مولانا امین اللہ نگرنہسوی اور ان کا "قصیدہ عظمیٰ”


الواقعۃ شمارہ 47 ربیع الثانی  1437ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

مولانا امین اللہ انصاری نگرنہسوی عظیم آبادی برصغیر کے مشہور عالم، مدرس، منطقی ، ادیب و شاعر تھے۔ انہیں حکیم الامت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی سے تلمذ کا فخر حاصل تھا۔ ان کی فضیلتِ علمی کا اندازہ اس امر سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ انہیں ” مدرسہ عالیہ ” کلکتہ کے صدر مدرس کا منصب تفویض کیا گیا۔ انہوں نے مختلف موضوعات پر متعدد کتابیں تالیف کیں اور ان سے طلاب علم کی ایک بڑی تعداد مستفید ہوئی۔ سیرت پر ان کی ایک منظوم کتاب ” قصیدہ عظمیٰ ” کا ذکر ملتاہے جسے اپنے دور میں بڑی مقبولیت ملی۔ یہاں اسی منظوم سیرت کا جائزہ لینا مقصود ہے مگر اس سے پہلے صاحبِ کتاب کے مختصر حالات حسبِ ذیل ہیں۔

کو پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

ایک مجسمۂ علم و شرافت کی المناک شہادت۔ مولانا حکیم محمود احمد برکاتی شہید کی یاد میں ایک غمزدہ دل کے تأثرات


جریدہ "الواقۃ” کراچی، شمارہ 10 ربیع الاول 1433ھ/  جنوری، فروری 2013

ایک مجسمۂ علم و شرافت کی المناک شہادت

مولانا حکیم محمود احمد برکاتی شہید کی یاد میں ایک غمزدہ دل کے تأثرات

محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

PDF Download مولانا حکیم محمود احمد برکاتی شہید کی یاد میں ایک غمزدہ دل کے تأثرات

مولانا حکیم محمود احمد برکاتی شہید کی المناک شہادت ہماری دم توڑتی علمی دنیا کا اندوہناک حادثہ ہے۔ ان کا مجھ سے اور "الواقعة” سے جو تعلق تھا اس کا حق اس مختصر مضمون سے ادا نہیں ہوسکتا۔ یہ مضمون محض ایک غمزدہ دل کا نوحہ ہے ان کی شخصیت پر مفصل مضمون میرے قلم پر قرض ہے جو انشاء اللّٰہ العزیز اپنے وقتِ مقررہ پر ادا ہوگا۔ (محمد تنزیل الصدیقی الحسینی)
علمی و دینی حلقوں میں یہ خبر یقینا دکھ و اضطراب کے ساتھ سنی جائے گی کہ طبِ قدیم کے فاضلِ جلیل اور فلسفہ و معقولات کے محققِ شہیر علامہ حکیم محمود احمد برکاتی مورخہ 9 جنوری2012 ء کو اپنے مطب میں ایک بجے کے لگ بھگ سفاک ظالموں کی گولیوں کا نشانہ بنے اور شہید ہوگئے۔ انّا للہ و انّا الیہ راجعون کو پڑھنا جاری رکھیں