سید اظہار الحق : تحریک پاکستان کے گمنام مجاہد


الواقعۃ شمارہ : 80 – 81، محرم الحرام و صفر المظفر 1440ھ

از قلم : سید کمال احمد

ملی نہیں ہے ہمیں ارضِ پاک تحفے میں
جو لاکھوں دیپ بجھے ہیں تو یہ چراغ جلا

بقول سابق گورنر سندھ جناب حکیم محمد سعید :-
"اپنے محسنوں اور قومی ہیروز کو نظر انداز کرنے والی اقوام تباہ و برباد ہو جاتی ہیںاور ہماری بد حالی کے اسباب میں سے ایک بڑا سبب یہ ہے کہ ہم نے بھی اپنے ہیروز کے کارناموں کو فراموش کر کے اپنی تاریخ کو نظر انداز کر دیا ہے۔ یہ امر قابل غور ہے کہ انڈیا لائبریری میں تمام ہندو لیڈروں کے مکمل فائل موجود ہیں، لیکن مولانا ابو الکلام آزاد سمیت کسی مسلمان لیڈر کی فائل مکمل نہیں ہے۔” (بحوالہ روزنامہ جنگ کراچی، مورخہ ۲۶ نومبر ۱۹۹۳ء) کو پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

بڑھتی ہوئی قبر پرستی


الواقعۃ شمارہ : 78  – 79 ذیقعد و ذی الحجہ 1439ھ

از قلم : ابو عمار سلیم

اسلام کی تعلیمات کا طرہ امتیاز اللہ تبارک و تعالیٰ کی وحدانیت ہے۔ قرآن مجید فرقان حمید اللہ کی وحدانیت کے احکام سے بھرا پڑا ہے۔ جگہ جگہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو مخاطب کر کے اپنے مالک و خالق ہونے کا اعلان کیا ہے اور یہ تاکید کی ہے کہ اس کی ذات کو ہر قسم کے شرک سے پاک رکھا جائے۔ پوری کائنات میں کوئی ایک ذات بھی اس قابل نہیں ہے کہ اللہ کی ہمسری کر سکے اور نہ ہی کوئی ایسا ہے جو اس کے کاموں میں اس کا ہاتھ بٹانے والا ہو یا اس کا مدد گار ہو۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

بیرسٹر عبد العزیز، عزیز ملت


الواقعۃ شمارہ : 66 – 67، ذیقعد و ذی الحجہ 1438ھ

از قلم : سید محمد رضی ابدالی

دسمبر ۱۹۰۶ء کو ڈھاکہ میں آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا۔ ڈھاکہ کے اجلاس میں صوبہ بہار کے مسلم زعماء میں جسٹس شرف الدین، مظہر الحق بار ایٹ لاء، سر سیّد علی امام، جسٹس حافظ سیّد عنایت کریم، نواب نصیر حسین خیالؔ عظیم آبادی اور مولانا شمس الہدیٰ وکیل نے شرکت کی تھی۔ آل انڈیا مسلم لیگ بہار کے رہنماؤں میں ایک اہم نام بیرسٹر عبد العزیز کا بھی ہے۔ انھوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کے پہلے عوامی اجلاس کے جو دسمبر ۱۹۳۸ء کو پٹنہ میں منعقد ہوا، کے تمام اخراجات برداشت کیے تھے۔ بیرسٹر عبد العزیز ۱۸۸۲ء کو پٹنہ (بہار) میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد سیّد حفاظت حسین ایک بلند پایہ حکیم تھے۔ آپ کے والدین کا انتقال بچپن میں ہی ہو گیا تھا۔ آپ نے اسکول کی تعلیم جسٹس شرف الدین کے گھر میں رہ حاصل کی جو آپ کے قریبی عزیز بھی تھے۔ بعد ازاں پٹنہ اسکول میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے کے بعد سینٹ کولمبس کالج ، ہزاری باغ سے انٹر میڈیٹ کیا، انٹر میڈیٹ کے بعد آپ کو بیرسٹری کے لیے لندن بھیج دیا گیا۔ انگلستان میں قیام کے دوران آپ نے مقامی اخباروں میں مضامین لکھے جس کی وجہ سے انھیں بڑی مقبولیت حاصل ہوئی۔ ۱۹۱۱ء میں آپ نے لندن سے بیرسٹری کی سند حاصل کی اور ۱۹۱۲ء میں وطن واپس لوٹے۔ بیرسٹر سیّد عبد العزیز نے وکالت کا آغاز کلکتہ ہائی کورٹ سے شروع کیا جہاں آپ کو سر سیّد علی امام اور سیّد حسن امام کے ساتھ وکالت کرنے کا موقع ملا۔ ۱۹۲۶ء میں کلکتہ میں ہندو مسلم فساد ہوا اور مسلمانانِ کلکتہ کو بہت بڑی تعداد میں گرفتار کر لیا گیا ان کے مقدمات کی پیروی کے لیے مسلمانوں کی نظر انتخاب بیرسٹر عبد العزیز پر پڑی۔ ان کی قانون سے متعلق صلاحیتوں کے پیشِ نظر حکومت برطانیہ نے دلی سازش کے مقدمہ کی پیروی کے سلسلے میں ۱۹۳۲ء میں ان کی خدمات حاصل کیں۔

مسلمانانِ بہار نے ہندو مسلم اتحاد کے لیے ہمیشہ بڑی کوشش کیں۔ لیکن جب شدھی اور سنگھٹن تحریک شروع ہوئی اور بہار میں ہندو مہا سبھائیوں نے مسلمان برقع پوش عورتوں کی زندگی اجیرن بنا دی تو مسلمانانِ بہار نے ’’انجمن محافظت‘‘ قائم کی، جس کے صدر سر سیّد علی امام منتخب کیے گئے اور نائب صدارت کے لیے بیرسٹر عبد العزیز کا انتخاب عمل میں آیا۔ آپ نے انگریزی اور اردو میں ’’پروگریس‘‘ اور ’’پیام‘‘ کے نام سے دو اخبار جاری کیے ان اخبارات کے ذریعے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت کی خلیج کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ آپ اپنی آمدنی سے آنکھ کے مریضوں کاہر سال کیمپ بھی قائم کیا کرتے تھے۔ یہ سلسلہ ۱۹۳۹ء سے ۱۹۴۳ء تک قائم رہا۔ مریضوں میں ہندوؤں اور مسلمانوں کی کوئی تخصیص نہ تھی۔

بیرسٹر عبد العزیز نے وکالت کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی ہمیشہ دلچسپی لی اور بہار صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں ۲ مرتبہ کامیابی حاصل کی۔ آپ اس صوبے کے وزیر زراعت اور وزیر تعلیم بھی مقرر ہوئے۔ ۱۹۳۵ء کے انڈیا ایکٹ کے نفاذ کے بعد بر صغیر کے مسلمانوں نے ہر صوبے میں مقامی طور پر سیاسی جماعتیں تشکیل دے دیں۔ بیرسٹر عبد العزیز نے بھی ایک پارٹی قائم کی جس کا نام ’’یونائیٹڈ پارٹی‘‘ تھا۔ ۱۹۳۷ء میں مسلم لیگ کی تنظیم کے لیے قائد اعظم پٹنہ آئے تو اس موقع پر بیرسٹر عبد العزیز نے اپنی پارٹی کو آل انڈیا مسلم لیگ میں ضم کرنے کا اعلان کیا۔

بیرسٹر عبد العزیز آل انڈیا مسلم لیگ کی پہلی ورکنگ کمیٹی کے ممبر اور بہار مسلم لیگ کے صدر بھی منتخب ہوئے تھے۔ آل انڈیا مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کا پہلا جلسہ محمد علی پارک کلکتہ میں ۲۷ دسمبر ۱۹۳۷ء کو منعقد ہوا تھا۔ اس موقع پر قائد اعظم نے بیرسٹر عبد العزیز کو انجمن کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے خصوصی طور پر دعوت نامہ ارسال کیا۔ دسمبر ۱۹۳۸ء کے آخری عشرے میں آل انڈیا مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس پٹنہ (بہار) میں منعقد ہوا اور آپ مجلس استقبالیہ کے صدر منتخب ہوئے۔ اپنی افتتاحی تقریر میں انھوں نے محمد علی جناح کو ’’قائدِ اعظم‘‘ کے خطاب سے نوازا۔ پنجاب کے ایک مسلم لیگی رضا کار میاں فیروز الدین نے مسٹر جناح کے پنڈال میں داخل ہوتے وقت ’’قائدِ اعظم زندہ باد‘‘ کا نعرہ بلند کیا جو بعد میں سارے ہندوستان میں مشہور ہو گیا۔ پٹنہ کے اجلاس میں آل انڈیا خواتین مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی۔ آل انڈیا مسلم لیگ پٹنہ کے سالانہ اجلاس کے بعد بیرسٹر عبد العزیز نے پٹنہ میں ایک جلسہ عام طلب کیا جس کی صدارت سردار اورنگ زیب خان (سابق وزیر اعلیٰ سرحد) نے کی۔ نواب بہادر یار جنگ کو خصوصی طور پر مدعو کیا تھا اس جلسہ میں ریاستی مسلم لیگ کی بنیاد پڑی اور نواب بہادر یار

کو پڑھنا جاری رکھیں

خبر سے ندامت تک


محرم و صفر 1436ھ

نومبر، دسمبر 2014ء شمارہ 32 اور 33

گوشہ خاص12 khabar say nadamat TITLE کو پڑھنا جاری رکھیں

دسمبر دستک دیتا ہے


محرم و صفر 1436ھ

نومبر، دسمبر 2014ء شمارہ 32 اور 33

گوشہ خاص

دسمبر دستک دیتا ہے

محمد احسن اللہ عظیم آبادی

11 December dastak deta hay Title کو پڑھنا جاری رکھیں