امام ابن تیمیہ اور علامہ شبلی نعمانی


الواقعۃ شمارہ 38 رجب المرجب 1436ھ

از قلم : محمد عزیر شمس، مکہ مکرمہ

برصغیر میں امام ابن تیمیہ کے افکار سے واقفیت اور ان کے تھوڑے بہت اثر کا سلسلہ آٹھویں صدی ہجری سے شروع ہوتا ہے۔ بعض محققین نے اس سلسلے میں متعدد شواہد اور قرائن پیش کیے ہیں جن کی تفصیل یہاں بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔(1) بعد کے ادوار میں شاہ ولی اللہ ، نواب صدیق حسن خاں اور سید نذیر حسین دہلوی کے تلامذہ ( خصوصاً غزنوی علماء ) نے کو پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

مولانا امین اللہ نگرنہسوی اور ان کا "قصیدہ عظمیٰ”


الواقعۃ شمارہ 47 ربیع الثانی  1437ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

مولانا امین اللہ انصاری نگرنہسوی عظیم آبادی برصغیر کے مشہور عالم، مدرس، منطقی ، ادیب و شاعر تھے۔ انہیں حکیم الامت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی سے تلمذ کا فخر حاصل تھا۔ ان کی فضیلتِ علمی کا اندازہ اس امر سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ انہیں ” مدرسہ عالیہ ” کلکتہ کے صدر مدرس کا منصب تفویض کیا گیا۔ انہوں نے مختلف موضوعات پر متعدد کتابیں تالیف کیں اور ان سے طلاب علم کی ایک بڑی تعداد مستفید ہوئی۔ سیرت پر ان کی ایک منظوم کتاب ” قصیدہ عظمیٰ ” کا ذکر ملتاہے جسے اپنے دور میں بڑی مقبولیت ملی۔ یہاں اسی منظوم سیرت کا جائزہ لینا مقصود ہے مگر اس سے پہلے صاحبِ کتاب کے مختصر حالات حسبِ ذیل ہیں۔

کو پڑھنا جاری رکھیں

مشاہیر فاروقی


الواقعۃ شمارہ 44 – 45 محرم و صفر 1437ھ

اشاعت خاص : سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

سیّدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کی اولادو احفاد کا تذکرہ

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت اور اسلام میں متعدد نکاح کیے۔ ان کا پہلا نکاح زینب بنت مظعون سے ہوا ، جو مشہور صحابی رسول حضرت عثمان بن مظعون کی بہن تھیں۔ حضرت زینب نے اسلام قبول کیا ، ان کی وفات مکہ معظمہ ہی میں ہوئی۔ ان کے بطن سے ام المومنین حفصہ ، عبد اللہ اور عبد الرحمٰن الاکبر پیدا ہوئے۔

کو پڑھنا جاری رکھیں

سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا مقام اجتہاد


الواقعۃ شمارہ 44 – 45 محرم و صفر 1437ھ

اشاعت خاص : سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

” اجتہاد " اسلامی قانون و شریعت کی اہم ترین بنیاد ہے۔ اجتہاد ہی ہے جو شریعت کو جامد و ساکت ہونے سے محفوظ رکھتی ہے۔ اجتہاد ہی کے ذریعے تمدنی ضرورتوں اور مختلف زمانے کے تہذیبی روّیوں کی تکمیل شریعت کے مطابق ہوتی ہے۔ اجتہاد ہی کے ذریعے سے مختلف زمانوں میں مختلف احوال و ظروف کے دائرے میں رہ کر شرعی قوانین وضع کیے جاتے ہیں اور شریعت اسلامیہ کو  ہر شخص کے لیے قابلِ عمل بنایا جاتا ہے۔

کو پڑھنا جاری رکھیں