تفسیر سورۃ الزمر آیت : 53


الواقعۃ شمارہ: 86 – 87، رجب المرجب و شعبان المعظم 1440ھ

از قلم : مولانا ارشاد الحق اثری

قُلْ یٰعِبٰدِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللہ اِنَّ اللہ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا اِنَّہٗ ہُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ [الزمر: 53

’’کہہ دے: اے میرے بندو جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی! اللہ کی رحمت سے نا اُمید نہ ہو جاؤ، کو پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

شمع رسالت ﷺ کا ایک پروانہ


الواقعۃ شمارہ 55 ذی الحجہ 1437ھ

اشاعت خاص : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ

از قلم : محمد زبیر شیخ ( ملتان)

تاریخ اسلام کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو بہت سی خصوصیات سے نوازا ہے۔ ان مختلف الجہت خصوصیات میں سے ایک خصوصیت وہ رجال اللہ ہیں جنہیں تاریخ میں بلند مقام حاصل ہے۔ خصوصاً صحابہ کرام کی زندگیاں ہمارے لیے روشن مثال ہیں۔ اس مضمون میں انہی ہستیوں میں سے ایک منفرد ہستی کا تذکرہ کیا جا رہا ہے جن کی زندگی کفر کی موت تھی۔ وقت کی دھول بھی ان کی تابندہ سیرت کو دھندلا نہیں سکی۔ جو شرم وحیاء کا پیکر تھی۔ (مسلم: ۲۴۰۱) کو پڑھنا جاری رکھیں