خون بدل، آہ بلب، اشک بمژگاں آید – اداریہ


الواقعۃ شمارہ: 74 – 75، رجب المرجب و شعبان 1439ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

آج ہم تاریخ کے اس موڑ پر کھڑے ہیں جہاں ہمارے پاس اپنی عظمت رفتہ کو یاد کرنے کے لیے تو بیش قیمت سرمایہ موجود ہے مگر خود اپنے حال کی زبوں حالی پر اشک بہانے کے لیے اسباب و وجوہ کی کمی نہیں۔ عظمتِ رفتہ کے نقوش کتنے ہی شاندار کیوں نہ ہوں لیکن زمانہ حال کی پسماندگی کو دور نہیں کر سکتے۔ ہم اپنے شاندار ماضی کو کتنا ہی آراستہ کرکے دنیا کے سامنے کو پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

امت مسلمہ کی غفلت – اداریہ


الواقعۃ شمارہ: 72 – 73 جمادی الاول جمادی الثانی 1439ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

نئے عیسوی سال کی آمد کے ساتھ امت مسلمہ نئے مشکلات سے ہمکنار ہوئی۔ طاغوتی قوتوں کی پیش قدمی مسلسل جاری ہے اور امت مسلمہ کی غفلت اور سراسیمگی بدستور بر قرار۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

غفلت


الواقعۃ شمارہ: 72 – 73 جمادی الاول جمادی الثانی 1439ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

غفلت، بادِ سموم کے جھونکے کی طرح ہوتی ہے۔ انسان جب مسموم فضا میں ہوتا ہے تو اپنی ہر سانس کے ساتھ اپنے جسم میں زہر اتارتا جاتا ہے حتیٰ کہ جسم زندگی کی حرارت سے محروم ہو جاتا ہے اور دل کی دھڑکن ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جاتی ہے۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

دجال کے قدموں کی آہٹ سنائی دیتی ہے


الواقعۃ شمارہ : 53 – 54 ، شوال المکرم و ذیقعد 1437ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

حادثے اس تیزی سے رونما ہو رہے ہیں کہ واقعات کا اعتبار اٹھ سا گیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جسے زمانہ پرورش کر رہا تھا برسوں ، وہ حادثے اب رونما ہو رہے ہیں۔ عالم اسلام پر ہر طرف سے یلغار ہی یلغار ہے۔ چمنستانِ اسلام کا کونسا گوشہ ہے جو درد و الم کی سسکیوں اور آہ و غم کی صداؤں کے شور سے بوجھل نہیں۔ وہ کونسی فصل ہے جس کی آبیاری خونِ مسلم سے نہیں ہو رہی۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

ماہِ رمضان المبارک کا تقدس اور ہم


الواقعۃ شمارہ 51 – 52 ، شعبان المعظم و رمضان المبارک 1437ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

ہمارا معاشرہ اخلاقی انحطاط و زوال کی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ ہمارے لیے دین رسم سے نکل کر مالِ تجارت بن چکا ہے۔ ہم اللہ کے ساتھ تعلق کی بھی قیمت لگانے لگے ہیں۔ اپنی عبادتیں بھی بیچنا چاہتے ہیں۔ اپنے شوقِ زر پرستی کے اظہار کے لیے ہم نے دین کو بھی مشقِ ستم بنا ڈالا ہے۔ انحطاط اور زوال ایک دم سے پیدا نہیں ہوتے۔  کو پڑھنا جاری رکھیں