علامہ عبد اللہ یوسف علی


الواقعۃ شمارہ : 64-65، رمضان المبارک و شوال المکرم 1438ھ

از قلم : اے، ایف، ایم خالد حسین

بنگلہ سے انگریزی ترجمہ : محمد عالمگیر

انگریزی سے اردو ترجمہ : ابو عمار سلیم

علامہ عبد اللہ یوسف علی موجودہ دور کے مسلم ممالک کے علماء میں قرآن مجید فرقان حمید کے عالمانہ انگریزی ترجمہ اور اس کی دانشمندانہ تفسیر کی وجہ سے ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ عالم اسلام کے لاکھوں مسلمانوں نے ان کی انگریزی زبان پر غیر معمولی مہارت، مرقع و مسجع جملوں کی بناوٹ، سائنسی اور عقلی معیار پر پورا اترنے والے تجزیے، پڑھنا جاری رکھیں

عبد الرحمٰن طاہر سورتی


الواقعۃ شمارہ 56، محرم الحرام 1438ھ

از قلم : عبد الوہاب بن محمود سورتی

نام و نسب

عبد الرحمن بن محمد بن  يوسف بن محمد بن احمد بن علی بن ابراہیم سورتی۔

تخلص

طاہر سورتی۔ پڑھنا جاری رکھیں

استشراق اور مستشرقین


یورپ میں اسلامی علوم و فنون کی مختصر تاریخ

الواقعۃ شمارہ 50 ، رجب المرجب 1437ھ

از قلم : قاضی اطہر مبارک پوری

جب مشرق میں بنو امیہ کی حکومت و خلافت پر زوال آیا تو مغرب کی سر زمین نے اس خاندان کے لیے اپنی آگوش کھولی ، چنانچہ عباسی خلفاء کے مظالم سے بھاگ کر عبد الرحمٰن داخل نے اندلس کے شہر قرطبہ میں جا کر 138ھ میں ایک تازہ دم اموی حکومت کی بنیاد رکھی۔ مغرب کی اموی خلافت نے 284 سال تک عبد الرحمٰن کی نسل سے 19 خلفاء کو یکے بعد دیگرے تخت نشیں بنایا۔ پھر اس کے بعد اس میں طوائف الملوکی پھیل گئی اور مختلف خاندانوں نے اندلس کے مختلف مقامات پر اپنی اپنی حکومت و ریاست قائم کی۔

اندلس میں اسلامی علوم کی تجلّی

خلفائے اموی نے مغرب میں اپنی اس سیاست کو نہیں چلایا، جو مشرق میں ان کے لیے طغرائے امتیاز تھی، اور جس کی بدولت خلفائے بنو امیہ نے دین اسلام ، عربی تہذیب و تمدن اور عربی زبان و ادب کو اغیار کے اثرات سے ہر طرح محفوظ رکھا تھا ، بلکہ مغر ب میں انہوں نے مغربی قوموں سے میل جیل پیدا کرکے ان کے ساتھ علمی اور دینی رابطہ پیدا کیا، جس طرح کہ مشرق میں بنو عباس نے عجمی عناصر سے تعلقات وسیع کر کے ان سے ربط پیدا کیا۔

مگر اس میں مغرب کے اموی خلفاء مشرق کے عباسی خلفاء سے زیادہ کامیاب سیاست کے مالک رہے، یعنی اندلس میں خلفائے بنو امیہ نے دوسری مغربی قوموں کو اپنے ثقافتی، تہذیبی، دینی اور لسانی اثرات سے متاثر کر کے ان سے میل جول پیدا کیا، اور بغداد میں خلفائے بنو عباسیہ غیر قوموں پر اپنا اثر ڈالنے کے بجائے خود ہی ان کے اجنبی اثرات و خیالات سے متاثر ہوئے اور دوسروں نے آکر ان کی سیاست ، ثقافت، خیالات اور زبان و ادب پر قبضہ جمایا ، مغرب میں یہ صورت نہ تھی، بلکہ وہاں پر مغربی قوموں نے مسلمانوں سے تعلق پیدا کر کے آس طرح اسلامی زبان و ادب اور دینی خیالات کو اپانا کہ مسیحی پادریوں کو مجبوراً اپنی مذہبی کتابوں کو قدیم زبانوں سے عربی زبان میں منتقل کرنا پڑا۔

اندلس میں خلیفہ عبد الرحمٰن ثانی ( 206ھ تا 238ھ ) سے لے کر خلیفہ عبد الرحمٰن ثالث (300ھ تا 350ھ ) اور اس کے بیٹے حکم تک کا زمانہ نہایت زرین زمانہ گذرا ہے اس دور میں مغرب میں اسلامی علوم و فنون نے خوب ترقی کی ، اسلامی افکار و خیالات کو خوب عروج ہوا اور اسلامی ثقافت و تہذیب نے مغربی قوموں کو اپنے اندر خوب جذب کیا۔

یورپ میں جہالت کا خطرناک دور

اس زمانہ میں اندلس سے متصل مغربی ممالک کی قومیں جہالت کی زندھیری میں گرفتار تھیں، عوام کے دل و دماغ پر کلیسائی جہالت سوار تھی، اور مسیحی پادری علوم و فنون کی ہر روشنی کو بجھا کر اپنے اور مسیحی حکمرانوں کے لیے عوامی ذہن و فکر پر تخت بچھا رکھے تھے، آخر یورپ کو علم کی روشنی اندلس کی اسلامی درسگاہ ہی سے ملی اور مغربی قوموں نے نہایت سرعت سے ساتھ تحصیل علم میں کوشش کی اور اس معاملہ میں بعض مسیحی پیشواؤں نے سبقت کی، چنانچہ 1130ء میں اندلس کے شہر طیطلہ میں ایک مدرسہ جاری کیا گیا جس میں عربی زبان کے علوم کو لاطینی زبان میں ترجمہ کرنے کا شعبہ قائم کیا گیا، اس مدرسہ کا نگران ریموند نامی ایک پادری تھا، اندلس کے یہودیوں نے اس علمی اکاڈمی میں خوب حصہ لیا، اور عربی زبان کی بڑی بڑی کتابوں کو لاطینی زبان میں منتقل کرنے کا کام نہایت تیزی سے ہوا ، ان تراجم نے مغربی قوموں میں علم و فن کی روشنی بخشنی شروع کی، جس کی وجہ سے اہلِ مغرب میں علمی دلچسپی نئے رنگ میں نئی امنگ کت ساتھ ابھرنے لگی، عربی کتابوں کے تراجم کا بہت بڑا ذخیرہ مغرب کے پاس آ گیا ، ڈاکٹر کلارک نے شمار کر کے بتایا ہے کہ چودہویں صدی تک عربی زبان کی 340 بڑی بڑی کتابوں کا لاطینی زبان میں ترجمہ کیا گیا۔

یورپ کے عقلیاتی دور کی ابتدا

اس اداروں میں جن کتابوں کا ترجمہ کیا گیا ان کا زیادہ تر حصہ فلسفہ اور طبعی اور عقلی علوم سے تھا، اور اس وقت خاص طور سے زکریا رازی، ابو القاسم زہراوی، ابن رشد اور بو علی ابن سینا جیسے اسلامی فلسفہ اور علوم عقلیہ کے ماہرین کی کتابیں مغربی زبانوں میں ترجمہ کی گئیں، نیز اہلِ یورپ نے عربوں کے واسطہ سے اسی زمانہ میں جالینوس، بقراط، افلاطون ، ارسطو اور اقلیدس کی کتابوں کو جو یونانی زبان سے عربی میں منتقل ہو چکی تھیں ان کا ترجمہ بھی لاطینی زبان میں کیا۔

اور یہی کتابیں یورپ میں علمی شعور کے ساتھ ساتھ مقبول ہوئیں اور پڑھی گئیں، بلکہ بارہویں صدی سے لے کر ان مذکورہ بالا کتابوں میں سے اکثر و بیشتر کتابیں، پانچ چھ صدیوں تک یورپ کی یونیورسٹیوں میں عقلی و طبعی علوم و فنون کے لیے نصاب بنی رہیں ، بلکہ ان میں سے بعض بعض کتابیں تو انیسویں صدی تک یورپ کی یونیورسٹیوں میں داخلِ درس رہیں اور اہل مغرب ان سے استفادہ کرتے رہے۔

اس طرح اہل مغرب نے اندلس کے اسلامی علوم و فنون کی شمع سے روشنی حاصل کرکے اپنے کلیسائی دورِ جہالت سے نجات حاصل کی اور مسلمانوں کے توسط سے قدیم یونانیوں کی کتابیں اور خود مسلمان عقلاء و فلاسفہ کی کتابیں حاصل کیں اور ان کو پڑھا پڑھایا، اس علمی نہضت کے نتیجہ میں آج یورپ ایجاد و فلسفہ اور فکر و سائنس میں اس قدر آگے بڑھ گیا ہے ، اگر اسے اندلس سے روشنی نہ ملی ہوتی تو یقیناً آج بھی یورپ جہالت اور لا علمی کی دلدل میں پھنسا ہوا ہوتا۔

ایک انگریزی مؤرخ مسٹر ملر اپنی کتاب "فلسفہ تاریخ” میں لکھتا ہے کہ

"مغربی علوم کے اصل مآخذ عربوں کے وہ مدارس ہیں جو ہسپانیہ میں قائم تھے، اور یورپ کے ہر ہر ملک کے طلبہ ان مدرسوں کی طرف دوڑتے تھے، اور ان میں علوم ریاضیہ اور علوم ما وراء الطبیعہ حاصل کرتے تھے، اسی طرح جب عربوں نے جنوبی اٹلی پر قبضہ کیا تو وہ بھی یورپ میں اسلامی علوم کے داخلہ کا واسطہ بنا۔”

اسلامی علوم سے یورپ کی دل چسپی

ہسپانیہ کی درسگاہ سے جو پہلا مغربی عالم نکال ہے۔ وہ ایک فرانسیسی پادری بریزت نامی ہے، اس نے اپنے لاہوتی علوم کی تکمیل کرکے فرانس سے اشبیلہ کی راہ لی، اور وہاں پر تحصیل علم کیا۔ پھر قرطبہ میں جاکر ریاضی اور فلکیات وغیرہ کا علم تین سال تک حاصل کیا۔ پھر فرانس آ کر ان علوم عربیہ سے عوام کو روشناس کرایا جس پر اسے جادوگر اور کافر کا خطاب دیا گیا ، مگر 955ء میں اس نے اپنی ترقی کی راہ لی اور نادانوں سے اسے نجات ملی اسی طرح قرطبہ کی درسگاہ سے شانجہ نامی ایک مغربی حکمران نے بھی علم کی تکمیل کی، اسی زمانہ میں اٹلی کے بعض لکھے پڑھے لوگوں نے عربی زبان کو حاصل کی اور اسے دنیا کی بہترین ادبی زبان سمجھ کر اس میں مہارت حاصل کی ، نیز اسی دور میں ایک مسیحی راہب نے مسیحی قوم کو عربی زبان حاصل کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے بتایا کہ

"اللہ حکمت کو جسے چاہتا ہے دیتا ہے ، اس نے لاطینی زبان کو حکمت نہیں دینا چاہا بلکہ یہدو اور عرب وغیرہ کو دیا، اس لیے تم لوگ عربی زبان حاصل کرکے حکمت کو حاصل کرو۔”

اس طرح مغربی قوموں میں علمی شعور کی جڑ بنیاد پیدا ہوئی اور ترقی پسند پادریوں اور مذہبی طبقوں نے عربی زبان اور اسلامی علوم سے دلچسپی لینی شروع کی، یورپ کے جس ملک میں یہ ذہن پیدا ہوا ، وہاں کے لکھے پڑھے لوگوں نے اندلس کی اسلامی درسگاہوں کا رخ کیا اور واپس آ کر اپنے ملک میں علم و حکمت کی بساط بچھائی۔

یورپ کے علمی شعور میں سیاسی شعور کی آمیزش

آہستہ آہستہ یورپ میں علمی شعور پیدا ہوتا گیا اور وہاں کے علمی دارئرہ میں وطنیت اور قومیت کا عمل دخل بھی ہونے لگا۔

اس قومی اور وطنی احساس نے یورپ کی علمی سرگرمی میں دوسرا رنگ پیدا کر دیا ، چنانچہ اہل مغرب نے آگے چل کر عربی علوم و فنون کے علاوہ مشرق کے دوسرے معاملات میں دلچسپی لینی شروع کی اور ان کی توجہ تجارت ، استعماریت اور دینی تبلیغ کی طرف بھی ہوگئی، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یورپ کی قومیت نے ان نظریات کو سامنے رکھ کر مشرق کے ساتھ ربط پیدا کرنا شروع کیا، مشرقی دنیا کے حالات کا پتہ چلایا، یہاں کے ملکی اور جغرافیائی حالات دریافت کیے ، یہاں کے دینی تہذیبی اور تمدنی و معاشرتی رجحانات معلوم کیے اور مشرقیت کے مخفی خزانوں کی دریافت کے لیے عام مشرقی علوم و فنون حاصل کیے ، اپنے یہاں مشرقی ادب کو زندہ کیا ، یہاں کی کتابوں کو چھاپا ، ان کے ترجمے کیے اور عربی زبان کے علاوہ فارسی، ہندی، سنسکرت، اردو وغیرہ زبانوں کو حاصل کیا، ان کی کتابوں کو پڑھا اور ان زبانوں میں خود بھی کتابیں لکھیں۔

اس طرح یورپ کے "مستشرقین” نے "استشراق” کو ایک فن کی حیثیت دے دی ، جس کی رو سے وہ مشرق کی زندہ اور مردہ زبانوں کو حاصل کرنے لگے، اور اس کے ادب و اسلوب کو پوری طرح معلوم کرنے لگے۔

اسلامی علوم کے لیے پریس اکاڈمی اور دوسرے تصنیفی مشاغل

اس مقصد کے لیے اہل ،غرب نے پریس اور مطابع جاری کیے اور عربی زبان کی کتابیں شائع کرنی شروع کیں، چنانچہ یورپ والوں نے اپنے یہاں سب سے پہلے عربی کتابوں "المجموع المبارک” اور ابن العمید سکین کی تاریخ، ابن عربی کی کتاب تاریخ الاول، سعید بن بطریق کی نظم الجواہر، پھر تاریخ ابو الفداء اور مقاماتِ حریری کو چھاپ کر ان کو شائع کیا۔

اہلِ یورپ نے مشرقی علوم و فنون کی فراہمی کے لیے خاص خاص کتب خانے قائم کیے اور کتابٰں یکجا کیں، انیسویں صدی عیسوی کی ابتداء میں یورپ کے مختلف کتب خانوں میں عربی زبان کی ڈھائی لاکھ سے زیادہ کتابیں موجود تھیں جو لینن گراڈ، پیرس، برلین، لندن، اکسفورڈ، روم، اسکوریال وغیرہ کے کتب خانوں میں رکھی ہوئی تھیں، اسی طرح عربیت کے لیے اہل مغرب نے بہت سی علمی اکادمی کی بنیاد ڈالی اور علمی مجلسیں قائم کیں، جن میں عربی کتابوں کی نشر و اشاعت کا کام ہوتا تھا، سب سے قدیم انجمن 1781ء میں جاوا کے دارا لحکومت میں قائم کی گئی، پھر کلکتہ میں سر ولیم جونس نے 1784ء میں عربی کی اشاعت کے لیے ایشیاٹک سوسائٹی قائم کی، اور 1788ء سے 1836ء تک بیس جلدوں میں اس سلسلہ کی کتابیں شائع ہوئیں، نیز کلکتہ کی اس سوسائٹی کی طرف سے ایک رسالہ بھی 1833ء سے شائع ہونا شروع ہوا تھا، جو برابر شائع ہوتا تھا۔

اس زمانہ میں لندن میں شاہ انگلستان کی سرپرستی میں مشرقیات کے پڑھنے کے لیے ایک سوسائٹی قائم کی گئی، انگلستان کے بڑے بڑے فضلاء اس کے ممبر تھے۔

1820ء میں فرانسیسی مستشرقین نے فرانس میں عربی کتابوں کی طباعت و اشاعت کے لیے ایک سوسائٹی قائم کی اور انہوں نے اس سوسائٹی کی طرف سے ایک رسالہ بھی جاری کیا جن میں عربی اور عربیت کے بارے میں قیمتی معلومات ہوتی تھیں۔

اسی طرح امریکہ، روس، اٹلی ، بلجیم، ہالینڈ، ڈنمارک وغیرہ کے مستشرقین نے انگریزوں اور فرانسیسیوں کے نقشِ قدم پر چل کر عربی علوم و فنون کے لیے اکاڈمی اور سوسائٹی قائم کی، کتابیں شائع کیں اور رسالے جاری کیے ، مشرقی علوم و فنون کے سلسلے میں یورپ کے مستشرقین نے بڑی بڑی کانفرنسیں بھی کیں، بلکہ آج تک مستشرقین یورپ کی بین الاقوامی کانفرنسیں دنیا کے مختلف ممالک میں ہوتی رہتی ہیں، خاص طور سے مستشرقین نے یورپ کے مختلف ممالک میں عربیت کے لیے انیس کانفرنسیں قائم کیں۔

پہلی کانفرنس 1872ء میں پیرس میں منعقد ہوئی، 1908ء میں بھی پیرس میں یہ کانفرنس ہوئی، اس قسم کی کانفرنسوں میں اہلِ مغرب مشرقیات کے مختلف پہلوؤں پر علمی اور تحقیقی مقالات پیش کرتے ہیں اور بڑی تلاش و جستجو سے ایک ایک موضوع پر بیش بہا اور قیمتی معلومات جمع کرتے ہیں۔

اہل یورپ نے عربی علوم کی نشر و اشاعت کے لیے عربی کے مجلات و جرائد جاری کیے ، دنیا بھر سے مخطوطات اور قلمی کتابوں کے ذخیرے جمع کیے ، نادر و نایاب اور عمدہ سے عمدہ کتابوں کو بہترین حواشی تحقیق اور نوٹ  کے ساتھ شائع کیا ، ان میں فہرستوں جا اضافہ کیا ، اور مختلف ناموں ، موضوعوں اور مقامات کی الگ الگ فہرست مرتب کرکے لگائی ، الفاظ کی تحقیقات اور اصول لغت کی تنقیحات میں کمال دکھایا۔

واقعہ یہ ہے کہ کتابوں کی تصحیح اور ان کو پورے اہتمام کے ساتھ شائع کرنے میں اہلِ مغرب اپنی نظیر نہیں رکھتے، اور یہ ان کا امتیازی کارنامہ ہے۔

موجودہ حالات پر ایک نظر

اس طرح اہل یورپ نے اسلامی علوم اور عربی زبان کو حاصل کر کے اپنی زندگی میں ایک ایسا عظیم انقلاب برپا کیا جس نے ایک طرف ان کو علم و تحقیق، سائنس و ایجاد اور فلسفہ میں اختراع میں مشہور کیا اور دوسری طرف ان کو مغرب سے اٹھا کر مشرقی ممالک کی حکومت کے تخت پر بٹھایا۔

اہل یورپ نے اگرچہ اسلامی علوم و فنون کی وجہ سے قومیت و وطنیت کی راہ پائی اور مغرب سے چل کر مشرق کی حکمرانی کی ، مگر اس حال میں بھی انہوں نے اسلامی علوم  و فنون کا ذوق ختم نہیں کیا بلکہ آج بھی یورپ اور امریکہ میں اسلامیات پر بہت کچھ کام ہو رہا ہے اور ان ممالک کے علماء اور فضلاء، عربی زبان اور عربی علوم کی نشر و اشاعت میں لگے رہتے ہیں اور اسلامی کتابوں کی اشاعت میں اسی نشاط سے کام کرتے ہیں۔

اسپین میں جنرل فرانکو کی سرپرستی میں عربی کتابوں کی اشاعت کا طباعت کام جاری ہے ، امریکہ میں عربی کتابوں کی تعلیم اور اشاعت کا کام جاری ہے ، اسی طرح یورپ کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں اسلامیات کے شعبے قائم ہیں ، اور اسلامی علوم و فنون پر اہلِ مغرب اپنے ذوق کے مطابق کام کر رہے ہیں۔

حرفی پریس کی مختصر تاریخ

اس سلسلہ میں پریس اور مطبع کی تاریخ ایک دلچسپ کہانی معلوم ہوگی مختصر طور پر اس کا حال ملاحظہ ہو :-

ٹائپ کے ذریعہ طباعت کی ایجاد ایک جرمن نے 1440ء میں کی، اس کو عربی زبان میں "حناجونمبرج” کہتے ہیں، طباعت کی ایجاد نے علوم اور فنون کی ترقی میں کافی مدد کی، اور ایک مدت تک یورپ میں اس کا دائرہ عمل وسیع ہوتا رہا، اور عربی زبان کی سب سے پہلی کتاب 1514ء میں چھاپی گئی، اس کے بعد مشرقی ممالک میں پریس ترقی کرتا گیا ، خصوصیت سے عربی زبان کی کتابیں دن بدن زیادہ چھپنے لگیں ، مگر ابتدا میں ان کی طباعت بھی یورپ ہی کے ممالک میں ہوتی رہی، چنانچہ ان ہی زمانوں میں نزہۃ المشتاق ادریسی ، قانون بو علی بن سینا، تحریر اصول اقلیدس وغیرہ یورپ سے شایع ہوئیں بلکہ اب تک یورپ سے نادر و نایاب کتابیں شایع ہوتی رہتی ہیں ، اس کے بعد مشرقی دنیا میں طباعت کا فن سلطنت ترکیہ کی راہ سے 1490ء میں داخل ہوا، اور آستانہ میں ایک یہودی عالم نے 1490ء میں پریس قائم کر کے کئی علمی اور مذہبی کتابیں چھاپیں، مگر اب تک چھپائی کا کام رومن رسم الخط میں ہوتا رہا ، پھر 1728ء میں عربی حروف کی ابتدا ہوئی ، اور ان کا پریس قائم ہوا ، اس دور میں عربی حروف کا سب سے مشہور پریس آستانہ کے پریسوں میں مطبعۃ جوائب تھا، جو احمد فارس شدیاق مرحوم کی ملکیت میں تھا، اس مطبع میں مختلف علوم و فنون اور ادب کی امہات الکتب چھاپی گئیں ، یہ مطبع ترکی کا مشہور ترین مطبع تھا۔

عرب ممالک میں حروف کی چھپائی کی ابتدا لبنان سے ہوئی اور مسیحی پادریوں اور مبشروں نے اس میں سبقت کی، چنانچہ لبنانی مسیحی پادریوں نے سترہویں صدی عیسوی کے شروع میں سب سے پہلا پریس قائم کیا۔ اس کے بعد ان ہی کی طرف سے 1840ء میں "مطبعۃ کاثولیکہ” قائم ہوا ، اس پریس نے عربی زبان کی قدیم اور نادر کتابوں کو شائع کیا ، اور علم و ادب کی بہت خدمت کی، اس کے بعد ہی مصر میں مطبع کا قیام ہوا اور 1798ء میں نائبیون کے ہاتھوں چھپائی کا کام جاری ہوا ، اس نے سرکاری فرمانین اور احکام کو عربی زبان میں چھاپنے کے لیے "مطبعہ اہلیہ” کے نام سے پریس جاری کیا، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ پریس بھی چلتا رہا اور محمد علی پاشا نے مطبعہ اہلیہ کی جگہ 1830ء میں "مطبعۃ بولاق” جاری کیا اور اس کی ادارت کا کام شام کے ایک ماہر "نقولا سایکی سوری” کے سپرد کیا۔ مطبعہ بولاق کے لیے خاص طور سے مختلف سائز کے بہترین طریقے پر حروف ڈھالے گئے ، پھر دوسری مرتبہ عربی حروف کی ڈھلائی مصر کے سب سے بڑے خوشنویس مرحوم جعفر بیگ کے قاعدہ کے مطابق ہوئی ، مصر میں آج تک مرحوم جعفر بیگ کے اصول پر ڈھالے ہوئے حروف کا استعمال ہوتا ہے۔

"مطبعہ بولاق” نے ریاضیات، طب و جراحت اور غیر زبانوں سے ترجمہ شدہ تقریباً تین سو کتابوں کو چھاپا، اور اس کے شعبہ "القسم الادبی” سے ادب کی امہات کتب چھاپی گئیں، اب بہت دنوں سے "مطبعہ بولاق” سرکاری چیزوں کو چھاپتا ہے، اور درسی کتابیں اور سرکاری کاغذات اس میں چھپتے ہیں۔ "مطبعہ بولاق” کے بعد مصر میں بہت سے چھاپہ خانے قائم ہوئے ، جو ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر کام کرتے ہیں۔

ہندوستان میں سب سے پہلے پرتگیزیوں نے جنوبی ہند میں ٹائپ پریس جاری کیا، اور تامل اور ملیالم زبان میں مذہبی کتابیں چھاپیں، کلکتہ میں 1781ء میں ٹائپ پریس قائم ہوا، جس میں بہت سی عربی کتابیں چھاپی گئیں ، بمبئی میں 1300ھ مطابق 1882ء میں ایک ٹائپ پریس تھا جس میں علامہ ادیب عبد الجلیل بن یاسین بصری متوفی 1270ھ کا دیوان 280 صفحات پر چھاپا گیا ، اس کے بعد بمبئی میں کئی حرفی پریس جاری ہوئے، مگر وہ بہت معمولی قسم کے تھے، اور زیادہ دنوں تک نہیں چل سکے، آج کل بعض پریس اچھا کام کر رہے ہیں ، ریاست حیدر آباد میں دائرۃ المعارف نے ایک پریس جاری کیا جس میں بہت سی نادر و نایاب کتابیں چھاپی گئیں ، زمانہ ہوا مولانا عاشق الٰہی میرٹھی نے میرٹھ سے ایک حرفی مطبع "مطبعہ نیمریہ” کے نام سے جاری کیا ، جس خاص طور سے ابن اثیر کی "جمع الفوائد” چھاپ کر شائع کی، جو حدیث کی اہم کتاب ہے، اسی طرح ہندوستان کے بعض دوسرے مقامات پر حرفی مطابع ہیں اور اپنے طور پر کام کر رہے ہیں۔

(ماہنامہ "البلاغ” بمبئی، "تعلیمی نمبر” دسمبر 1954ء، جنوری و فروری 1955ء)

قرآن اور قرآن کے اردو ترجموں کے بارے میں چند حقائق


الواقعۃ شمارہ : 48 – 49  جمادی الثانی و رجب المرجب 1437ھ

از قلم : ابو الحسن

پاکستان کو اسلام کا قلعہ کہا جاتا ہے۔ چونکہ پاکستانیوں کی مادری زبان عربی نہیں ، اس لیے قرآن سے تعارف ترجموں پر منحصر ہے۔ اس لیے قرآن سمجھنے کے لیے اردو ترجموں کا جائزہ لینا ضروری ہے اور کچھ حقائق قرآن کے بارے میں بھی جاننا چاہیے۔ پڑھنا جاری رکھیں

عربی زبان کی اہمیت


الواقعۃ شمارہ 46 ربیع الاول 1437ھ

از قلم : ابو عمار سلیم

عربی زبان کا شمار دنیا کی بڑی زبانوں میں ہوتا ہے۔ انگریزی اور فرانسیسی زبان کے بعد عربی دنیا کی تیسری بڑی زبان ہے۔ اس زبان کے بولنے اور جاننے والے دنیا کے بہت بڑے حصہ میں پائے جاتے ہیں۔ یہ ستائیس ممالک کی سرکاری زبان ہے اور  دنیا بھر میں اس کے بولنے والے تقریباً 35  کروڑ افراد ہیں اور وہ افراد اس سے مستزاد ہیں جن کی مادری زبان عربی نہیں ہے لیکن وہ عربی ایسے جانتے ہیں جیسے کہ اپنی مادری زبان۔ اور ان سب سے اوپر یہ کہ ،  یہ زبان دنیا بھر کے تقریباً ایک ارب ستر کروڑ کے لگ بھگ مسلمانوں کی مذہبی زبان ہے اور وہ عربی جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں انہیں یہ زبان کس طرح عزیز ہے اس کا اندازہ غیر مسلم لوگ نہیں لگا سکتے۔ ہمارا یہ ایمان ہے کہ یہ آسمانوں کی ، اللہ کی ، اللہ کے فرشتوں کی اور جنت کی زبان ہے۔ قرآن مجید کی تلاوت اور پھر اس کو یاد کرنا اور اپنی نمازوں میں اس کو ہر روز پڑھنا ایک عام معمول ہے۔

عربی زبان اپنی ہئیت اور طریقہ بناوٹ سے آرامی اور عبرانی زبانوں سے بنی ہوئی لگتی ہے یا یہ کہا جائے کہ یہ  تینوں زبانیں ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں۔ قرآن مجید کی عربی اس زبان کا اصل اصول ہے۔ اور قرآن کی زبان اور اس کے قوائد ہی اس زبان کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں۔ قرآن کی عربی  ہی دراصل ادبی عربی ہے۔ اس کو  Classical Arabic کہتے ہیں۔ عام بول چال کی عربی زبان قدرے مختلف ہوتی ہے اور مختلف علاقوں میں اس کا انداز الگ الگ ہے۔ بلکہ بعض اوقات تو ایسا ہوتا ہے کہ کسی ایک علاقہ کی بول چال کی عربی ایک دوسرے علاقے کے رہنے والے کی سمجھ میں آتی ہی

موجودہ دور کی عربی جس میں عام تقریر و تحریر کو جدید عربی کہا جاتا ہے اپنی ترکیب اور ہئیت میں تھوڑا سا مختلف ہے۔ موجودہ دور کی ایجادات ، نئی نئی چیزوں کی آمد اور ان کا استعمال اور ان کے نام جو عربی زبان سے ماخوذ نہیں عربی میں استعمال ہوکر کچھ مختلف ہو گئے۔ اسی طرح دیگر ثقافتوں اور زبانوں کی عربوں کے علاقوں میں آ جانے کی وجہ سے بھی ان الفاظ اور زبانوں کا عربی میں استعمال شروع ہو گیا اور بہت سے الفاظ جو باہر سے آئے ان کو عربی گرائمر کے اصولوں کے تحت عربی سے نزدیک کر لیا گیا مگر ایک بہت بڑی تعداد ان الفاظ کی بغیر کسی رد و بدل کے عربی زبان میں بھی مستعمل ہو گئے اور شائد یہ کسی حد تک جائز بھی ہے۔ ہوائی جہاز جب آیا تو اس کو عربی کے قریب لانے کے لیے پرندہ یا اڑنے والی چیز سے موسوم کر دیا گیا اور طیارہ بنا دیا۔ مگر بعض الفاظ جیسے ٹیکنیک کا کوئی بدل نہ ملا تو تکنیک  بنا کر استعمال کرلیا گیا۔ ٹیلیفون کو ہاتف بنا دیا گیا اس لیے کہ ہاتف کا عربی میں مطلب یہ ہے کہ کوئی ایسی آواز جو بہت دور سے آ رہی ہو مگر اس کا بولنے والا دکھائی نہ دے اور فون میں یہی کچھ ہوتا ہے۔ الغرض ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں اور ان پر غور کر کے ایک لمبی فہرست تیار کی جا سکتی ہے۔ ایسی زبان آج کل جدید عربی یا پھر بین الاقوامی  طور  پر Modern Arabic  کہلاتی ہے۔ اور آج یہی زبان ٹیلی ویزن ، خبروں اور عام بول چال میں استعمال ہوتی ہے اور تقریباً ہر علاقہ کے لوگ اسے بآسانی سمجھتے بھی ہیں۔نہیں۔ لیکن جب بات آ جائے ادبی تحاریر کی یا لکھی ہوئی عربی کی اور انشائیہ پردازی کی تو ہر علاقہ کے لوگ ایک ہی طرز کی عربی پر اتر آتے ہیں جو ہر ایک کی سمجھ میں آتی ہے اور کوئی اجنبیت باقی نہیں رہتی۔ یہ اعجاز ہے قرآن کا جو دنیا کے ہر مسلمان کے دل و دماغ میں اس طرح گھر کیے ہوئے ہے کہ جب اس کے اصول و ضوابط کی بات ہوتی ہے تو کوئی اختلاف باقی نہیں رہتا۔ قرآن مجید عربی زبان کی بہتریں تصنیف ہے جس کے ادبی محاسن پر پچھلے پندرہ سو برسوں سے غور و خوض ہو رہا ہے اور نئی نئی چیزیں سامنے آ رہی ہیں۔ اور کیوں نہ ہو کہ یہ اللہ تعالی کی کتاب ہے۔ جب ہی تو اللہ نے چیلنج کیا کہ ایسی کوئی ایک سورة  ہی بنا لاؤ اور پھر یہ کہہ کر اس بات کوانتہائی شدید طریقہ سے واضح کر دیا کہ تم ایسا کچھ کر ہی نہیں سکتے اور یہ دعویٰ آج بھی بلکہ قیامت تک کے لیے سچ ہی ہے اور ناقابل شکست۔

غیر مسلم اغیار نے جہاں مسلمانوں کو ہر محاذ پر نیچا دکھانے کی ہمیشہ کوشش کی تو وہاں ہی انہوں نے عربی زبان کی مقبولیت اور اس کی ترویج کی رکاوٹوں کے لیے اپنی طرف سے اپنی دشمنی سے گریز نہیں کیا۔ اسلام کی آمد کے بعد اور پھر اسلامی فتوحات کے ساتھ ساتھ جہاں مفتوح علاقہ کے لوگوں کی مذہبی اور ثقافتی روایات میں تبدیلیاں واقع ہوئیں وہیں ان لوگوں  نے عربی زبان کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ نتیجہ کے طور پر چند ہی برسوں میں وہ عربوں کی بود و باش روایات و ثقافت کے ساتھ ساتھ ان کی زبان کے بھی حامل ہو گئے۔ نتیجہ کے طور پر مصر ، سوڈان ، بلکہ تقریباً پورا شمالی و وسطی افریقہ، مشرق وسطہ کے اکثر ممالک کے ساتھ دیگر علاقہ کے اندر بھی یہ تبدیلی آئی اور آج یہ سارا علاقہ عرب علاقہ کہلاتا ہے ، عرب یونین کا حصہ ہے اور ہر لحاظ سے عربی ہے۔ اغیار کو مسلمانوں کی یہ ترقی اور ان کا یہ اثر بالکل بھی نہیں برداشت ہوتا تھا تو انہوں نے جہاں مسلمانوں کے خلاف ریشہ دوانیاں کیں وہاں عربی زبان اور اس کی ترویج میں بھی رکاوٹیں ڈالنی شروع کر دیں۔ اس کی ایک بہت ہی واضح مثال الجیریا کے واقع سے ملتی ہے جہاں یورپی ممالک کے قبضہ کے بعدعربی کے خلاف نفرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ قرآن مجید کو جلایا گیا، عربی مخطوطات اور ہر قسم کی  عربی کتابوں کو نذر آتش کیا گیا۔ عربی بولنا اور عربی سیکھنا سکھانا سب غیر قانونی قابل سزا عمل قرار پایا۔ عربی جس کی سرکاری زبان کی حیثیت تھی اور اسی حوالے سے الجیریا کی آبادی پچاس فی صد سے بھی زیادہ پڑھی لکھی شمار ہوتی تھی ، اس کی سرکاری حیثیت ختم ہوئی تو وہی آبادی ایک دن کے وقفہ سے جاہل قرار پائی اور Illetrate لوگوں کی تعداد  تقریباً سو فیصد ہو گئی۔

دنیا بھر کے تمام مسلمان عربی زبان کا نہ صرف احترام کرتے ہیں بلکہ اس کو ایک مقدس زبان سمجھتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ جیسا کہ پہلے کہا گیا قرآن مجید فرقان حمید ہے۔ وہ جو عربی ہیں اور جن کی مادری زبان عربی ہے وہ  تو خیر ہیں ہی اس زبان کے بولنے اور سمجھنے والے۔ مگر دیگر علاقوں کے مسلمان جو عربی نہیں جانتے وہ بھی عربی کو جاننے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اگر بہت کچھ نہ بھی کریں تو یہ ضرور کرتے ہیں کہ جتنا ممکن ہو سکے قران کی آیات کا ٹوٹا پھوٹا مطلب جان لیں۔ سر ڈھانپ کر ، با ادب ہاتھ باندھ کر خاموشی سے قران کی تلاوت سننا خواہ سمجھ میں ایک لفظ بھی نہ آ رہا ہو ، ان غیر عرب علاقے میں ایک بہت ہی عام نظر آنے والا منظر ہے۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ منظر اس لحاظ سے درست ہے ؟ کیونکہ قران ایک درس ہے اور احکامات کا مجموعہ ہے۔ اگر سمجھ میں نہ آئے تو کیا صرف اس کا اس قدر ادب کے ساتھ سننا واقعی قران کا حق ادا کرنا ہے۔ میرے خیال سے نہیں۔ قران کا ادب کرنا ، اسے پاکیزگی میں پڑھنا اور اس کی تلاوت کو غور سے سننا سب بہت ضروری ہے مگر یہ قران کا حق نہیں ہے۔ قران کا حق تو جب ادا ہوگا جب اسے پڑھا ،  یا سنا جائے تو اس کو سمجھا بھی جائے۔ قران کے احکامات ہمارے لیے ہدایت کا ذریعہ ہیں انہیں سمجھنا اور پھر ان ہدایات پر عمل کرنا انتہائی ضروری ہے اور یہی قران کے پڑھنے اور سننے کا حق ہے۔مگر یہ سب کچھ ہو کیسے۔ ہمیں عربی آتی نہیں اور ہم اس کو سیکھنے کے لیے تیار بھی نہیں۔

اگر حقیقی معنوں میں ٹھنڈے دل سے غور کیا جائے تو ہم پاکستانی لوگ اس قران کو سیکھنے کے لیے دیگر تمام اقوام عالم کی نسبت زیادہ نزدیک ہیں اور یہ ہمارے لیے نسبتاً آسان ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ کہ اس کا رسم الخط ہمارے رسم الخط سے ملتا ہے بلکہ ہماری اردو کی لکھائی عربی خط سے ہی وجود میں آئی ہے۔ قران ہم اسی وجہ سے بغیر عربی جانے انتہائی روانی سے اور تجوید کے تمام قوائد کے ساتھ فرفر پڑھ لیتے ہیں۔ قران مجیدمیں استعمال ہونے والے اسی نوے فیصد الفاظ ہمارے لیے مانوس ہیں۔ جہاں کہیں اجنبیت لگتی ہے ذرا سا غور کرنے کے بعد وہ بھی سمجھ میں آ جاتا ہے۔ عربی زبان کے قواعد اردو زبان کے قواعد سے بھی میل کھاتے ہیں۔ کچھ تھوڑی بہت تبدیلی ہے مگر اس میں بھی سمجھ میں نہ آنے والی کوئی چیز نہیں۔ اتنی ساری آسانی کے بعد جب کوئی دل جمعی سے عربی زبان سیکھنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کو زیادہ تکلیف نہیں ہوتی اور پھر اللہ کی مدد بھی شامل حال ہو جاتی ہے۔ میرے ایک جاننے والے صاحب کہنے لگے کہ کیا ضرورت ہے کہ عربی سیکھی جائے۔ قران کے اتنے تراجم موجود ہیں اور ایسی ایسی تفسیریں ہمارے بزرگ لکھ گئے ہیں کہ بس کتاب کھولو اور سب کچھ جان لو۔ مگر حقیقت تو یہ ہے کہ یقیناً یہ سب کچھ درست ہے مگر قران کے سنتے ہی الفاظ سمجھ میں آنے لگ جائیں اور اس کے بیان کی شیرینی کان میں رس گھولنے لگے تو قران کا اصل رنگ نظر آتا ہے۔

عربی زبان بذات خود اتنی اصولی زبان ہے کہ اس کہ چند ایک اصول سمجھ میں آ جائیں تو بہت سارے الفاظ بلکہ جملے بھی بڑی آسانی سے سمجھ میں آنے لگتے ہیں۔ اور اگر پڑھانے والا استاد اچھا اور سمجھ دار ہو تو تقریباً تین ماہ میں ایک گھنٹہ روز کے حساب سے محنت کے بعد آپ قران سنیں گے اور اس کا مطلب سمجھنا شروع ہو جائیں گے۔ یہ یاد رکھیں کہ جب ہم عربی سیکھنا چاہتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ تین مہینوں کے بعد ہم قران مجید کا ایک ایسا ترجمہ کر ڈالیں گے کہ ہر طرف دھوم مچ جائے گی ، استغفراللہ۔ عربی سیکھنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس کے قواعد اور گرائمر کو اس طرح جان لیں کہ الفاظ کے مطالب پلے پڑنے لگ جائیں۔ وگرنہ جان لیجیے وہ بزرگ جنہوں نے اپنی پوری زندگی قران کو اور اس کے محاسن کو سمجھنے میں کھپا دی  اور دنیا میں بڑے جید عالم مانے گئے وہ بھی آخر میں آکر کف افسوس ملتے دکھائی دیئے کہ ہائے کچھ بھی نہ سیکھ سکے۔

اور ان تمام باتوں کے علاوہ سب سے بڑی بات یہ کہ آپ نے جیسے ہی قران مجید کو بہترطریقہ سے سمجھنے کے لیے عربی سیکھنی شروع کر دی آپ کا شمار اللہ کے دربار میں ان خصوصی لوگوں جیسا ہونے لگ جائے گا جو اللہ کا بھیجا ہوا کلام جاننا چاہتے ہیں اور اس کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ آپ نے شائد حضرت عثمان بن عفان  سے  مروی وہ حدیث نبوی ﷺ  سنی ہوگی کہ ” تم میں  سے بہتر وہ ہے جو قرآن کو سیکھے اور اس کو سکھائے۔” ذرا سوچیے کہ اللہ کے دربارمیں کسی بھی وجہ سے ایک ناچیز بندے کو کوئی خصوصیت مل جائے تو اس کی قسمت کا کیا ٹھکانا۔ ثواب کا ثواب اور پھر اللہ کے حضور اس کی قربت کا ایک ذریعہ۔

مگر افسوس تو اس بات کا ہے کہ ہم لوگ یہ سب کچھ جاننے کے باوجود اس طرف توجہ دینے کو بالکل تیار نہیں۔ ہم دنیاوی تعلیم کے لیے خود بھی اور اپنے بال بچوں کو بھی انتہائی مشقت میں ڈال دیتے ہیں اور برسہا برس اس میں کھپا دیتے ہیں جس کا مطمح نظر صرف یہ ہوتا ہے کہ ایک اچھی سی نوکری ملے گی اور اچھے پیسے کمائیں گے اور گذر بسر اچھے طریقے سے ہو جائے گی۔ یعنی کل مقصود اچھے سے پیٹ کا بھرنا ہے۔ اگر میں یہ کہوں کہ آج تک نہ کسی پرندے نے ایم بی اے کیا، نہ کسی اونٹ گھوڑے نے فلسفہ کی ڈگری لی ، نہ کوئی اور جانور انجینئر یا ڈاکٹر بنا مگر روزی ہر ایک کو مل رہی ہے۔ اللہ نے صاف صاف الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ کتنے ہی پرندے اور جانور صبح کو خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو شکم سیر ہو کر واپس آتے ہیں۔ رزق کا وعدہ اللہ نے کیا ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ نے ہر ایک کا رزق لکھ دیا ہے جس سے نہ زیادہ ملے گا نہ کم ، اور یہ اللہ کا اٹل فیصلہ ہے۔ مگر اس کے باوجود ہم رزق کے لیے اتنی تگ و دو کرتے ہیں۔ دنیا کمانا بالکل منع نہیں ہے بلکہ اللہ نے تو قران مجید میں یہ کہا کہ دنیا سے اپنا حصہ لینا مت بھولو۔ مگر جو حاصل کرو اس کو اپنی آخرت کے لیے آگے بھیج دو۔ مگر ہم لوگ صرف دنیا کے حصول میں لگے ہوئے ہیں۔ اگر ان تمام چیزوں کے ساتھ اللہ کے کلام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کو اپنا شعار بنا لیں تو یقیناً اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے تحت  ” میں اوپر نیچے دائیں بائیں  سے اور ایسی جگہوں سے رزق دونگا کہ تمہیں اس کا گمان بھی نہیں ہوگا۔”  ہمیں ہر حال میں بہترین رزق نصیب ہوگا۔

آئیے اس بات کا وعدہ کریں کہ آپ میری ان گذارشات پر غور کریں گے اور اپنے قیمتی اوقات میں سے اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر کچھ تھوڑا سا وقت نکالیں گے اور عربی زبان کو سیکھنے کے لیے اپنی کوششیں صرف کریں گے۔ اگر آپ یہ کام نیک نیتی سے کریں گے تو میرا ایمان ہے کہ اللہ کو آپ کو کبھی بھی مایوس نہیں کرے گا اور اپنے اعلان کے مطابق آپ کو ایسے طریقوں سے رزق دے گا کہ آپ نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا۔ آپ کے تمام معاملات میں وہ خود اپنی رضا شامل کر دے گا۔ اور آپ نہ صرف اس دنیا میں بلکہ آخرت میں بھی اللہ کی عنایات اور اس کی کرم نوازی کے حقدار ہو جائیں گے۔ ان شاء اللہ۔ یاد رکھیں کہ اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا اور یہ کہ اللہ سے زیادہ کسی کی بات سچی نہیں ہوتی۔  میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔ آپ کوشش شروع کریں اور میرے لیے بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس ضمن میں میری کوششوں کو بھی بار آور کریں اور مجھے بھی آپ کے ساتھ اپنے قریبی لوگوں میں شامل کر لیں کہ جن پر اللہ کی بے شمار نعمتیں ہر لحظہ نازل ہوتی ہیں اور جن کے لیے اللہ کے مخصوص فرشتے دعائیں کرتے ہیں اور ان کے لیے مغفرت مانگتے رہتے ہیں۔