اللہ تعالیٰ کی نا دیدہ افواج


الواقعۃ شمارہ: 98 – 100، رجب المرجب تا رمضان المبارک 1441ھ

از قلم : ابو عمار سلیم

سالِ رواں چین سے نکلنے والے کورونا وائرس کے خوف نے ساری دنیا کو اپنی لپٹ میں لے لیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے چین میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ اس وائرس میں مبتلا ہوئے اور چند دنوں کے اندر اس سے ہونے والی ہلاکتوں نے نہ صرف چین بلکہ تمام دنیا کو ایک ان دیکھے خوف میں جکڑ لیا۔ اس وائرس کا نہ تو کوئی توڑ دریافت ہوا ہے کو پڑھنا جاری رکھیں

اشارات – اداریہ


الواقعۃ شمارہ: 94 – 95، ربیع الاول و ربیع الثانی 1441ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

جس طرح کسی کی رواداری بے جا ہے اسی طرح کسی کا ہراس بھی غلط ہے۔ تم اپنی بزدلی کو وقت کے جبر کا نام نہیں دے سکتے۔ تاریخ کا بے لاگ فیصلہ کو پڑھنا جاری رکھیں

آئیں توبہ کریں


الواقعۃ شمارہ : 92 – 93، محرم الحرام و صفر المظفر 1441ھ

از قلم : ابو عمار سلیم

اللہ خالق کائنات نے جب انسان کو خلق کیا تو باری تعالیٰ کا مقصد روئے ارض پر اپنا نائب اور خلیفہ مقرر کرنا تھا۔ اس مالک کون و مکاں نے انسان کی خلقت میں اس کے مقصد حیات کے عین مطابق بہت ساری خصوصیات رکھیں جو اس کے عمل اور اس کے حیات ارضی کے لیے لازم و ملزوم تھیں۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

ارض پاک و ہند میں اصحاب رسول ﷺ کی آمد


الواقعۃ شمارہ : 88 – 89، رمضان المبارک و شوال المکرم 1440ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

ارضِ پاک و ہند میں رسول اللہ ﷺ کی دعوتِ اسلام و توحید کا چرچا خود عہد رسالت ہی میں ہو چکا تھا۔ تاہم پہلے پہل اصحابِ رسول ہی کے مبارک قدموں سے یہاں اسلام کی فاتحانہ آمد ہوئی۔ اصحابِ رسول کی یہاں فاتحانہ آمد کا آغاز رسول اللہ ﷺ کی وفات سے صرف 4 سال بعد 15ھ میں بعہدِ فاروقی ہوا۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

بھارت کا انتہا پسندانہ رویہ – اداریہ


الواقعۃ شمارہ : 88 – 89، رمضان المبارک و شوال المکرم 1440ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

ہندوستان کبھی تقسیم نہ ہوتا اور پاکستان کا قیام کبھی عمل میں نہ آتا اگر خود انتہا پسند ہندوؤں نے مسلمانوں کو تقسیم ملک کے لیے مجبور نہ کیا ہوتا۔ پاکستان کا وجود متعصبانہ ہندو ذہنیت کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ مسلمان دنیا کے کسی بھی مذہب کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ بہتر طریقے سے کسی بھی تکثیری سماج کا حصہ بننے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ مسلمان بخوشی اپنی دینی روایات کے ساتھ بھارت میں ہندوؤں کے ساتھ مل کر رہ سکتے تھے، جیسا کہ صدیوں سے رہ رہے تھے، وہ بھی ایسی صورت میں جب کہ وہ اقتدار پر فائز رہے تھے۔ لیکن جیسے ہی مسلمانوں کے اقتدار کا سورج غروب ہوا ہندتو کی متعصبانہ ذہنیت بیدار ہو گئی۔
قیام پاکستان کے قریبی پس منظر کو دیکھیں تو 1946ء میں بہار میں ہونے والے مسلم فسادات نے قیام پاکستان کے مطالبے کو ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کروادیا۔ پھر تقسیم کے موقعہ پر جس طرح مشرقی پنجاب کے اضلاع میں مسلمانوں خون بہایا گیا اس نے ثابت کر دیا کہ ہندو مسلمانوں کو قبول کرنے کے لیے دل سے تیار نہ تھے۔
تقسیم ہند کو 70 برس سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، مگر افسوس ہندوئوں کا مذہبی جنون ہنوز برقرار ہے۔ بھارت میں اس وقت ہندوؤں کی واضح اکثریت ہے۔ مسلمانوں کی آبادی خود بھارتی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 14 سے 15 فیصد ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہندو ذہنیت مسلمانوں کو ایک اقلیت کے طور پر بھی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یقیناً ہندو مت کے ماننے والے سب ایسے نہیں ہیں۔ لیکن انتہا پسندانہ ہندتو کا فلسفہ تیزی سے بھارتی قوم کا عکاس بنتا جا رہا ہے۔ جب بار بار عوام انتہا پسندانہ سوچ رکھنے والی قیادت منتخب کریں تو اس سے یہی تآثر ابھرے گا اور دنیا ہندتو کو بھارتی قوم کا نہ سہی لیکن بھارت کی اکثریتی آبادی کا بیانیہ ضرور سمجھے گی۔
مودی کی گزشتہ حکومت بھی بھارت میں نہ صرف مسلمانوں بلکہ دیگر اقلیتی مذاہب کے لیے بھی انتہائی تکلیف دہ رہی۔ صرف الیکشن جیتنے کی خاطر جس طرح مودی حکومت نے پاکستان کے خلاف نفرت کی فضا پیدا کی اور سرحد پار در اندازی کی کوشش کی، اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہو سکتے تھے۔ مودی حکومت کو انتخابات میں واضح اکثریت کے ساتھ کامیابی مل گئی لیکن اس کامیابی نے خطے کا امن دائو پر لگا دیا۔ کامیابی کے نشے سے سرشار انتہا پسند ہندوؤں نے مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے۔ حال ہی میں جھاڑکھنڈ میں جس طرح مظلوم تبریز انصاری کو ایک مجمع نے جئے شری رام بولنے کے لیے اجتماعی تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد میں پولیس کی حراست میں اس کی موت واقع ہوئی اس نے نہ صرف بھارت کے امن پسند افراد کو خواہ وہ کسی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں جھنجھوڑ کر رکھ دیا بلکہ دوسری طرف امریکا جو بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک پر کم ہی کچھ کہتا ہے، اس کی مذہبی آزادی کی رپورٹ میں بھارت میں ہونے والے انتہا پسندانہ واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تبریز انصاری کے قتل کی تفتیش کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ جس پر بھارت کی ہٹ دھرمی اس حد تک رہی کہ اس نے اس مطالبے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے بھارت کا اندرونی مسئلہ قرار دیا۔ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے وہ دنیا کی انسانیت کو بیدار کرنے کے لیے کافی ہے۔ کشمیر میں ریاستی جبر و استحصال گزشتہ 70 سالوں سے جاری ہے۔ اقوام متحدہ کی قرار داد کے باوجود بھارت نے کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت نہیں دیا۔
بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف ہونے والے پُر تشدد واقعات کے بعد بھارتی حکومت اس لائق ہے کہ اسے ایک دہشت گرد حکومت قرار دیا جائے۔ کم سے کم اسلامی ممالک کی مشترکہ تنظیم او، آئی، سی کو چاہیے کہ وہ اس پر اپنا بھرپور احتجاج ریکارڈ کرائے۔
مودی حکومت بھارت کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں تو ناکام رہی لیکن اس نے جذبات کو انگیخت کر کے قوم کو انتشار کی جس راہ پر لگایا ہے اس کا یقینی نتیجہ ہلاکت و بربادی ہے۔ بھارت میں رہنے والے انسانیت پسند افراد – خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو، بالخصوص ہمارے وہ بھائی جو ہندو مت سے تعلق رکھتے اور ساتھ ہی دوسرے مذاہب کی بھی عزت کرتے ہیں اور ان کے حقوق تسلیم کرتے ہیں- کو چاہیے کہ ظلم و نا انصافی کے خلاف اپنی آواز بلند کریں اپنے معاشرے کو تباہی سے بچائیں کیونکہ ان حالات میں ان کی خاموشی پوری قوم کی یقینی بربادی کے مترادف ہے۔

سانحہ کرائسٹ چرچ اور امت مسلمہ کا رویہ


الواقعۃ شمارہ: 86 – 87، رجب المرجب و شعبان المعظم 1440ھ

از قلم : ابو عمار سلیم

جمعۃ المبارک ۱۵ مارچ ۲۰۱۹ء کے دن نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں کچھ دہشت گردوں نے مسلمانوں کی دو مساجد پر مسلح حملہ کیا اور درجنوں نہتے اور بے گناہ مسلمانوں کو اپنی گولیوں سے چھلنی کر دیا۔ اب تک کی خبروں کے مطابق تقریباً پچاس مسلمان شہید ہوئے اور کو پڑھنا جاری رکھیں

جدید ٹیکنالوجی: مسیح الدجال کی خدمت میں


الواقعۃ شمارہ: 82 – 85، ربیع الاول تا جمادی الثانی 1440ھ

اشاعت خاص : فتنہ دجالیت

از قلم : ابو عمار سلیم

کرہ ارض پر بسنے والے تمام انسانوں کی زندگیوں کو اللہ تعالیٰ نے ایک آزمائش اور امتحان کے لیے بنایا ہے۔ بلکہ یوں کہیں کہ جب اللہ نے آدم علیہ السلام کی تخلیق کا ارادہ کیا تھا تو فرشتوں کو یہ خبر دی تھی کہ میں زمین پر اپنا خلیفہ اور نائب بناؤں گا۔ یقیناً اللہ رب العزت نے جو تمام حاضر اور غائب کا علم رکھنے والا ہے اور بہترین پلان بنا نے والا ہے، اپنے نائب اور خلیفہ کی آزمائش کا بھی بندوبست کر رکھا ہو گا۔ اور اس آزمائش کا بنیادی مقصد اس بات کو پڑھنا جاری رکھیں

دجالی میڈیا کی حقیقت


الواقعۃ شمارہ: 74 – 75، رجب المرجب و شعبان 1439ھ

از قلم : سید خالد جامعی

میڈیا کا کام ہی یہ ہے کہ خودساختہ خیالات، اوراِصطفائیت یا انتخابیت

(Electicism)

کے طریقے سے ایک خود ساختہ حقیقت تعمیر کر دی جائے جو حقیقت کی دنیا میں کوئی وجود نہ رکھتی ہو مثلاً عالم آن لائن کے پروگرام میں ’’علماء عوام کی عدالت‘‘ میں ایک اینکر نے علماء سے پوچھا پاکستانی معاشرے میں ظلم بڑھ رہا ہے اس کی وجہ علماء ہیں وہ منبرو محراب سے ظلم کے خلاف آواز نہیں اُٹھاتے۔ علماء نے اپنی کو پڑھنا جاری رکھیں

خون بدل، آہ بلب، اشک بمژگاں آید – اداریہ


الواقعۃ شمارہ: 74 – 75، رجب المرجب و شعبان 1439ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

آج ہم تاریخ کے اس موڑ پر کھڑے ہیں جہاں ہمارے پاس اپنی عظمت رفتہ کو یاد کرنے کے لیے تو بیش قیمت سرمایہ موجود ہے مگر خود اپنے حال کی زبوں حالی پر اشک بہانے کے لیے اسباب و وجوہ کی کمی نہیں۔ عظمتِ رفتہ کے نقوش کتنے ہی شاندار کیوں نہ ہوں لیکن زمانہ حال کی پسماندگی کو دور نہیں کر سکتے۔ ہم اپنے شاندار ماضی کو کتنا ہی آراستہ کرکے دنیا کے سامنے کو پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان : ایک دوراہے پر


الواقعۃ شمارہ: 72 – 73 جمادی الاول جمادی الثانی 1439ھ

از قلم : ابو عمار سلیم

۔ 2018ء کی آمد سے قبل ہی پاکستان ایک عجیب و غریب صورت حال سے دو چار ہو گیا ہے اور یہ تصویر روز بروز زیادہ پراگندہ ہوتی اور خرابی کی طرف بڑھتی نظر آ رہی ہے۔ یہ مملکت جو اسلام کے نام پر قائم ہوا تھا اپنے قیام کے فوراً بعد ہی اور سب کچھ ہو گئی اسلامی نہ رہی۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

امت مسلمہ کی غفلت – اداریہ


الواقعۃ شمارہ: 72 – 73 جمادی الاول جمادی الثانی 1439ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

نئے عیسوی سال کی آمد کے ساتھ امت مسلمہ نئے مشکلات سے ہمکنار ہوئی۔ طاغوتی قوتوں کی پیش قدمی مسلسل جاری ہے اور امت مسلمہ کی غفلت اور سراسیمگی بدستور بر قرار۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

آئیے ! خاتمہ خیر کا نوحہ پڑھ لیں – اداریہ


الواقعۃ شمارہ : 61-62، جمادی الثانی و رجب المرجب 1438ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

ابھی کل کی بات تھی کہ ہمارے قلم نے حلب کی سر زمین پر آتش باری کا نوحہ لکھا تھا اور آج ادلب کی سوگوار فضا کا المیہ در پیش ہے۔ ارباب آئین و ریاست ہوں یا اصحاب منبر و محراب یا پھر ہنر مندانِ قلم و قرطاس کسی کے پاس فرصت نہیں کہ دم توڑتی لاشوں اور خوف و ہراس کی سراسیمہ فضاؤں پر ایک حرف تعزیت ہی ادا کریں۔ نغمہ شادی کے متوالوں کے پاس نوحہ غم کی فرصت کہاں ؟ کو پڑھنا جاری رکھیں

جنرل راحیل شریف


الواقعۃ شمارہ : 58 ، ربیع الاول 1438ھ

از قلم : ابو عمار سلیم

پاکستان کی افواج کا شمار مملکت کے تمام سرکاری اداروں میں سر فہرست رہا ہے۔ ماضی میں بھی اور موجودہ دور میں بھی، بیشتر مواقع پر فوج کے کردار سے پوری قوم نے اتفاق کیا اور اس پر اپنے مکمل بھروسے اور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ہر مشکل گھڑی میں فوج نے اپنی جان جوکھم میں ڈال کر قوم کے مفاد اور حکومتی احکامات کو بجا لانے میں کسی کوتاہی کا ارتکاب نہیں کیا۔ پاکستانی اداروں کا تو یہ حال ہے کہ قوم ہر کام کے لیے فوج کی طرف دیکھتی ہے۔ کو پڑھنا جاری رکھیں