کرونا وائرس، لاک ڈاؤن اور نور و ظلمت کی دنیا – اداریہ


الواقعۃ شمارہ: 98 – 100، رجب المرجب تا رمضان المبارک 1441ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

زندگی فریبِ نفس و نظر کے سوا کچھ بھی نہیں۔ قریب ہے کہ "متاع الغرور” کی حقیقت آشکارِ عالم ہو جائے۔ کتنی ہی امیدیں ہیں جو دم توڑ رہی ہیں اور کتنے ہی خواب ہیں جو بکھر چکے ہیں۔ دل آرزوؤں کے مدفن بن رہے ہیں اور حسرت نا تمام کے داغ انسانی زندگی کا فسانہ بیان کر رہے ہیں۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

دجال مادہ پرستوں کا خدا (ویڈیو)۔


تحقیق: محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

دجال کے ساتھ پانی اور آگ (ویڈیو)۔


تحقیق: محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

(The Antichrist, Dajjal) دجال انسانی تاریخ کا سب سے بڑا فتنہ ہے۔ آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اور گزشتہ تمام انبیاء نے دجال سے اپنی امتوں کو ڈرایا ہے۔ دجال کا ظہور آخری زمانے میں ہوگا۔ اس کے ظاہر ہونے سے پہلے دجالی نظام کو دنیا پہ رائج کیا جائے گا۔ (مزید تفصیلات کے لئے) یہ ساری علامتیں اور نشانیاں صحیح احادیث میں موجود ہیں۔ اس وڈیو میں احادیث کی روشنی میں بتایا گیا ہے کہ دجال کے ساتھ پانی اور آگ کا ہونا کیسا ہوگا اور اس کی حقیقت کیا ہے؟ دجال کو جاننے اور اس کے نظام اور اس کے فتنوں کو سمجھنے کے لئے مندرجہ ذیل

نئی وڈیوز بر وقت حاصل کرنے کے لئے برائے مہربانی سبسکرائب کریں۔

دجال کے ساتھ پانی اور آگ (ویڈیو)۔


تحقیق: محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

 

لاک ڈاؤن، ملاحم اور امام مہدی (ویڈیو)۔


تحقیق: محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

 

 

لاک ڈاؤن، ملاحم اور امام مہدی


الواقعۃ شمارہ: 98 – 100، رجب المرجب تا رمضان المبارک 1441ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

روایت:۔

عن کعب قال: "یوشک أن یزیح البحر الشرقی حتی لا یجری فیہ سفینۃ، وحتی لا یجوز أھل قریۃ الی قریۃ، وذٰلك عند الملاحم، وذٰلك عند خروج المھدی۔”۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

مشاہیر صدیقی


سیّدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد و احفاد کا تذکرہ

الواقعۃ شمارہ: 96 – 97، جمادی الاول و جمادی الثانی 1441ھ

اشاعت خاص: سیدنا ابوبکر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

خانوادہ صدیق رضی اللہ عنہ

اہل بیتِ نبوی ﷺ کے بعد خانوادہ صدیق رضی اللہ عنہ کو اسلام میں خاص امتیازی مقام حاصل ہے، جس کی دوسری کوئی نظیر نہیں۔ چند مثالیں پیشِ خدمت ہیں:-۔

٭ – حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کی چار پشتوں نے اسلام قبول فرمایا۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

سلسلہ تنزیلِ وحی کا ظہورِ کامل – اداریہ


الواقعۃ شمارہ: 96 – 97، جمادی الاول و جمادی الثانی 1441ھ

اشاعت خاص: سیدنا ابوبکر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

اللہ رب العزت نے سلسلہ تنزیلِ وحی کا اختتام رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی پر کیا۔ اسی لیے انھیں خاتم النبیین بنا کر بھیجا۔ رسول اللہ ﷺ تمام صفاتِ نبوت کے جامع اور مراتب رسالت کے بلند ترین مقام پر فائز ہیں۔ وہ اولین و آخرین کے رسول ہیں۔ انھیں جو شریعت عطا کی گئی وہ گزشتہ شریعتوں کی ناسخ، ابدی اور پوری انسانیت کے لیے ہے۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

اشارات – اداریہ


الواقعۃ شمارہ: 94 – 95، ربیع الاول و ربیع الثانی 1441ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

جس طرح کسی کی رواداری بے جا ہے اسی طرح کسی کا ہراس بھی غلط ہے۔ تم اپنی بزدلی کو وقت کے جبر کا نام نہیں دے سکتے۔ تاریخ کا بے لاگ فیصلہ کو پڑھنا جاری رکھیں

علمائے صادق پور کی مسمار قبریں اور بھارت کا نظام انصاف


الواقعۃ شمارہ: 94 – 95، ربیع الاول و ربیع الثانی 1441ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

بھارت کی سپریم کورٹ کی جانب سے بابری مسجد کا فیصلہ آ گیا جس نے ایک طبقے کی خوشی کو دوبالا کیا تو ایک طبقے کو مایوس۔ لیکن ظاہر ہے قومیں ماضی کی اسیر بن کر نہیں رہ سکتیں۔ جبر اور نا انصافی کے ساتھ بھی تاریخ کا سفر جاری رکھنا کو پڑھنا جاری رکھیں

کشمیر: نظریہ اسلامی کے بقا کی جنگ


الواقعۃ شمارہ : 90 – 91، ذیقعد و ذی الحجہ 1440ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

اس وقت دنیا میں بہت سے خطے ہیں جہاں غلامی سے آزادی کی، استعمار سے رہائی کی اور ریاستی جبر سے نجات کی جنگیں لڑی جا رہی ہیں۔ لیکن یہ محض جنگیں نہیں ہیں بلکہ ایک نظریے کے خلاف دوسرے نظریے کی لڑائی ہے۔ جب تک ان نظریوں کو صحیح تناظر میں سمجھنے کی کوشش کو پڑھنا جاری رکھیں

مشاہیر علوی


الواقعۃ شمارہ : 76 – 77 رمضان المبارک و شوال المکرم 1439ھ

اشاعت خاص : سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی اولاد و احفاد کا تذکرہ

امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے مختلف اوقات میں کئی شادیاں کیں اور ان کے علاوہ ان کی کئی باندیاں بھی تھیں۔ خلفائے راشدین میں سب سے کثیر الاولاد سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ہی ہیں۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

بھارت کا انتہا پسندانہ رویہ – اداریہ


الواقعۃ شمارہ : 88 – 89، رمضان المبارک و شوال المکرم 1440ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

ہندوستان کبھی تقسیم نہ ہوتا اور پاکستان کا قیام کبھی عمل میں نہ آتا اگر خود انتہا پسند ہندوؤں نے مسلمانوں کو تقسیم ملک کے لیے مجبور نہ کیا ہوتا۔ پاکستان کا وجود متعصبانہ ہندو ذہنیت کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ مسلمان دنیا کے کسی بھی مذہب کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ بہتر طریقے سے کسی بھی تکثیری سماج کا حصہ بننے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ مسلمان بخوشی اپنی دینی روایات کے ساتھ بھارت میں ہندوؤں کے ساتھ مل کر رہ سکتے تھے، جیسا کہ صدیوں سے رہ رہے تھے، وہ بھی ایسی صورت میں جب کہ وہ اقتدار پر فائز رہے تھے۔ لیکن جیسے ہی مسلمانوں کے اقتدار کا سورج غروب ہوا ہندتو کی متعصبانہ ذہنیت بیدار ہو گئی۔
قیام پاکستان کے قریبی پس منظر کو دیکھیں تو 1946ء میں بہار میں ہونے والے مسلم فسادات نے قیام پاکستان کے مطالبے کو ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کروادیا۔ پھر تقسیم کے موقعہ پر جس طرح مشرقی پنجاب کے اضلاع میں مسلمانوں خون بہایا گیا اس نے ثابت کر دیا کہ ہندو مسلمانوں کو قبول کرنے کے لیے دل سے تیار نہ تھے۔
تقسیم ہند کو 70 برس سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، مگر افسوس ہندوئوں کا مذہبی جنون ہنوز برقرار ہے۔ بھارت میں اس وقت ہندوؤں کی واضح اکثریت ہے۔ مسلمانوں کی آبادی خود بھارتی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 14 سے 15 فیصد ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہندو ذہنیت مسلمانوں کو ایک اقلیت کے طور پر بھی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یقیناً ہندو مت کے ماننے والے سب ایسے نہیں ہیں۔ لیکن انتہا پسندانہ ہندتو کا فلسفہ تیزی سے بھارتی قوم کا عکاس بنتا جا رہا ہے۔ جب بار بار عوام انتہا پسندانہ سوچ رکھنے والی قیادت منتخب کریں تو اس سے یہی تآثر ابھرے گا اور دنیا ہندتو کو بھارتی قوم کا نہ سہی لیکن بھارت کی اکثریتی آبادی کا بیانیہ ضرور سمجھے گی۔
مودی کی گزشتہ حکومت بھی بھارت میں نہ صرف مسلمانوں بلکہ دیگر اقلیتی مذاہب کے لیے بھی انتہائی تکلیف دہ رہی۔ صرف الیکشن جیتنے کی خاطر جس طرح مودی حکومت نے پاکستان کے خلاف نفرت کی فضا پیدا کی اور سرحد پار در اندازی کی کوشش کی، اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہو سکتے تھے۔ مودی حکومت کو انتخابات میں واضح اکثریت کے ساتھ کامیابی مل گئی لیکن اس کامیابی نے خطے کا امن دائو پر لگا دیا۔ کامیابی کے نشے سے سرشار انتہا پسند ہندوؤں نے مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے۔ حال ہی میں جھاڑکھنڈ میں جس طرح مظلوم تبریز انصاری کو ایک مجمع نے جئے شری رام بولنے کے لیے اجتماعی تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد میں پولیس کی حراست میں اس کی موت واقع ہوئی اس نے نہ صرف بھارت کے امن پسند افراد کو خواہ وہ کسی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں جھنجھوڑ کر رکھ دیا بلکہ دوسری طرف امریکا جو بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک پر کم ہی کچھ کہتا ہے، اس کی مذہبی آزادی کی رپورٹ میں بھارت میں ہونے والے انتہا پسندانہ واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تبریز انصاری کے قتل کی تفتیش کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ جس پر بھارت کی ہٹ دھرمی اس حد تک رہی کہ اس نے اس مطالبے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے بھارت کا اندرونی مسئلہ قرار دیا۔ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے وہ دنیا کی انسانیت کو بیدار کرنے کے لیے کافی ہے۔ کشمیر میں ریاستی جبر و استحصال گزشتہ 70 سالوں سے جاری ہے۔ اقوام متحدہ کی قرار داد کے باوجود بھارت نے کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت نہیں دیا۔
بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف ہونے والے پُر تشدد واقعات کے بعد بھارتی حکومت اس لائق ہے کہ اسے ایک دہشت گرد حکومت قرار دیا جائے۔ کم سے کم اسلامی ممالک کی مشترکہ تنظیم او، آئی، سی کو چاہیے کہ وہ اس پر اپنا بھرپور احتجاج ریکارڈ کرائے۔
مودی حکومت بھارت کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں تو ناکام رہی لیکن اس نے جذبات کو انگیخت کر کے قوم کو انتشار کی جس راہ پر لگایا ہے اس کا یقینی نتیجہ ہلاکت و بربادی ہے۔ بھارت میں رہنے والے انسانیت پسند افراد – خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو، بالخصوص ہمارے وہ بھائی جو ہندو مت سے تعلق رکھتے اور ساتھ ہی دوسرے مذاہب کی بھی عزت کرتے ہیں اور ان کے حقوق تسلیم کرتے ہیں- کو چاہیے کہ ظلم و نا انصافی کے خلاف اپنی آواز بلند کریں اپنے معاشرے کو تباہی سے بچائیں کیونکہ ان حالات میں ان کی خاموشی پوری قوم کی یقینی بربادی کے مترادف ہے۔