس سرمایہ کو ملک کے اسٹاک ایکسچینج  سے ایک مرکھنے بیل (Bullish)  کی طرح یا برفانی ریچھ ( Bearish) کی مانند انتظار کرو اور ہڑپ کر جاؤ والی چالوں کے ذریعہ نکالے ہوئے سرمایہ کو ملک سے باہر تحفظ دینے والے جزائر میں ان کا انبار لگا دیں ۔ کیا یہ اپنے ہاتھوں اپنی جڑیں کھودنے کے مترادف نہیں۔ محاورةً کہا جاسکتا ہے کہ   ؎   اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔

 برطانوی اصول قانون کی متابعت کرتے ہوئے پاکستانی عدالت عُلیہ و عُظمیٰ نے نہ صرف سودی معاملات کو حلال کر رکھا ہے بلکہ متعلقہ مقدمات کا رخ فوجداری قوانین سے نتھی کرنے کی بجائے دیوانی طریقہ کار کی طرف موڑ دیا۔ شائد عدلیہ حالت تردد میں ہو کہ رب کائنات بہمراہ رسول اللہ نے (بحوالہ آیت ٢٧٩ سورة بقرہ ) صرف الٹی میٹم پر اکتفا کیا ہو اور جنگ نہ چھیڑی ہو۔
 معلوم ہونا چاہئے کہ خدائی افواج کی طاقت کیا ہے:“ اور تیرے رب کے لشکروں کو خود اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ “ (سورة المدثر : ٣١)
یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں کیسی کیسی مخلوقات پیدا کر رکھیں ہیں اور ان کو کیا کیا طاقتیں بخشی ہیں اور ان سے وہ کیا کیا کام لے رہا ہے ، ان تمام باتوں کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ایک چھوٹے سے کرہ زمین پر رہنے والا انسان اپنی محدود نظر سے اپنے گرد و پیش کی چھوٹی سی دنیا کو دیکھ کر اگر اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جائے کہ خدا کی خدائی میں بس وہی کچھ ہے جو اسے اپنے حواس یا اپنے آلات سے محسوس ہوتا ہے ، تو یہ اس کی اپنی ہی نادانی ہے۔ وگرنہ تو اس خدائی کا کارخانہ تو اتنا وسیع اور عظیم ہے کہ اس کی کسی ایک چیز کا بھی پورا علم حاصل کرلینا انسان کے بس میں نہیں ہے کجا یہ کہ اس کی ساری وسعتوں کا تصور بھی اس کے چھوٹے سے دماغ میں سما سکے۔

آج سے ٣٩ سال قبل پاکستان کے متفقہ آئین میں نہ صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو مقتدر اعلیٰ تسلیم کیا گیا ہو بلکہ ریاست کا دین بھی اسلام کو متعین کیا گیا ہو ، پھر سود سے پیچھا چھڑانے کا جتن تک نہ کرنا اور مالک الملک کے غضب کو بھڑکانا اپنی پوری قوم اور ملک کو جلد از جلد تباہی کے مہیب غار میں دھکیلنے کا موجب نہیں ہے تو اور کیا ہے۔ سب سے پہلا قدم ایک حکمران کے لیے عموما ً اور ایک منصف اعلیٰ کے لیے خصوصاً یہ سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ حلال (قانونی Legal/Judicial ) اور حرام (Void/Abinitio) کے مُطلق اختیارات صرف باری تعالیٰ کے ہیں ۔ قرآنی فیصلہ حسب ذیل ہے:
“ اور یہ جو تمہاری زبانیں جھوٹے احکام لگایا کرتی ہیں کہ یہ حلال ہے اور وہ حرام ، تو اس طرح کے حکم لگا کر اللہ پر جھوٹ نہ باندھا کرو۔ جو لوگ اللہ پر جھوٹے افتر ا باندھتے ہیں وہ ہر گز فلاح نہیں پاتے۔ دنیا کا عیش چند روزہ ہے۔ آخر کار ان کے لیے درد ناک سزا ہے۔”( سورة النحل:١١٦- ١١٧)
مندرجہ بالا آیات صاف تصریح کرتی ہیں کہ اللہ کے سوائے کوئی تحلیل و تحریم کا حق نہیں رکھتا۔ یا بہ الفاظ دیگر ، قانون ساز صرف اللہ ہے۔ دوسرا کوئی بھی ادارہ جو جائز اور نا جائز کا فیصلہ کرے گا وہ اپنی حد سے تجاوز کرے گا الا یہ کہ وہ قانون الٰہی کو سند مان کر اسکے فرامین سے استنباط( Deduce)  کرتے ہوئے یہ کہے فلاں چیز اور فلاں فعل جائز ہے اور فلاں ناجائز۔ ایک خود مختارانہ تحلیل و تحریم کو اللہ پر جھوٹ اور افترا اس لیے فرمایا گیا کہ جو شخص اور ادارہ اس طرح کے احکامات لگاتا ہے اس کا یہ فعل دو حال سے خالی نہیں ہوسکتا۔ اولا ً وہ اس بات کا دعوی کرتا ہے کہ جسے وہ کتاب الٰہی کی سند سے بے نیاز ہو کر جائز یا ناجائز کہ رہا ہے اسے خود اللہ نے جائز اور ناجائز ٹھہرایا ہے۔ ثانیا ً یہ کہ اس کا دعویٰ ہے کہ اللہ نے تحلیل و تحریم کے اختیارا ت سے  ( نعوذ باللہ)  دست بردار ہوکر انسان کو خود اپنی زندگی کی شریعت بنانے کے لیے آزاد چھوڑ دیا ہے۔ان میں سے جو دعویٰ بھی کیا جائے وہ لا محالہ جھوٹ اور اللہ پرافترا ہے۔
((جاری ہے۔۔۔۔۔))