عقل و عشق کا حسین امتزاج


الواقعۃ شمارہ : 61-62، جمادی الثانی و رجب المرجب 1438ھ

از قلم : مولانا شاہ محمد جعفر ندوی پھلواروی

ہر انسان کے اندر دو جوہر بہت نمایاں ہوتے ہیں ، عقل اور عشق۔ یہ دونوں جوہر انسانی الگ الگ وظائف و اعمال رکھتے ہیں اور ان کے بغیر زندگی کی گاڑی نہیں چلتی۔عقل کا وظیفہ یہ ہے کہ وہ معاملات زندگی کو سمجھ کر ایک صحیح نتیجہ پر پہنچنے میں مدد دیتی ہے اور خطرات اور مہالک سے بچاتی ہے اور عشق کا وظیفہ یہ ہے کہ اقدار عالیہ کے حصول کی لگن پیدا کرتا ہے اور انہیں حاصل کرنے کے لیے پڑھنا جاری رکھیں

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مدافعت


چند مدافعانہ روّیوں کے تناظر میں

الواقعۃ شمارہ 55 ذی الحجہ 1437ھ / ستمبر 2016ء

اشاعت خاص : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اللہ کے محبوب بندے اور تقویٰ و صالحیت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھے۔ ان کی حق پرستی اور صداقت آفرینی ہی تھی جس کی وجہ سے اللہ رب العزت نےا نہیں اس امت مسلمہ کے دس بڑے مسلمانوں میں سے ایک بنا دیا۔  یہ امت عثمان ( رضی اللہ عنہ ) کے احسانوں سے کبھی سبک دوش نہیں ہو سکتی اور نہ ہی خونِ عثمان ( رضی اللہ عنہ) کے مقدس چھینٹوں کا قرض اتار سکتی ہے جسے بڑی بے دردی سے بہایا گیا۔  پڑھنا جاری رکھیں

یک نظر بر فتوحات عہد عثمانی


الواقعۃ شمارہ 55 ذی الحجہ 1437ھ / ستمبر 2016ء

اشاعت کاص : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ

از قلم : مولانا عبد الرحیم اظہر ڈیروی

اسم و نسب
عثمان بن عفان بن ابی العاص بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف قریشی اموی ہیں۔ ان کا نسب اور رسول اللہ ﷺ کا نسب عبد مناف میں مل جاتا ہے۔ ان کی کنیت ابو عبد اللہ تھی اور بعض لوگوں نے ابو عمرو بیان کی ہے اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ پہلے ان کی کنیت ابو عمرو تھی ، پھر ان کی کنیت ابو عبد اللہ ہو گئی جن کی والدہ رقیہ بنت رسول اللہ ﷺ تھیں۔ عثمان بن عفان کی والدہ ارویٰ بنت کریز بن ربیعہ بن حبیب بن عبد شمس جو عبد اللہ بن عامر کی پھوپھی زاد بہن تھیں اور ارویٰ کی والدہ بیضاء بنت عبد المطلب تھیں جو رسول کریم ﷺ کی پھوپھی تھیں۔ ذو النورین آپ کا لقب تھا۔ ( اسد الغابہ از الشیخ مؤرخ عز الدین بن الاثیر ابی الحسن علی بن محمد الجزری)
عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی ولادت سے متعلق علامہ الشیخ سیّد الشبلنجی المدعو بمؤمن لکھتے ہیں :- پڑھنا جاری رکھیں

نبوت عظمیٰ کا جانشین ثالث


عثمان ذی النورین بن عفان الاموی العبشمی

الواقعۃ شمارہ 55 ذی الحجہ 1437ھ / ستمبر 2016ء

اشاعت کاص : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ

از قلم : مولانا فدا علی طالب

حضرت عثمان کی شرافتِ خاندانی اور قومی وجاہت عام طور پر مسلم ہے ، خاندانِ بنی امیہ کا اقتدار اور ان کی سیادت و وجاہت تاریخ میں اس شرح و بسط کے ساتھ مذکور ہے کہ اس پر زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ حضرت عثمان کا نسب باپ کی طرف سے چار واسطوں سے اور ماں کی طرف سے دو واسطوں سے رسول اللہ ﷺ کے نسب سے مل جاتا ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

قرآن میں مذکور دعائیں


الواقعۃ شمارہ 53 – 54 ، شوال المکرم و ذیقعد 1437ھ

از قلم : محمد عالمگیر ، آسٹریلیا

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

حضرت آدم علیہ السلام کی دعاء

رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ ( سورة الاعراف، ۷:۲۳ )

"اے ہمارے رب! ہم نے اپنا بڑا نقصان کیا،اور اگر تو ہماری مغفرت نہ کرے گا ،اور ہم پر رحم نہ کرے گا، تو واقعی ہم نقصان پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔” پڑھنا جاری رکھیں

انتخابی نظام – اسلامی ہدایات کی روشنی میں


الواقعۃ شمارہ 47 ربیع الثانی  1437ھ

از قلم : محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

اسلام نے زندگی کے ہر ہر گوشے کے لیے خواہ وہ انفرادی ہو یا اجتماعی، سامانِ ہدایت و رہبری فراہم کیا ہے۔ کچھ امور کا تعلق فرد کی اپنی ذات سے ہوتا ہے اور کچھ امور اجتماعیت کے متقاضی ہوتے ہیں۔ فرد کی اپنی غلطیاں صرف اسی پر یا زیادہ سے زیادہ اس سے منسلک افراد پر ہی اثر انداز ہوتی ہیں۔ جبکہ اجتماعی امور پورے معاشرے کو متاثر کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے ” اجتماعیت ” اور اجتماعی نظام کے استحکام پر بہت زور دیا ہے۔ اسلام کے اجتماعی ( سیاسی و معاشرتی ) نظام کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ بہت سادہ و سلیس اور فطری تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔ سر دست ہمارا موضوعِ بحث و تحقیق اسلام کا انتخابی نظام ہے۔ اس سلسلے میں اسلام نے پہلے چند سادہ اور نہایت عام فہم ہدایات دی ہیں کہ جن کی مکمل پاسداری سے مستقبل کے بہیترے مفسدات کی راہ ہی مسدود ہو جاتی ہے۔ مثلاً

پڑھنا جاری رکھیں

صاحب قرآن ﷺ کی فریاد


الواقعۃ شمارہ 20 – 21 محرم و صفر 1435ھ

اشاعت خاص : برائے قرآن کریم

از قلم : ابو عمار سلیم

قرآن مجید فرقان حمید کی سورة الفرقان کی آیت نمبر 30 کے الفاظ ہیں و قال الرسول یٰرب ان قومی اتخذوا ھذا القراٰن مھجورا جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے کہ  ”  رسول (ﷺ) نے کہا !  اے  رب بے شک میری قوم نے اس قران کو نظر انداز کر رکھا تھا ۔”  اس آیت مبارکہ کے سیاق و سباق کے مضامین پر نظر ڈالنے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ قران اس وقت کا نقشہ کھینچ رہا ہے جب قیامت قائم ہو چکی ہوگی ۔ تمام نفوس اللہ کی بارگاہ میں صف بستہ کھڑے ہوں گے ۔ نیکو کاروں کو ان کی ایمان پر گامزن رہنے اور اللہ کے احکامات کی بجا آوری اور اس کے بھیجے ہوئے رسولوں کی پیروی کے نتیجہ میں اعلیٰ درجات اور جنت عطا کی جا رہی ہوگی ۔ اسی طرح کافروں اور اللہ کے  رسول کی نافرمانی کرنے والوں کو ان کے کیے  کی سزا مل رہی ہوگی ۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا ۔ ابرار خوش ہوں گے تو کفار سخت پشیمانی اور پریشانی میں ہوں گے ۔ لوگ کف افسوس مل رہے ہوں گے کہ اے کاش ہم نے رسول کی بات مان لی ہوتی اور ان گمراہیوں میں نہ پڑے ہوتے ، فلاں کی تقلید نہ کی ہوتی اور رسول کی بات کو سچ مانا ہوتا تو آج یہ خرابی کا دن نہ دیکھنا پڑتا ۔ اس دن ہر ایک پر یہ واضح ہوجائے گا کہ الملک یومئذ الحق للرحمٰن یعنی اس روز حقیقی حکومت صرف حضرت رحمٰن کی ہوگی۔ اللہ جل شانہ’ کا جلال اور شاہانہ رعب و سطوت اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوگا اور وہ تمام کافرین و مشرکین جن کو اعتماد تھا کہ وہ اللہ کو کسی نہ کسی طور راضی کرلیں گے آج اپنی اس حماقت پر خود ہی نادم ہوں گے ۔ اپنی گذشتہ زندگی پر بھرپور پچھتاوا ہوگا اور وہ سب افسوس بے سود ہوگا کیونکہ وقت واپس نہیں پلٹے گا اور اپنے ہاتھ سے کمائے ہوئے اعمال اس دن اپنا پورا پورا بدلہ دیں گے ۔ کافروں کا اس دن اپنے ہاتھوں کو کاٹ کھانا اور گئی زندگی کے سر پھرے اعمال کو چھپا لینا ممکن نہ ہوگا۔ پڑھنا جاری رکھیں