حلب نہیں، امت مسلمہ کا قلب جل گیا ہے


الواقعۃ شمارہ : 58 ، ربیع الاول 1438ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

شام کی سر زمین مسلمانوں کے خون سے سرخ آلود ہوگئی۔ کبھی یہاں خوب صورت باغات تھے اور لہلہاتے گلستاں۔ لیکن اب یہ اجڑا دیار ہے، جہاں گلتی سڑتی لاشوں کی بو اور مسمار ہوتی عمارتوں کا ملبہ ہے۔ آئندہ نسلیں جب کبھی یہاں فصل کی بوج بوئیں گی تو مجھے یقین ہے اس فصل میں شامی مسلمانوں کے خون کی بو بھی در آئے گی۔ سنا ہے کہ یہاں زیتوں کے باغات بھی ہوا کرتے تھے اور اپنے معیار کے اعتبار سے یہ دنیا کے عمدہ ترین زیتون ہوتے تھے لیکن آئندہ نسلیں جب زیتون کے باغات کی آبیاری کریں گی تو کچھ بعید نہیں کہ یہاں کے زیتون کے رنگ میں مسلمانوں کے لہو کی آمیزش بھی ہو۔

فرعون مر گیا ، مگر فرعون محض ایک شخص نہیں تھا جو مر جاتا، وہ درندگی کی علامت تھا۔ انسانی حیوانیت کی معراج تھا۔ بچوں کو قتل کرنے کی جو رسم اس نے شروع کی تھی آج کی اس مہذب دنیا میں اس کے پیروکار اسی فرعونی رسم کا احیاء کر رہے ہیں۔ بشار الاسد کو بشارت ہو دنیا اسے کبھی نہیں بھولے گی۔ وہ اسلامی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ اس کی فرعونیت، بہیمیت اور درندگی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ اس نے تاریخ میں اپنے لیے اسی کردار کو منتخب کیا ہے تو اسے اسی عنوان سے یاد بھی رکھا جائے گا۔

زمین پر گرنے والاخون اگر مسلمانوں کا ہو تو نہ حقوق انسانی کے سب سے بڑے علمبردار امریکا کو کوئی تکلیف ہوتی ہے اور نہ ہی اشتراکیت زدہ روس کو۔ اقوام متحدہ بھی ایسے موقع پر خاموشی اختیار کرلیتی ہے۔ مظلومانِ شام کی بربادی میں ان سب کا مشترکہ کردار ہے۔

اور داعش کا خلیفہ کہاں ہے !! تاریخ کا وہ لمحہ یاد کرو، جب تاتاریوں میں گھری ایک عورت وا معتصماہ پکارتی ہے اور عباسی خلیفہ معتصم باللہ اس کی مدد کے لیے نکل پڑتا ہے۔ شام کی کتنی ہی مظلوم عورتیں اپنی عزت و عصمت کی حفاظت کرتے ہوئے اپنے ہی ہاتھوں ابدی نیند سو گئیں مگر خلافت اسلامیہ کے اس دعویے دار خلیفہ کی رگ حمیت نہ جاگی۔

اور وہ جو ہر سال القدس کی آزادی کی لیے ریلیاں نکالتے ہیں۔ اسی القدس پر غاضبانہ قبضہ کرنے والے اسرائیل کے ساتھ مل کر حلب کی سر زمین پر مسلمانوں کا لہو بہا رہے ہیں۔

تفو بر تو اے چرخ گرداں تفو

افسوس اس بات کا نہیں کہ حلب جل گیا افسوس تو اس بات کا ہے کہ امت مسلمہ کا قلب جل گیا ہے۔ آج ایک ارب مسلمانوں میں ایسے دو ہاتھ بھی نہیں جو بارگاہ الٰہی میں اٹھیں تو خالی نہ لوٹائے جائیں اور ایسی ایک زبان بھی نہیں جس کی صدائے دل سوز عرش الٰہی تک پہنچ کر مرتبہ اجابت حاصل کرسکے۔

یہ سب ہماری بد عملی کی سزا ہے۔ ہم بد عمل ہیں اسی لیے "وھن” کی بیماری میں مبتلا ہیں۔ لیکن وہ سب جو آج مظلوم مسلمانوں کے لہو سے اپنے ہاتھ رنگ رہے ہیں۔ خواہ شام و عراق میں ہوں یا فلسطین و کشمیر میں اور یا میانمار و فلسطین میں، بخوبی جان لیں جس دن ہم نے اپنے بد عملی سے توبہ کرلی وہ دن ان کے لیے انتہائی سخت دن ہوگا۔ ایک ایسا دن جسے چشم فلک نے آج تک نہیں دیکھا۔

اے اقوام تہذیب کے علمبردارو !

اے مساوات انسانی کے دعویدارو !

اور اے امت مسلمہ کی وحدت کا پرچار کرنے والے منافقو!

ڈرو اس دن سے جب ہم اپنے سر نہیں روح اللہ کی بارگاہ میں جھکا دیں گے۔

ڈرو اس دن سے جب ہم اپنے نفسوں کی نہیں صرف اللہ واحد قہار کی پرستش کریں گے۔

ڈرو اس دن سے جب زندگی ہمارے لیے بوجھ اور موت اللہ سے ملاقات کا ذریعہ بن جائے گی۔

ڈرو اس دن سے جب تمہارے پاس ہمیں ڈرانے کے لیے کچھ باقی نہیں رہے گا۔

کیونکہ وہ دن ہماری تاریخ بھی بدل دے گا اور تمہاری تاریخ بھی۔

٭-٭-٭-٭-٭

Advertisements

ہمارے بے اثر رمضان


الواقعۃ شمارہ 51 – 52 ، شعبان المعظم و رمضان المبارک 1437ھ

از قلم : ابو عمار سلیم

ہمارے دین اسلام کی تمام عبادتوں کا مقصد انسان کو اللہ کے قریب کرنا اور خشیت الٰہی میں اضافہ کرنا ہے۔ نماز، روزہ، حج اور زکوٰة سب کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے اندر ایسی پاکیزگی پیدا ہو جائے جہاں اللہ کی عظمت اور اس کے مالک کل ہونے کا احساس اس طرح جاں گزیں ہو جائے کہ اللہ کی رضا سے الگ نہ کوئی زندگی کا مصرف رہے اور نہ ہی زندگی گزارنے میں اس کے احکامات کی پامالی کا ذرہ برابر اندیشہ ہو۔ نماز ہمارے اند ر نہ صرف خشوع و خضوع پیدا کرتی ہے اور اللہ کے حضور حاضری کا احساس اجاگر کرتی ہے بلکہ یہ ہماری اس طرح تربیت کرتی ہے کہ ہم ہر لمحہ اپنے اللہ کے حضور جھکے رہیں اس کے آگے سجدہ ریز رہیں، اپنے گناہوں کی معافی مانگتے رہیں اور اس کے احکامات پر عمل پیرا رہنے کا عزم کرتے رہیں۔ یوں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اللہ رب العزت کے خالق و مالک ہونے کا احساس ہمارے دلوں میں راسخ پڑھنا جاری رکھیں

ایمان اور اطاعت


الواقعۃ شمارہ 50 ، رجب المرجب 1437ھ

از قلم : مولانا ابو الاعلیٰ مودودی

مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کی یہ نادر تحریر مولانا محمد جوناگڑھی کے "اخبارِ محمدی” دہلی کی 15 دسمبر 1942ء کی اشاعت میں طباعت پذیر ہوئی تھی۔ اس قیمتی مضمون میں مسلمانوں کو جس بھولے ہوئے سبق کی یاد دہانی کرائی گئی تھی اس کی ضرورت اِس دور میں اُس دور کی بہ نسبت کہیں شدید ہے، افادہ عام کی غرض سے اس کی طباعت نو کی جا رہی ہے۔ ( ادارہ )

*-*-*-*-*

اجتماع خواہ وہ کسی نوعیت کا ہو اور کسی غرض و غایت کے لیے ہو اپنے قیام و استحکام اور اپنی کامیابی کے لیے دو چیزوں کا ہمیشہ محتاج ہوتا ہے ۔ ایک یہ کہ جن اصولوں پر کسی جماعت کی تنظیم کی گئی ہو وہ اس پوری جماعت اور اس کے ہر ہر فرد کے دل و دماغ میں خوب بیٹھے ہوئے ہوں اور جماعت کا ہر فرد ان کو ہر چیز سے زیادہ عزیز رکھتا ہو ۔ دوسرے یہ کہ جماعت میں سمع و طاعت کا مادہ موجود ہو ۔ یعنی اس نے جس کسی کو اپنا صاحب امر تسلیم کیا ہو اس کے احکام کی پوری طرح اطاعت کرے۔ اس کے مقرر کیے ہوئے ضوابط کی سختی کے ساتھ پابندی کرے اور اس کی حدود سے تجاوز نہ کرے۔ یہ ہر نظام کی کامیابی کے لیے نا گزیر شرطیں ہیں ۔ کوئی نظام خواہ وہ نظام عسکری ہو یا نظام سیاسی یا نظام عمرانی یا نطام دینی، ان دونوں شرطوں کے بغیر نہ قائم ہو سکتا ہے نہ باقی رہ سکتا ہے اور نہ اپنے مقصد کو پہنچ سکتا ہے۔

دنیا کی پوری تاریخ اٹھا کر دیکھ جائیے آپ کو ایک مثال بھی ایسی نہیں ملے گی کہ کوئی تحریک منافق، نا فرمان اور غیر مطیع پیرووں کے ساتھ کامیاب ہوئی ہو یا بدرجہ اخر چل سکی ہو ۔ تاریخ کے صفحات میں بھی جانے کی ضرورت نہیں خود اپنے گرد و پیش کی دنیا ہی پر ایک نظر ڈال لیجیے آپ اس فوج کے متعلق کیا رائے قائم کریں گے جو اپنی سلطنت کی وفادار اور اپنے سالارِ لشکر کی مطیعِ فرمان نہ رہے۔ جس کے سپاہی فوجی ضوابط کی پابندی سے انکار کریں۔ پریڈ کا بگل بجے تو کوئی سپاہی اپنی جگہ سے نہ ہلے۔ کمانڈر کوئی حکم دے تو فوجی سُنی ان سُنی کر جائیں ؟ کیا آپ آپ سپاہیوں کے ایسے انبوہ کو "فوج” کہہ سکتے ہیں ؟ کیا آپ امید کر سکتے ہیں کہ ایسی بن سری فوج کسی جنگ میں کامیاب ہوگی ؟ آپ اس سلطنت کے متعلق کیا کہتے ہیں جس کی رعایا میں قانون کا احترام باقی نہ رہے۔ جس کے قوانین علی الاطلاق توڑے جائیں۔ جس کے محکموں میں کسی قسم کا ضبط و نظم باقی نہ رہے جس کے کارکن اپنے مقتدر اعلیٰ کے احکام بجا لانا چھوڑ دیں ؟ کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ ایسی رعایا اور ایسے عمّال کے ساتھ کوئی سلطنت دنیا میں قائم رہ سکتی ہے ؟ آج آپ کی آنکھوں کے سامنے جرمنی اور اٹلی کی مثالیں موجود ہیں۔ ہٹلر اور مسولینی نے جو عظیم الشان طاقت حاصل کی ہے تمام دنیا اس کی معترف ہے مگر کچھ معلوم بھی ہے کہ اس کامیابی کے اسباب کیا ہیں ؟ وہی دو یعنی ایمان اور اطاعت امر ، نازی اور فاشسٹ جماعتیں ہرگز اتنی طاقت ور اور اتنی کامیاب نہ ہو سکتی تھیں اگر وہ اپنے اصولوں پر اتنا پختہ اعتقاد نہ رکھتیں اگر وہ اپنے لیڈروں کی اس قدر سختی کے ساتھ مطیع نہ ہوتیں۔

یہ قاعدہ کلیہ ایسا ہے جس میں کوئی استثنا نہیں۔ ایمان اور اطاعت دراصل نظم کی جان ہیں۔ ایمان جتنا راسخ ہوگا اور اطاعت جتنی کامل ہوگی نظم اتنا ہی مضبوط اور طاقت ور ہوگا۔ اور اپنے مقاصد تک پہنچنے میں اتنا ہی زیادہ کامیاب ہوگا۔ بخلاف اس کے ایمان میں جتنا ضعف اور اطاعت سے جتنا انحراف ہوگا اسی قدر نظم کمزور ہوگا اور اسی نسبت سے وہ اپنے مقاصد تک پہنچنے میں ناکام رہے گا۔ یہ قطعاً نا ممکن ہے کہ کسی جماعت میں نفاق، بد عقیدگی ، انتشارِ خیال ، کود سری ، نا فرمانی اور بے ضابطگی کے امراض پھیل جائیں اور پھر بھی اس میں نظم باقی رہے۔ اور وہ کسی شعبہ حیات میں ترقی کی طرف روان نظر آئے۔ یہ دونوں حالتیں ایک دوسرے کی نقیض ہیں۔ دنیا جب سے آباد ہوئی ہے اس وقت سے آج تک ان دونوں کا کبھی اجتماع نہیں ہوا۔ اور اگر قانونِ فطرت اٹل ہے تو اس قانون کی یہ دفعہ بھی اٹل ہے کہ یہ دونوں حالتیں کبھی یکجا نہیں ہو سکتیں۔

اب ذرا اس قوم کی حالت پر نظر ڈالیے جو اپنے آپ کو مسلمان کہتی ہے ۔ نفاق اور بد عقیدگی کی کونسی قسم ایسی ہے جس کا انسان تصور کر سکتا ہو اور وہ مسلمانوں میں موجود نہ ہو۔ اسلامی جماعت کے نطام میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اسلام کی بنیادی تعلیمات تک سے نا واقف ہیں اور اب تک جاہلیت کے عقائد پر جمے ہوئے ہیں، وہ بھی ہیں جو اسلام کے اساسی اصولوں میں شک رکھتے ہیں اور شک کی علانیہ تبلیغ کرتے ہیں ، وہ بھی ہیں جو علی الاعلان انکار کرتے ہیں۔ وہ بھی ہیں جو اسلامی عقائد اور شعائر کا  کھلم کھلا مذاق اراتے ہیں۔ وہ بھی ہیں جو علانیہ مذہب اور مزہبیت سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ بھی ہیں جو خدا اور رسول کے قانون پر جاہلیت کی رسوم ، کفار کے قوانین کو مقدم رکھتے ہیں ۔ وہ بھی ہیں جو خدا اور رسول کے دشمنوں کو خوش کرنے کے لیے شعائرِ اسلامی کی توہین کرتے ہیں ، وہ بھی ہیں جو اپنے چھوٹے سے چھوٹے فائدہ کی خاطر اسلام کے مصالح کو بڑے سے بڑا نقصان پہنچانے کے لیے آمادہ ہوجاتے ہیں۔ جو اسلام کے مقابلہ میں کفر کا ساتھ دیتے ہیں۔ اور اپنے عمل سے ثابت کرتے ہیں کہ اسلام ان کو اتنا بھی عزیز نہیں کہ اس کی خاطر وہ ایک بال برابر بھی نقصان گوارا کر سکیں۔ راسخ الایمان اور صحیح العقیدہ مسلمانوں کی ایک نہایت ہی قلیل جماعت کو چھوڑ کر اس قوم کی بہت بڑی اکثریت اسی قسم کے منافق اور فاسد العقیدہ لوگوں پر مشتمل ہے۔

یہ تو تھا ایمان کا حال۔ اب سمع و طاعت کا حال دیکھیے۔ آپ مسلمانوں کی کسی بستی میں چلے جائیے آپ کو عجب نقشہ نظر آئے گا۔ اذان ہوتی ہے مگر بہت سے مسلمان یہ بھی محسوس نہیں کرتے کہ مؤذن کس کو بلا رہا ہے۔ اور کس چیز کے لیے بلا رہا ہے۔ نماز کا وقت آتا ہے اور گذر جاتا ہے مگر ایک قلیل جماعت کے سوا کوئی مسلمان اپنے کاروبار لہو و لعب کو یادِ خدا کے لیے نہیں چھوڑتا ۔ رمضان کا زمانہ آتا ہے تو بعض مسلمانوں کے گھروں میں یہ محسوس تک نہیں ہوتا کہ یہ رمضان کا مہینہ ہے۔ بہت سے مسلمان علانیہ کھاتے پیتے ہیں اور اپنے روزہ نہ رکھنے پر ذرہ برابر نہیں شرماتے بلکہ بس چلتا ہے تو روزہ رکھنے والوں کو شرم دلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھر جو لوگ روزہ رکھتے بھی ہیں ان میں بھی بہت کم ہیں جو احساس فرض کے ساتھ ایسا کرتے ہیں ورنہ کوئی شخص رسم ادا کرتا ہے۔ کوئی صحت کے لیے مفید سمجھ کر رکھ لیتا ہے اور کوئی روزہ رکھ کر وہ سب کچھ کرتا ہے جس سے خدا اور رسول ﷺ نے منع کیا ہے۔ زکوٰۃ اور حج کی پابندی اس سے بھی کم تر ہے۔ حلال اور حرام ، پاک اور ناپاک کا امتیاز تو مسلمانوں میں سے اٹھتا ہی چلا جاتا ہے وہ کونسی چیز ہے جس کو خدا اور رسول نے منع کیا ہو اور مسلمان اس کو اپنے لیے مباح نہ کر لیتے ہوں ۔ وہ کونسی حد ہے جو خدا اور رسول نے مقرر کی ہو اور مسلمان اس سے تجاوز نہ کرتے ہوں۔ وہ کونسا ضابطہ ہے جو خدا اور رسول نے قائم کیا ہو اور مسلمان اس کو نہ توڑتے ہوں ۔ اگر مردم شماری کے لحاظ سے دیکھا جائے تو مسلمان کروڑوں ہیں مگر ان کروڑوں میں دیکھیے کہ کتنے فیصدی نہیں ، کتنے فی ہزار بلکہ کتنے فی لاکھ ہیں جو خدا اور رسول کے احکام کو ماننے والے اور اسلامی ضوابط کی پابندی کرنے والے ہیں۔

جس قوم میں منافقت اور ضعف اعتقاد کا مرض عام ہو جائے ۔ جس قوم میں فرض کا احساس باقی نہ رہے۔ جس قوم سے سمع و طاعت اور ضابطہ کی پابندی اٹھ جائے اس کا جو کچھ انجام ہونا چاہیے ٹھیک وہی انجام مسلمانوں کا ہوا ہے اور ہو رہا ہے ۔ آج مسلمان تمام دنیا میں محکوم و مغلوب ہیں ۔ جہاں ان کی اپنی حکومت موجود ہے وہاں بھی وہ غیروں کے اخلاقی، ذہنی اور مادی تسلط سے آزاد نہیں ہیں۔ جہالت مفلسی اور خستہ حالی میں وہ ضرب المثل ہیں۔ اخلاقی پستی نے ان کو حد درجہ ذلیل کر دیا ہے۔ امانت، صداقت اور وفائے عہد کی حفاظت جن کے لیے وہ کبھی دنیا میں ممتاز تھے اب ان سے دوسروں کی طرف منتقل ہو چکی ہیں اور ان کی جگہ خیانت ، جھوٹ، دغا اور بد معاملگی نے لے لی ہے۔ تقویٰ ، پرہیز گاری اور پاکیزگی اخلاق سے وہ عاری ہوتے جاتے ہیں ۔ جماعتی غیرت و حمیت روز بروز ان سے مفقود ہوتی جاتی ہے۔ کسی قسم کا نظم ان میں باقی نہیں رہا ہے۔ آپس میں ان کے دل پھٹے چلے جاتے ہیں اور کسی مشترک غرض کے لیے مل کر کام کرنے کی صلاحیت ان میں باقی نہیں رہی ہے۔ وہ غیروں کی نگاہوں میں ذلیل ہو گئے ہیں۔ قوموں پر سے ان کا اعتماد اٹھ گیا ہے اور اٹھتا جا رہا ہے ان کی قومی تہذیب و شائستگی فنا ہوتی چلی جا رہی ہے۔ اپنے حقوق کی مدافعت اور اپنے شرف قومی کی حفاظت سے وہ عاجز ہوتے جا رہے ہیں ۔ باوجودیکہ تعلیم ان میں بڑھ رہی ہے گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ اور یورپ کے تعلیم یافتہ حضرات کا اضافہ ہو رہا ہے۔ بنگلوں میں رہنے والے موٹروں پر چڑھنے والے، سوٹ پہننے والے بڑے بڑے ناموں سے یاد کیے جانے والے ، بڑی سرکاروں میں سرفرازیاں پانے والے ان میں روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں ۔ لیکن جن اعلیٰ اخلاقی اوصاف سے وہ پہلے متصف تھے اب ان سے عاری ہیں۔ اپنی ہمسایہ قوموں پر ان کی جو ساکھ دھاکھ پہلے تھی وہ اب نہیں ہے۔ جو عزت وہ پہلے رکھتے تھے وہ اب نہیں ہے اور آئندہ اس سے بھی زیادہ خراب آثار نظر آ رہے ہیں۔

کوئی مذہب یا تہذیب ہو یا کسی قسم کا نظام جماعت ہو۔ اس کے لیے دو ہی طرزِ عمل انسان کے لیے معقول ہو سکتے ہیں اگر وہ اس میں داخل ہو تو اس کے اساسی اصول پر پورا پورا اعتقاد رکھے اور اس کے قانون و ضوابط کی پوری پوری پابندی کرے اور اگر وہ ایسا نہیں کر سکتا تو اس میں داخل نہ ہو یا ہو چکا ہے تو بالاعلان اس میں سے نکل جائے ان دونوں کے درمیان کوئی تیسری صورت معقول نہیں ہے۔ اس سے زیادہ نا معقول کوئی طرزِ عمل نہیں ہو سکتا کہ تم ایک نظام میں شریک بھی ہو ، اس کے ایک جز بھی بن کر رہو، اس نظام کے تابع ہونے کا دعویٰ بھی کرو اور پھر اس کے اساسی اصولوں سے کلاً یا جزءاً انحراف بھی کرو، اس کے قوانین کی خلاف ورزی بھی کرو، اپنے آپ کو اس کے آداب اس کے ضوابط کی پابندی سے مستثنیٰ بھی کرلو۔ اس طرزِ عمل کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ تم میں منافقانہ خصائل پیدا ہوں۔ خلوص نیت سے تمہارے دل خالی ہو جائیں ، تمہارے قلوب میں کسی مقصد کے لیے گرم جوشی عزم راسخ باقی نہ رہے کہ کسی نظام جماعت کے کار آمد رکن بن سکو۔ ان کمزوریوں اور بد ترین عیوب کے ساتھ تم جس جماعت میں بھی شریک ہو گے اس کے لیے لعنت بن جاؤ گے۔ جس نظام میں بھی داخل ہو گے اسے درہم برہم کر دو گے۔ جس تہذیب کے جسم میں داخل ہو گے اس کے لیے جذام کے جراثیم ثابت ہو گے۔ جس مذہب کے پیرو بنو گے اس کو مسخ کر کے چھوڑو گے۔ ان اوصاف کے ساتھ تمہارے مسلمان ہونے سے بدرجہا بہتر یہ ہے کہ جس گروہ کے اصولوں پر تمہارا دل کھٹکے اور جس گروہ کے طریقوں کی تم پیروی کر سکو اس میں جا شامل ہو۔ منافق مسلمان سے وہ کافر بہتر ہیں جو اپنے مذہب اور اپنی تہذیب کے دل سے معتقد ہوں۔ اور اس کے ضوابط کی پابندی کریں۔

جو لوگ مسلمانوں کے مرض کا علاج تعلیم مغربی اور تہذیب جدید اور اقتصادی حالات کی اصلاح اور سیاسی حقوق کے حصول کو سمجھتے تھے وہ غلطی پر تھے اور اب بھی جو ایسا سمجھ رہے ہیں وہ غلطی کر رہے ہیں۔ بخدا اگر مسلمانوں کو ہر فرد بی اے اور پی ایچ ڈی اور بیرسٹر ہو جائے ، دولت و ثروت سے مالا مال ہو۔ مغربی فیشن سے از سر تا بقدم آراستہ ہو اور حکومت کے تمام عہدے اور کونسلوں کی تمام نشستیں مسلمانوں ہی کو مل جائیں مگر ان کے دل میں نفاق کا مرض ہو۔ وہ فرض کو فرض نہ سمجھیں وہ نافرمانی ، سر کشی ، بے ضابطگی کے خوگر ہوں تو اسی پستی اور ذلت اور کمزوری میں وہ اُس وقت بھی مبتلا رہیں گے جس میں آج مبتلا ہیں ۔ تعلیم، فیشن، دولت اور حکومت کوئی چیز ان کو اس گڑھے سے نہیں نکال سکتی جس میں وہ اپنی سیرت اور اپنے اخلاق کی ان بنیادی کمزوریوں کی وجہ سے گر گئے ہیں اگر ترقی کرنی ہے اور ایک طاقت ور با عزت جماعت بننا ہے تو سب سے پہلے مسلمانوں میں ایمان اور اطاعت امر کے اوصاف پیدا کرو۔ اس کے بغیر نہ تمہارے افراد میں کس بل پیدا ہو سکتا ہے نہ تمہاری جماعت میں نظم پیدا ہو سکتا ہے اور نہ تمہاری اجتماعی قوت اتنی زبردست ہو سکتی ہے کہ تم دنیا میں سر بلند ہو سکو، ایک منتشر جماعت جس کے افراد کی اخلاقی اور معنوی حالت خراب ہو کبھی اس قابل نہیں ہو سکتی کہ دنیا کی منظم اور مضبوط قوموں کے مقابلہ میں سر اٹھا سکے۔ پھوس کے پولوں کا انبار خواہ کتنا ہی بڑا ہو کبھی قلعہ نہیں بن سکتا۔

اسلام اور مسلمانوں کے بد ترین دشمن وہ ہیں جو مسلمانوں میں بد عقیدگی اور نا فرمانی پھیلا رہے ہیں ۔ یہ منافقوں کی سب سے زیادہ بری قسم ہے جس کا وجود مسلمانوں کے لیے حربی کافروں سے بھی زیادہ خطرناک ہے کیونکہ یہ باہر سے حملہ نہیں کرتے بلکہ گھر میں بیٹھ کر اندر ہی اندر ڈائنا میٹ بچھاتے ہیں۔ یہ مسلمانوں کو دین اور دنیا دونوں میں رسوا کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کے متعلق قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے کہ "وہ تمہیں بھی اسی طرح کافر بنانا چاہتے ہیں جس طرح خود ہو گئے ہیں” ودوا لو تکفرون کما کفروا فتکونون سوآء۔ ان کے شر سے بچنے کی کم سے کم تدبیر یہ ہے کہ جو لوگ دل سے مسلمان ہیں اور مسلمان رہنا چاہتے ہیں وہ ان سے قطع تعلق کر لیں فلا تتخذوا منھم اولیآء ۔ ورنہ قرآن مجید نے تو ان کی آخری سزا یہ قرار دی ہے کہ ان سے جنگ کی جائے فان تولوا فخذوھم واقتلوھم حیث وجدتموھم۔

تاریخ پاکستان کا خلاء — ایک با کردار قیادت


الواقعۃ شمارہ 48 – 49 جمادی الاول و جمادی الثانی 1437ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

پاکستان کی نظریاتی سرحدیں عرصہ ہوا پامال ہو چکی ہیں ، اب تو اس نظریے کی لاش کے چیتھڑے اڑائے جا رہے ہیں۔ پاکستان اسلام کےنام پر وجود میں آیا، کم سے کم برصغیر کے مسلمانوں کو یہی جذباتی نعرہ دیا گیا۔ لیکن روزِ اوّل ہی سے یہاں اسلام کا دیس نکالا رہا۔ آقاؤں کے چہرے بدلے، غلامی کے انداز بدلے۔ باقی سب کچھ وہی رہا۔ مرعوب زدہ ذہنیت نے مسند اقتدار سنبھال لی۔ اسلام کا مذاق اڑانے کی رسم چل پڑی ، کھل کر کہنے کی جرات نہ ہوئی تو "مولوی” پر غصہ نکالا گیا۔ لیکن تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ غلامی سے بغاوت ، اور بغاوت سے انقلاب کا عمل جاری رہے گا۔ پڑھنا جاری رکھیں

میں معذرت نہیں کروں گا


الواقعۃ شمارہ 46 ربیع الاول 1437ھ

از قلم : خالد المعینا

پیرس حملوں میں 130 افراد کی ہلاکت کا واقعہ دس دن گزرنے کے باوجود ابھی تک میڈیا کی سرخیوں میں ہے اور دنیا بھر میں سوشل میڈیا کی توجہ کا اولین مرکز بھی بنا ہوا ہے۔ اس واقعہ سے چند دن قبل بیروت کے نواح میں ایک خودکش بمبار نے دھماکے سے 40 افراد کو ہلاک کر دیا تھا اور صحرائے سیناء میں روسی طیارہ مار گرایا گیا تھا جس میں 200 سے زائد مسافر ہلاک ہوئے تھے۔ دونوں واقعات کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔

پڑھنا جاری رکھیں

عربی زبان کی اہمیت


الواقعۃ شمارہ 46 ربیع الاول 1437ھ

از قلم : ابو عمار سلیم

عربی زبان کا شمار دنیا کی بڑی زبانوں میں ہوتا ہے۔ انگریزی اور فرانسیسی زبان کے بعد عربی دنیا کی تیسری بڑی زبان ہے۔ اس زبان کے بولنے اور جاننے والے دنیا کے بہت بڑے حصہ میں پائے جاتے ہیں۔ یہ ستائیس ممالک کی سرکاری زبان ہے اور  دنیا بھر میں اس کے بولنے والے تقریباً 35  کروڑ افراد ہیں اور وہ افراد اس سے مستزاد ہیں جن کی مادری زبان عربی نہیں ہے لیکن وہ عربی ایسے جانتے ہیں جیسے کہ اپنی مادری زبان۔ اور ان سب سے اوپر یہ کہ ،  یہ زبان دنیا بھر کے تقریباً ایک ارب ستر کروڑ کے لگ بھگ مسلمانوں کی مذہبی زبان ہے اور وہ عربی جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں انہیں یہ زبان کس طرح عزیز ہے اس کا اندازہ غیر مسلم لوگ نہیں لگا سکتے۔ ہمارا یہ ایمان ہے کہ یہ آسمانوں کی ، اللہ کی ، اللہ کے فرشتوں کی اور جنت کی زبان ہے۔ قرآن مجید کی تلاوت اور پھر اس کو یاد کرنا اور اپنی نمازوں میں اس کو ہر روز پڑھنا ایک عام معمول ہے۔

عربی زبان اپنی ہئیت اور طریقہ بناوٹ سے آرامی اور عبرانی زبانوں سے بنی ہوئی لگتی ہے یا یہ کہا جائے کہ یہ  تینوں زبانیں ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں۔ قرآن مجید کی عربی اس زبان کا اصل اصول ہے۔ اور قرآن کی زبان اور اس کے قوائد ہی اس زبان کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں۔ قرآن کی عربی  ہی دراصل ادبی عربی ہے۔ اس کو  Classical Arabic کہتے ہیں۔ عام بول چال کی عربی زبان قدرے مختلف ہوتی ہے اور مختلف علاقوں میں اس کا انداز الگ الگ ہے۔ بلکہ بعض اوقات تو ایسا ہوتا ہے کہ کسی ایک علاقہ کی بول چال کی عربی ایک دوسرے علاقے کے رہنے والے کی سمجھ میں آتی ہی

موجودہ دور کی عربی جس میں عام تقریر و تحریر کو جدید عربی کہا جاتا ہے اپنی ترکیب اور ہئیت میں تھوڑا سا مختلف ہے۔ موجودہ دور کی ایجادات ، نئی نئی چیزوں کی آمد اور ان کا استعمال اور ان کے نام جو عربی زبان سے ماخوذ نہیں عربی میں استعمال ہوکر کچھ مختلف ہو گئے۔ اسی طرح دیگر ثقافتوں اور زبانوں کی عربوں کے علاقوں میں آ جانے کی وجہ سے بھی ان الفاظ اور زبانوں کا عربی میں استعمال شروع ہو گیا اور بہت سے الفاظ جو باہر سے آئے ان کو عربی گرائمر کے اصولوں کے تحت عربی سے نزدیک کر لیا گیا مگر ایک بہت بڑی تعداد ان الفاظ کی بغیر کسی رد و بدل کے عربی زبان میں بھی مستعمل ہو گئے اور شائد یہ کسی حد تک جائز بھی ہے۔ ہوائی جہاز جب آیا تو اس کو عربی کے قریب لانے کے لیے پرندہ یا اڑنے والی چیز سے موسوم کر دیا گیا اور طیارہ بنا دیا۔ مگر بعض الفاظ جیسے ٹیکنیک کا کوئی بدل نہ ملا تو تکنیک  بنا کر استعمال کرلیا گیا۔ ٹیلیفون کو ہاتف بنا دیا گیا اس لیے کہ ہاتف کا عربی میں مطلب یہ ہے کہ کوئی ایسی آواز جو بہت دور سے آ رہی ہو مگر اس کا بولنے والا دکھائی نہ دے اور فون میں یہی کچھ ہوتا ہے۔ الغرض ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں اور ان پر غور کر کے ایک لمبی فہرست تیار کی جا سکتی ہے۔ ایسی زبان آج کل جدید عربی یا پھر بین الاقوامی  طور  پر Modern Arabic  کہلاتی ہے۔ اور آج یہی زبان ٹیلی ویزن ، خبروں اور عام بول چال میں استعمال ہوتی ہے اور تقریباً ہر علاقہ کے لوگ اسے بآسانی سمجھتے بھی ہیں۔نہیں۔ لیکن جب بات آ جائے ادبی تحاریر کی یا لکھی ہوئی عربی کی اور انشائیہ پردازی کی تو ہر علاقہ کے لوگ ایک ہی طرز کی عربی پر اتر آتے ہیں جو ہر ایک کی سمجھ میں آتی ہے اور کوئی اجنبیت باقی نہیں رہتی۔ یہ اعجاز ہے قرآن کا جو دنیا کے ہر مسلمان کے دل و دماغ میں اس طرح گھر کیے ہوئے ہے کہ جب اس کے اصول و ضوابط کی بات ہوتی ہے تو کوئی اختلاف باقی نہیں رہتا۔ قرآن مجید عربی زبان کی بہتریں تصنیف ہے جس کے ادبی محاسن پر پچھلے پندرہ سو برسوں سے غور و خوض ہو رہا ہے اور نئی نئی چیزیں سامنے آ رہی ہیں۔ اور کیوں نہ ہو کہ یہ اللہ تعالی کی کتاب ہے۔ جب ہی تو اللہ نے چیلنج کیا کہ ایسی کوئی ایک سورة  ہی بنا لاؤ اور پھر یہ کہہ کر اس بات کوانتہائی شدید طریقہ سے واضح کر دیا کہ تم ایسا کچھ کر ہی نہیں سکتے اور یہ دعویٰ آج بھی بلکہ قیامت تک کے لیے سچ ہی ہے اور ناقابل شکست۔

غیر مسلم اغیار نے جہاں مسلمانوں کو ہر محاذ پر نیچا دکھانے کی ہمیشہ کوشش کی تو وہاں ہی انہوں نے عربی زبان کی مقبولیت اور اس کی ترویج کی رکاوٹوں کے لیے اپنی طرف سے اپنی دشمنی سے گریز نہیں کیا۔ اسلام کی آمد کے بعد اور پھر اسلامی فتوحات کے ساتھ ساتھ جہاں مفتوح علاقہ کے لوگوں کی مذہبی اور ثقافتی روایات میں تبدیلیاں واقع ہوئیں وہیں ان لوگوں  نے عربی زبان کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ نتیجہ کے طور پر چند ہی برسوں میں وہ عربوں کی بود و باش روایات و ثقافت کے ساتھ ساتھ ان کی زبان کے بھی حامل ہو گئے۔ نتیجہ کے طور پر مصر ، سوڈان ، بلکہ تقریباً پورا شمالی و وسطی افریقہ، مشرق وسطہ کے اکثر ممالک کے ساتھ دیگر علاقہ کے اندر بھی یہ تبدیلی آئی اور آج یہ سارا علاقہ عرب علاقہ کہلاتا ہے ، عرب یونین کا حصہ ہے اور ہر لحاظ سے عربی ہے۔ اغیار کو مسلمانوں کی یہ ترقی اور ان کا یہ اثر بالکل بھی نہیں برداشت ہوتا تھا تو انہوں نے جہاں مسلمانوں کے خلاف ریشہ دوانیاں کیں وہاں عربی زبان اور اس کی ترویج میں بھی رکاوٹیں ڈالنی شروع کر دیں۔ اس کی ایک بہت ہی واضح مثال الجیریا کے واقع سے ملتی ہے جہاں یورپی ممالک کے قبضہ کے بعدعربی کے خلاف نفرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ قرآن مجید کو جلایا گیا، عربی مخطوطات اور ہر قسم کی  عربی کتابوں کو نذر آتش کیا گیا۔ عربی بولنا اور عربی سیکھنا سکھانا سب غیر قانونی قابل سزا عمل قرار پایا۔ عربی جس کی سرکاری زبان کی حیثیت تھی اور اسی حوالے سے الجیریا کی آبادی پچاس فی صد سے بھی زیادہ پڑھی لکھی شمار ہوتی تھی ، اس کی سرکاری حیثیت ختم ہوئی تو وہی آبادی ایک دن کے وقفہ سے جاہل قرار پائی اور Illetrate لوگوں کی تعداد  تقریباً سو فیصد ہو گئی۔

دنیا بھر کے تمام مسلمان عربی زبان کا نہ صرف احترام کرتے ہیں بلکہ اس کو ایک مقدس زبان سمجھتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ جیسا کہ پہلے کہا گیا قرآن مجید فرقان حمید ہے۔ وہ جو عربی ہیں اور جن کی مادری زبان عربی ہے وہ  تو خیر ہیں ہی اس زبان کے بولنے اور سمجھنے والے۔ مگر دیگر علاقوں کے مسلمان جو عربی نہیں جانتے وہ بھی عربی کو جاننے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اگر بہت کچھ نہ بھی کریں تو یہ ضرور کرتے ہیں کہ جتنا ممکن ہو سکے قران کی آیات کا ٹوٹا پھوٹا مطلب جان لیں۔ سر ڈھانپ کر ، با ادب ہاتھ باندھ کر خاموشی سے قران کی تلاوت سننا خواہ سمجھ میں ایک لفظ بھی نہ آ رہا ہو ، ان غیر عرب علاقے میں ایک بہت ہی عام نظر آنے والا منظر ہے۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ منظر اس لحاظ سے درست ہے ؟ کیونکہ قران ایک درس ہے اور احکامات کا مجموعہ ہے۔ اگر سمجھ میں نہ آئے تو کیا صرف اس کا اس قدر ادب کے ساتھ سننا واقعی قران کا حق ادا کرنا ہے۔ میرے خیال سے نہیں۔ قران کا ادب کرنا ، اسے پاکیزگی میں پڑھنا اور اس کی تلاوت کو غور سے سننا سب بہت ضروری ہے مگر یہ قران کا حق نہیں ہے۔ قران کا حق تو جب ادا ہوگا جب اسے پڑھا ،  یا سنا جائے تو اس کو سمجھا بھی جائے۔ قران کے احکامات ہمارے لیے ہدایت کا ذریعہ ہیں انہیں سمجھنا اور پھر ان ہدایات پر عمل کرنا انتہائی ضروری ہے اور یہی قران کے پڑھنے اور سننے کا حق ہے۔مگر یہ سب کچھ ہو کیسے۔ ہمیں عربی آتی نہیں اور ہم اس کو سیکھنے کے لیے تیار بھی نہیں۔

اگر حقیقی معنوں میں ٹھنڈے دل سے غور کیا جائے تو ہم پاکستانی لوگ اس قران کو سیکھنے کے لیے دیگر تمام اقوام عالم کی نسبت زیادہ نزدیک ہیں اور یہ ہمارے لیے نسبتاً آسان ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ کہ اس کا رسم الخط ہمارے رسم الخط سے ملتا ہے بلکہ ہماری اردو کی لکھائی عربی خط سے ہی وجود میں آئی ہے۔ قران ہم اسی وجہ سے بغیر عربی جانے انتہائی روانی سے اور تجوید کے تمام قوائد کے ساتھ فرفر پڑھ لیتے ہیں۔ قران مجیدمیں استعمال ہونے والے اسی نوے فیصد الفاظ ہمارے لیے مانوس ہیں۔ جہاں کہیں اجنبیت لگتی ہے ذرا سا غور کرنے کے بعد وہ بھی سمجھ میں آ جاتا ہے۔ عربی زبان کے قواعد اردو زبان کے قواعد سے بھی میل کھاتے ہیں۔ کچھ تھوڑی بہت تبدیلی ہے مگر اس میں بھی سمجھ میں نہ آنے والی کوئی چیز نہیں۔ اتنی ساری آسانی کے بعد جب کوئی دل جمعی سے عربی زبان سیکھنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کو زیادہ تکلیف نہیں ہوتی اور پھر اللہ کی مدد بھی شامل حال ہو جاتی ہے۔ میرے ایک جاننے والے صاحب کہنے لگے کہ کیا ضرورت ہے کہ عربی سیکھی جائے۔ قران کے اتنے تراجم موجود ہیں اور ایسی ایسی تفسیریں ہمارے بزرگ لکھ گئے ہیں کہ بس کتاب کھولو اور سب کچھ جان لو۔ مگر حقیقت تو یہ ہے کہ یقیناً یہ سب کچھ درست ہے مگر قران کے سنتے ہی الفاظ سمجھ میں آنے لگ جائیں اور اس کے بیان کی شیرینی کان میں رس گھولنے لگے تو قران کا اصل رنگ نظر آتا ہے۔

عربی زبان بذات خود اتنی اصولی زبان ہے کہ اس کہ چند ایک اصول سمجھ میں آ جائیں تو بہت سارے الفاظ بلکہ جملے بھی بڑی آسانی سے سمجھ میں آنے لگتے ہیں۔ اور اگر پڑھانے والا استاد اچھا اور سمجھ دار ہو تو تقریباً تین ماہ میں ایک گھنٹہ روز کے حساب سے محنت کے بعد آپ قران سنیں گے اور اس کا مطلب سمجھنا شروع ہو جائیں گے۔ یہ یاد رکھیں کہ جب ہم عربی سیکھنا چاہتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ تین مہینوں کے بعد ہم قران مجید کا ایک ایسا ترجمہ کر ڈالیں گے کہ ہر طرف دھوم مچ جائے گی ، استغفراللہ۔ عربی سیکھنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس کے قواعد اور گرائمر کو اس طرح جان لیں کہ الفاظ کے مطالب پلے پڑنے لگ جائیں۔ وگرنہ جان لیجیے وہ بزرگ جنہوں نے اپنی پوری زندگی قران کو اور اس کے محاسن کو سمجھنے میں کھپا دی  اور دنیا میں بڑے جید عالم مانے گئے وہ بھی آخر میں آکر کف افسوس ملتے دکھائی دیئے کہ ہائے کچھ بھی نہ سیکھ سکے۔

اور ان تمام باتوں کے علاوہ سب سے بڑی بات یہ کہ آپ نے جیسے ہی قران مجید کو بہترطریقہ سے سمجھنے کے لیے عربی سیکھنی شروع کر دی آپ کا شمار اللہ کے دربار میں ان خصوصی لوگوں جیسا ہونے لگ جائے گا جو اللہ کا بھیجا ہوا کلام جاننا چاہتے ہیں اور اس کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ آپ نے شائد حضرت عثمان بن عفان  سے  مروی وہ حدیث نبوی ﷺ  سنی ہوگی کہ ” تم میں  سے بہتر وہ ہے جو قرآن کو سیکھے اور اس کو سکھائے۔” ذرا سوچیے کہ اللہ کے دربارمیں کسی بھی وجہ سے ایک ناچیز بندے کو کوئی خصوصیت مل جائے تو اس کی قسمت کا کیا ٹھکانا۔ ثواب کا ثواب اور پھر اللہ کے حضور اس کی قربت کا ایک ذریعہ۔

مگر افسوس تو اس بات کا ہے کہ ہم لوگ یہ سب کچھ جاننے کے باوجود اس طرف توجہ دینے کو بالکل تیار نہیں۔ ہم دنیاوی تعلیم کے لیے خود بھی اور اپنے بال بچوں کو بھی انتہائی مشقت میں ڈال دیتے ہیں اور برسہا برس اس میں کھپا دیتے ہیں جس کا مطمح نظر صرف یہ ہوتا ہے کہ ایک اچھی سی نوکری ملے گی اور اچھے پیسے کمائیں گے اور گذر بسر اچھے طریقے سے ہو جائے گی۔ یعنی کل مقصود اچھے سے پیٹ کا بھرنا ہے۔ اگر میں یہ کہوں کہ آج تک نہ کسی پرندے نے ایم بی اے کیا، نہ کسی اونٹ گھوڑے نے فلسفہ کی ڈگری لی ، نہ کوئی اور جانور انجینئر یا ڈاکٹر بنا مگر روزی ہر ایک کو مل رہی ہے۔ اللہ نے صاف صاف الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ کتنے ہی پرندے اور جانور صبح کو خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو شکم سیر ہو کر واپس آتے ہیں۔ رزق کا وعدہ اللہ نے کیا ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ نے ہر ایک کا رزق لکھ دیا ہے جس سے نہ زیادہ ملے گا نہ کم ، اور یہ اللہ کا اٹل فیصلہ ہے۔ مگر اس کے باوجود ہم رزق کے لیے اتنی تگ و دو کرتے ہیں۔ دنیا کمانا بالکل منع نہیں ہے بلکہ اللہ نے تو قران مجید میں یہ کہا کہ دنیا سے اپنا حصہ لینا مت بھولو۔ مگر جو حاصل کرو اس کو اپنی آخرت کے لیے آگے بھیج دو۔ مگر ہم لوگ صرف دنیا کے حصول میں لگے ہوئے ہیں۔ اگر ان تمام چیزوں کے ساتھ اللہ کے کلام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کو اپنا شعار بنا لیں تو یقیناً اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے تحت  ” میں اوپر نیچے دائیں بائیں  سے اور ایسی جگہوں سے رزق دونگا کہ تمہیں اس کا گمان بھی نہیں ہوگا۔”  ہمیں ہر حال میں بہترین رزق نصیب ہوگا۔

آئیے اس بات کا وعدہ کریں کہ آپ میری ان گذارشات پر غور کریں گے اور اپنے قیمتی اوقات میں سے اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر کچھ تھوڑا سا وقت نکالیں گے اور عربی زبان کو سیکھنے کے لیے اپنی کوششیں صرف کریں گے۔ اگر آپ یہ کام نیک نیتی سے کریں گے تو میرا ایمان ہے کہ اللہ کو آپ کو کبھی بھی مایوس نہیں کرے گا اور اپنے اعلان کے مطابق آپ کو ایسے طریقوں سے رزق دے گا کہ آپ نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا۔ آپ کے تمام معاملات میں وہ خود اپنی رضا شامل کر دے گا۔ اور آپ نہ صرف اس دنیا میں بلکہ آخرت میں بھی اللہ کی عنایات اور اس کی کرم نوازی کے حقدار ہو جائیں گے۔ ان شاء اللہ۔ یاد رکھیں کہ اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا اور یہ کہ اللہ سے زیادہ کسی کی بات سچی نہیں ہوتی۔  میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔ آپ کوشش شروع کریں اور میرے لیے بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس ضمن میں میری کوششوں کو بھی بار آور کریں اور مجھے بھی آپ کے ساتھ اپنے قریبی لوگوں میں شامل کر لیں کہ جن پر اللہ کی بے شمار نعمتیں ہر لحظہ نازل ہوتی ہیں اور جن کے لیے اللہ کے مخصوص فرشتے دعائیں کرتے ہیں اور ان کے لیے مغفرت مانگتے رہتے ہیں۔

پیرس حملہ اور اس کے مضمرات


الواقعۃ شمارہ 46 ربیع الاول 1437ھ

از قلم : ابو عمار سلیم

فرانس کے شہر پیرس پر حملہ ہوتے ہی مغربی دنیا نے مسلمانوں کی طرف سے ایک اور دہشت گردی کی کارروائی کا پرچار کرنا شروع کر دیا۔ میڈیا نے اپنا پرانا راگ پورے جوش و خروش سے الاپا اس لیے کہ پوری دنیا کو یہ سمجھا دیا گیا ہے کہ مغربی ممالک میں جہاں کہیں بھی کوئی غیر انسانی کارروائی ہوگی وہ یقیناً مسلمان دہشت گردوں کی طرف سے ہوگی اورکھینچ تان کر اس کے تانے بانے ملا کر مسلمانوں کے سر اس کو منڈھ دیا جاتا ہے۔ نائین الیون سے جو کارروائی شروع ہوئی ہے وہ کسی طور بھی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ یہاں تک کہ میڈیا کے اس شر انگیز پراپیگنڈہ نے اب عام انسان کے دل میں یہ بات ڈال دی ہے کہ واقعی یہ کارروائی مسلم  انتہا پسندوں کی طرف سے ہو رہی ہے۔ پیرس پر حملہ ہوتے ہی مسلمانوں کے دل کانپ گئے اور بہت سے مسلمانوں نے سوشل میڈیا پرمنمناتے ہوئے مسلمانوں کی طرف سے صفائی پیش کرنے کی خاطر بہت کچھ لکھا مسلم دہشت گردوں کو برا بھلا کہا اور یوں لگا کہ معافی مانگنی شروع کر دی ہے۔ حق تو یہ ہے کہ میڈیا جو کچھ بھی بول رہا ہے اور دکھا رہا ہے وہ سب صرف اور صرف جھوٹ کا پلندہ ہے۔ ہم مسلمانوں نے یہ کارروائی کی ہی نہیں تو پھر نہ تو کسی صفائی کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی کے اس الزام کو ہمارے سر منڈھنے کی کوششوں کو قبول کرنے کی۔ بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ پوری امت اسلامی کی طرف سے ہر اسٹیج پر اس کا بطلان کیا جائے۔ حکومت کی طرف سے بھی اور امت اسلامی کے ائمہ کرام اور شیوخ عظام کی طرف سے بھی۔ اور اگر ضرورت ہو تو حکومتی سطح پر احتجاج اور سخت تردید کی بھی گنجائش بنتی ہے۔ مگر ہم ہیں کہ اپنی بے عزتی اور بدنامی برداشت کرنے میں انتہا درجے کی بے غیرتی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔اتنے دن گزرنے کے بعد اب یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ یہ تمام کارروائی اسی طرح کی اندرونی کارروائی یعنی  "Inside Job" ہے جیسے کہ نائین الیون کی کارروائی تھی۔ مغربی دنیا کا وہ سنجیدہ طبقہ جو تمام معاملات کو تعصب کی عینک کے بغیر دیکھتا ہے اور ہونے والے واقعات کو اچھی طرح چھان پھٹک کر اپنی رائے قائم کرتا ہے وہ اس بات کا بار بار اعادہ کر رہا ہے کہ مسلمانوں کو خواہ مخواہ پھنسایا جا رہا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں