حضرت علی رضی اللہ عنہ : افراط و تفریط کے درمیان


الواقعۃ شمارہ : 76 – 77 رمضان المبارک و شوال المکرم 1439ھ

اشاعت خاص : سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

زبان رسالتِ مآب ﷺ نے اپنے بعض اصحابِ کرام کو بعض جزوی وصف کی بنا پر بعض گزشتہ انبیاء سے تشبیہ دی۔ سیدنا صدیق اکبر سے متعلق فرمایا کہ یہ سیدنا ابراہیم کے مشابہ ہیں۔ فاروقِ اعظم کی جلالی طبیعت کے پیش نظر ان کے جلال کو جلالِ موسوی کو پڑھنا جاری رکھیں

غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ : دستور پاکستان اور قادیانیت


الواقعۃ شمارہ 48 - 49 جمادی الاول و جمادی الثانی 1437ھ

از قلم : شکیل عثمانی

حال ہی میں وطنِ عزیز کے ممتاز دانش ور، جناب جاوید احمد غامدی کا ایک مضمون "اسلامی ریاست : ایک جوابی بیانیہ” ان کے ماہنامہ "اشراق” لاہور اور چند دوسرے رسائل اور جرائد میں شائع ہوا ہے۔ موضوع کی اہمیت اور اپنے سنجیدہ اور علمی اندازِ بیان کے سبب یہ مضمون گہرے غور و فکر کا متقاضی ہے۔ اس لیے بھی کہ یہ ملک میں جاری اسلام اور سیکولر ازم کی اُس کشمکش کی عکاسی کرتا ہے، جس کے دور رس نتائج ہوں گے۔ ذیل کی سطور میں مضمون کے صرف چند نکات کا اختصار سے جائزہ لیا جاتا ہے۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

مولانا عبد السمیع جعفری صادق پوری


الواقعۃ شمارہ 46 ربیع الاول 1437ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

علمی و دینی حلقوں میں یہ خبر یقیناً حزن و ملال کے ساتھ سنی جائے گی کہ امارت اہل حدیث صادق پور پٹنہ ( ہند ) کے امیر ، مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن ، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے رکن ، ابو الکلام آزاد بیداری سینٹر کے رکن اور متعدد دینی و فلاحی اداروں و انجمنوں کے سرپرست و رکن مولانا عبد السمیع جعفری صادق پوری 4 اور 5 اکتوبر کی درمیانی شب کو انتقال فر ما گئے۔ وہ صادق پور کے مشہور انام مجاہد خانوادے سے تعلق رکھتے تھے۔ انگریز دشمنی میں یہ خاندان خصوصی شہرت رکھتا تھا۔ سیّد احمد شہید کے شہادت کے بعد اسی خاندان کے معزز اراکین نے تحریک جہاد کی باگ دوڑ سنبھالی۔ مولانا ولایت علی ، مولانا عنایت علی ، مولانا عبد اللہ ، مولانا عبد الکریم وغیرہم جماعت مجاہدین کے امیر بنے۔ اندرونِ ہند بھی اسی خاندان کے دیگر اراکین نے تحریک کی قیادت کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ مولانا یحیٰ علی ، مولانا احمد اللہ ، مولانا عبد الرحیم کو اسی پاداش میں کالا پانی کی سزا ہوئی۔ انگریزوں نے ان پر سازش کے مقدمات قائم کیے۔ جائیدادوں کی ضبطی ہوئی۔ حتیٰ کہ خاندانی قبرستان تک کو مسمار کر دیا گیا۔ ان کی  مجاہدانہ ترکتازیوں کا اعتراف ہر طبقہ فکر نے کیا۔ مولانا سیّد ابو الحسن علی ندوی اپنی کتاب ” جب ایمان کی بَہار آئی ” میں لکھتے ہیں :

کو پڑھنا جاری رکھیں