تقسیم سے قبل برصغیر میں مذہبی انتشار: قادیانیت کے تناظر میں


الواقعۃ شمارہ : 90 – 91، ذیقعد و ذی الحجہ 1440ھ

از قلم : عبید الرحمن عبید، گجرانوالہ

اٹھارہویں صدی کے نصف دوم اور انیسویں صدی کے نصف اول میں جب برصغیر میں اسلامی اقتدار رو بہ زوال ہوا تو مغربی طاقتوں نے اس زرخیز خطہ ارض میں دلچسپی لینا شروع کر دی۔ چنانچہ وہ تجارت، مشنریت، سفارت اور سیاحت کا پیراہن زیبِ تن کر کے آئے اور رفتہ رفتہ مسندِ اقتدار پر قابض ہو گئے۔ ان کی آمد نے نہ صرف یہاں کی سیاسی آب و ہوا میں تغیر پیدا کیا بلکہ یہاں کی مذہبی فضا بھی اس سے مکدر ہوئے۔ اپنے اقتدار کو بڑھانے کے لیے انھوں نے یہاں کی عوام کو کبھی مذہب کے نام پر، کبھی ملت اور کبھی زر و زمین کے نام پر آپس میں لڑوایا۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

خاتم النبییٖن سے خاتم الامۃ تک – اداریہ


الواقعۃ شمارہ: 70 – 71 ربیع الاول و ربیع الثانی 1439ھ

اشاعت خاص : ختم نبوت

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

اسلام میں توحید اور ختم نبوت، یہ دو ایسے عقیدے ہیں جو محض رسمی نظریات نہیں بلکہ عملی قوت کی حیرت انگیز تاثیر رکھتے ہیں۔ توحید کا تقاضا تو ہر امت اور ہر فردِ بشر سے کیا گیا اور اس میں اسلام اور مذاہب گزشتہ کی کوئی تخصیص نہیں مگر ختم نبوت کا عقیدہ صرف اس امتِ آخر سے مخصوص ہے اور سر دست یہاں اسی عقیدے سے متعلق گزارشات پیش کرنا کو پڑھنا جاری رکھیں

عقیدہ ختم نبوت کو متنازعہ نہ بنایا جائے ! – اداریہ


الواقعۃ شمارہ : 68 – 69، محرم الحرام و صفر المظفر 1438ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

عقیدہ ختم نبوت، اسلام کے نظریہ ایمان و ہدایت کا ایک بنیادی و اساسی عقیدہ ہے۔ جس کے اعتراف کے بغیر کوئی انسان دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہو سکتا۔ یہ مشترکہ اسلامی میراث ہے جس پر کسی فرقہ کی کوئی اجارہ داری نہیں۔ کوئی مسلمان ایک لمحے کو پڑھنا جاری رکھیں

ماہِ رمضان المبارک کا تقدس اور ہم


الواقعۃ شمارہ 51 – 52 ، شعبان المعظم و رمضان المبارک 1437ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

ہمارا معاشرہ اخلاقی انحطاط و زوال کی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ ہمارے لیے دین رسم سے نکل کر مالِ تجارت بن چکا ہے۔ ہم اللہ کے ساتھ تعلق کی بھی قیمت لگانے لگے ہیں۔ اپنی عبادتیں بھی بیچنا چاہتے ہیں۔ اپنے شوقِ زر پرستی کے اظہار کے لیے ہم نے دین کو بھی مشقِ ستم بنا ڈالا ہے۔ انحطاط اور زوال ایک دم سے پیدا نہیں ہوتے۔  کو پڑھنا جاری رکھیں