امت مسلمہ کی غفلت – اداریہ


الواقعۃ شمارہ: 72 – 73 جمادی الاول جمادی الثانی 1439ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

نئے عیسوی سال کی آمد کے ساتھ امت مسلمہ نئے مشکلات سے ہمکنار ہوئی۔ طاغوتی قوتوں کی پیش قدمی مسلسل جاری ہے اور امت مسلمہ کی غفلت اور سراسیمگی بدستور بر قرار۔ پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

ایک نظر– دو نظریاتی اسلامی ریاستوں پر An Observation on Two Ideological Islamic States


ربیع الاول و ربیع الثانی 1435ھ/جنوری، فروری 2014، شمارہ 22 اور 23ایک نظر– دو نظریاتی اسلامی ریاستوں پر An Observation on Two Ideological Islamic States

پڑھنا جاری رکھیں

کوئی تو ہے۔ There is Someone


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ 12-13، جمادی الاول، جمادی الثانی 1434ھ/ مارچ، اپریل 2013

محمد ابراہیم خاں

مائیکل بیہے (Michael J. Behe) کی کتاب "ڈارونز بلیک باکس: اے بایو کیمیکل چیلینج ٹو ایوولیوشن” (Darwin’s Black Box: The Biochemical Challenge to Evolution) 1996 میں شائع ہوئی۔  بیہے نے اس کتاب میں مرکزی خیال اس نکتے کو بنایا ہے کہ زندگی کے نظام میں بعض پہلو ایسے بھی ہیں جنہیں کسی بھی سطح پر، اور کسی بھی طریقے سے معکوس حالت میں نہیں لایا جاسکتا۔ مرکزی تصور یہ ہے کہ بعض بایو کیمیکل سسٹمز کی تشریح نظریۂ ارتقا (Theory of Evolution) کی روشنی میں ممکن ہی نہیں اور یہ کہ یہ بایو کیمیکل سسٹمز اس قدر پیچیدہ ہیں کہ ان کا 

خود بہ خود پنپنا قطعی طور پر خارج از امکان ہے۔ یعنی یہ کہ کوئی نہ کوئی ایسی ہستیہے جس نے انہیں تیار کیا ہوگا اور زندگی کے نظام میں داخل بھی کیا ہوگا! ذیلی نکتہیہ ہے کہ ان بایو کیمیکلز کے تمام اجزا موجودہ حالت سے پہلے کی حالت میں لائے جائیںتو ان کا کوئی مصرف دکھائی نہیں دیتا! نظریۂ ارتقا یہ کہتا ہے کہ نامیاتی اشیا ء واعمال ایک سلسلۂ واقعات سے گزر کر موجودہ شکل تک پہنچے ہیں۔ یعنی ہر حرکت پذیر چیزکے وجودی اجزا کی کوئی نہ کوئی سابق شکل ہے۔ مائیکل بیہے نے خرد بینی سطح پر کام کرنےوالے دیگر بایو کیمیکل اوامر کو نظریۂ ارتقا کی حدود سے باہر قرار نہیں دیا۔ پڑھنا جاری رکھیں

آزادی کیا ہے ؟ آزادی کیا نہیں ہے ؟


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ  7  ذوالحجہ 1433ھ/ اکتوبر ، نومبر 2012

سید خالد جامعی (کراچی یونیورسٹی، کراچی)

آزادی کیا ہے ؟ آزادی کیا نہیں ہے ؟

قسط نمبر 1
ہر معاشرے میں صرف ایک قدر ہوتی ہے ، جو تما م اقدار سے ماورا ہوتی ہے۔ہر کام کو اس ایک قدر کے پیمانے پر پرکھا جاتا ہے۔یہ تصور الخیر[Good] یا اس تہذیب کا Hyper Good  ہوتا ہے۔ تمام اقدار و روایات اس تصور خیر سے ہم آہنگ ہوں گی۔ عصر حاضر میں یہ الخیر آزادی ہے۔لہٰذا عصر حاضر کے ہر معاشرے کے تصور عدل کو اس الحق الخیر تصور آزادی[Freedom] پر پرکھا جائے گا کہ معاشرہ فرد کی آزادی میں کتنا اضافہ کررہا ہے۔جو معاشرہ آزادی کے دائرہ میں جس قدر اضافہ کرے گا وہی سب سے عادل معاشرہ ہوگا ۔بہ ظاہر یہ تصور لوگوں کو اچھا لگتا ہے اور آزادی کے اس تصور پر عدل کی اس تعریف پر اس کا اصل تاریخی فلسفیانہ تناظر واضح کیے بغیر تنقید کی جائے تو لوگ مشتعل ہو جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انسانوں کو زنجیروں میں جکڑا جا رہا ہے ۔