زنا بالرضا اور زنا بالجبر کا فرق


جریدہ “الواقۃ” کراچی، شمارہ 15،شعبان المعظم 1434ھ/ جون، جولائ2013

زنا بالرضا اور زنا بالجبر کا فرق

محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

زنا بالرضا اور زنا بالجبر باعتبارِ کیفیت و نتائج دو مختلف جرم ہیں۔لہٰذا لازم ہے کہ قانون ان دونوں جرائم میں فرق کرے۔شواہد و دلائل کے اعتبا ر سے بھی اور زجر وتوبیخ کے اعتبار سے بھی ۔
 
زنا بالرضا میں دونوں فریق مستحق سزا ہونگے ۔اگر زانی شادی شدہ(محصن/محصنہ) ہے تو وہ سنگسار کیا جائے گا اور اگر غیر محصن ہے تو سورۂ نور کی آیت نمبر ٢ کے تحت سو کوڑوں کا مستحق قرار پائے گا۔ کو پڑھنا جاری رکھیں
Advertisements

خون ناحق


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ 12-13، جمادی الاول، جمادی الثانی 1434ھ/ مارچ، اپریل 2013

محمد جاوید اقبال

سورہ روم میںرب تعالیٰ کا فرمان ہے:
( ظَھَرَالْفَسَادُ فیْ الْبَرّ وَ الْبَحْر بمَا کَسَبَتْ أَیْدیالنَّاس لیُذیْقَھُم بَعْضَ الَّذیْ عَملُوا )
“ زمین اور سمندر میں فساد پھیل گیا لوگوں کے اعمال کے باعث تاکہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے اپنے  اعمال کا مزہ چکھائے ۔“ (الروم  41)
 اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کو زمین میں اپنا نائب بنایا تھا اور اس کی ہدایت کے لیے ہردور اور ہرملک میں رسول اور نبی بھیجے۔ اس کے باوجود انسانوں کی بڑی تعداد اچھے انسان کی طرح رہنے پر تیار نہ ہوئی اور جانوروں کی سطح پر زندگی بسر کرتی رہی ۔ اس کاسبب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے لطف و کرم کے سبب لوگوں کو ان کے گناہوں پر فوراً گرفت نہ کرتے تھے۔ بلکہ انہیں سنبھلنے کے لیے کافی وقت دیتے تھے۔لیکن مغرور انسان یہ سمجھتے تھے کہ ان کی گرفت کبھی ہوگی ہی نہیں۔سورہ شوریٰ کی تیسویں آیت کا مفہوم ہے: “ تم پر جو مصیبت آتی ہے ، وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے اور کتنے گناہ تو ہم معاف ہی کر دیتے ہیں۔” کو پڑھنا جاری رکھیں