حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مدافعت


چند مدافعانہ روّیوں کے تناظر میں

الواقعۃ شمارہ 55 ذی الحجہ 1437ھ / ستمبر 2016ء

اشاعت خاص : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اللہ کے محبوب بندے اور تقویٰ و صالحیت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھے۔ ان کی حق پرستی اور صداقت آفرینی ہی تھی جس کی وجہ سے اللہ رب العزت نےا نہیں اس امت مسلمہ کے دس بڑے مسلمانوں میں سے ایک بنا دیا۔  یہ امت عثمان ( رضی اللہ عنہ ) کے احسانوں سے کبھی سبک دوش نہیں ہو سکتی اور نہ ہی خونِ عثمان ( رضی اللہ عنہ) کے مقدس چھینٹوں کا قرض اتار سکتی ہے جسے بڑی بے دردی سے بہایا گیا۔  کو پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

یک نظر بر فتوحات عہد عثمانی


الواقعۃ شمارہ 55 ذی الحجہ 1437ھ / ستمبر 2016ء

اشاعت کاص : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ

از قلم : مولانا عبد الرحیم اظہر ڈیروی

اسم و نسب
عثمان بن عفان بن ابی العاص بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف قریشی اموی ہیں۔ ان کا نسب اور رسول اللہ ﷺ کا نسب عبد مناف میں مل جاتا ہے۔ ان کی کنیت ابو عبد اللہ تھی اور بعض لوگوں نے ابو عمرو بیان کی ہے اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ پہلے ان کی کنیت ابو عمرو تھی ، پھر ان کی کنیت ابو عبد اللہ ہو گئی جن کی والدہ رقیہ بنت رسول اللہ ﷺ تھیں۔ عثمان بن عفان کی والدہ ارویٰ بنت کریز بن ربیعہ بن حبیب بن عبد شمس جو عبد اللہ بن عامر کی پھوپھی زاد بہن تھیں اور ارویٰ کی والدہ بیضاء بنت عبد المطلب تھیں جو رسول کریم ﷺ کی پھوپھی تھیں۔ ذو النورین آپ کا لقب تھا۔ ( اسد الغابہ از الشیخ مؤرخ عز الدین بن الاثیر ابی الحسن علی بن محمد الجزری)
عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی ولادت سے متعلق علامہ الشیخ سیّد الشبلنجی المدعو بمؤمن لکھتے ہیں :- کو پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان — سیکولر ازم کی راہ پر


الواقعۃ شمارہ 48 – 49 جمادی الاول و جمادی الثانی 1437ھ

از قلم : رحمت بانو

وہ حقیقت جس کا اظہار کرتے ہوئے بھی ارباب اقتدار کئی بار سوچا کرتے تھے ہمارے موجودہ عزت مآب وزیر اعظم کئی بار کہہ چکے ہیں، ایک ایسے ملک کو جو خالصتاً اسلام کے جذباتی نعروں کے ساتھ وجود میں آیا ، اسے کئی بار سیکولر بنانے کا سرکاری اشارہ دیا جا چکا ہے۔ بات صرف سرکاری دعوؤں تک محدود نہ رہی بلکہ اسے عملی شکل بھی دی جا رہی ہے۔ یہ سلسلہ ویسے تو کئی برسوں سے جاری ہے لیکن اب یہ حقیقت بالکل عیاں ہو کر سامنے آگئی ہے۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

مشاہیر فاروقی


الواقعۃ شمارہ 44 – 45 محرم و صفر 1437ھ

اشاعت خاص : سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

سیّدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کی اولادو احفاد کا تذکرہ

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت اور اسلام میں متعدد نکاح کیے۔ ان کا پہلا نکاح زینب بنت مظعون سے ہوا ، جو مشہور صحابی رسول حضرت عثمان بن مظعون کی بہن تھیں۔ حضرت زینب نے اسلام قبول کیا ، ان کی وفات مکہ معظمہ ہی میں ہوئی۔ ان کے بطن سے ام المومنین حفصہ ، عبد اللہ اور عبد الرحمٰن الاکبر پیدا ہوئے۔

کو پڑھنا جاری رکھیں