مسئلہ باغ فدک اور صاحب عون المعبود


الواقعۃ شمارہ : 66 – 67، ذیقعد و ذی الحجہ 1438ھ

از قلم : مولانا ابو علی اثری، اعظم گڑھ

مولانا ابو علی اثری کا یہ مضمون ہفت روزہ ”الاعتصام” لاہور ٢٠ دسمبر ١٩٦٠ء میں طبع ہوا تھا۔ مسئلہ باغِ فدک سے متعلق صاحبِ ”عون المعبود” علامہ ابو الطیب شمس الحق ڈیانوی عظیم آبادی (١٨٥٧ء -١٩١١ئ) کا مؤقف خاتمہ اختلاف کا باعث اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے رفعتِ کردار کے عین مطابق ہے۔ اس مضمون کی اہمیت کے پیش نظر اسے قارئینِ ”الواقعة” کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔(ادارہ)

مولانا مجیب اللہ ندوی دار المصنفین کو پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

ایک علمی اور یادگار سفر


الواقعۃ شمارہ 51 – 52 ، شعبان المعظم و رمضان المبارک 1437ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

ایک طویل عرصے سے خواہش تھی کہ شمالی پنجاب کے مختلف شہروں کا علمی سفر کیا جائے، وہاں کے کتب خانوں کی زیارت کرکے آنکھوں کو ٹھنڈک پہچائی جائے اور پھر اسی بہانے اپنے پرانے دوستوں سے ملاقات کی جائے اور ان دوستوں سے بھی جن دوستی تو مضبوط بنیادوں پر قائم ہوگئی تھی مگر کبھی صورت آشنائی کی نوبت نہ آ سکی تھی۔ ”ادارہ احیاء التراث الاسلامی ” کویت سے انسلاک کے بعد میں نے فی الفور فیصلہ کیا کہ دس برس سے بھی زائد عرصہ پر محیط اس جمود کو توڑا جائے اور اپنی خلوت سے باہر نکل کر جلوت میں قدم رکھا جائے۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

مولانا امین اللہ نگرنہسوی اور ان کا "قصیدہ عظمیٰ”


الواقعۃ شمارہ 47 ربیع الثانی  1437ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

مولانا امین اللہ انصاری نگرنہسوی عظیم آبادی برصغیر کے مشہور عالم، مدرس، منطقی ، ادیب و شاعر تھے۔ انہیں حکیم الامت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی سے تلمذ کا فخر حاصل تھا۔ ان کی فضیلتِ علمی کا اندازہ اس امر سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ انہیں ” مدرسہ عالیہ ” کلکتہ کے صدر مدرس کا منصب تفویض کیا گیا۔ انہوں نے مختلف موضوعات پر متعدد کتابیں تالیف کیں اور ان سے طلاب علم کی ایک بڑی تعداد مستفید ہوئی۔ سیرت پر ان کی ایک منظوم کتاب ” قصیدہ عظمیٰ ” کا ذکر ملتاہے جسے اپنے دور میں بڑی مقبولیت ملی۔ یہاں اسی منظوم سیرت کا جائزہ لینا مقصود ہے مگر اس سے پہلے صاحبِ کتاب کے مختصر حالات حسبِ ذیل ہیں۔

کو پڑھنا جاری رکھیں

سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا مقام اجتہاد


الواقعۃ شمارہ 44 – 45 محرم و صفر 1437ھ

اشاعت خاص : سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

” اجتہاد " اسلامی قانون و شریعت کی اہم ترین بنیاد ہے۔ اجتہاد ہی ہے جو شریعت کو جامد و ساکت ہونے سے محفوظ رکھتی ہے۔ اجتہاد ہی کے ذریعے تمدنی ضرورتوں اور مختلف زمانے کے تہذیبی روّیوں کی تکمیل شریعت کے مطابق ہوتی ہے۔ اجتہاد ہی کے ذریعے سے مختلف زمانوں میں مختلف احوال و ظروف کے دائرے میں رہ کر شرعی قوانین وضع کیے جاتے ہیں اور شریعت اسلامیہ کو  ہر شخص کے لیے قابلِ عمل بنایا جاتا ہے۔

کو پڑھنا جاری رکھیں