احکام قضاء سے متعلق حضرت عمر کا ایک مکتوب


الواقعۃ شمارہ 44 – 45 محرم و صفر 1437ھ

اشاعت خاص : سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ

از قلم : ابو محمد معتصم باللہ

مکتوب گرامی حسب ذیل ہے :احکام قضاء سے متعلق حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایک بیش قیمت مکتوب گرامی ملتا ہے جو انہوں نے سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو لکھا تھا جب وہ بصرہ کے گورنر تھے۔ گو اس مکتوب کی اسناد ضعیف ہیں مگر اس روایت کے شواہد اور متابعات ملتے ہیں۔ احکام قضاء سے متعلق اس کے متن سے قضاۃ استفادہ کرتے ہیں مشہور مؤرخ و قاضی امام ابن خلدون نے بھی اپنے مقدمہ میں اسے درج کیا  ہے۔ امام دارقطنی نے اپنی سنن میں اور امام بیہقی نے ” معرفۃ السنن و الآثار ” میں اسے روایت کیا ہے۔

کو پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

خون ناحق


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ 12-13، جمادی الاول، جمادی الثانی 1434ھ/ مارچ، اپریل 2013

محمد جاوید اقبال

سورہ روم میںرب تعالیٰ کا فرمان ہے:
( ظَھَرَالْفَسَادُ فیْ الْبَرّ وَ الْبَحْر بمَا کَسَبَتْ أَیْدیالنَّاس لیُذیْقَھُم بَعْضَ الَّذیْ عَملُوا )
“ زمین اور سمندر میں فساد پھیل گیا لوگوں کے اعمال کے باعث تاکہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے اپنے  اعمال کا مزہ چکھائے ۔“ (الروم  41)
 اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کو زمین میں اپنا نائب بنایا تھا اور اس کی ہدایت کے لیے ہردور اور ہرملک میں رسول اور نبی بھیجے۔ اس کے باوجود انسانوں کی بڑی تعداد اچھے انسان کی طرح رہنے پر تیار نہ ہوئی اور جانوروں کی سطح پر زندگی بسر کرتی رہی ۔ اس کاسبب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے لطف و کرم کے سبب لوگوں کو ان کے گناہوں پر فوراً گرفت نہ کرتے تھے۔ بلکہ انہیں سنبھلنے کے لیے کافی وقت دیتے تھے۔لیکن مغرور انسان یہ سمجھتے تھے کہ ان کی گرفت کبھی ہوگی ہی نہیں۔سورہ شوریٰ کی تیسویں آیت کا مفہوم ہے: “ تم پر جو مصیبت آتی ہے ، وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے اور کتنے گناہ تو ہم معاف ہی کر دیتے ہیں۔” کو پڑھنا جاری رکھیں