علم کے نام پر بے علمی کی باتیں


الواقعۃ شمارہ : 64-65، رمضان المبارک و شوال المکرم 1438ھ

از قلم : ابو نصر فاروق

الرَّحْمَنُ (۱) عَلَّمَ الْقُرْآنَ (۲) خَلَقَ الْاِنسَانَ (۳) عَلَّمَہُ الْبَیَانَ (۴) (الرحمن: ۱-۴)
"رحمن نے قرآن کی تعلیم دی۔ اُس نے انسان کو پیدا کیا اور اُسے بولنا سکھایا۔”
اقْرَأْ وَرَبُّکَ الْأَکْرَمُ (۳) الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ (۴) عَلَّمَ الْاِنسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ(۵)(العلق : ۳-۵)
"‘پڑھو اور تمہارا ر ب بڑا کریم ہے، جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا۔انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا۔”
اہل دنیا کے پاس حیات و کائنات سے متعلق جتنی معلومات ہیں اُن کا ایک ذریعہ تو اللہ اور اُس کے آخری نبی ﷺ کے اقوال ہیں۔ اور دوسرا ذریعہ انسانوں کا قیاس و گمان اور آدھی ادھوری پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

شمع رسالت ﷺ کا ایک پروانہ


الواقعۃ شمارہ 55 ذی الحجہ 1437ھ

اشاعت خاص : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ

از قلم : محمد زبیر شیخ ( ملتان)

تاریخ اسلام کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو بہت سی خصوصیات سے نوازا ہے۔ ان مختلف الجہت خصوصیات میں سے ایک خصوصیت وہ رجال اللہ ہیں جنہیں تاریخ میں بلند مقام حاصل ہے۔ خصوصاً صحابہ کرام کی زندگیاں ہمارے لیے روشن مثال ہیں۔ اس مضمون میں انہی ہستیوں میں سے ایک منفرد ہستی کا تذکرہ کیا جا رہا ہے جن کی زندگی کفر کی موت تھی۔ وقت کی دھول بھی ان کی تابندہ سیرت کو دھندلا نہیں سکی۔ جو شرم وحیاء کا پیکر تھی۔ (مسلم: ۲۴۰۱) پڑھنا جاری رکھیں

ان شاء اللہ کے ساتھ مذاق


الواقعۃ شمارہ 47 ربیع الثانی  1437ھ

از قلم : ایس ، اے ، ساگر

صبح سے شام تک انسان اپنی بول چال میں جانے کتنی مرتبہ کوئی وعدہ یا ارادہ کرتا ہے۔کیا ہی اچھا ہو کہ اس موقع پر یہ یقین کر لیا جائے کہ یہ اللہ کی مرضی کے بغیر بھلا کیسے ہو سکتا ہے، اسی نیت کے ساتھ مختصر سا جملہ ” ان شاء اللہ ” کہنے میں کچھ خرچ نہیں ہوتا ۔لیکن اس کا کیا کیجئے کہ بعض بدنیت قسم کے لوگوں نے اس کلمہ استثنا کو اپنی بد نیتی پر پردہ ڈالنے کے لیے ڈھال بنا رکھا ہے مثلاً ایک شخص اپنے سابقہ قرضہ کی ادائیگی یا  نئے قرض کے لیے قرض خواہ سے ایک ماہ کا وعدہ کرتا ہے اور ساتھ ان شاء اللہ بھی کہہ دیتا ہے مگر اس کے دل میں یہ بات ہوتی ہے کہ اپنا کام تو چلائیں پھر جو ہوگا دیکھا جائے گا اور جب مدت مقررہ کے بعد قرض خواہ اپنے قرض کا مطالبہ کرتا ہے تو کہہ دیتا کہ اللہ کو منظور ہی نہ ہوا کہ میرے پاس اتنی رقم آئے کہ میں آپ کو ادا کرسکوں وغیرہ وغیرہ عذر پیش کر دیتا ہے۔ ایسے بد نیت لوگوں نے اس کلمہ استثناء کواس قدر بدنام کر دیا ہے کہ جب کوئی اپنے وعدہ کیساتھ ان شاء اللہ کہتا ہے تو سننے والا فوراً کہتا ہے کہ اس کی نیت بخیر نہیں ہے جبکہ یہ اللہ کی آیات سے بد ترین قسم کا مذاق ہے جس کا کوئی صاحب ایمان شخص تصور بھی نہیں کر سکتا۔ پڑھنا جاری رکھیں

جذبہ ایثار اور ہمارے روّیے


الواقعۃ شمارہ 47 ربیع الثانی  1437ھ

از قلم : سید عزیز الرحمٰن

اخلاق حمیدہ میں سے ایک ایثار بھی ہے، اور حضور اکرم نبی مکرم ﷺ کے جس اسوۂ حسنہ اور خلق عظیم کی اتباع کی ہمیں تاکید کی گئی ہے، ایثار کی صفت بھی اس کا ایک اہم جز ہے۔ ایثار کیا ہے ؟ ایثار دوسروں کی ضرورتوں کو اپنے اوپر ترجیح دینے اور انہیں اپنی ضرورتوں پر فوقیت دینے کا نام ہے خود بھوکے رہ کر دوسروں کو کھلانا، خود تکلیف اٹھا کر دوسروں کو راحت پہنچانا۔ اس اعتبار سے یہ جود و سخا اور فیاضی کا اعلیٰ ترین اور سب سے آخری درجہ ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں