استشراق اور مستشرقین


یورپ میں اسلامی علوم و فنون کی مختصر تاریخ

الواقعۃ شمارہ 50 ، رجب المرجب 1437ھ

از قلم : قاضی اطہر مبارک پوری

جب مشرق میں بنو امیہ کی حکومت و خلافت پر زوال آیا تو مغرب کی سر زمین نے اس خاندان کے لیے اپنی آگوش کھولی ، چنانچہ عباسی خلفاء کے مظالم سے بھاگ کر عبد الرحمٰن داخل نے اندلس کے شہر قرطبہ میں جا کر 138ھ میں ایک تازہ دم اموی حکومت کی بنیاد رکھی۔ مغرب کی اموی خلافت نے 284 سال تک عبد الرحمٰن کی نسل سے 19 خلفاء کو یکے بعد دیگرے تخت نشیں بنایا۔ پھر اس کے بعد اس میں طوائف الملوکی پھیل گئی اور مختلف خاندانوں نے اندلس کے مختلف مقامات پر اپنی اپنی حکومت و ریاست قائم کی۔

اندلس میں اسلامی علوم کی تجلّی

خلفائے اموی نے مغرب میں اپنی اس سیاست کو نہیں چلایا، جو مشرق میں ان کے لیے طغرائے امتیاز تھی، اور جس کی بدولت خلفائے بنو امیہ نے دین اسلام ، عربی تہذیب و تمدن اور عربی زبان و ادب کو اغیار کے اثرات سے ہر طرح محفوظ رکھا تھا ، بلکہ مغر ب میں انہوں نے مغربی قوموں سے میل جیل پیدا کرکے ان کے ساتھ علمی اور دینی رابطہ پیدا کیا، جس طرح کہ مشرق میں بنو عباس نے عجمی عناصر سے تعلقات وسیع کر کے ان سے ربط پیدا کیا۔

مگر اس میں مغرب کے اموی خلفاء مشرق کے عباسی خلفاء سے زیادہ کامیاب سیاست کے مالک رہے، یعنی اندلس میں خلفائے بنو امیہ نے دوسری مغربی قوموں کو اپنے ثقافتی، تہذیبی، دینی اور لسانی اثرات سے متاثر کر کے ان سے میل جول پیدا کیا، اور بغداد میں خلفائے بنو عباسیہ غیر قوموں پر اپنا اثر ڈالنے کے بجائے خود ہی ان کے اجنبی اثرات و خیالات سے متاثر ہوئے اور دوسروں نے آکر ان کی سیاست ، ثقافت، خیالات اور زبان و ادب پر قبضہ جمایا ، مغرب میں یہ صورت نہ تھی، بلکہ وہاں پر مغربی قوموں نے مسلمانوں سے تعلق پیدا کر کے آس طرح اسلامی زبان و ادب اور دینی خیالات کو اپانا کہ مسیحی پادریوں کو مجبوراً اپنی مذہبی کتابوں کو قدیم زبانوں سے عربی زبان میں منتقل کرنا پڑا۔

اندلس میں خلیفہ عبد الرحمٰن ثانی ( 206ھ تا 238ھ ) سے لے کر خلیفہ عبد الرحمٰن ثالث (300ھ تا 350ھ ) اور اس کے بیٹے حکم تک کا زمانہ نہایت زرین زمانہ گذرا ہے اس دور میں مغرب میں اسلامی علوم و فنون نے خوب ترقی کی ، اسلامی افکار و خیالات کو خوب عروج ہوا اور اسلامی ثقافت و تہذیب نے مغربی قوموں کو اپنے اندر خوب جذب کیا۔

یورپ میں جہالت کا خطرناک دور

اس زمانہ میں اندلس سے متصل مغربی ممالک کی قومیں جہالت کی زندھیری میں گرفتار تھیں، عوام کے دل و دماغ پر کلیسائی جہالت سوار تھی، اور مسیحی پادری علوم و فنون کی ہر روشنی کو بجھا کر اپنے اور مسیحی حکمرانوں کے لیے عوامی ذہن و فکر پر تخت بچھا رکھے تھے، آخر یورپ کو علم کی روشنی اندلس کی اسلامی درسگاہ ہی سے ملی اور مغربی قوموں نے نہایت سرعت سے ساتھ تحصیل علم میں کوشش کی اور اس معاملہ میں بعض مسیحی پیشواؤں نے سبقت کی، چنانچہ 1130ء میں اندلس کے شہر طیطلہ میں ایک مدرسہ جاری کیا گیا جس میں عربی زبان کے علوم کو لاطینی زبان میں ترجمہ کرنے کا شعبہ قائم کیا گیا، اس مدرسہ کا نگران ریموند نامی ایک پادری تھا، اندلس کے یہودیوں نے اس علمی اکاڈمی میں خوب حصہ لیا، اور عربی زبان کی بڑی بڑی کتابوں کو لاطینی زبان میں منتقل کرنے کا کام نہایت تیزی سے ہوا ، ان تراجم نے مغربی قوموں میں علم و فن کی روشنی بخشنی شروع کی، جس کی وجہ سے اہلِ مغرب میں علمی دلچسپی نئے رنگ میں نئی امنگ کت ساتھ ابھرنے لگی، عربی کتابوں کے تراجم کا بہت بڑا ذخیرہ مغرب کے پاس آ گیا ، ڈاکٹر کلارک نے شمار کر کے بتایا ہے کہ چودہویں صدی تک عربی زبان کی 340 بڑی بڑی کتابوں کا لاطینی زبان میں ترجمہ کیا گیا۔

یورپ کے عقلیاتی دور کی ابتدا

اس اداروں میں جن کتابوں کا ترجمہ کیا گیا ان کا زیادہ تر حصہ فلسفہ اور طبعی اور عقلی علوم سے تھا، اور اس وقت خاص طور سے زکریا رازی، ابو القاسم زہراوی، ابن رشد اور بو علی ابن سینا جیسے اسلامی فلسفہ اور علوم عقلیہ کے ماہرین کی کتابیں مغربی زبانوں میں ترجمہ کی گئیں، نیز اہلِ یورپ نے عربوں کے واسطہ سے اسی زمانہ میں جالینوس، بقراط، افلاطون ، ارسطو اور اقلیدس کی کتابوں کو جو یونانی زبان سے عربی میں منتقل ہو چکی تھیں ان کا ترجمہ بھی لاطینی زبان میں کیا۔

اور یہی کتابیں یورپ میں علمی شعور کے ساتھ ساتھ مقبول ہوئیں اور پڑھی گئیں، بلکہ بارہویں صدی سے لے کر ان مذکورہ بالا کتابوں میں سے اکثر و بیشتر کتابیں، پانچ چھ صدیوں تک یورپ کی یونیورسٹیوں میں عقلی و طبعی علوم و فنون کے لیے نصاب بنی رہیں ، بلکہ ان میں سے بعض بعض کتابیں تو انیسویں صدی تک یورپ کی یونیورسٹیوں میں داخلِ درس رہیں اور اہل مغرب ان سے استفادہ کرتے رہے۔

اس طرح اہل مغرب نے اندلس کے اسلامی علوم و فنون کی شمع سے روشنی حاصل کرکے اپنے کلیسائی دورِ جہالت سے نجات حاصل کی اور مسلمانوں کے توسط سے قدیم یونانیوں کی کتابیں اور خود مسلمان عقلاء و فلاسفہ کی کتابیں حاصل کیں اور ان کو پڑھا پڑھایا، اس علمی نہضت کے نتیجہ میں آج یورپ ایجاد و فلسفہ اور فکر و سائنس میں اس قدر آگے بڑھ گیا ہے ، اگر اسے اندلس سے روشنی نہ ملی ہوتی تو یقیناً آج بھی یورپ جہالت اور لا علمی کی دلدل میں پھنسا ہوا ہوتا۔

ایک انگریزی مؤرخ مسٹر ملر اپنی کتاب "فلسفہ تاریخ” میں لکھتا ہے کہ

"مغربی علوم کے اصل مآخذ عربوں کے وہ مدارس ہیں جو ہسپانیہ میں قائم تھے، اور یورپ کے ہر ہر ملک کے طلبہ ان مدرسوں کی طرف دوڑتے تھے، اور ان میں علوم ریاضیہ اور علوم ما وراء الطبیعہ حاصل کرتے تھے، اسی طرح جب عربوں نے جنوبی اٹلی پر قبضہ کیا تو وہ بھی یورپ میں اسلامی علوم کے داخلہ کا واسطہ بنا۔”

اسلامی علوم سے یورپ کی دل چسپی

ہسپانیہ کی درسگاہ سے جو پہلا مغربی عالم نکال ہے۔ وہ ایک فرانسیسی پادری بریزت نامی ہے، اس نے اپنے لاہوتی علوم کی تکمیل کرکے فرانس سے اشبیلہ کی راہ لی، اور وہاں پر تحصیل علم کیا۔ پھر قرطبہ میں جاکر ریاضی اور فلکیات وغیرہ کا علم تین سال تک حاصل کیا۔ پھر فرانس آ کر ان علوم عربیہ سے عوام کو روشناس کرایا جس پر اسے جادوگر اور کافر کا خطاب دیا گیا ، مگر 955ء میں اس نے اپنی ترقی کی راہ لی اور نادانوں سے اسے نجات ملی اسی طرح قرطبہ کی درسگاہ سے شانجہ نامی ایک مغربی حکمران نے بھی علم کی تکمیل کی، اسی زمانہ میں اٹلی کے بعض لکھے پڑھے لوگوں نے عربی زبان کو حاصل کی اور اسے دنیا کی بہترین ادبی زبان سمجھ کر اس میں مہارت حاصل کی ، نیز اسی دور میں ایک مسیحی راہب نے مسیحی قوم کو عربی زبان حاصل کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے بتایا کہ

"اللہ حکمت کو جسے چاہتا ہے دیتا ہے ، اس نے لاطینی زبان کو حکمت نہیں دینا چاہا بلکہ یہدو اور عرب وغیرہ کو دیا، اس لیے تم لوگ عربی زبان حاصل کرکے حکمت کو حاصل کرو۔”

اس طرح مغربی قوموں میں علمی شعور کی جڑ بنیاد پیدا ہوئی اور ترقی پسند پادریوں اور مذہبی طبقوں نے عربی زبان اور اسلامی علوم سے دلچسپی لینی شروع کی، یورپ کے جس ملک میں یہ ذہن پیدا ہوا ، وہاں کے لکھے پڑھے لوگوں نے اندلس کی اسلامی درسگاہوں کا رخ کیا اور واپس آ کر اپنے ملک میں علم و حکمت کی بساط بچھائی۔

یورپ کے علمی شعور میں سیاسی شعور کی آمیزش

آہستہ آہستہ یورپ میں علمی شعور پیدا ہوتا گیا اور وہاں کے علمی دارئرہ میں وطنیت اور قومیت کا عمل دخل بھی ہونے لگا۔

اس قومی اور وطنی احساس نے یورپ کی علمی سرگرمی میں دوسرا رنگ پیدا کر دیا ، چنانچہ اہل مغرب نے آگے چل کر عربی علوم و فنون کے علاوہ مشرق کے دوسرے معاملات میں دلچسپی لینی شروع کی اور ان کی توجہ تجارت ، استعماریت اور دینی تبلیغ کی طرف بھی ہوگئی، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یورپ کی قومیت نے ان نظریات کو سامنے رکھ کر مشرق کے ساتھ ربط پیدا کرنا شروع کیا، مشرقی دنیا کے حالات کا پتہ چلایا، یہاں کے ملکی اور جغرافیائی حالات دریافت کیے ، یہاں کے دینی تہذیبی اور تمدنی و معاشرتی رجحانات معلوم کیے اور مشرقیت کے مخفی خزانوں کی دریافت کے لیے عام مشرقی علوم و فنون حاصل کیے ، اپنے یہاں مشرقی ادب کو زندہ کیا ، یہاں کی کتابوں کو چھاپا ، ان کے ترجمے کیے اور عربی زبان کے علاوہ فارسی، ہندی، سنسکرت، اردو وغیرہ زبانوں کو حاصل کیا، ان کی کتابوں کو پڑھا اور ان زبانوں میں خود بھی کتابیں لکھیں۔

اس طرح یورپ کے "مستشرقین” نے "استشراق” کو ایک فن کی حیثیت دے دی ، جس کی رو سے وہ مشرق کی زندہ اور مردہ زبانوں کو حاصل کرنے لگے، اور اس کے ادب و اسلوب کو پوری طرح معلوم کرنے لگے۔

اسلامی علوم کے لیے پریس اکاڈمی اور دوسرے تصنیفی مشاغل

اس مقصد کے لیے اہل ،غرب نے پریس اور مطابع جاری کیے اور عربی زبان کی کتابیں شائع کرنی شروع کیں، چنانچہ یورپ والوں نے اپنے یہاں سب سے پہلے عربی کتابوں "المجموع المبارک” اور ابن العمید سکین کی تاریخ، ابن عربی کی کتاب تاریخ الاول، سعید بن بطریق کی نظم الجواہر، پھر تاریخ ابو الفداء اور مقاماتِ حریری کو چھاپ کر ان کو شائع کیا۔

اہلِ یورپ نے مشرقی علوم و فنون کی فراہمی کے لیے خاص خاص کتب خانے قائم کیے اور کتابٰں یکجا کیں، انیسویں صدی عیسوی کی ابتداء میں یورپ کے مختلف کتب خانوں میں عربی زبان کی ڈھائی لاکھ سے زیادہ کتابیں موجود تھیں جو لینن گراڈ، پیرس، برلین، لندن، اکسفورڈ، روم، اسکوریال وغیرہ کے کتب خانوں میں رکھی ہوئی تھیں، اسی طرح عربیت کے لیے اہل مغرب نے بہت سی علمی اکادمی کی بنیاد ڈالی اور علمی مجلسیں قائم کیں، جن میں عربی کتابوں کی نشر و اشاعت کا کام ہوتا تھا، سب سے قدیم انجمن 1781ء میں جاوا کے دارا لحکومت میں قائم کی گئی، پھر کلکتہ میں سر ولیم جونس نے 1784ء میں عربی کی اشاعت کے لیے ایشیاٹک سوسائٹی قائم کی، اور 1788ء سے 1836ء تک بیس جلدوں میں اس سلسلہ کی کتابیں شائع ہوئیں، نیز کلکتہ کی اس سوسائٹی کی طرف سے ایک رسالہ بھی 1833ء سے شائع ہونا شروع ہوا تھا، جو برابر شائع ہوتا تھا۔

اس زمانہ میں لندن میں شاہ انگلستان کی سرپرستی میں مشرقیات کے پڑھنے کے لیے ایک سوسائٹی قائم کی گئی، انگلستان کے بڑے بڑے فضلاء اس کے ممبر تھے۔

1820ء میں فرانسیسی مستشرقین نے فرانس میں عربی کتابوں کی طباعت و اشاعت کے لیے ایک سوسائٹی قائم کی اور انہوں نے اس سوسائٹی کی طرف سے ایک رسالہ بھی جاری کیا جن میں عربی اور عربیت کے بارے میں قیمتی معلومات ہوتی تھیں۔

اسی طرح امریکہ، روس، اٹلی ، بلجیم، ہالینڈ، ڈنمارک وغیرہ کے مستشرقین نے انگریزوں اور فرانسیسیوں کے نقشِ قدم پر چل کر عربی علوم و فنون کے لیے اکاڈمی اور سوسائٹی قائم کی، کتابیں شائع کیں اور رسالے جاری کیے ، مشرقی علوم و فنون کے سلسلے میں یورپ کے مستشرقین نے بڑی بڑی کانفرنسیں بھی کیں، بلکہ آج تک مستشرقین یورپ کی بین الاقوامی کانفرنسیں دنیا کے مختلف ممالک میں ہوتی رہتی ہیں، خاص طور سے مستشرقین نے یورپ کے مختلف ممالک میں عربیت کے لیے انیس کانفرنسیں قائم کیں۔

پہلی کانفرنس 1872ء میں پیرس میں منعقد ہوئی، 1908ء میں بھی پیرس میں یہ کانفرنس ہوئی، اس قسم کی کانفرنسوں میں اہلِ مغرب مشرقیات کے مختلف پہلوؤں پر علمی اور تحقیقی مقالات پیش کرتے ہیں اور بڑی تلاش و جستجو سے ایک ایک موضوع پر بیش بہا اور قیمتی معلومات جمع کرتے ہیں۔

اہل یورپ نے عربی علوم کی نشر و اشاعت کے لیے عربی کے مجلات و جرائد جاری کیے ، دنیا بھر سے مخطوطات اور قلمی کتابوں کے ذخیرے جمع کیے ، نادر و نایاب اور عمدہ سے عمدہ کتابوں کو بہترین حواشی تحقیق اور نوٹ  کے ساتھ شائع کیا ، ان میں فہرستوں جا اضافہ کیا ، اور مختلف ناموں ، موضوعوں اور مقامات کی الگ الگ فہرست مرتب کرکے لگائی ، الفاظ کی تحقیقات اور اصول لغت کی تنقیحات میں کمال دکھایا۔

واقعہ یہ ہے کہ کتابوں کی تصحیح اور ان کو پورے اہتمام کے ساتھ شائع کرنے میں اہلِ مغرب اپنی نظیر نہیں رکھتے، اور یہ ان کا امتیازی کارنامہ ہے۔

موجودہ حالات پر ایک نظر

اس طرح اہل یورپ نے اسلامی علوم اور عربی زبان کو حاصل کر کے اپنی زندگی میں ایک ایسا عظیم انقلاب برپا کیا جس نے ایک طرف ان کو علم و تحقیق، سائنس و ایجاد اور فلسفہ میں اختراع میں مشہور کیا اور دوسری طرف ان کو مغرب سے اٹھا کر مشرقی ممالک کی حکومت کے تخت پر بٹھایا۔

اہل یورپ نے اگرچہ اسلامی علوم و فنون کی وجہ سے قومیت و وطنیت کی راہ پائی اور مغرب سے چل کر مشرق کی حکمرانی کی ، مگر اس حال میں بھی انہوں نے اسلامی علوم  و فنون کا ذوق ختم نہیں کیا بلکہ آج بھی یورپ اور امریکہ میں اسلامیات پر بہت کچھ کام ہو رہا ہے اور ان ممالک کے علماء اور فضلاء، عربی زبان اور عربی علوم کی نشر و اشاعت میں لگے رہتے ہیں اور اسلامی کتابوں کی اشاعت میں اسی نشاط سے کام کرتے ہیں۔

اسپین میں جنرل فرانکو کی سرپرستی میں عربی کتابوں کی اشاعت کا طباعت کام جاری ہے ، امریکہ میں عربی کتابوں کی تعلیم اور اشاعت کا کام جاری ہے ، اسی طرح یورپ کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں اسلامیات کے شعبے قائم ہیں ، اور اسلامی علوم و فنون پر اہلِ مغرب اپنے ذوق کے مطابق کام کر رہے ہیں۔

حرفی پریس کی مختصر تاریخ

اس سلسلہ میں پریس اور مطبع کی تاریخ ایک دلچسپ کہانی معلوم ہوگی مختصر طور پر اس کا حال ملاحظہ ہو :-

ٹائپ کے ذریعہ طباعت کی ایجاد ایک جرمن نے 1440ء میں کی، اس کو عربی زبان میں "حناجونمبرج” کہتے ہیں، طباعت کی ایجاد نے علوم اور فنون کی ترقی میں کافی مدد کی، اور ایک مدت تک یورپ میں اس کا دائرہ عمل وسیع ہوتا رہا، اور عربی زبان کی سب سے پہلی کتاب 1514ء میں چھاپی گئی، اس کے بعد مشرقی ممالک میں پریس ترقی کرتا گیا ، خصوصیت سے عربی زبان کی کتابیں دن بدن زیادہ چھپنے لگیں ، مگر ابتدا میں ان کی طباعت بھی یورپ ہی کے ممالک میں ہوتی رہی، چنانچہ ان ہی زمانوں میں نزہۃ المشتاق ادریسی ، قانون بو علی بن سینا، تحریر اصول اقلیدس وغیرہ یورپ سے شایع ہوئیں بلکہ اب تک یورپ سے نادر و نایاب کتابیں شایع ہوتی رہتی ہیں ، اس کے بعد مشرقی دنیا میں طباعت کا فن سلطنت ترکیہ کی راہ سے 1490ء میں داخل ہوا، اور آستانہ میں ایک یہودی عالم نے 1490ء میں پریس قائم کر کے کئی علمی اور مذہبی کتابیں چھاپیں، مگر اب تک چھپائی کا کام رومن رسم الخط میں ہوتا رہا ، پھر 1728ء میں عربی حروف کی ابتدا ہوئی ، اور ان کا پریس قائم ہوا ، اس دور میں عربی حروف کا سب سے مشہور پریس آستانہ کے پریسوں میں مطبعۃ جوائب تھا، جو احمد فارس شدیاق مرحوم کی ملکیت میں تھا، اس مطبع میں مختلف علوم و فنون اور ادب کی امہات الکتب چھاپی گئیں ، یہ مطبع ترکی کا مشہور ترین مطبع تھا۔

عرب ممالک میں حروف کی چھپائی کی ابتدا لبنان سے ہوئی اور مسیحی پادریوں اور مبشروں نے اس میں سبقت کی، چنانچہ لبنانی مسیحی پادریوں نے سترہویں صدی عیسوی کے شروع میں سب سے پہلا پریس قائم کیا۔ اس کے بعد ان ہی کی طرف سے 1840ء میں "مطبعۃ کاثولیکہ” قائم ہوا ، اس پریس نے عربی زبان کی قدیم اور نادر کتابوں کو شائع کیا ، اور علم و ادب کی بہت خدمت کی، اس کے بعد ہی مصر میں مطبع کا قیام ہوا اور 1798ء میں نائبیون کے ہاتھوں چھپائی کا کام جاری ہوا ، اس نے سرکاری فرمانین اور احکام کو عربی زبان میں چھاپنے کے لیے "مطبعہ اہلیہ” کے نام سے پریس جاری کیا، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ پریس بھی چلتا رہا اور محمد علی پاشا نے مطبعہ اہلیہ کی جگہ 1830ء میں "مطبعۃ بولاق” جاری کیا اور اس کی ادارت کا کام شام کے ایک ماہر "نقولا سایکی سوری” کے سپرد کیا۔ مطبعہ بولاق کے لیے خاص طور سے مختلف سائز کے بہترین طریقے پر حروف ڈھالے گئے ، پھر دوسری مرتبہ عربی حروف کی ڈھلائی مصر کے سب سے بڑے خوشنویس مرحوم جعفر بیگ کے قاعدہ کے مطابق ہوئی ، مصر میں آج تک مرحوم جعفر بیگ کے اصول پر ڈھالے ہوئے حروف کا استعمال ہوتا ہے۔

"مطبعہ بولاق” نے ریاضیات، طب و جراحت اور غیر زبانوں سے ترجمہ شدہ تقریباً تین سو کتابوں کو چھاپا، اور اس کے شعبہ "القسم الادبی” سے ادب کی امہات کتب چھاپی گئیں، اب بہت دنوں سے "مطبعہ بولاق” سرکاری چیزوں کو چھاپتا ہے، اور درسی کتابیں اور سرکاری کاغذات اس میں چھپتے ہیں۔ "مطبعہ بولاق” کے بعد مصر میں بہت سے چھاپہ خانے قائم ہوئے ، جو ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر کام کرتے ہیں۔

ہندوستان میں سب سے پہلے پرتگیزیوں نے جنوبی ہند میں ٹائپ پریس جاری کیا، اور تامل اور ملیالم زبان میں مذہبی کتابیں چھاپیں، کلکتہ میں 1781ء میں ٹائپ پریس قائم ہوا، جس میں بہت سی عربی کتابیں چھاپی گئیں ، بمبئی میں 1300ھ مطابق 1882ء میں ایک ٹائپ پریس تھا جس میں علامہ ادیب عبد الجلیل بن یاسین بصری متوفی 1270ھ کا دیوان 280 صفحات پر چھاپا گیا ، اس کے بعد بمبئی میں کئی حرفی پریس جاری ہوئے، مگر وہ بہت معمولی قسم کے تھے، اور زیادہ دنوں تک نہیں چل سکے، آج کل بعض پریس اچھا کام کر رہے ہیں ، ریاست حیدر آباد میں دائرۃ المعارف نے ایک پریس جاری کیا جس میں بہت سی نادر و نایاب کتابیں چھاپی گئیں ، زمانہ ہوا مولانا عاشق الٰہی میرٹھی نے میرٹھ سے ایک حرفی مطبع "مطبعہ نیمریہ” کے نام سے جاری کیا ، جس خاص طور سے ابن اثیر کی "جمع الفوائد” چھاپ کر شائع کی، جو حدیث کی اہم کتاب ہے، اسی طرح ہندوستان کے بعض دوسرے مقامات پر حرفی مطابع ہیں اور اپنے طور پر کام کر رہے ہیں۔

(ماہنامہ "البلاغ” بمبئی، "تعلیمی نمبر” دسمبر 1954ء، جنوری و فروری 1955ء)

Advertisements

میں معذرت نہیں کروں گا


الواقعۃ شمارہ 46 ربیع الاول 1437ھ

از قلم : خالد المعینا

پیرس حملوں میں 130 افراد کی ہلاکت کا واقعہ دس دن گزرنے کے باوجود ابھی تک میڈیا کی سرخیوں میں ہے اور دنیا بھر میں سوشل میڈیا کی توجہ کا اولین مرکز بھی بنا ہوا ہے۔ اس واقعہ سے چند دن قبل بیروت کے نواح میں ایک خودکش بمبار نے دھماکے سے 40 افراد کو ہلاک کر دیا تھا اور صحرائے سیناء میں روسی طیارہ مار گرایا گیا تھا جس میں 200 سے زائد مسافر ہلاک ہوئے تھے۔ دونوں واقعات کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔

پڑھنا جاری رکھیں

شرع و آئین پر مدار سہی


07 Shara wa aaieen title پڑھنا جاری رکھیں

دنیا پر حکومت کا امریکی خواب


12 Dunya me amriki hukumat TITLE

پڑھنا جاری رکھیں

مسئلہ فلسطین کی نظریاتی بنیادیں


شوال 1434ھ/ اگست 2013، شمارہ  17

مسئلہ فلسطین کی نظریاتی بنیادیں

یہودی کون ہے؟ کیا ہے؟


مجلہ "الواقعۃ” شعبان المعظم 1434ھ/ جون، جولائ2013، شمارہ  15

اللہ کے دھتکارے ہوئے اور خلق کے راندھے ہوئے یہودی کا تاریخی اور نفسیاتی پس منظر.

اللہ کا دھتکارا ہوا یہودی آج اللہ کے نام لیواؤں کو دھتکار رہا ہے…کیوں؟ اسے یہ قوت کس نے دی؟

یہودی کون ہے؟ کیا ہے؟ قسط 1

"حکایت” ڈائجسٹ لاہور کا شمار ملک کے مؤقر رسائل و جرائد میں ہوتا ہے۔ ذیل کا قیمتی مضمون "حکایت” (لاہور) ستمبر ١٩٨٢ء میں طباعت پذیر ہوا ۔
اس کے مضمون نگار  "حکایت” کے بانی و مدیر جناب عنایت اللہ ( ١٩٢٠ء – ١٩٩٩ء ) ہیں ۔ ان کا تعلق پاکستان آرمی سے تھا۔ ریٹائر ہونے کے بعد انہوں نے خود کو ہمہ وقت علم و ادب سے منسلک کرلیا ۔
انہوں نے اپنے قلم کی طاقت سے ایک با شعور ادب تخلیق کیا ۔ ان کے متعدد ناول طباعت پذیر ہوئے اور قارئین نے انہیں بے حد سراہا ۔ ان کے یادگار ناولوں میں "داستان ایمان فروشوں کی”، "اور ایک بت شکن پیدا ہوا”، "
شمشیر بے نیام”، "دمشق کے قید خانے میں”، "اور نیل بہتارہا”، "حجاز کی آندھی”، "فردوس ابلیس”، "طاہرہ” وغیرہا شامل ہیں۔ ذیل کا مضمون بھی ان کی اعلیٰ ادبی صلاحیتوں کا مظہر ہے ۔ گو اس عرصے میں گردش لیل و نہار کی کتنی ہی ساعتیں گزر گئیں ۔ مگر اس مضمون کی افادیت آج بھی برقرار ہے ۔ اسی وجہ سے "حکایت” کے شکریے کے ساتھ یہ مضمون قارئینِ "الواقعة” کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے ۔
تاہم قارئین دوران مطالعہ پیش نظر رکھیں کہ یہ مضمون ١٩٨٢ء کا تحریر کردہ ہے۔ (ادارہ  الواقعۃ)

 
جون ١٩٦٧ء کی عرب اسرائیل کی جنگ  (Arab Israel War June 1967) میں اسرائیلیوں نے بیت المقدس پر قبضہ کر لیا تو ان کے مذہبی پیشواؤں اور سیاسی لیڈروں نے کہا تھا کہ ہم (یہودی ) دو ہزار سال بعد اپنے گھر واپس آگئے ہیں ۔ اسی جنگ میں انہوں نے اسرائیل کے ارد گرد عربوں کے بیشمار علاقے پر قبضہ کرلیا تھا ۔ مسلمان ممالک کی افواج نے اتحاد کے فقدان کی وجہ سے اسرائیلیوں سے بہت بری شکست کھائی ۔ اس کے بعد اقوام متحدہ  (united nations)میں تقریروں ، قراردادوں اور مذاکرات کا وہ سلسلہ شروع ہوگیا جو چل تو پڑتا ہے مگر کسی انجام کو نہیں پہنچتا ۔
 
اسرائیلیوں نے اقوام متحدہ کی کسی ایک بھی تقریر اور ایک بھی قرارداد کی پروا نہ کی ۔ انہوں نے مقبوضہ علاقوں میں اپنی نئی بستیاں آباد
کرنی شروع کردیں ۔ شام کی جنگی اہمیت کے کوہستانی علاقے گولان کی بلندیوں پر بھی اسرائیلیوں نے ١٩٦٧ء کی چھ روزہ جنگ میں قبضہ کر لیا تھا ۔ وہاں انہوں نے پختہ اور مستقل مورچہ بندی قائم کرلی ۔ اسرائیلیوں کے اس روّیے اور اقدامات سے صاف پتہ چلتا تھا کہ وہ مقبوضہ علاقے نہیں چھوڑیں گے ۔ پڑھنا جاری رکھیں

تنِ حرم میں رُوحِ بت خانہ


الواقعۃ شمارہ ٣ 

عبدالخالق بٹ

مساجد کو اسلامی معاشرے میں ہمیشہ ہی سے مرکزیت حاصل رہی ہے، اور اس کی سب سے روشن مثال مسجدِ نبوی ہے، جسے بیک وقت عبادت گاہ، مشاورت گاہ، تربیت گاہ، عدالت، حکومت کا سیکرٹریٹ اور جہادی سرگرمیوں کے کمانڈ ہیڈکوارٹر کا مقام حاصل تھا۔
 
مسجد کی اسی ہمہ گیر افادیت اور مسلمانوں کی اس سے محبت کے پیشِ نظر ہی منافقین مدینہ نے ”مسجد ضرار” بنائی تھی، تاکہ یہاں رہتے ہوئے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشی سرگرمیاں باآسانی جاری رکھ سکیں اور عام مسلمانوں پر اْن کی پارسائی کا پردہ بھی پڑا رہے۔ مگر خود اللہ نے منافقین کی سازش کا پردہ چاک کردیا:
 
”کچھ اور لوگ ہیں جنھوں نے ایک مسجد بنائی اِس غرض کے لیے کہ (دعوتِ حق کو) نقصان پہنچائیں، اور (خدا کی بندگی کرنے کے بجائے) کفر کریں، اور اہلِ ایمان میں پھوٹ ڈالیں، اور (اس بظاہر عبادت گاہ کو) اْس شخص کے لیے کمین گاہ بنائیں جو اس سے پہلے خدا اور اْس کے رسولۖ کے خلاف برسر پیکار رہ چکا ہے۔ وہ ضرور قسمیں کھا کھا کرکہیں گے کہ ہمارا ارادہ تو بھلائی کے سوا کسی دوسری چیز کا نہ تھا۔ مگر اللہ گواہ ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔ تم اس عمارت میں کھڑے نہ ہونا۔ جو مسجد اوّل روز سے تقویٰ پر قائم کی گئی تھی وہی اس کے لیے زیادہ موزوں ہے کہ تم اْس میں (عبادت کے لیے) کھڑے ہو، اْس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں اور اللہ کو پاکیزگی اختیار کرنے والے ہی پسند ہیں۔” (سورہ توبہ:108 – 107)
”مسجد ضرار” کا یہ واقعہ قرآن کا حصہ بن کر تاقیامت محفوظ ہوگیا اور یوں صدیوں تک پھر کسی کو ”مسجد” کے نام پر دھوکہ دینے کی ہمت نہیں ہوئی، یہاں تک کہ مسلمان اپنا عروج دیکھ کر زوال کی راہ پر لڑھکنے لگے، اور یورپ نشاةثانیہ سے گزر کر عالمی سیادت کا دعویدار بن گیا، عظیم خلافتِ عثمانیہ (١) یورپی اقوام کی چیرہ دستی اور شریفِ مکہ ( ٢ ) (پیدائش : ١٨٥٢ء – وفات:١٩٣١ئ) اور مصطفی کمال پاشا اتاترک (٣) (پیدائش: ١٨٨١ء – وفات:١٩٣٨ئ) کی امت سے بے وفائی کے سبب١٩٢٤ء میں ختم کردی گئی۔
 
چاک کردی ترک ناداں نے خلافت کی قبا
سادگی مسلم کی دیکھ اوروں کی عیاری بھی دیکھ
(نظم:غرہ شوال یا ہلالِ عید/بانگِ درا)
 
یہ اسلامی تاریخ میں پہلا موقع تھا جب مسلمان مرکزِ خلافت سے محروم کردیے گئے، اور یوں حضرت ابوبکرصدیق (وفات:١٣ ہجری) سے شروع ہونے والا سفرِ خلافت خلیفہ عبدالمجید خان ثانی (پیدائش: مئی ١٨٦٨ء – اگست،ستمبر ١٩٤٤ء ) کی برطرفی پر تمام ہوا۔
 
سلسلہ خلافت کے انقطاع میں تمام یورپی اقوام کا حصہ بقدرِ جثہ کے مصداق شریک تھیں۔ یورپ مسلم دنیا پر چڑھ دوڑا تھا، ایسے میں الجزائر ، تیونس ، شام اور لبنان فرانسیسی استبداد کا نشانہ بنے، فرانس اپنے مقبوضات کے لیے اٹِیلا (٤) اور ہلاکو (٥) ثابت ہوا۔ صرف سرزمین شام میں فرانس نے١٩٢٤ء کے دوران بیس ہزار مسلمان شہید کردیے، فرانسیسی توپ خانے اور جنگی جہازوں نے دومرتبہ دمشق کو گولہ باری کا نشانہ بنایا۔
 
سرزمینِ شام کو متعدد انبیائے کرام اور صحابہ کی آخری آرام گاہ ہونے کا شرف بھی حاصل ہے، پھر دارالحکومت دمشق کا شمار دنیا کے اْن چند قدیم ترین شہروں (٦) میں ہوتا ہے جہاں ہزاروں سال میں ایک دفعہ بھی زندگی معدوم نہیں ہوئی اور یہ شہر طویل عرصہ سے آباد چلے آرہے ہیں۔
 
سر زمین انبیاء میں اس قتل عام نے مسلمانوں میں بے چینی کی لہر پیدا کردی تھی، جسے فرانسیسی استعمار نے بھی بھانپ لیا تھا، لہٰذا مسلمانوں کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے اور انھیں اپنی اسلام دوستی کا یقین دلانے کے لیے پیرس میں مسجد کی تعمیر کے لیے زمین دینے کا اعلان کیا اور یوں ١٩٢٦ء میں پیرس کے انتظامی علاقے نمبر٥ میں ”جامع مسجد پیرس” (Grande Mosque de Paris) کا قیام عمل میں آیا۔
 
جامع مسجد پیرس ”المغرب” (٧) طرزِ تعمیر کا خوبصورت نمونہ ہے، دس ہزار نمازیوں کی گنجائش کے ساتھ اسے یورپ کی سب سے بڑی مسجد ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ مسجد کا افتتاح اْس وقت کے فرانسیسی صدر گستون دومرگ (٨) (پیدائش: یکم اگست ١٨٦٣ئ-وفات:١٨ جون ١٩٣٧ئ) نے کیا جبکہ پہلی نماز صوفی شیخ احمد بن مصطفی العلاوی (٩) (پیدائش : ١٨٦٤ء – وفات : ١٤ جولائی ١٩٣٤ء ) کی امامت میں ادا کی گئی (١٠)۔
 
یورپ کے قلب میں ایک پْر شکوہ مسجد کا قیام بظاہر ایک اہم واقعہ تھا مگر علامہ ڈاکٹر محمد اقبال ( پیدائش : ٩ نومبر ١٨٧٧ء – وفات:١٢اپریل ١٩٣٨ئ) کی عمیق نگاہیں اس مسجد کی تعمیر کے پس پردہ فرانسیسی استعمار کے مقاصد کو بھانپ گئیں لہٰذا انھوں نے ”پیرس کی مسجد” پر شدید ردعمل کا اظہار کیا:
مری نگاہ کمالِ ہنر کو کیا دیکھے

کہ حق سے یہ حرمِ مغربی ہے بیگانہ!

حرم نہیں ہے فرنگی کرشمہ بازوں نے

تن حرم میں چھپادی ہے روح بْت خانہ!

یہ بت کدہ اْنھیں غارت گروں کی ہے تعمیر

دمشق ہاتھ سے جن کے ہْوا ہے ویرانہ!
(نظم : پیرس کی مسجد /ضربِ کلیم)
 
ایک اور مقام پرفرانس کے ہاتھوں شام کی لہو رنگ داستان کا ذکر اِن الفاظ میں کیا:
رندانِ فرانسس کا مے خانہ سلامت

پْر ہے مئے گل رنگ سے ہر شیشہ حلب کا

(نظم: فلسطین /ضربِ کلیم)
 
مسلمانوں کے خلاف سازشوں اور اْن پر ڈھائے جانے والے مظالم کے باوجود اپنی ”مسلم دوستی” کے ثبوت کے طور پر ”مسجد کی سیاست” صرف مسجدِ ضرار اور جامع مسجد پیرس تک ہی محدود نہیں بلکہ اس منافقانہ طرزِ عمل کا مظاہرہ ماضی قریب میں شیشان (Chechnya) میں بھی کیا گیا۔
 
قفقاز (١١) کے علاقے میں شیشان ہمیشہ سے مزاحمت کا مرکز رہا ہے۔ پہلے زارِ روس (١٢) پھر سوشلسٹ روس اور اب روسی فیڈریشن (١٣) ، ہر دور میں ماسکو نے قفقاز کے مسلمانوں کو زیرِ دام لانے کے لیے بدترین مظالم ڈھائے ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ روسی افواج کو یہاں چپے چپے پر مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے، ماسکو کی بالادستی کے خلاف علمِ جہاد بلند کرنے والوں میں مندرجہ ذیل افراد کو نمایاں مقام حاصل ہے:
 
٭ امام منصور (١٤) ( وفات : ١٧٨٥ء ) ،
٭ امام شامل ( پیدائش : ١٧٩٩ء -وفات : ١٨٧١ء ) ،
 ٭ جوہر دادیوف (١٦) ( پیدائش : ١٥ فروری ١٩٤٤ء – شہادت : ٢١ اپریل ١٩٩٦ء ) ،
 ٭ زیلم خان یندربائیوف (١٧)  (پیدائش: ١٢ ستمبر ١٩٥٢ء – شہادت : ١٣ فروری٢٠٠٤ء )،
٭ اسلان مسخادوف (١٨) (پیدائش : ٢١ ستمبر ١٩٥١ء – شہادت : ٨مارچ  ٢٠٠٥ء ) ،
٭ شامل بسائیوف (١٩) (پیدائش : ٤جنوری ١٩٦٥ء – شہادت : ١٠جولائی٢٠٠٦ء )۔
 
اہلِ شیشان کا جذبہ حریت ایک زندہ حقیقت ہے جس کا ماسکو نے سالہا سال تلخ تجربہ کیا ہے۔ اس لیے اس نے پہلی جنگِ شیشان ( ١١ ستمبر ١٩٩٤ئ- ١٣اگست١٩٩٦ئ) اور دوسری جنگِ شیشان (اگست ١٩٩٩ئ- مئی ٢٠٠٠ئ) کے دوران مجاہدین کے خلاف بدترین جبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے دارالحکومت گروزنی کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا اور حالات ”معمول” پرآنے کے بعد ماسکو نے اہلِ شیشان کا ”دل موہنے” کے لیے گروزنی کے نواح میں ایک ”شاندار مسجد” تعمیر کردی۔
 
مسجد کا باقاعدہ افتتاح شیشان کے موجودہ صدر رمضان احمد قادروف (پیدائش : ٥اکتوبر١٩٧٦ء ) نے کیا۔ افتتاحی تقریب میں روسی وزیرِ اعظم ولادی میر پوتین (٢٠) (پیدائش: ٧ اکتوبر١٩٥٢ء )اور روسی صوبہ جات سے تعلق رکھنے والے مختلف مذاہب و مسالک کے سربراہان سمیت 18ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔
 
مسجد کا نام سابق شیشانی صدر احمد عبدالحامد قادروف ( پیدائش : ٢٣ اگست ١٩٥١ء – ہلاکت : ٩ مئی ٢٠٠٤ء ) کے نام پر ”جامع احمد قادروف” رکھا گیا ہے، تاہم اسے ”قلبِ شیشان” بھی کہا جارہا ہے۔ اکتوبر٢٠٠٨ء میں مکمل ہونے والی یہ مسجد استنبول کی مسجدِ سلیمان (تکمیل: ١٥٥٨ئ) کا عکس ہے، اس میں ١٠ ہزار نمازی باآسانی سما سکتے ہیں۔ مسجد کی بیرونی اور اندرونی دیواریں کمیاب سنگِ مرمر سے مزین ہیں۔ مسجد میں آویزاں کتبے ترکی کے معروف خطاطوں کے قلمِ معجز رقم کا شاہکار ہیں، ان کتبوں کے لیے قدرتی اور مصنوعی رنگ استعمال کیے گئے ہیں جو کم از کم نصف صدی تک برقرار رہ سکیں گے، اس کے علاوہ قرآنی آیات کے لیے اعلیٰ قسم کا سونا استعمال کیا گیا ہے۔ مسجد کی محراب٨ میٹر اونچے اور٦.٤میٹر چوڑی ہے، جس کی تعمیر میں سفید سنگِ مرمر استعمال کیاگیا ہے۔ مسجد کے مرکزی گنبد کے اندرونی حصے میں آیاتِ قرآنی نقش ہیں جبکہ اس کے اردگرد اسمائے حسنیٰ درج ہیں۔ مسجد کی تزئین میں استعمال ہونے والی اشیا میں سب سے جاذبِ نظر وہ فانوس ہیں جو اعلیٰ ترین بلور (کرسٹل) سے بنائے گئے ہیں، یہ فانوس دنیا کی معروف مساجد (مسجد ِحرام، مسجد ِ بنویۖ، مسجد ِ اقصیٰ) کی شبیہ اور شیشانی طرزِ تعمیر کا نمونہ ہیں۔ مسجد کے مینار ٦٢ میٹر بلند ہیں۔
 
مسجد کا کل رقبہ ١٣٥ایکڑ ہے، جس میں مسلمانوں کی ”روحانی کونسل” کے دفاتر، اسلامی یونیورسٹی، لائبریری اور مہمان خانے کی عمارات واقع ہیں۔ جبکہ باغات، روشیں اور فوارے اس کے حسن میں اضافہ کرتے ہیں۔
 
مسجد بنانے والوں کا کہنا ہے کہ یہ احمد قادروف کا خواب تھا جو انہوں نے اس وقت دیکھا تھا جب وہ ٨٠ کی دھائی میں استنبول میں زیرِ تعلیم تھے اور اس دوران ترکی میں فن تعمیر کا شاہکار ”مسجدِ سلیمان” کی پر شکوہ عمارت سے بیحد متاثر ہوئے تھے، اور انہوں نے عہد کیا تھا کہ وہ شیشان میں ایسی ہی مسجد تعمیر کریں گے، مگر وہ اپنی زندگی میں اس خواب کی تعبیر نہ پاسکے، اس کی تکمیل اْن کے بیٹے رمضان احمد قادروف نے کی۔
 
”جامع مسجد قادروف” کی تعمیر و آرائش کا حال پڑھ کر یقینا دل کو طمانیت ہوئی ہوگی تاہم اگر تھوڑا سا غور سابق احمد قادروف اور اْن کے صاحبزادے رمضان احمد قادروف کے کردار اور مسجد کے افتتاح کے موقع پر موجود روسی وزیرِ اعظم ولادیمیر پوتین کی شیشان پالیسی پر کیا جائے تو شاید فوراً بات سمجھ میں آجائے۔
 
پوتین سابقہ سوشلسٹ روس کے خفیہ ادارے KGB کے سابق سربراہ، موجودہ روسی فیڈریشن کے پہلے صدر بورس یلسن ( پیدائش : یکم فروری ١٩٣١ئ- وفات : ٢٣ اپریل  ٢٠٠٧ئ) کے اچانک مستعفی ہونے پر قائم مقام صدر، بعد ازاں مسلسل دوبار باضابطہ صدر اوراب بحیثیت وزیراعظم فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ان کے کارناموں میں سب سے نمایاں کارنامہ قفقاز کی تحریک مزاحمت کا خاتمہ ہے۔ جس کے لیے انہوں حیلے اور ہتھیار سمیت ہر حربہ استعمال کیا اور حالات معمول پر آنے کے بعد احمد عبدالحامد قادروف کو ”جمہوریہ شیشان” کا صدر نامزد کیا۔
 
احمد عبدالحامد قادروف پہلی جنگِ شیشان کے دوران شیشان کے مفتی اعظم کے فرائض انجام دے رہے تھے تاہم دوسری جنگ شیشان میں انہوں نے اس ذمہ داری سے سبکدوش ہوکر روسی سایہ عاطفت میں ملازمت اختیار کرنے کو ترجیح دی، اور اس دوران اپنی سابقہ پوزیشن کا جو اثر رہا ہوگا، اسے مجاہدین کے خلاف استعمال کرتے رہے نتیجتاً جنگ کے شعلے سرد پڑنے پر انھیں اِن کی شاندار خدمات کے صلے میں ٥ اکتوبر ٢٠٠٣ء کو ”جمہوریہ شیشان” کا صدر بنا دیا گیا، مگر ماسکو کے ارمانوں پر اْس وقت اْوس پڑ گئی جب احمد قادروف صدربنائے جانے کے چند ماہ بعد ہی ٩مئی ٢٠٠٤ء کو اْس وقت مجاہدین کے ہاتھوں ہلاک ہوگئے جب وہ گروزنی میں دوسری جنگِ عظیم (١٩٣٩ئ- ١٩٤٥ء ) کی فتح کی یاد میں منعقدہ ”وکٹری پریڈ” میں شریک تھے۔ احمد قادروف کے مارے جانے کے تھوڑے عرصہ بعد ہی اْن کے بیٹے رمضان احمد قادروف (پیدائش: ٥ اکتوبر ١٩٧٦ء ) کو شیشان کا صدر بنادیا گیا۔
 
رمضان قادروف روسی فیڈریشن میں شامل ریاستوں کے سربراہان میں سب سے کم عمر صدر ہیں، پہلی جنگِ شیشان میں رمضان قادروف ماسکو کے ”باغی” تھے، مگر ”مچھلی کے جائے کو تیرنا کون سکھائے ” کے مصداق رمضان قادروف نے ”بغاوت سے اطاعت” تک کا سفر اتنی سرعت سے طے کیا کہ خود ماسکو بھی حیران رہ گیا اور اْن کے نظریات میں اس جوہری تبدیلی پر ولادی میر پوتین نے انہیں روس کے اعلیٰ ترین اعزاز ”بطلِ روس” (Hero of Russia) سے نوازا اور پھر مارچ ٢٠٠٧ء میں انہیں اہلِ شیشان پر بطورِ صدر مسلط کردیا گیا۔
 
مسجد کی سیاست کا آغاز منافقین مدینہ کی ”مسجد ِضرار” سے ہوا اور جو آسمانی فیصلے (التوبہ:١١٠-١٢٠) کے نتیجے میں مسجد کے انہدام کے ساتھ ہی تمام ہوگئی، اور کم وبیش ساڑھے تیرہ سو سال بعد اس منافقانہ نفسیات نے اولاً فرانس میں ظہور کیا اور ثانیاً روس میں اِس کے مظاہر سامنے آئے۔ مگر شایداللہ کو کچھ اور منظور تھا،اسی لیے ان مساجدکے قیام سے مسلمان، یورپ کی ”مسلم دوستی ” کے فریب میں تو نہیں آئے البتہ ان مساجد میں پانچ وقت اللہ کی کبریائی ضرور بیان کی جانے لگی اور اللہ اسی طرح شر سے خیر برآمد کرتا ہے۔
 
حواشی
(١) ایشیا ئے کوچک (اناطولیہ) میں ترکمان عثمان کی حکومت کا باقاعدہ آغاز عثمان خان (پیدائش: ١٢٥٨ئ۔وفات:١٣٢٤ئ)کے عہد سے ہوا،عثمانیوں نے دیکھتے ہی دیکھتے ایشیا اور یورپ میں قدم جمانا شروع کردیے۔١٥١٨ء میں سلطان سلیم اوّل (پیدائش : ١٤٦٥ء ۔وفات : ١٥٢٠ء ) کے ہاتھوں مصر کی فتح پر عباسی خلیفہ متوکل سوم ( مدت خلافت : ١٥١٤ء تا ١٥١٨ئ) ، سلطان سلیم کے حق میں خلافت سے دستبردار ہوگیا اور یوں آلِ عثمان کی خلافت کا آغاز ہواجو ٤٠٠ سال تک برقرار رہنے کے بعد ٣ مارچ ١٩٢٤ء کو سلطان عبدالمجید خان ثانی (مدت خلافت :١٩٢٢ء تا١٩٢٤ء ) کی معزولی کے ساتھ ہی اپنے اختتام کو پہنچ گئی۔
 
(٢) شریف حسین نے عثمانی سلطنت سے بغاوت کے بعد ٢٩ اکتوبر ١٩١٦ء کو حجاز میں اپنی ”بادشاہت” کا اعلان کیا،بعدازاں ٣مارچ ١٩٢٤ء کو خلافت کے خاتمے پر اس نے١٢مارچ١٩٢٤ء کو اپنی ” خلافت ”کا اعلان کردیا،مگراْردن وعراق(جہاں اْس کے بیٹے حکمران تھے) کے سوا کسی نے بھی اْس کی خلافت کو تسلیم نہیں کیا۔دوسری طرف عبدالعزیز ابن سعود (جنوری ١٨٧٦ء ۔نومبر١٩٥٣ئ)کی پیش قدمی نے شریف حسین کو اہل ِ خانہ سمیت سرزمین حجازچھوڑنے پر مجبور کردیا،اس کا انتقال ٦ جون ١٩٣١ء کو اردن میں ہوا۔ اس کا سلسلہ نسب ٣٧ویں پشت میں حضرت علی سے جاملتا ہے۔”شریف”اس کے نام کا حصہ نہیں تھا بلکہ خاندانِ رسالت سے تعلق کی وجہ سے عربوں میں سادات کو”شریف”کہا جاتا ہے۔
 
(٣) مصطفی کمال پاشا اتاترک یونان کے شہر سالونیکا میں پیدا ہوا۔ابتدائی تعلیم کے بعد فوجی اسکول میں داخلہ لیا اور تکمیل تعلیم کے بعد فوج میں منصب سنبھالا۔ مصطفی کمال نے ١٩٠٦ء میں ”وطن وحریت” کے نام سے ایک خفیہ تنظیم کی بنیاد رکھی،جسے بعد ازاں تنظیم ”اتحاد و ترقی” میں ضم کر دیا۔ جنگِ عظیم اول کے دوران میں انہوں نے گیلی پولی کے معرکے میں برطانیہ اور فرانس کی متحدہ قوت کو پسپا کر کے بین الاقوامی شہرت حاصل کی،”خلافت عثمانیہ ”کا خاتمہ، ”جمہوریہ ترکیہ” کا قیام اور ”پر تشدد سیکولرازم کا فروغ ” اْن کے نمایاں ”کارناموں” میں شامل ہیں۔
 
(٤) یورپ میں ہن سلطنت کا بانی،جسے تاریخ میں ”قہر الٰہی” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، اس نے مشرقی و مغربی رومی حکومتوں سمیت یورپ کے ایک بڑے حصہ کو روند ڈالا تھا۔
 
(٥) منگول حکمران چنگیز خان کا پوتا اور’ ‘ایل خانی” حکومت کا بانی، اسماعیلیوں کے مرکز ”قلعہ الموت” کی تباہی کے بعد اس نے ١٢٥٨ء میں ابنِ علقمی کے اْکسانے پر بغداد کا رْخ کیا اور اْسے کھنڈرمیں بدل دیا اور عباسی خلیفہ مستعصم باللہ (١٢١٣ئ- ١٢٥٨ئ) سمیت ہزار ہا افراد کو تہہ تیغ کردیا۔
 
(٦) دیگر شہروں میں صنعاء (یمن) ، ارابیل (کردستان، عراق) ، پرش پورہ ، پشاور اور سیالکوٹ (موجودہ پاکستان) شامل ہیں۔
 
(٧) ”المغرب”جغرافیائی اصطلاح ہے جسے عرب عہدِ قدیم سے استعمال کرتے آئے ہیں۔”المغرب” کا اطلاق الجزائر، تیونس،مراکش،لیبیا،پرتگال اور اسپین کی سر زمین پر ہوتا ہے۔
 
(٨) ” گسٹون دومرگ ” کٹّر نظریات رکھنے والے پروٹسٹنٹ عیسائی تھے ، جن کا شمار فرانس کے منجھے ہوئے سیاستدانوں میں ہوتا تھا،گسٹون دومرگ دو مرتبہ فرانس کے وزیر اعظم اور ایک مرتبہ فرانس کے عہدہ صدارت پر متمکن رہے۔
 
(٩) شیخ احمد بن مصطفی العلاوی کا تعلق سوڈان سے تھا اور وہ ماڈرن صوفی ازم کے علمبردار اور تصوف میں سلسلہ ”ضرقوّ یہ” کے بانی تھے۔
 
(١٠) پہلی امامت کے لیے ”ماڈرن صوفی ”کا انتخاب بھی بڑا معنی خیز ہے،یہی ذہنیت آج امریکی استعمار کے ان اقدام میں پنہاں ہے جو وہ”صوفی ازم”کے فروغ کے لیے کر رہا ہے۔
 
(١١) قفقاز وہی علاقہ ہے جسے بچوں کی کہانیوں میں ”کوہ قاف” کہا جاتا ہے۔یہ ایک جغرافیائی اصطلاح ہے، جو بحیرہ خزر سے بحیرہ اسودکے درمیان واقع سرزمین کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔یہ علاقہ جنوبی (ایشیا) اور شمالی(یورپ) قفقاز میں تقسیم ہے۔
 
(١٢) ”زار” دراصل سیزر(cesar)کا روسی تلفظ ہے جو عربی میں”قیصر” ہوگیا ہے،روس کے مطلق العنان بادشاہ جو آرتھوڈکس فرقے کے مذہبی رہنما بھی تھے ”زار”کہلاتے تھے،زاروں کی بادشاہت١٩١٧ء میں کمیونسٹ انقلاب کے نتیجے میں ختم ہوئی۔
 
(١٣) ”روسی فیڈریشن ” سابقہ USSRکی ریاستوں کا مجموعہ ہے ، جو ١٩٩١ء میں سوشلسٹ روس انہدام کے بعد وجود میں آئی۔
 
(١٤) امام منصور قفقاز کے اولین مزاحمت کرنے والوں کے سالاراعلیٰ تھے۔
 
(١٥) امام شامل شمالی قفقاز کے مسلمانوں کے عظیم رہنما تھے، جن کی قیادت میں زارانِ روس کے خلاف بے مثل معرکے لڑے گئے،گوریلا جنگ کی جدیدتاریخ میں امام شامل کو نمایاں مقام حاصل ہے۔فرانسیسی مصنفہ ”لیز لی بلانش” کی کتاب ”شمشیرِ فردوس” میں آپ کی گوریلا حکمتِ عملی کازبردست تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب دنیا کی بہت سے ملٹری اکیڈمیز کے لازمی نصاب کا حصہ ہے، آپ کا انتقال مدینہ منورہ میں ہوا اور جنت البقیع میں تدفین عمل میں آئی۔
 
(١٦) جوہر دادیوف کو روسی فوج میں کلیدی عہدہ حاصل تھا تاہم انہوں نے روسی فوج میں اپنے روشن مستقبل پر قومی آزادی کو ترجیح دیتے ہوئے ”جمہوریہ شیشان” کی آزادی کا اعلان کردیا۔آپ نے پہلی جنگِ شیشان میں روس کی افواج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔انہیں روس نے امریکی معاونت سے ١٩٩٦ء میں ایک میزائل حملے میں شہید کردیا۔
 
(١٧) زیلم خان یندربائیوف،آزادجمہوریہ شیشان کے دوسرے سربراہ تھے۔آپ نے اپنے پیشرو صدر جعفر دادیوف کی طرح روسی افواج کے خلاف جہادی سرگرمیاں جاری رکھیں ۔ آپ کو ١٣فروری٢٠٠٤ء کو روسی خفیہ ادارے نے قطر میں ایک بم دھماکے میں شہید کیا۔
 
(١٨) اسلان مسخادوف،زیلم خان کی شہادت کے بعد جمہوریہ شیشان کے تیسرے صدر تھے۔آپ نے بھی روس کے خلاف زبردست مزاحمت جاری رکھی اور اس راہ میں مرتبہ شہادت حاصل کیا۔
 
(١٩) شامل بسایوف نے پہلی اور دوسری جنگ ِ شیشان میں روسی افواج کے خلاف زبردست دادِ شجاعت دی۔ آپ ١٠ جولائی ٢٠٠٦ء کو انگشتیا کے ایک گاؤں میں روسی فوجیوں سے ہونے والی جھڑپ میں شہید ہوئے۔
 
(٢٠) سینٹ پیٹرز برگ میں پیدا ہونے والے ولادی میر پوتین سابق سوشلسٹ روس کے خفیہ ادارے KGB کے سابق سربراہ ہیں۔انہیں دسمبر١٩٩٩ء میں صدر بورس یلسن کے اچانک مستعفی ہونے پر روس کا قائم مقام صدر نامزد کیا گیا،بعدازاں ٢٠٠٠ء اور ٢٠٠٤ء میں ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں مسلسل دوبار روسی فیڈریشن کے صدر منتخب ہوئے اور وزیر اعظم منتخب ہوئے۔آج کل روسی فیڈریشن کے صدر، یونائیٹڈ رشیا اور کونسل آف منسٹرز کے چیئرمین کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔
 
یہ مضمون جریدہ "الواقۃ” کراچی کے شمارہ، شعبان معظم 1433ھ/ جون، جولائی 2012- سے ماخوذ ہے۔