یک نظر بر فتوحات عہد عثمانی


الواقعۃ شمارہ 55 ذی الحجہ 1437ھ / ستمبر 2016ء

اشاعت کاص : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ

از قلم : مولانا عبد الرحیم اظہر ڈیروی

اسم و نسب
عثمان بن عفان بن ابی العاص بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف قریشی اموی ہیں۔ ان کا نسب اور رسول اللہ ﷺ کا نسب عبد مناف میں مل جاتا ہے۔ ان کی کنیت ابو عبد اللہ تھی اور بعض لوگوں نے ابو عمرو بیان کی ہے اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ پہلے ان کی کنیت ابو عمرو تھی ، پھر ان کی کنیت ابو عبد اللہ ہو گئی جن کی والدہ رقیہ بنت رسول اللہ ﷺ تھیں۔ عثمان بن عفان کی والدہ ارویٰ بنت کریز بن ربیعہ بن حبیب بن عبد شمس جو عبد اللہ بن عامر کی پھوپھی زاد بہن تھیں اور ارویٰ کی والدہ بیضاء بنت عبد المطلب تھیں جو رسول کریم ﷺ کی پھوپھی تھیں۔ ذو النورین آپ کا لقب تھا۔ ( اسد الغابہ از الشیخ مؤرخ عز الدین بن الاثیر ابی الحسن علی بن محمد الجزری)
عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی ولادت سے متعلق علامہ الشیخ سیّد الشبلنجی المدعو بمؤمن لکھتے ہیں :- پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

نبوت عظمیٰ کا جانشین ثالث


عثمان ذی النورین بن عفان الاموی العبشمی

الواقعۃ شمارہ 55 ذی الحجہ 1437ھ / ستمبر 2016ء

اشاعت کاص : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ

از قلم : مولانا فدا علی طالب

حضرت عثمان کی شرافتِ خاندانی اور قومی وجاہت عام طور پر مسلم ہے ، خاندانِ بنی امیہ کا اقتدار اور ان کی سیادت و وجاہت تاریخ میں اس شرح و بسط کے ساتھ مذکور ہے کہ اس پر زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ حضرت عثمان کا نسب باپ کی طرف سے چار واسطوں سے اور ماں کی طرف سے دو واسطوں سے رسول اللہ ﷺ کے نسب سے مل جاتا ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں