دجال کے قدموں کی آہٹ سنائی دیتی ہے


الواقعۃ شمارہ : 53 – 54 ، شوال المکرم و ذیقعد 1437ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

حادثے اس تیزی سے رونما ہو رہے ہیں کہ واقعات کا اعتبار اٹھ سا گیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جسے زمانہ پرورش کر رہا تھا برسوں ، وہ حادثے اب رونما ہو رہے ہیں۔ عالم اسلام پر ہر طرف سے یلغار ہی یلغار ہے۔ چمنستانِ اسلام کا کونسا گوشہ ہے جو درد و الم کی سسکیوں اور آہ و غم کی صداؤں کے شور سے بوجھل نہیں۔ وہ کونسی فصل ہے جس کی آبیاری خونِ مسلم سے نہیں ہو رہی۔ پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

میں معذرت نہیں کروں گا


الواقعۃ شمارہ 46 ربیع الاول 1437ھ

از قلم : خالد المعینا

پیرس حملوں میں 130 افراد کی ہلاکت کا واقعہ دس دن گزرنے کے باوجود ابھی تک میڈیا کی سرخیوں میں ہے اور دنیا بھر میں سوشل میڈیا کی توجہ کا اولین مرکز بھی بنا ہوا ہے۔ اس واقعہ سے چند دن قبل بیروت کے نواح میں ایک خودکش بمبار نے دھماکے سے 40 افراد کو ہلاک کر دیا تھا اور صحرائے سیناء میں روسی طیارہ مار گرایا گیا تھا جس میں 200 سے زائد مسافر ہلاک ہوئے تھے۔ دونوں واقعات کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔

پڑھنا جاری رکھیں

خادم حرمین نے مسلمانوں کی عزت رکھ لی


11 Khadem e Harmain TITLe

پڑھنا جاری رکھیں

ایک اور 16 دسمبر ……………


شمارہ 34 اور 35، جنوری / فروری 2015

ربیع الاول و ربیع الثانی  1436ھ

01 Idaria Ttileدرس آگہی (اداریہ)

پڑھنا جاری رکھیں

إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ۔ اداریہ


جمادی الاول و جمادی الثانی 1435ھ / مارچ اور اپریل 2014، شمارہ 24 اور 25

إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ۔ اداریہ۔ درس آگہی۔         محمد تنزیل الصدیقی الحسینی۔ جمادی الاول و جمادی الثانی 1435ھ مارچ اور اپریل 2014، شمارہ 24 اور 25 ۔ https://alwaqiamagzine.wordpress.com/ http://al-waqia.blogspot.com/

Present day challenge and the Muslim World


رمضان المبارک 1434ھ/ جولائ، اگست 2013، شمارہ   16
 
عالم اسلام اور عصر حاضر کا چیلنج (اداریہ)

Present day challenge and the Muslim World

محمدتنزیل الصدیقی الحسینی
اس وقت عالم اسلام بیک وقت دو محاذوں پر نبرد آزما ہے :
(١) پہلے محاذ کا تعلق میدانِ جنگ و حرب سے ہے اور
(٢)دوسرے محاذ کا تعلق میدانِ علم و فکر سے


عالم اسلام پر مسلط جنگ
عالم اسلام کی زمینی سیاسی حقیقت یہ ہے کہ چارو ناچار اسے حالتِ جنگ کا سامنا ہے ۔ شاید ہی کوئی اسلامی ملک ایسا ہو جسے اندرونی یا بیرونی طور پر اغیار کی سازشوں کا سامنا نہ ہو ۔ یہ جنگ باقاعدہ طور پر میدانِ حرب میں بھی لڑی جا رہی ہے اور بساطِ سیاست پر بھی ۔ اب چونکہ جنگوں کے طریقے بدل چکے ہیں ۔ جنگیں کئی محاذوں پر لڑی جاتی ہیں ۔ میدان حرب میں اسلحہ و بارود کی گھن گرج کے ساتھ بھی لڑی جاتی ہے اور معاشیات کے میدان میں طلبِ زر کی کمی و زیادتی سے بھی یہ بازی جیتی جاتی ہے ۔ پڑھنا جاری رکھیں

اسرائیل صرف طاقت کی زبان سمجھے گا، شاہ فیصل شہید


الواقعۃ شمارہ نمبر ٢ 

سعودی عرب کے شہید فرمانروا شاہ فیصل کا ایک تاریخی انٹرویو

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ فیصل شہید نے ستمبر١٩٧٠ء میں (جب اردن میں عرب بالخصوص فلسطینی مجاہدین کی نسل کشی کی جارہی تھی) امریکی رسالے” رانٹر پلے” کے نمائندے ٹام دمان کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ” مقبوضہ عرب علاقوں اور بیت المقدس کی آزادی کے لیے اسرائیل کے خلاف جہاد کیا جائے۔ انہوں نے اسرائیل کی ہٹ دھرمی، غرور اور توسیع پسندانہ عزائم کی بنا پر عربوں اور اسرائیل کے درمیان مفاہمت کو خارج از امکان قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ جب تک اسرائیلی جارحیت کی روک تھام اور اسے معقول رویہ اختیار کرنے کے لیے طاقت استعمال نہیں کی جائے گی ، اس وقت تک مشرق وسطیٰ میں مفاہمت نہیں ہوسکتی۔شاہ فیصل نے امریکا کو خبردار کیا تھا کہ اگر امریکا نے اسرائیل پر معقول رویہ اختیار کرنے اور دوسرے عرب علاقے خالی کرنے کے لیے دبائو نہ ڈالا تو عوام مجھے مجبور کردیں گے کہ میں دوسرے عرب سربراہوں کی طرح روس کی حمایت حاصل کروں۔ لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تمام مسائل اور مشکلات کی وجہ کمیونزم اور صہیونیت ہیں۔ شاہ فیصل کا کہنا تھا کہ سعودی عرب بیت المقدس کے بارے میں کوئی سودے بازی قبول نہیں کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ شہر ان تمام لوگوں کے لیے صدیوں کھلا رہا جن کے مقامات مقدسہ وہاں واقع ہیں، اس لیے اب اسے بین الاقوامی شہر قرار دینے کا کوئی جواز نہیں۔ شاہ فیصل نے یہ بات اعلانیہ طو رپر کہی کہ ہم فلسطینی حریت پسندوں کی بھرپور حمایت اور مدد کرتے ہیں، وہ ہمارے بھائی ہیں جو اپنے وطن کی آزادی کے لیے لڑ رہے ہیں، انہیں طاقت کے بل پر ان کے گھروں سے نکال پھینکا گیا ہے،اس ظلم کے خلاف ان کی جدوجہد جائز اور منصفانہ ہے۔”

(بحوالہ: روزنامہ ”جسارت” کراچی مورخہ ٢ ستمبر١٩٧٠ء )