میں معذرت نہیں کروں گا


الواقعۃ شمارہ 46 ربیع الاول 1437ھ

از قلم : خالد المعینا

پیرس حملوں میں 130 افراد کی ہلاکت کا واقعہ دس دن گزرنے کے باوجود ابھی تک میڈیا کی سرخیوں میں ہے اور دنیا بھر میں سوشل میڈیا کی توجہ کا اولین مرکز بھی بنا ہوا ہے۔ اس واقعہ سے چند دن قبل بیروت کے نواح میں ایک خودکش بمبار نے دھماکے سے 40 افراد کو ہلاک کر دیا تھا اور صحرائے سیناء میں روسی طیارہ مار گرایا گیا تھا جس میں 200 سے زائد مسافر ہلاک ہوئے تھے۔ دونوں واقعات کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔

کو پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

پیرس حملہ اور اس کے مضمرات


الواقعۃ شمارہ 46 ربیع الاول 1437ھ

از قلم : ابو عمار سلیم

فرانس کے شہر پیرس پر حملہ ہوتے ہی مغربی دنیا نے مسلمانوں کی طرف سے ایک اور دہشت گردی کی کارروائی کا پرچار کرنا شروع کر دیا۔ میڈیا نے اپنا پرانا راگ پورے جوش و خروش سے الاپا اس لیے کہ پوری دنیا کو یہ سمجھا دیا گیا ہے کہ مغربی ممالک میں جہاں کہیں بھی کوئی غیر انسانی کارروائی ہوگی وہ یقیناً مسلمان دہشت گردوں کی طرف سے ہوگی اورکھینچ تان کر اس کے تانے بانے ملا کر مسلمانوں کے سر اس کو منڈھ دیا جاتا ہے۔ نائین الیون سے جو کارروائی شروع ہوئی ہے وہ کسی طور بھی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ یہاں تک کہ میڈیا کے اس شر انگیز پراپیگنڈہ نے اب عام انسان کے دل میں یہ بات ڈال دی ہے کہ واقعی یہ کارروائی مسلم  انتہا پسندوں کی طرف سے ہو رہی ہے۔ پیرس پر حملہ ہوتے ہی مسلمانوں کے دل کانپ گئے اور بہت سے مسلمانوں نے سوشل میڈیا پرمنمناتے ہوئے مسلمانوں کی طرف سے صفائی پیش کرنے کی خاطر بہت کچھ لکھا مسلم دہشت گردوں کو برا بھلا کہا اور یوں لگا کہ معافی مانگنی شروع کر دی ہے۔ حق تو یہ ہے کہ میڈیا جو کچھ بھی بول رہا ہے اور دکھا رہا ہے وہ سب صرف اور صرف جھوٹ کا پلندہ ہے۔ ہم مسلمانوں نے یہ کارروائی کی ہی نہیں تو پھر نہ تو کسی صفائی کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی کے اس الزام کو ہمارے سر منڈھنے کی کوششوں کو قبول کرنے کی۔ بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ پوری امت اسلامی کی طرف سے ہر اسٹیج پر اس کا بطلان کیا جائے۔ حکومت کی طرف سے بھی اور امت اسلامی کے ائمہ کرام اور شیوخ عظام کی طرف سے بھی۔ اور اگر ضرورت ہو تو حکومتی سطح پر احتجاج اور سخت تردید کی بھی گنجائش بنتی ہے۔ مگر ہم ہیں کہ اپنی بے عزتی اور بدنامی برداشت کرنے میں انتہا درجے کی بے غیرتی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔اتنے دن گزرنے کے بعد اب یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ یہ تمام کارروائی اسی طرح کی اندرونی کارروائی یعنی  "Inside Job" ہے جیسے کہ نائین الیون کی کارروائی تھی۔ مغربی دنیا کا وہ سنجیدہ طبقہ جو تمام معاملات کو تعصب کی عینک کے بغیر دیکھتا ہے اور ہونے والے واقعات کو اچھی طرح چھان پھٹک کر اپنی رائے قائم کرتا ہے وہ اس بات کا بار بار اعادہ کر رہا ہے کہ مسلمانوں کو خواہ مخواہ پھنسایا جا رہا ہے۔

کو پڑھنا جاری رکھیں