سائنس اور فلسفہ کی ترقی میں قرآنِ کریم کا حصہ


جریدہ “الواقۃ” کراچی، شمارہ 12-13، جمادی الاول، جمادی الثانی 1434ھ/ مارچ، اپریل 2013

مولانا محمد حنیف ندوی

اسلام کی اثر آفرینیوں کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ اس نے جہاں توحید کے اسرار فاش کیے ہیں۔ عظمت انسانی کا پرچم لہرایا ہے، اخلاق و سیر کے گوشوں کو پاکیزگی عطا کی ہے، جہاں دلوں میں محبت الہٰی کی شمعوں کو روشن کیا ہے اور ایسے پا کیزہ اور ایسے اونچے معاشرہ کی تخلیق کی ہے کہ جس کی نظیر پیش کرنے سے تاریخ عالم قاصر ہے۔ وہاں مذاہب عالم پر اس کا سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ اس نے فکر و تعمق کے دواعی کواکسا یا ہے، عقل و خرد کے اجالوں کو عام کیا ہے اور دنیا کے تیرہ و تاریک افق پر استدالال و استنباط کے نئے نئے آفتاب ابھارے ہیں۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

یوم الواقعہ۔ 21 دسمبر 2012ء کے بعد– ایک جائزہ


جریدہ “الواقۃ” کراچی، شمارہ 11، ربیع الثانی 1433ھ/ فروری، مارچ 2013

از قلم: ابو عمار محمد سلیم link

9 Yaum ul Waqia pdf

21 دسمبر 2012ء کا دن آیا اور گزر گیا۔ اس دن کے حوالے سے دنیا کے خاتمے کا جو شور اور ہنگامہ تھا وہ دن گزرنے کے بعد دم توڑ گیا۔ الحمد للہ کہ عالم اسلام میں اس دن کے حوالے سے کوئی خلفشار پیدا نہیں ہوا۔ دنیا کے بیشتر سنجیدہ طبقوں نے بھی اس دن کو کائنات یا نظام شمسی کے خاتمے کے دن کے طور پرجان کر کسی منفی رد عمل کا اظہار نہیں کیا۔ کچھ علاقہ کے لوگوں نے البتہ مختلف النوع حرکات کا مظاہرہ کیا۔ جو لوگ اپنے گرد و پیش پر نظر رکھتے ہیں اور وقوع پذیر ہونے والے واقعات کو گہری نظر سے دیکھتے ہیں اور اس سے پیدا ہونے والے ممکنہ نقصانات کے ازالے کا بندوبست کرتے ہیں انہوں نے نظام کائنات میں تبدیلیوں اور اس کے نتیجے میں ہونے والی زمینی تباہیوں کے پیش نظر اپنے آپ کو تیار کیا اور اپنی جان و مال کی حفاظت کے لیے زمین دوز پناہ گاہیں بھی تیار کیں اور کھانے پینے کی ڈھیروں چیزوں کا انبار بھی اکٹھا کر لیا۔مگر وہ لوگ جو ایمانی تذبذب کا شکار تھے انہوں نے دنیا کے خاتمے کی ان افواہوں پر شدید رد عمل کا اظہار کیا۔ صبح سے شام تک رونے دھونے کا عمل جاری رکھا ۔ کئی دن قبل سے شہروں کو چھوڑ کر ویرانوں میں جا بیٹھے اور بعض لوگوں نے تو قیامت کی اذیت سے اپنے آپ کو بچانے کی خاطر خودکشی تک کر لی ۔ اس پورے ڈرامے کے دوران ایک چالاک طبقہ وہ بھی تھا جس نے اس موقع کا خوب فائدہ اٹھایا اور دونوں ہاتھوں سے خوب کاروبار کیا اور بڑی دولت سمیٹی۔
  کو پڑھنا جاری رکھیں