نمک حرام کی حویلی اور رنگ محل کا باسی


الواقعۃ شمارہ: 74 – 75، رجب المرجب و شعبان 1439ھ

از قلم : مولانا محمد ابو القاسم فاروقی ، بنارس

مولوی بشیر الدین دہلوی نے "واقعات دار الحکومت دہلی” کی جلد دوم میں ایک عجیب و غریب حویلی کا ذکر کیا ہے، جو بہت خوب صورت اور عالی شان تھی، لیکن اس کا نام نمک حرام کی حویلی تھا، اس نام نے حویلی کے سارے حسن کو غارت کر دیا تھا، نام کس طرح کردار کا استعارہ بن جاتا ہے، اس کی مثال یہ حویلی تھی، در اصل مرہٹوں کو پڑھنا جاری رکھیں

سیرت فاروق کے چند اوراق


الواقعۃ شمارہ 44 – 45 محرم و صفر 1437ھ

اشاعت خاص : سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ

از قلم : مولانا غلام رسول مہر

تھوڑے دنوں میں اسلام کی فوجوں نے ایران ، شام اور مصر کے ملک فتح کر لیے۔ اسلامی سلطنت کی حدیں دور دور تک پہنچ گئیں۔ صحابہ کو خیال آیا کہ خلیفۃُ المسلمین کے گزارہ کی جو رقم ہم نے مقرر کی ہے وہ بہت تھوڑی ہے۔ اسے زیادہ کر دینا چاہیے۔ لیکن کسی میں اتنی ہمت نہ تھی کہ حضرت عمر کے ساتھ کھل کر یہ بات کر سکے۔ کافی سوچ بچار کے بعد آپ کی صاحبزادی ام المومنین حفصہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ آپ مہربانی کر کے یہ بات اپنے ابا جان سے منوا دیجیے۔خلیفہ اوؔل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب اس دنیا سے رخصت ہوئے تو آپ کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا۔ حضرت عمر بھی خلیفہ اول کی طرح تجارت کیا کرتے تھے۔ جب خلیفہ بنے کاروبار ترک کرنا پڑا۔ چنانچہ کبار صحابہ نے مشورہ کر کے آپ کا وظیفہ مقرر کر دیا۔ جس سے آپ کے اہل و عیال کا بمشکل گزارہ ہوتا تھا۔ حضرت عمر نے خوشی سے وہ وظیفہ قبول کر لیا۔

کو پڑھنا جاری رکھیں