تفسیر سورۃ الزمر آیت : 53


الواقعۃ شمارہ: 86 – 87، رجب المرجب و شعبان المعظم 1440ھ

از قلم : مولانا ارشاد الحق اثری

قُلْ یٰعِبٰدِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللہ اِنَّ اللہ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا اِنَّہٗ ہُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ [الزمر: 53

’’کہہ دے: اے میرے بندو جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی! اللہ کی رحمت سے نا اُمید نہ ہو جاؤ، کو پڑھنا جاری رکھیں

دجال کی حقیقت اور ماہیت کیا ہے ؟


الواقعۃ شمارہ: 82 – 85، ربیع الاول تا جمادی الثانی 1440ھ

اشاعت خاص : فتنہ دجالیت

از قلم : محمد شاہ رخ خان – کراچی

دجال کا موضوع ان موضوعات میں سے جس کے مختلف پہلوؤں پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں، بعض حضرات نے تو دجال کو ایک نظام قرار دے دیا بعض نے میڈیا کو دجال قرار دیا، بعض نے امریکہ کو دجال قرار دیا اور بعض نے دجال کو تین مختلف اشخاص قرار دیا، لیکن یہ تمام آراء قرآن و حدیث اور سلف کے فہم کے خلاف ہیں، قرآن و سنت سے مستفاد جس نظریئے پر اسلافِ امت اور مستند علماء کرام ہر دور میں رہے ہیں وہ یہی ہے کہ کو پڑھنا جاری رکھیں

دجال کون ہے ؟


الواقعۃ شمارہ: 82 – 85، ربیع الاول تا جمادی الثانی 1440ھ

اشاعت خاص : فتنہ دجالیت

از قلم : مولانا اصغر علی روحی

دجال مشتق ہے دجل سے، جس کا معنے خلط، لبس، خدع، (فریب اور دھوکا) کے ہیں۔ چونکہ وہ شخص دین میں فتنہ عظیم کا باعث ہوگا، اس لیے اس کو دجال کہا گیا اور اس کا لقب مسیح ہوگا اور اس کے اس لقب کی وجہ یا تو یہ ہے کہ اس کے چہرہ کی ایک جانب معہ آنکھ کے کو پڑھنا جاری رکھیں

حضرت علی رضی اللہ عنہ : افراط و تفریط کے درمیان


الواقعۃ شمارہ : 76 – 77 رمضان المبارک و شوال المکرم 1439ھ

اشاعت خاص : سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

زبان رسالتِ مآب ﷺ نے اپنے بعض اصحابِ کرام کو بعض جزوی وصف کی بنا پر بعض گزشتہ انبیاء سے تشبیہ دی۔ سیدنا صدیق اکبر سے متعلق فرمایا کہ یہ سیدنا ابراہیم کے مشابہ ہیں۔ فاروقِ اعظم کی جلالی طبیعت کے پیش نظر ان کے جلال کو جلالِ موسوی کو پڑھنا جاری رکھیں

محبت اور عشق میں فرق


الواقعۃ شمارہ : 58 ، ربیع الاول 1438ھ

از قلم : محمد زبیر شیخ ، ملتان

کسی سے اپنی عقیدت کو ظاہر کرنے کے لیے ہمارے ہاں زیادہ تر لفظ عشق استعمال کیا جاتا ہے اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ لفظ ہماری محبت اور عقیدت کو بالکل صحیح انداز سے واضح کردیتا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عشق اور محبت وعقیدت میں بہت فرق ہے۔  کو پڑھنا جاری رکھیں

غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ : دستور پاکستان اور قادیانیت


الواقعۃ شمارہ 48 - 49 جمادی الاول و جمادی الثانی 1437ھ

از قلم : شکیل عثمانی

حال ہی میں وطنِ عزیز کے ممتاز دانش ور، جناب جاوید احمد غامدی کا ایک مضمون "اسلامی ریاست : ایک جوابی بیانیہ” ان کے ماہنامہ "اشراق” لاہور اور چند دوسرے رسائل اور جرائد میں شائع ہوا ہے۔ موضوع کی اہمیت اور اپنے سنجیدہ اور علمی اندازِ بیان کے سبب یہ مضمون گہرے غور و فکر کا متقاضی ہے۔ اس لیے بھی کہ یہ ملک میں جاری اسلام اور سیکولر ازم کی اُس کشمکش کی عکاسی کرتا ہے، جس کے دور رس نتائج ہوں گے۔ ذیل کی سطور میں مضمون کے صرف چند نکات کا اختصار سے جائزہ لیا جاتا ہے۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

ان شاء اللہ کے ساتھ مذاق


الواقعۃ شمارہ 47 ربیع الثانی  1437ھ

از قلم : ایس ، اے ، ساگر

صبح سے شام تک انسان اپنی بول چال میں جانے کتنی مرتبہ کوئی وعدہ یا ارادہ کرتا ہے۔کیا ہی اچھا ہو کہ اس موقع پر یہ یقین کر لیا جائے کہ یہ اللہ کی مرضی کے بغیر بھلا کیسے ہو سکتا ہے، اسی نیت کے ساتھ مختصر سا جملہ ” ان شاء اللہ ” کہنے میں کچھ خرچ نہیں ہوتا ۔لیکن اس کا کیا کیجئے کہ بعض بدنیت قسم کے لوگوں نے اس کلمہ استثنا کو اپنی بد نیتی پر پردہ ڈالنے کے لیے ڈھال بنا رکھا ہے مثلاً ایک شخص اپنے سابقہ قرضہ کی ادائیگی یا  نئے قرض کے لیے قرض خواہ سے ایک ماہ کا وعدہ کرتا ہے اور ساتھ ان شاء اللہ بھی کہہ دیتا ہے مگر اس کے دل میں یہ بات ہوتی ہے کہ اپنا کام تو چلائیں پھر جو ہوگا دیکھا جائے گا اور جب مدت مقررہ کے بعد قرض خواہ اپنے قرض کا مطالبہ کرتا ہے تو کہہ دیتا کہ اللہ کو منظور ہی نہ ہوا کہ میرے پاس اتنی رقم آئے کہ میں آپ کو ادا کرسکوں وغیرہ وغیرہ عذر پیش کر دیتا ہے۔ ایسے بد نیت لوگوں نے اس کلمہ استثناء کواس قدر بدنام کر دیا ہے کہ جب کوئی اپنے وعدہ کیساتھ ان شاء اللہ کہتا ہے تو سننے والا فوراً کہتا ہے کہ اس کی نیت بخیر نہیں ہے جبکہ یہ اللہ کی آیات سے بد ترین قسم کا مذاق ہے جس کا کوئی صاحب ایمان شخص تصور بھی نہیں کر سکتا۔ کو پڑھنا جاری رکھیں